جمہوریت کے غبارے سے ہوا نکل گئی

پیر دسمبر    |    عمار مسعود

اس ملک کا المیہ ہی یہ ہے کہ جس کو جتنا موقع ملا اس نے اتنا ہی اس ملک کو لوٹا ہے۔سیاستدانوں کو جب باری میسر آئی انہوں نے کھل کھیل کر اس ارض پاک کے بدن کو بھنبھوڑا ہے۔ بیوروکریٹس کو جہاں موقع ملا کسر انہوں نے بھی کوئی نہیں چھوڑی۔ خود سوچیے ۔ پانامہ میں پانچ سو پاکستانی ارب پتیوں کے نام نکل آئے۔دوبئی سارا پاکستانیوں نے خرید لیا ہے۔ سوئس بینکوں میں اس غریب ملک کے لوگوں کا اربوں ڈالر جمع ہے۔
انگلینڈ میں اسی غریب ملک کے باشندوں کی جائیدادوں کے انبار لگ گئے ہیں۔ باھاما لیکس میں غیر قانونی اربوں ، کھربوں پاکستانی روپے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ ۔ دنیا کے بڑے بینک ہمارے ترسیل کردہ کالے دھن سے چلتے ہیں۔ ایک سابق چیف کے بھائی نے ہر سرکاری کانٹریکٹ میں قیامت مچا دی تھی۔

(خبر جاری ہے)

زمینوں کے کاروبار میں اربوں کمائے گئے ۔اور تو اورسابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کا پلی بارگین کیس آپ کے سامنے ہے۔

جو لوگ رشوت کے الزام میں پکڑے جارہے ہیں وہ رشوت دے کرہی چھوٹ رہے ہیں۔ یہ صورت حال ایسی ہے کی جمہوریت اور اسکے ثمرات پر ایمان متزلزل ہوتا جا رہا ہے۔ رہی سی کسر جنرل مشرف نے پوری کر دی۔
جنرل مشرف کے ایک ہی بیان سے جمہوریت کے غبارے سے ساری ہوا نکل گئی۔ ایک ٹی وی چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ وہ حکومت کے ساتھ ایک ڈیل کی وجہ سے ملک سے باہر نکلے ہیں جو جنرل راحیل شریف کے سیاستدانوں اور عدلیہ پر دباؤ کی وجہ سے طے پائی تھی۔
اس بات کا اندازہ تو سبھی کوتھا مگر اس طرح کھل کر یہ بات ریکارڈ پر نہیں آئی تھی۔ اس ایک بیان کے ساتھ وہ سارے جو جمہوریت کے حق میں نعرے لگاتے تھے، ووٹ کی حرمت بتاتے تھے، عدلیہ کے انصاف کے قصیدے گاتے تھے، عوام کی اہمیت جتاتے تھے ان سب کو سانپ سونگھ گیا۔ چپ سی لگ گئی۔ دلوں میں ماتم ہونے لگا اور جمہوریت کی موت واقع ہو گئی۔
ہم نے ہمیشہ کتابوں میں یہی سبق پڑھا ہے کہ فرد اہم ہوتا ہے۔ یہ معاشرے کی تشکیل کرتا ہے۔
قوانین معاشرے کو راہ راست پر رکھتے ہیں، عدالتیں مجرموں کو سزائیں دیتی ہیں۔ پارلیمان عوام کے ووٹ کی طاقت سے تشکیل ہوتا ہے۔یہ جمہوریت میں عوام کی خاطر منصوبے بناتے ہیں۔ فلاح کے عزم کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ عوام ہی منصف کہلاتے ہیں۔ وہ اپنے ووٹ سے قصر اقتدار کو بناتے اور بگاڑتے ہیں۔لیکن اس ایک بیان نے ان تمام آفاقی خیالات کو خاک میں ملا دیا۔ جمہوریت کے ماتھے پر کیچڑ لگا دیا۔
اس صورت حال سے دو نتائج بڑے واضح نکلتے ہیں ایک تو یہ جو عوام کا نعرہ ہے یہ ڈھکوسلہ ہے، فراڈ ہے، دھوکہ ہے، غلط بیانی ہے ۔
نہ ان عوام کو کوئی حق حاصل ہے نہ انکی کوئی اہمیت ہے، نہ اس نعرے میں کوئی حقیقت ہے نہ مٹی کے مادھوں کو کوئی اختیار حاصل ہے نہ عقل کے ماروں کی کوئی وقعت ہے۔ نہ جمہوریت اس ملک کاکوئی نظام ہے ، نہ عدلیہ انصاف کا نام ہے۔ نہ اسمبلی کی کوئی حیثیت ہے نہ پارلیمنٹ کا کوئی مقام ہے۔ نہ سیاسی جماعتیں کو ئی تبدیلی لا سکتی ہیں نہ سیاسی عمل کوئی معنی رکھتا ہے۔ نہ انتخابات کوئی درست رستہ ہے نہ عوامی رائے دہی کا کوئی فائدہ ہے۔
نہ وزیر داخلہ کوئی بھاڑ جھونکتا ہے نہ منصف کوئی کمال کرتا ہے۔ دورسرا نتیجہ یہ ہے کہ اس ملک کے مالک و مختار کوئی اور ہیں۔ حاکم اور صاحب اقتدار کوئی اور ہیں۔ فیصلہ کن اور حتمی کوئی اور ہیں۔ نعرے لگانے سے، ووٹ ڈالنے سے ، قانون بنانے سے، جمہوریت کا راگ الاپنے سے، عوام کو شعور دلانے سے کچھ حاصل نہیں ہے۔ فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے، حکم کہیں اور سے آتا ہے، باریائی کہیں اور سے نصیب ہوتی ہے، منطوری دینے والا کوئی اور ہوتا ہے۔
منطور نظر کوئی اور بنتا ہے۔بادشاہ کوئی اور دکھتا ہے شہنشاہ کوئی اور بنتا ہے۔
مجھے جنرل مشرف کے اس بیان پر کوئی بھی اعتراض نہیں ہے۔ مجھے کیا کسی بھی پاکستانی کوکو ئی اعتراض نہیں۔ حرج ہی کیا ہے اگر حاکم نے خود کو حاکم کہہ دیا۔ اس سے فرق ہی کیا پڑتا ہے جو ہر بات کے مختار ہیں انہوں نے اپنا حق جتا دیا۔اصل حکمرانوں کا چہرہ دکھا دیا۔سوال
صرف یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حاکم آپ ہیں، فیصلہ کن آپ ہیں، بادشاہ آپ ہیں ، جب جمہوریت ہو یا آمریت آپکی مرضی کے بغیر پتہ نہیں ہل سکتا۔
کوئی ادارہ ، کوئی فرد آپ کی مرضی کے خلاف نہیں چل سکتا۔ کسی کو جرات نہیں ہو سکتی آپ کے خلاف آواز بلند کرنے کی۔ کوئی سوال کرنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ ایوب ہو یا یحیی ، ضیاء الحق ہوں یا جنرل مشرف اور تو اوربھٹو ہوں یا مفتی محمود، بے نظیر ہوں یا نواز شریف ، عمران خان ہوں یا فضل الرحمن سب آپ کے مطیع رہے ہیں ہر دور میں آپ کا سکہ چلتا رہا ہے ۔ آپ کے حکم کی تعمیل کے لئے سب ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
آپ کی خوشنودی کو باعث افتخار گردانتے ہیں تو آخر کیا وجہ ہے اس ملک کی حالت نہیں بدلتی؟ غربت ختم نہیں ہوتی؟ لوڈ شیڈنگ کی تاریکی دور نہیں ہوتی؟ ڈیم کیوں نہیں بنتے؟ ترقی کیوں نہیں ہوتی؟ہسپتالوں کی حالت بہتر کیوں نہیں ہوتی؟ انتخابات میں دھاندلی ختم کیوں نہیں ہوتی؟ تعلیم عام کرنے میں کون سی وجوہات مانع ہیں؟ غربت کے خاتمے سے آپ کو کون روکتا ہے؟عدالتیں انصاف کیوں نہیں دیتیں؟بے روزگاری ختم کیوں نہیں ہوتی؟ ہمیں دہشت گردی کے عفریت سے نجات کیوں نہیں ملتی؟ دہشت گرد ختم کیوں نہیں ہوتے؟ مدرسوں کو فنڈنگ کیوں نہیں رکتی؟ ٹارگٹ کلنگ ختم کیوں نہیں ہوتی؟ بھتا مافیا ختم کیوں نہیں ہوتا؟فون ٹیپ ہونے بند کیوں نہیں ہوتے؟ لاپتہ لوگوں کا کیس حل کیوں نہیں ہوتا؟خفیہ فائلوں کو آگ کیوں نہیں لگتی؟ہر ادارے میں کرپشن کیوں نہیں رکتی؟
جب مالک آپ ہیں ، جب مختار آپ ہیں تو کیا اس ملک کا یہ حال آپ کی مرضی اور منشا ء سے ہو رہا ہے؟
جنرل مشرف اور مشتاق رئیسانی نے جو کیا اچھا کیا، آئینہ دکھا دیا۔
جعلی جمہوریت کے نعروں کا ایک ہی بیان میں منہ توڑ جواب دیا ۔ مسئلہ تو اس بدبخت عوام کا ہے وہ کس سے فریاد کریں ، کہاں ماتم کریں ، کس دیوار سے اپنا سر پھوڑیں۔
آپ چاہیں تو کامیابیوں کے سب تاج اپنے سر پر سجا لیں، آپ چاہیں تو کامرانیوں کے سب تمغے اپنی چھاتی پرلگا لیں ۔ آپ چاہیں تو جوتیوں کے سب ہار اس عوام کو، اس جمہوریت کو پہنا دیں ۔ آپ مالک ہیں ،مختار ہیں۔ فیصلہ کن ہیں ۔ اٹل ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمار مسعود کے پیر دسمبر کے مزید کالم