کریڈٹ کارڈ کا نشہ

پیر دسمبر    |    شاہد سدھو

کئی برس پہلے کی بات ہے، دوران گفتگو میرے عراقی کولیگ ڈاکٹر باسم نے اپنا کریڈٹ کارڈ لہرایا اور اپنے مخصوص گھمبیر لہجے میں بولا، ’ شاہد ! یہ ہے میرا دوست‘۔ ’یہ کریڈٹ کارڈ میرا دوست ہے‘۔ میں اور ہمارا اردنی کولیگ اُسے استفہامیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ڈاکٹر باسم نے گفتگو جاری رکھی، ’ یہ کریڈٹ کارڈ بھی میرا دوست ہے دیگر دوستوں کی طرح۔ جب کِسی کام میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو میں دوستوں سے رجوع کرتا ہوں، لیکن میں سب کی مجبوریوں کو بھی سمجھتا ہوں، لِہٰذا جب مجھے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے تو میں قرض کے لئے اپنے اِس دوست کریڈٹ کارڈ سے رجوع کرتا ہوں اور یہ بغیر کِسی تردد کے مجھے قرض دے دیتا ہے اور میں بھی ایک اچھے دوست کی طرح اِس کا قرض وقت پر بلکہ وقت سے پہلے ہی لوٹا دیتا ہوں، تاکہ میرا یہ دوست آئندہ بھی میری مدد کرتا رہے‘۔

(خبر جاری ہے)

ڈاکٹر باسم کا سمجھایا ہُوا یہ سادہ سا نقطہ بہت سی پریشانیوں سے بچا سکتا ہے۔ فی زمانہ کریڈٹ کارڈ کا استعمال بہت بڑھ چُکا ہے۔ریٹیل پیمنٹ کے ساتھ ساتھ آن لائن پیمنٹ میں کریڈٹ کارڈ کا استعمال عام ہوچکا ہے۔ مختلف بینکوں اور فنانشل اداروں کے مارکیٹنگ ایگزیکٹیوز نے کریڈٹ کارڈ ز بیچنے کے لئے یلغار کی ہوئی ہے۔بہت سے لوگ کریڈٹ کارڈ ہاتھ میں آتے ہی کریڈٹ لمٹ کے سحر کا شکار ہو جاتے ہیں۔بیٹھے بٹھائے اچانک ایک کارڈ کی مدد سے لاکھوں روپے کی خریداری کرنے یا کیش نکلوانے کی سہولت بہت سے لوگوں کو اچانک شاہ خرچ بنا دیتی ہے۔
مارکیٹنگ ایگزیکٹیوز کی یلغار کے باعث ایک سے زیادہ کریڈٹ کارڈز رکھنا بھی معمول بن چکا ہے۔کئی کریڈٹ کارڈز تک رسائی کی صورت میں کریڈٹ لمٹ بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔مہینے بھر میں کریڈٹ کارڈ ز کے ذریعے کئے گئے بھاری خرچے کے بعد ماہانہ معمولی رقم کی واپس ادائیگی کی سہولت وہ حسین جال ہے جس میں پھنس کر جلد ہی یہ سود در سود قرض کے کوہ ہمالیہ میں تبدیل ہو جاتا ہے اور پھر بینکوں اور فنانشل اداروں کے ریکوری اہل کاروں کا مسلسل پیچھا کرنا آپ کا دن رات کا چین و سکون بر باد کر دیتا ہے۔
کسی بھی بینک کے کریڈٹ کارڈ ریکوری شعبے کا وزٹ کیا جائے توکریڈٹ کارڈ کے نشے سے پریشان ہونے والے لوگوں کا ہجوم نظر آئے گا۔ ماہانہ بنیادوں پر لگنے والا بظاہر معمولی دکھائی دیتا کریڈٹ کارڈز کا یہ سود ،دنیا بھر میں دستیاب مالیاتی مصنوعات میں سب سے بھاری بھرکم اور ظالمانہ ہوتا ہے۔ اس قرض سے نمٹنے کے لئے شروع میں تو یہ کھیل کھیلا جاتا ہے کہ ایک کریڈٹ کارڈ سے رقم نکلوا کر دوسرے کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی کی جاتی ہے اور یوں مختلف کریڈٹ کارڈز کو استعمال کیا جاتا ہے مگر جلد ہی چوہے بلی والا یہ کھیل بھی آخری سرے تک پہنچ جاتا ہے اور ہر کریڈٹ کارڈ پر چڑھا ہوا قرض اور سود آپ کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک لے جاتا ہے۔
کریڈٹ کارڈز فراہم کرنے والے اداروں کی طرف سے بھی نئے کریڈٹ کارڈ کی فراہمی کا جال پھینکا جاتا ہے جس میں کریڈٹ کارڈ فراہم کرنے والا کوئی نیا ادارہ آپ کو آپ کے موجودہ کریڈٹ کارڈ پر موجود آوٴٹ اسٹینڈنگ پیمنٹ (قرض) کو نئے کریڈٹ کارڈ پر ٹرانسفر کرنے کی پیشکش کرتا ہے تاکہ آپ قرض کی فراہمی کے لئے پیچھے لگے ہوئے ریکوری اہل کاروں سے اپنی جان چھڑا سکیں۔ اب آپ نئے جال میں پھنسنے جارہے ہوتے ہیں کیونکہ آپ کا پرانا قرض تو باقی رہے گا ہی اور جوں کا توں نئے کریڈٹ کارڈ پر ٹرانسفر ہوجائے گا مگر ٹرانسفر فیس، نئی شرح سود اور نئی سالانہ فیس ، نئی لیٹ پیمنٹ فیس کی صورت میں آپ کے قرض کا بوجھ مزید بڑھ چکا ہوتا ہے۔
لیکن اس صورتحال سے بچا جا سکتا ہے اگر ڈاکٹر باسم کے طریقے پر عمل کیا جائے یا اس طریقے میں مزید بہتری لائی جائے۔اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ کریڈٹ کارڈ آج کی ضرورت بن چکا ہے اور اسکی افادیت بھی مسلمہ ہے۔ چند باتوں پر عمل کرنے سے نہ صرف پریشانیوں سے بچا جاسکتا ہے بلکہ کریڈٹ کارڈ سے فائدہ بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔
سب سے پہلے تو کریڈٹ کارڈ کا مفہوم سمجھ لیں کہ یہ مفت کا پیسہ نہیں ہے جو آپ کے ہاتھ لگ گیا ہے، بلکہ یہ محلے کی دوکان سے مہینے بھر لیا گیا ادھار سودا سلف ہے اور مہینہ ختم ہوتے ہی آپ نے دوکاندار کو ادھار لئے گئے سامان کی پوری رقم ادا کرنی ہے۔
کریڈٹ کارڈ کا پورا بل ادا کرنے کی صورت میں کوئی سود نہیں لگے گا۔ اگر آپ کسی مہینے پورا بل ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ اگلے مہینے بقایا جات کے ساتھ پورا بل ادا کردیں ، یاماہانہ پیمنٹس کچھ بڑھا کر جلد از جلد مکمل ماہانہ ادائیگی کی پوزیشن پر واپس آئیں تاکہ ہر ماہ لگنے والے سود سے جان چڑھائی جائے۔ ہر ماہ معمولی رقم کی ادائیگی کی سہولت جو کہ آپ کی استعمال کی گئی رقم کا پانچ یا چھ فیصد ہوتی ہے کے جھانسے میں ہر گز نہ آئیں اور پوری رقم کی ادائیگی یقینی بنائیں۔
اس کے ساتھ ہی دوسری عادت یہ ہونی چاہئیے کہ بل کی ادائیگی مقررہ تاریخ تک یا اس سے پہلے کر دی جائے اس طرح لیٹ فیس کا جرمانہ بھی نہیں لگے گا۔مختلف کریڈٹ کارڈ کمپنیاں کارڈ کے استعمال پر پوائنٹ بھی ایوارڈ کرتی ہیں جنہیں فری شاپنگ کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ، اسی طرح بہت سے شاپنگ ایریاز اور تفریحی مقامات پر مختلف کمپنیوں کے کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے کی صورت میں اشیاء یا خدمات پر رعایت بھی ملتی ہے۔
کر یڈٹ کارڈ پر کئے گئے خرچے یا نکلوائی گئی رقم کی واپس ادائیگی کے لئے پچاس سے پچپن دنوں کی مہلت ہوتی ہے، اس مہلت سے کاروباری حضرات قلیل مدتی بلا سود قرضے کا فائدہ ٹھا سکتے ہیں اور مختلف تاریخ ادائیگی والے ایک سے زیادہ کریڈٹ کارڈزعقلمندی سے استعمال کر کے اس بلاسو د قرضے کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں تاکہ کاروبار میں مال اور رقم کی مسلسل فراہمی جاری رہے۔ اس بات کا دھیان رہے کہ کچھ ادارے کریڈٹ کارڈ پر نقد رقم نکلوانے کی صورت میں فیس اور لازی سود چارج کرتے ہیں۔کریڈٹ کارڈ کو زحمت کے بجائے رحمت بنانے کے لئے کسی بھی بنک یا مالیاتی ادارے کا کریڈٹ کارڈ لیتے وقت ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ ہر ماہ مکمل بل ادا کرنا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

شاہد سدھو کے پیر دسمبر کے مزید کالم