قوت ارادی اور نظر کا قانون

ہفتہ دسمبر    |    خواجہ محمد کلیم

کچھ دن پہلے محترم خالد مسعود خان نے اپنے کالم میں اپنے دورہ امریکہ کے دوران ایک واقعہ کا ذکر کیا تھا کہ کیسے ان کے میزبان کے ساتھ بات چیت میں فیصل آباد کے چودھری نعمت اللہ کا ذکر ہوا،اور کچھ ہی دیر بعد ان کی چودھری نعمت اللہ سے ملاقات ہو گئی ۔ اس بات پر اچنبھے کا اظہار کرتے ہوئے خالد مسعود صاحب نے لکھا تھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ کسی فرد کا ذکر کریں اور وہ کچھ ہی دیر میں آپ کے سامنے آ موجود ہو۔
کچھ دن پہلے کسی کام سے لاہور جانا ہوا ،محترم وجاہت مسعود صاحب سے ملاقات کر کے نکلا تو معروف شاعر اور بیوروکریٹ شعیب بن عزیز کو فون کیا ، ہمیشہ کی طرح شفیق لہجے میں انہوں نے فرمایا آفیسرز میس میں ہو ں آپ ادھر ہی تشریف لے آئیں ۔ لاہور جب بھی جانا ہو شعیب صاحب کا ایک ہی مطالبہ ہوتا ہے ”خواجہ صاحب آپ کی زیارت ہونی چاہیے “، یہ میرا کمال نہیں ان کا بڑا پن ہے۔

(خبر جاری ہے)

شام کی ٹرین سے راولپنڈی آنے کا ارادہ تھا کہنے لگے ہمارے دوست ،شاعر اور کالم نگار اظہارالحق بھی ٹرین میں سفر کرتے ہیں۔

یا بدیع العجائب ،ٹرین لاہور سٹیشن سے نکلی تو میر ی نظر بائیں طرف گھوم گئی ، سامنے کھڑکی والی نشست پر اظہار الحق صاحب تشریف فرما تھے ۔ خوشی بھی ہوئی اور حیرت بھی ۔ ذہن اس کھوج میں لگ گیا کہ یہ ماجرا کیا ہے۔مولانا گل حسن صاحب کی تحریر کی گئی کتاب تذکرہ غوثیہ یاد آئی۔گو علما ء کا ایک گروہ اس کتاب اور اس کے مندرجات سے اتفاق نہیں کرتا لیکن بہر حال یہ ایک عالم کی تحریر اور ان کے آنکھوں دیکھے واقعات ہیں جن پر شک کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ ہمارے سامنے موجود نہیں ۔
” تذکرہ غوثیہ“ کے صفحہ نمبر اٹھائیس پرمولانا گل حسن صاحب نے حضرت غوث علی شاہ قلندر پانی پتی کا واقعہ تحریر کیا ہے جب ان کی آنکھیں ایک نازنین سے دوچار ہوئیں اور وہ ایک حجرے میں آٹھ دن تک اس کا تصور کئے بیٹھے رہے ۔ آٹھویں دن وہ نوجوان لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ حضرت غوث علی شاہ کے سامنے حاضر ہوگئی ، تب حضرت غوث علی شاہ نے اپنے آپ سے کہا ”اگر اس کو جوروبنانا چاہتے ہو تو دونوں میاں بیوی راضی ہیں اور اگر اس کو بہن بنانا چاہتے ہو تواپنی ماں اور بہن کو کیوں چھوڑا ،”دل نے جواب دیا یہ بھی ایک کھیل کھیلنا تھا سو کھیل چکے ، بس اب کوئی خواہش باقی نہیں رہی ۔
“کہنے کو یہ ایک ناقابل یقین بات معلوم ہوتی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ انسانی ذہن جب کسی ایک چیز یا واقعہ پرپوری طاقت کے ساتھ مرتکز ہوجائے تو یہ خیال مظہر بن کر سامنے آجاتا ہے ۔
معروف روحانی سکالراور سلسلہ عظیمیہ کے سربراہ خواجہ شمس الدین عظیمی اپنی کتاب ”ٹیلی پیتھی سیکھئے “ کے صفحہ بارہ پر رقمطراز ہیں کہ ”آدمی دراصل نگاہ ہے، نگا ہ یا بصارت جب کسی شے پر مرکوز ہوجاتی ہے تو اس شے کو اپنے اندر جذب کر کے دماغ کے سکرین پر لے آتی ہے اور دماغ اس چیز کودیکھتا اور محسوس کرتا ہے اور اس میں معنی پہناتا ہے ، نظر کا قانون یہ ہے کہ جب وہ کسی شے کو اپنا ہدف بناتی ہے تو دماغ کی اسکرین پر اس شے کا عکس پندرہ سیکنڈز تک قائم رہتا ہے اورپلک جھپکنے کے عمل سے یہ آہستہ آہستہ مدھم ہو کر حافظہ میں چلا جاتاہے ۔
اور دوسرا عکس دماغ کی سکرین پر آجاتا ہے۔ اگر نگاہ کو کسی ہدف پر پندرہ سیکنڈ سے زیادہ مرکوز کیا جائے تو ایک ہی ہدف بار بار دماغ کی اسکرین پر وارد ہوتا ہے اور حافظہ پر نقش ہوتا رہتا ہے۔ مثلا ہم کسی چیز کو پلک جھپکائے بغیر مسلسل ایک گھنٹہ تک دیکھتے رہیں تو اس عمل سے نگاہ قائم ہونے کا وصف دماغ میں پیوست ہو جاتا ہے اور دماغ میں یہ پیوستگی ذہنی انتشار کو ختم کردیتی ہے۔ہوتے ہوتے اتنی مشق ہوجاتی ہے کہ شے کی حرکت صاحب مشق کے اختیار او رتصرف میں آجاتی ہے۔
اب وہ شے کو جس طرح چاہے حرکت دے سکتا ہے ۔ مطلب یہ کہ نگاہ کی مرکزیت کسی آدمی کے اندر قوت ارادی کو جنم دیتی ہے اور قوت ارادی سے جس طرح چاہے انسان کام لے سکتا ہے۔ٹیلی پیتھی کا اصل اصول بھی یہ ہی ہے کہ انسان کسی ایک نقطہ پر نگاہ کو مرکوز کرنے پر قاد رہوجائے۔نگاہ کی مرکزیت حاصل کرنے میں کوئی نہ کوئی ارادہ بھی شامل ہوتا ہے ۔ جیسے جیسے نگاہ کی مرکزیت پر عبور حاصل ہوتاہے اسی مناسبت سے ارادہ مستحکم اور طاقتورہوجاتا ہے۔
ٹیلی پیتھی کرنے والا کوئی شخص جب یہ ارادہ کرتا ہے کہ اپنے خیال کو دوسرے آدمی کے دماغ کی سکرین پر منعکس کر د ے تو اس شخص کے دماغ میں ہمارا ارادہ منتقل ہوجاتا ہے۔وہ شخص اس ارادے کو خیال کی طرح محسوس کرتا ہے ۔ اگر وہ شخص ذہنی طور پر یک سو ہے تو یہ خیال تصور اور احساسات کے مراحل سے گز رکر مظہر بن جاتا ہے“۔
ان واقعات اور نظر کے قانون سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کی زندگی میں توجہ کے ارتکاز اور قوت ارادی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
ہمارے ارد گرد ایسے ہزاروں واقعات بکھرے پڑے ہیں کہ جب کسی معذور یا کم زور انسان نے اپنی قوت ارادی کے بل بوتے پر ایسے کام بھی کر دکھائے جو بظاہر نا ممکن نظر آتے ہیں ۔ ایک خاتون کا دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کو سر کر لینا، ٹانگوں سے معذور شخص کا دوڑ کے مقابلے میں اول آنا،غبی اور کم عقل ہونے کی بنا پر سکول کے نکال دیئے گئے بچوں کا عملی زندگی میں بڑی بڑی ایجادات کرنا،ملازمت سے نکال دیئے گئے افراد کا صنعتی اور کاروباری محلات کھڑے کر دینا ، ایسے افراد جن کو ڈاکٹرز لاعلاج قرار دے چکے ہیں ان کا زندگی کی دوڑ میں کامیابی سے لمبے عرصے تک شامل رہنا یہ سب ایسے واقعات ہیں جن کو عقل تسلیم نہیں کرتی لیکن بہرحال یہ واقعات حقیقت بھی ہیں اور ہمارے لئے انسپائریشن کا سبب بھی ۔
مشہور زمانہ سائنس دان سٹیفن ہاکنگ کی مثال ہمارے سامنے ہے جن کی آنکھوں کی پتلیوں کے علاوہ جسم کا ہر حصہ مفلوج ہے لیکن ان کی کارکردگی روزانہ دس کلومیٹر جاگنگ کرنے والے کئی سائنسدانوں سے بہتر ہے۔موجودہ دور میں فیس بک کے بانی کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ کس طرح اس نے اپنی قوت ارادی ،ارتکاز توجہ اور مسلسل مشق سے” فیس بک “کو دنیا بھر کی ضرورت بنا دیا اور آج کروڑوں افراد دنیا بھر میں فیس بک کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔
ان واقعات کو اگر ہم خالصتاََ سائنسی بنیادوں پر پرکھیں اور دماغ جو کہ خالق کائنات کی ایک محیرالعقول تخلیق ہے اس کی طاقت پر غور کریں توہمیں یہ سب واقعات حقیقی اور نارمل محسوس ہوں گے ۔
قارئین موجودہ دور میں ہر شخص بہت سے معاملات میں بے یقینی اور متزلزل ارادوں کے ساتھ کسی شعبے میں اپنی ناکامی کا رونا روتے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ جس کام میں وہ ناکام ہوئے ہیں ،درست سمت میں اگر تھوڑی سے محنت اورکی جائے تو کامیابی ان کے قدم چومنے کی منتظر ہے ۔
یہ درست ہے کہ انسان کی قسمت کا بھی اس کی زندگی میں انتہائی اہم کردار ہوتا ہے لیکن قدرت کسی کی محنت رائیگاں نہیں جانے دیتی ،قانون الہی کے مطابق محنت کا ثمر اللہ رب العزت کا وعدہ ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کیلئے مطلوبہ عناصرپوری تعدا دمیں مہیا نہ کئے گئے ہوں ۔ ہماری اس دنیا میں انفرادی مثالوں کے ساتھ ساتھ چین،جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ملکوں کی ترقی کی مثالیں بھی موجود ہیں کہ پستی اور گمنامی یا تباہی سے دوچار ہونے کے بعد ان قوموں نے کس طرح اپنے ارادے کی قوت سے خود کو دنیا کی ناقابل تسخیر اقوام میں شامل کر لیا ہے ۔
کاش ہماری قوم میں بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر اس بات کا شعور اجاگر ہو اور ہم قدرت کی طرف سے دئیے گئے اپنے دماغ کی طاقت اور اہمیت کا ادراک کر لیں ۔ پھرپوری طاقت سے اپنے ارادے کو مثبت جہتوں میں استعمال کریں تاکہ ہماری قوم خود کو درپیش چیلنجزاور مشکلات سے نبرد آزما ہو کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکے اور یہ ملک اور خطہ امن و خوشحالی کی منزل سے ہمکنار ہو۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

خواجہ محمد کلیم کے ہفتہ دسمبر کے مزید کالم