شاید ہم بھی ایاز کی طرح اپنے ماضی کو یاد رکھیں!

جمعرات دسمبر    |    حافظ ذوہیب طیب

ایاز ا،یک امیر تاجر کا غلام تھا وہ تاجر کسی قرض کے بھار تلے آگیا اور جسے اتارتے اتارتے اس کا سب کچھ بک گیا، تو پھر بھی اس کا قرض ادا ء نہ ہو سکا۔اس کی پریشانی، اور قرض دینے والوں کی طرف سے مسلسل دھمکیوں کی وجہ سے بدحال مالک کے اضطراب کو دیکھتے ہوئے اس کے غلام، ایاز نے اسے مشورہ دیا کہ آپ مجھے بازار لے جائیے اور وہاں مجھے دس لاکھ درہم کے عوض فروخت کر دیں، تاکہ آپ کا قرض ادا ء ہو جائے۔
تاجر، ایا ز کی اس بات پرشدید پریشانی کے عالم میں بھی مسکرائے بغیر نہیں رہ سکا اور بولا:” تم میں ایسی کیا خوبی ہے جو باقیوں میں نہیں ہے ۔“جس کے جواب میں اس نے کہا:” ایاز جانتا ہے کہ غلامی کیا ہوتی ہے ، ایاز وہ سب کچھ جانتا ہے جو دنیا کا کوئی غلام نہیں جانتا“۔

(خبر جاری ہے)

بہر حال مالک، ایاز کے اصرار پر اسے بیچنے کے لئے بازار لے آیا، یہاں آکر جب اس نے اپنے غلام کے دس لاکھ درہم طلب کئے تو چاروں جانب سے قہقہے بلند ہونا شروع ہو گئے ۔

لوگ، تاجر کو دیوانہ، پاگل اور مجنوں قرار دینا شروع ہو گئے۔ کیونکہ ان دنوں بازار میں غلام کی قیمت بیس سے پچاس درہم ہوا کرتی تھی۔ لیکن تاجر اس سب کے باوجود بھی اپنی بات پر قائم رہا۔ اس دوران یہ معاملہ بادشاہ وقت، محمود غزنوی تک پہنچا کہ ایک تاجر اپنے غلام کو سر بازار، دس لاکھ میں فروخت کر نے آیا ہے ۔ جب بادشاہ کو اس بات کا علم ہوا کہ یہ غلام ، غلامی کے سب تقاضوں سے بہرہ ور ہے تو اُس نے ایاز کو دس لاکھ درہم کے عوض خرید لیا۔

جیسے جیسے وقت گذرتا چلا گیا ایاز محمود کے ہر امتحان پر پورا اترتا چلا گیا ۔اور یوں غلام نے اپنے مالک کے دل میں گھر کر لیا۔محمود اس کی ذہانت، دیانت اور متانت سے اس قدر متا ثر ہوا کہ خوش ہو کر اسے لاہور کا پہلا مسلمان گور نر نامزد کر دیا۔ پھر اعتماد کا رشتہ اس قدر مظبوط ہوا کہ اسے وزیر اعظم کے عہدے پر نامزد کر دیا۔ بادشاہ کی طرف سے غلام کو اتنی عزت دینے پر خوشامدی در باریوں کے پیٹ میں مڑوڑ اٹھنے شروع ہو گئے اور وہ اس پلاننگ میں لگ گئے کہ کسی طرح بادشاہ کے دل میں ایاز کے حوالے سے شک کا بیج بو یا جائے ۔
لہذا وہ اپنی اس پلاننگ کو پورا کر نے کی کوشش کرتے ہوئے ایک روز، بادشاہ سلامت کے در باد میں حاضر ہوئے اور جان کی امان پاتے ہوئے اپنی فر یاد عرض کرتے ہیں کہ :”بادشاہ سلامت !ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ایاز، اپنے پاس کوئی خزانہ جمع کر رہا ہے اور جب اس کے پاس ایک خاص مقدار جمع ہو جائے گی تو وہ آپ کے خلاف بغاو ت کا اعلان کرتے ہوئے آپ کاتختہ الٹ دے گا۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ ایاز، اپنے اس خزانے کو روزانہ ایک تہہ خانے میں دیکھنے کو جا تا ہے ، بے شک آپ خود اس بات کی تصدیق کر لیں۔

خوشامدی وزیروں کا پلان کامیاب ہوا اور محمود کے دل میں بھی شک کا زہر شامل ہو گیا۔ جس کے نتیجے میں ایک روز بادشاہ نے ایاز کو بلایا اور پوچھا: ”ایاز، یہ خزانہ اور تہہ خانہ، یہ کیا معاملہ ہے“؟ ایاز نے اپنے بارے کئی صفائیاں دی، لیکن بادشاہ کی تسلی نہ ہوئی۔بالآخر ایاز کو حکم دیا کہ چلو میرے ساتھ اس تہہ خانہ میں چلو، جیسے ہی دونوں چراغ کی روشنی میں تہہ خانہ میں داخل ہوئے ۔ محمود نے دیکھا کہ یہاں تو واقعی ایک بہت بڑا پتھر ہے جس پر صندوق پڑا ہوا ہے، جس پر ایک تالہ بھی لگا ہوا ہے ۔
اب تو بادشاہ کا شک یقین میں تبدیل ہو گیا اور دل ہی دل میں سوچنا شروع ہو گیا کہ واقعی وزیر ٹھیک ہی کہہ رہے تھے ۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ فوراََ اس صندوق کو کھولو، جیسے ہی ایاز نے صندوق کو کھولا تو بادشاہ محمود غزنوی دھاڑیں مار مار کے رونا شروع ہوگیا۔ صندوق کے اندر ایک پھٹا پرانا کرتا، ایک پرانی جوتی اور ایک چھڑی تھی۔ ایاز نے محمود کو کہا کہ بادشاہ سلامت یہی میرا خزانہ ہے ۔ جس پر محمود نے سوال کیا کہ ایاز! تو نے ان چیزوں کو اتنی حفاظت سے کیوں رکھا ہوا ہے اور بھلا تو روزانہ انہیں دیکھنے کیوں آتا تھا؟
ایاز ، بڑے ادب کے ساتھ گویا ہوا: بادشاہ سلامت !آج میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہوں لیکن مجھے آج بھی یہ نہیں بھولا کہ میں ایک گڈریا تھا۔
اسی چھڑی سے بکریاں چراتا تھا،یہی جوتی پہنتا تھا اور یہی پھٹا پرانا کرتا زیب تن کیا کرتا تھا“۔ اب روزانہ اپنے اس خزانے کو اس وجہ سے دیکھنے آتا ہوں کہ میں اپنی اوقات بھول نہ جاؤں۔ یہ نہ ہو کہ انسانوں کو کیڑا مکوڑا سمجھ کر اپنے پیروں تلے روند دوں ، یہ نہ ہوغریب میرے غرور کی بھینٹ چڑھ جائیں،اور کہیں تکبر و رعونت کے نشے میں کسی بے کس کی جھونپڑی نہ جلا ڈالوں ، کہیں اپنے جاہ وجلال کا چراغ روشن رکھنے کے لئے کسی مظلوم کی زندگی کا دیا نہ بجھا دوں۔
یہی وجہ ہے کہ میں روزانہ یہاں آکر اپنے ضمیر کی زنجیر ہلاتا ہوں تا کہ مجھے اپنی اوقات یاد رہے ۔
قارئین کرام !ہم میں سے اکثر لوگوں کی زندگی کی کہانی بھی ایا ز کی طرح ہے ، ہم بھی جب اپنے ماضی کی جانب نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں ایک اجڈ، گنوار اور جاہل انسان دکھائی دیتا ہے ۔ غربت، فاقے اور کسمپرسی کی زندگی جس کا مقدر ہوتی ہے ۔لیکن قدرت ایک روز ہم پر مہر بان ہوتی ہے اورپھر جس کے نتیجے میں ہم چھوٹے سے بڑے بن جاتے ہیں ،شہر کے مہنگے ترین علاقوں میں ہمارے گھر اور کئی درجن پلاٹ ہمارے نام ہو تے ہیں۔
سیکڑوں ملازم ہمارے ماتحت اور اربوں روپے ہمارے بنک کاؤنٹس میں ہوتے ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم بھی ایاز کی طرح اپنے ماضی کو یاد رکھتے ہوئے روزانہ ضمیر کی عدالت میں پیش ہوں ،پھر جس طرح قدرت نے ہماری اوقات سے زیادہ آسانیاں عطا کی ہیں اسی طرح اپنے آس پاس کے لوگوں کا خیال رکھیں، اپنے ملازمین کوبھی، اپنی ہی طرح کا انسان سمجھتے ہوئے ان کی ضروریات کو پورا کریں اور جہاں تک ممکن ہو لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرتے رہیں ۔ اللہ کرے ایسا ہو جائے۔ آمین
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے بدھ دسمبر کے مزید کالم