فراڈ بھی شر مندہ ہو جائے

جمعرات فروری    |    عامر خان

پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے اور منظم فراڈکی ایک ایسی انوکھی داستان جس میں حکومت اور عوام کے سا تھ ایک ہی وقت میں فراڈ ہو رہا فراڈ بھی وہ جس میں گھنٹوں میں لاکھوں کا  فراڈ بھی ہوا عوام کی عزت بھی تا ر تا ر ہوئی ایسی داستان جس میں ہوا کی بیٹی اپنے نام پر ملنے والی امداد کے پیسوں کے لیے دربدر زلیل ہوئی جس میں مرد اپنی شان انا ختم کروا بیٹھا جس میں عورت چاردیواری سے نکل نا محرم مردوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن گی حکومتی امداد کے نام پر ملنے والے چند پیسوں کی خاطر صبح سے شام تک دھوپ دیکھی نا بارش دیکھی بچے بھوکے چھوڑکر خاوند کی نارضگی مول لی لمبی قطارمیں کھڑی رہی صرف اس لیے کے خاوند پر بوجھ کم ہو گا بچوں کی خواہسشات پوری کرسکوں گی پر ملا صرف در بدر زلیل ہونا ۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سروے اپنے آغاز سے اختتام کی طرف گامزن ہے اس کے آغازسے اب تک لاکھوں کا فراڈ ہوچکا پر اس کے اختتام پر اس بھی زیادہ کی تیاری کی جارہی ہے اس سب کا احوال گوش گزار ہے اس پروگرام کا مقصد غریب اور مستحق عورتوں اورگھرانوں میں مالی امداد کرنا ہے اس پروگرام میں ہر تین ماہ بعد قسط دی جاتی ہے اور یہ رقم خاتون خانہ کی ملکیت ہوتی ہے ۔

(خبر جاری ہے)

لیکن اس کے آغاز سے ہی یہ ایجنٹ حضرات کی نظر ہو گیا ایسا کیوں ہو اس میں حکومتی نااہلی شامل تھی یا عوا م کی ناخواندگی وجہ بنی۔

اس سارے فراڈ پردو کالم لکھ چکا ہوں لیکن یہاں بھی اس سارے فراڈ کو مختصر کر کے سمجھنانے کی کوشش کروں گا ۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کب کیسے اور کیوں سامنے آیا سب ہی جانتے ہوں گے یہ سندھ سے چلتا ہو جنوبی پنجاب بھی آگیا غربت یہاں بھی ڈیرے لگائے بیٹھی تھی سروے مکمل ہوا ڈاکیا گھر گھر پیسے دے آتا پر یہ طریقہ شفاف نہیں تھا اس لیے مختلف بینکوں کی مدد سے اے ٹی ایم کارڈ بنا دئے گے ۔پر یہ طریقہ اس سے بھی ناقص نکلا اے ٹی ایم کارڈکے ساتھ کالی رنگ کی پرچی پر پن کورڈدرج ہوتاتھاپن کورڈ خود ہی اس پرچی سے مٹ گیا کورڈکالی پرچی سے مٹ جانے کی وجہ مخصوص سیائی تھی ۔
اس طرح سارے اے ٹی ایم کارڈ بے کار ہوگے جنوبی پنجاب کے شہرجھنگ کے ہزاروں کارڈبند ہوگے شہر جھنگ میں بے نظیر دفتر اس وقت کام نہیں کرتا تھا جبکہ بنک والے لوگوں کو کہتے کراچی جاو یہا ں سے اب کچھ نہیں ہو سکتا ۔ اس طرح کئی ماہ یہ کارڈ بند پڑے رہے ان میں اقسا ط آتی رہی پر لوگ پن کورڈ نہ ہو نے کی وجہ سے پیسے نہیں نکلوا سکتے تھے ۔ ایسے میں چند غیر سرکاری لوگ یہ پن کورڈ لوگوں کودینے لگے جس نے جہاں سے سنا ان کے پاس پہنچ گیا ۔
کارڈ پھر جوبنک کانمبر تھا اس سے کال نہیں اٹھائی جاتی تھی بے نظیر ہیلپ لائن والے بھی اس کا کچھ نہیں کر سکتے تھے ۔یہ فراڈ کرنے والے لوگ بنک کو کارڈ صارف کے نام سے شکایت کی ای میل کرتے تھے بنک نمائندہ کال کرتا یہ کسی بھی خاتون سے بات کرواکے کا رڈ صارف کا سار اڈیٹا بتا کر نیا پن کورڈ حاصل کر لیتے اے ٹی ایم سے رقم نکلوا کر اپنا حصہ رکھ لیتے ایسے لوگوں پر ان کا اعتماد بن گیا اب کارڈ ان کا پاس ہوتا جس میں کافی ساری قسطیں جمع ہوتی تھی ۔
یہ ہزاروں روپے مفت میں نکلوا لیتے اور یہ ایک کاروبار بن گیا سادہ لوح لوگ آتے اور لٹ کر چلے جاتے کچھ لوگوں کو یہ اتنے دھکے لگواتے کے وہ اپنا کارڈ بھی واپس نہ لیتے ایسے میں یہ کارڈ کے مالک بن جاتے ہر قسط خود ہی پیسے نکلوا لیتے ۔ایسے ہی وقت گزرتا رہا میڈیا نے اس بات کو اٹھایا دفتر نے کام کا آغاز کر دیا نجی بنک کو بھی اس کی بھنک پر گی یہ فراڈ کم ہو گیا ۔فراڈ کرنے والے اس لت میں پڑچکے تھے اب ان کا رابطہ دفتر والوں سے بھی ہو گیا ۔
اب بنیک ہفتے میں ایک دن بے نظیر کے دفتر کال کرتا اور وہاں سے عورتوں سے کال پر بات کرے کے پن کورڈدئے جاتے یہ طریقہ پہلے سے شفاف تو تھا پر یہ عملے کی ملی بھگت سے پھر کرپٹ ہو گیا ہوتا کچھ اس طرح کے پہلے بات سفارشی یا جن سے رشوت لی جاتی اُن کی کروائی جاتی یہ سارا کام ایجنٹ حضرات سے کرویا جاتا جو رشوت نہیں دیتے اُن کو سارا دن زلیل کر کے اگلے ہفتے کا وقت دیا جاتا ۔اور پھر ایسا وقت آیا جب بے نظیردفتر خود مختار ہو گیا یہ اب پن کورڈ کی شکائت والے صارف کو نیا کارڈ جاری کر ددتے اور یہ سب بائیومیٹرک سسٹم سے ہوتا تھا یہ طریقہ انتہائی شفاف تھا پر اس میں بھی ایجنٹ حضرات کی سفارش کے بغیر کام نہیں ہوتا ْ۔
اس کے بعد ان فراڈ کرنے والے لوگوں نے دفتر کی ملی بھگت سے سرکاری لسٹ حاصل کی جس میں نئے کارڈ بنے والوں کے نام نمبر درج ہوتے تھے یہ لوگ ان کے گھروں میں جا کر کہتے کے ہم آپکو کو کارڈ بنوا کر دیں گے پہلی قسط ہماری ہو گی خالی کارڈ آپ کا بعد کی قسطیں اپکی اب میرٹ پر بنے والے کارڈ سفارش سے بنتے پہلی قسط فراڈ کرنیوالے یا ایجنٹ خود رکھ لیتے لوگوں کو بھی اس سے کوئی مسلہ نہیں ہوتا تھا کونسا اُن کی جیب سے پیسے جاتے تھے ۔
اب ناخواندہ عورتیں ان فراڈ کرنے والوں کے رحم کرم پر تھی دفتر میں سارا دن دھکے کھانے کے بعد بھی ان کی باری نہ آتی جبکہ ایجنٹ یہ کام جلد کروا دیتا ۔دفتر کا عملہ تو اس میں شامل تھا ہی پر نجی بنک کی پالسیی بھی ان فراڈ کرنے والوں کی چاندی کروانے میں پیش پیش تھا عید کے موقع پر ایک کارڈ کی مخصوص سیریل میں ڈبل قسط بھیج دی جس کی نہ کوئی خبربے نظیردفترنے عوام کو دی نہ بنک نے کوئی اعلان یاخبر دی صرف ان ایجنٹ کو اس کا پتاتھایہ لوگوں کو بھلا بھلا کر کہنے لگے کس کس کو عید چاہیے غریب لوگ پہنچ گے یہ فراڈکرنے والے انھیں کہا نی سنا کر کہتے کے پیسے ہم نے منگواے ہیں ہمیں حصہ دو جس سے ان فراڈ کرنے والوں سے اچھی خاصی رقم جمع کر لی ۔
اور اس پہلے بنک کی پالیسی تھی کے کارڈ پر درج نمبر سے کال نہیں اٹھائی جائے گی جبکہ ای میل پر بنک خود کال کرتا تھا ۔جن علاقون میں بجلی نہیں جن عورتوں کو اپنا نام اُردومیں پڑھنا نہیں آتا وہ انگلش میں ای میل کیسے کرتی ہوں گی ۔یہ سب ای میل بنک ریکارڈ میں موجود ہوں گی۔
اب جو فراڈ ہونے جا رہا کچھ اس کے بارے میں بھی بتا دوں اس سارے فراڈ کے دوران کچھ ایسے کارڈ بھی جو ٹھیک نہ ہو سکے اس میں اقساط آتی رہی ہر ایسے کارڈ میں اچھی خاصی رقم اکٹھی ہوگی ایسے کارڈ میں سے بنک نے رقم واپس نکال لی اور اب یہ رقم واپس کر نے کی افواہ گردش کر رہی ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو ہر کارڈ میں اچھی خاصی موٹی رقم واپس آئے گی اب فراڈ کرنے والے حضرات کو بھی اس کا پتا چل گیا اور اس بار یہ فراڈ ہزاروں سے نکل کر لاکھوں کروڑوں میں پہنچ جائے گا ان ایجنٹ حضرات نے لوگوں کے شناختی بے نظیر کارڈ رکھنے شروع کر دئے ہیں تاکہ بعد میں عملے کی ملی بھگت سے عورتوں کے انگھوٹھے لگوا کررقم نکلواکر کچھ اُن میں تقسیم کر کے باقی خود کھا جائے گے فراڈ کرنے والے حضرات ایک بار پھر تیا ری پکڑ چکے ہیں اور کارڈ ٹھیک کروا کر دینے کے ریٹ بھی نکل چکے ہیں ۔
۔
ٓہم میں سے ہرانسا ن ایک دفعہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچھے بے شک ہم میں سے کوئی جتنا بھی طاقتور ہے بے شک وہ کوئی سرکاری افسر ہے ،جج ،وکیل،پولیس افسر،وزیر سیاست دان یا پھر کوئی بہت بڑا تاجر ہے یا کوئی بہت بڑا صحافی ہے ہم سب جانتے ہیں موت آنی ہے پر موت اچانک آجائے ہم روڑکے کسی حادثے میں مر جائیں یا ہارٹ اٹیک سے مر جائیں یا پانی ہمارے حلق سے بھی نیچے بھی نہ اترے اور ہماری موت واقع ہو جائے یا ہم اس سب سے بچ جائیں روڑ حادثے میں بھی بچ جائیں ہم صرف ٹانگوں سے مفلوج ہو جائیں یا ہارٹ اٹیک سے بھی بچ جائیں اورہماری زندگی بستر پر آجائے ۔
ایسے میں گھر فاقوں کی نوبت اور قرض ہو جائے میری آپکی ماں ،بہن۔بیٹی بہو اس حکومتی امداد کے حصول کے لیے گھر سے نکلتی ہے دن بھر لمبی قطار میں لگ کر واپس آجاتی ہے نامحرم مردوں کے سا منے منت سماجت کرتی ہے ہاتھ جوڑتی روتی دھتکار دی جاتی ہو نازیباہ فحش جملے سن کر بھی برداشت کرتی ہو اور جب اپنی عزت بچا کر یا گھنوا کر امداد ملنے کا وقت آئے تو کوئی ایجنٹ درمیان میں آکر اس کے پیسے کھا جائے وہ واپس گھر آئے تو اس کے چہرے پے صرف موت کی زردی ہو اور کچھ نہیں ۔یہ ایک ایسا فراڈہے جس سے لفظ فراڈ بھی شرمندہ ہوجائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com