سسکتی قوم اور دس روپے کا ٹھیپا

منگل ستمبر    |    عبدالرحمن

سٹیٹ بینک آف پاکستان نےپاکستان منٹ کے ٹکسال پہ بنا دس روپے کا سکہ جاری کر دیا.دس روپے کا یہ ٹھیپا پاکستانی کرنسی میں ایسا اضافہ ہے جو آنے والے دنوں میں دس روپے کے کرنسی نوٹ کو بالکل بے وقعت کر دے گا اور شہریوں کی جیبوں پہ بھاری بوجھ ثابت ہو گا.کرنسی کی یہ تبدیلی بجٹ کی طرح وہ حکومتی گورکھ دھندہ ہے جس کے بل بوتے پہ حکومت ٹیکس کے اداروں کے ذریعے عوام کی جیبوں کی صفائی کرتی ہے.بچپن میں پانچ پیسے کی پانچ میٹھی گولیاں ملتی تھیں جبکہ پچیس پیسے کی پچیس چھوٹی خطائیاں خرید لیا کرتے تھے.پچیس پیسے کا لچھا,,اٹھنی کے بھنے ہوئے دانے اور بارہ آنے کی نان ٹکی مل جایا کرتی تھی یعنی ایک یا دو روپے میں سب چیزوں کی خریداری کر کے ایسے خوش ہوتے تھے جیسے دنیا جہاں کی دولت مل گئی ہو اور پھر اتنے پیسوں میں طرح طرح کی چیزیں خرید کر بھرپور پکنک منانا معمول تھا.اب یہ دور ہے کہ دوکاندار سے ایک ,دو یاپانچ روپے کی بقایا رقم کی واپسی کاتقاضاکرو تو وہ اچھا خاصہ برا مان جاتے ہیں.جس کے پرس میں ایک دو روپے کی سکےہوں تو وہ شرم سے منہ چھپائے پھرتا ہے اگر اس سے دگنی تعداد کے سکے بچوں کو دئیے جائیں تووہ ایسی کھری کھری سناتے ہیں کہ عزت بچانا مشکل ہو جاتا ہے,,حکومتی کارستانی کی بناء پردس روہے کے ٹھیپے کی آمد سے توقع ہے کہ ایک اور دو روپے کے ٹھیپے چونی اور اٹھنی کی طرح دم دبا کر غائب ہو جائیں گے جبکہ ایک روپے کا سکہ پانچ روہے اور دو روہے کا سکہ دس روہے کے سکے کا متبادل بن کر سامنے آئے گا.پانچ اور دس روپے کے سکے کی چار سو گنا بے قدری سے آنے والے دنوں میں مہنگائی کا وہ طوفان آئے گا جس کے جھٹکے عوام کو دہائیوں تک سہنے پڑ سکتے ہیں.حقیقت میں وفاقی وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک میں بیٹھے بڑے بڑے افسران کو اتنی بڑی مراعات اورتنخواہیں ایسے ہی معاشی گورکھ دھندے کو پروان چڑھانے ,,روپے کو بےقدر کرنے اور شہریوں کی جیبوں کو صاف کر کےحکومتی خزانے کو بھرنے کی ملتی ہیں.
بلاشبہ معاشی اور ملکی ترقی کی دعویدار حکومت نے گذشتہ ساڑھے تین سالوں میں بڑے بڑے کاغذی منصوبے بنائے,,اربوں روپے کے اشتہارات دے کر ان کاغذی منصوبوں کو میڈیا کے ذریعےزندہ رکھا.نندی پور پاور پلانٹ میں کرپشن کی داستانیں ہوں یا ساہیوال کول پراجیکٹ کی تکیمل,,نیلم جہلم منصوبے کی اپ گریڈیشن کی بات ہو یا لوڈ شیڈنگ می کمی کا خواب حقیقت سب کے سامنے عیاں ہے کہ اگر گذشتہ ساڑھے تین سالوں میں حقیقی منصوبہ بندی کی گئی ہوتی تو ان سالوں میں لوڈ شیڈنگ بتدریج کم ہوجاتی,,سوال یہ ہے کہ آنے والے ڈیڑھ برس میں ایسی کون سی جادو کی چھڑی ہلائی جائے گی جس کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے تمام منصوبے مکمل ہو کے سامنے آ جائیں گے.اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں بجلی نہ ہونے کی بناء پر ملکی پیداواری صنعت شدید متاثر ہوئی ہےجس سے نہ صرف ہماری برآمدات ختم ہو کر رہ گئی ہیں,, صنعتوں کا پہیہ بند ہونے سے بےروزگاری میں شدید اضافہ ہوا ہے.یہی وجہ ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات,,گاڑیوں کی درآمدات اور ٹیلی کمیونیکیش پر اندھا دھندٹیکس عائد کر کے اپنی آمدن میں اضافہ کر رہی ہے.حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات اور ٹیلی کمیونیکیشن کی مد میں جو بھی ٹیکس عائد کیا جاتا ہے ان میں روپوں کے ساتھ پیسے بھی شامل ہوتے ہیں حالانکہ ملک میں عملی طور پر پیسے کا وجود ہی نہیں.ٹیکس وصولی میں پیسے شامل کر کے حکومت پیٹرول کی مد میں فی لیٹر یا کال کی مد میں فی منٹ کے حساب سے اپنے ہی شہریوں کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگانے میں مصروف ہے.
شہریوں کے بنیادی حقوق ,انفراسٹرکچر کی بہتری,,فروغ تعلیم اور صحت عامہ کی ترقی کے منصوبے وزیر اعظم کے قوم سے خطاب یاوزیر خزانہ کے بجٹ اجلاس سے خطاب کے مواقع پر سننے میں آتے ہیں.عدالت عظمی شہریوں کو صاف پانی کی عدم فراہمی اور مفت تعلیم کی فراہمی کے اقدامات سے متعلق حکومت پر اظہار برہمی کر چکی ہے,,سپریم کورٹ کابینہ اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر وزیر اعظم کی جانب سے براہ راست ٹیکس کے نفاذ اور فیصلوں کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے مگر حکومت نے بھی عدالتی فیصلوں کو نہ ماننےکی قسم اٹھا رکھی ہے.بدقسمتی سے ملک میں یکساں نظام تعلیم کی طرح واٹر پالیسی ہی موجود نہیں یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل شہری ذمہ داریوں سے عاری ہے جبکہ ہر دسواں پاکستانی ہیپاٹائٹس کا مریض بن کے رہ گیا ہے.قدرت کی طرف سے عطا کئے گئے اربوں ڈالر کے ملکی صاف اور میٹھےپانی کو کالا باغ ڈیم نہ بنانے کے نام پر براہ راست سمندر برد کیا جا رہا ہے.ایک طرف مفت کا پانی ضائع کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب ملٹی نیشنل کمپنیوں کویہی پانی بوتلوں میں بھر کرشہریوں کو لوٹنے کے لائسنس تقسیم کردئیے گئے ہیں.
ماضی گواہ ہے کہ ملکی پانی کو مبینہ طور پر اربوں ڈالر میں بھارت کے آگے فروخت کرنے والے سندھ طاس واٹر کمیشن کے سابق کمشنر جماعت علی شاہ کی کینیڈا میں سکونت کا معاملہ ہو یا میمو گیٹ سکینڈل کے مرکزی کردار حسین حقانی کو امریکہ میں بھجوانے کا معاملہ ہماری حکومتوں نے ذاتی مفادات کو ہمیشہ قومی مفادات پر ترجیح دی. اگر ریاست کے تینوں ستون مقننہ,عدلیہ اور انتظامیہ کا جائزہ لیں تو صورتحال تسلی بخش دکھائی نہیں دیتی.تاریخ بتاتی ہے کہ ریاست کے پہلے ستون مقننہ کے ادارے میں بیٹھے قانون ساز اپنی مراعات ,اختیارات میں اضافے کے لئے تو ہمیشہ ایک ہو جاتے ہیں مگر سارے قانون ساز مل کر ڈیڑھ سو سال پرانے قوانین کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق تبدیل نہیں کر سکے نہ ہی عوام دوست بجٹ پیش کر سکے,,یہی وجہ ہے کہ آج بھی ملک میں غربت قومی نشان ہے,,زراعت ترقی نہیں کرسکی,,صنعتوں کا پہیہ نہیں چل سکا,,حکومت کے ناکام بجٹ کا سارا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے ,,شہری ایک ایک پیسے کے ریلیف کو ترستے ہیں مگر حکومت روپے کی قدر چار سو گنا کم کر کے انہیں پانچ یا دس روپے کا ٹھیپا تھما دیتی ہے,دوسری جانب پرانے قوانین کے سبب ملک میں پیچیدہ عدالتی نظام اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ عام شہری بے بسی سے انصاف کا منتظر رہتا ہے مگر بساء اوقات تیسری نسل کو بھی انصاف نہیں مل پاتا,,پٹواری کلچر اپنی آب و تاب کے ساتھ شہریوں کو تگنی کا ناچ نچارہا ہے,,فرسودہ قوانین کے سبب نو آبادیات کی طرح ملک میں شہریوں کی درجہ بندی موجود ہے جبکہ ملک میں بسنے والے عوام درجہ چہارم کے شہری سمجھے جاتے ہیں,,پولیس افسران چٹی چمڑی والے گورے وائسرائے کی طرح عام شہری کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتے ہیں ,,انہی فرسودہ قوانین کے سبب ملک پولیس سٹیٹ بن چکا ہے نہ کسی کی جان محفوظ,,نہ عزت نہ آبرو.بااثر افراد کے لئے بچے کھچے اور فرسودہ قوانین گھر کی لونڈی ہیں جبکہ عام آدمی کے لئے قانون کتابوں میں بند ملتا ہے.ایک طرف بجٹ اجلاس کے دوران اراکین اسمبلی عوام سے وفاداری کی بجائے سیاسی جماعت یا ان کے سربراہوں سے وفاداری کو ترجیح دیتےہیں جس کا خمیازہ عام آدمی کو مہنگائی بم کی شکل میں بھگتنا پڑتا ہے.دوسری جانب قانون سازوں کاقانون سازی میں دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ بعض اوقات قائد ایوان کی اسمبلی میں آمد پربھی گھنٹیاں بجا کر یا اراکین اسمبلی کو سختی سے پابند بنا کر اسمبلی میں بلایا جاتا ہے.لاکھوں شہریوں کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچنے والے قانون سازعوام کے مالیاتی حقوق کے تحفظ کی بجائے وزارت کی دوڑ دھوپ میں مصروف دکھائی دیتے ہیں,,,سیاسی جوڑ توڑکے علاوہ,,بیرونی دوروں یا دھرنوں کی منصوبہ بندی ان کا شغل بن چکا ہے.ریاست کے دوسرے ستون عدلیہ کے ادارے میں اربوں کھربوں کے نادہندہ نجی اداروں,,ٹیکس چوروں,,بجلی چوروں,,,سرکاری خزانے کی لوٹ مار کے مقدمات حکم امتناعی کے سہارے چل رہے ہیں.زیر التواء مالیاتی مقدمات بروقت نہ نمٹائے جانے سے قومی خزانے میں کھربوں روپے جمع نہیں ہو رہے.
سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے دور میں قومی عدالتی پالیسی کا نفاذ کیا گیا .اس پالیسی پر اس کی روح کے مطابق عمل نہ کرنے سے ملکی عدلیہ میں لاکھوں مقدمات آج بھی زیر التواء ہیں.قوم پر اربوں کےٹیکس لگانے والےموجودہ یا مدت مکمل کرنے والےقانون سازوں کی جعلی ڈگریوں سے متعلق مقدمات کئی برس گزرنے کے باوجود آج بھی عدالتوں میں زیر التواء ہیں جبکہ جعلی ڈگری رکھنے والے اراکین اسمبلیوں کے خلاف الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر استغاثوں کا کئی سال گزرنے کے باوجود فیصلہ نہیں سنایاجا سکا.سرکاری اداروں میں نفاذ اردو کے حوالے سے سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے کو ملکی عدلیہ میں بھی نافذ نہیں کیا جاسکا.انسانی اور بنیادی حقوق کے علاوہ پیٹرول اور بجلی کے بلوں میں بلاجواز ٹیکس کےنفاذ اور آئین کی خلاف ورزیوں پر سپریم کورٹ کی جانب سے لئے جانے والے از خود نوٹس لینے میں بتدریج کمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے انتظامیہ ایک بارپھر اپنی من مانیاں کرتی دکھائی دے رہی ہے.ریاست کے تیسرے ستون انتظامیہ کے سربراہ وزیر اعظم میاں نواز شریف سال میں ایک دو بار ہی ملکی دورے پر تشریف لاتے ہیں,,ان کی زیادہ تر مصروفیات بیرون ملک ہونے کی وجہ سے ملکی معاملات جدید ٹیکنالوجی کے مرہون منت ہوبے کی وجہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں.وزیر اعظم کے ناقدین زور و شور سے واویلا کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم ملک سے بیروزگاری ختم کرنے اور عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ سے نجات دلانے کی بجائےبرطانیہ, بھارت,چین,ترکی,سعودی عرب اور تھائی لینڈ میں اپنے نجی کاروبار کی دیکھ بھال کرنے اور انہیں وسعت دینے کے اہم منصوبے کی نگرانی کررہے ہیں.بدقسمتی سے پانامہ لیکس نے ملکی انتظامی سربراہ وزیر اعظم میاں نوازشریف کی آف شور کمپنیوں کی تصدیق کی.پانامہ لیکس کی یہ خبر بے روزگار اور بھوک سے تنگ عوام پہ بم بن کر نازل ہوئی ,,,عوام برملا سوال اٹھانے لگے کہ بیرون ملک بھیجاگیا پیسہ ملک میں صرف کیا جاتا تو ملکی معاشی صورتحال کو سہارا دینے کے لئے دس روپے کا ٹھیپا میدان میں نہ اتاراجاتا.
عوامی بے چینی کے بعد اپوزیشن جماعت تحریک انصاف حالت جنگ میں ہے اور اسی بناء پر عمران خان نے رائے ونڈ میں وزیر اعظم کے خلاف دھرنے کی کال دے رکھی ہے.انتظامیہ کی مجموعی کارکردگی کا احوال اول الذکر بیان کیا جا چکا ہے البتہ وفاق میں اعلی انتظامی عہدوں پر وزیر اعظم کے وفادار اور منظور نظر ناتجربہ کار افسران کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں وزرائے اعلی کی پسندیدگی میرٹ کی بنیاد ہے.وفادار اور من پسند افسران کی تعیناتی کا مرکزی مقصد ماورا قانون انتظامی حکم ناموں پہ عمل درآمد کرانا ہے.ان حکم ناموں میں بجلی کے بلوں میں نیلم جہلم سرچارج,,پی ٹی وی فیس کی وصولی کے نام پر عوام پر ٹیکس عائد کرنا بھی شامل ہے.وفاق اور صوبوں میں تجربہ کار اور اہل افسران باضابطہ طور پر کھڈے لائن لگائے گئے ہیں.انتظامی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب کی دلچسپی کے منصوبے اورنج لائن ٹرہن اور میٹرو کے نام پر کھربوں روپے صرف کئے جا رہے ہیں,,تعلیم کی مفت فراہمی,صحت اور انفراسٹرکچر کی بہتری حکومتی ترجیحات میں شامل ہی نہیں.دس سال قبل بنائے گئے منصوبوں کی تعمیرات مکمل ہونے پر ان منصوبوں کا افتتاح حکومت کی انتظامی کارکردگی ظاہر کرنے کے نام پر 2018کے عام انتخابات تک موخر کر دیا گیا ہے.اختیارات ملنے کے ڈر سے ضلعی حکومتوں کو تاحال غیر فعال رکھا گیا ہے شنید ہے کہ سیاسی مفاد کے تحت 2018 کے عام انتخابات کے قریب ہی اضلاع میں اپنے پسندیدہ افسران تعینات کر کے ضلعی حکومتوں کو فعال بنایا جائے گا اور پھر انتخابی دھاندلی کی ضمانت کے ساتھ انہیں اختیارات منتقل کئے جائیں گے.سیاسی مصلحت کی بناء پر مشترکہ مفادات کونسل کے چئیرمین وزیر اعظم نے کالا باغ ڈیم یا متبادل ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے آج تک اجلاس نہیں بلایا جس کا لازمی نتیجہ پانی کی کمی کی صورت میں آئندہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا ہو گا.موسمی تبدیلیوں سے بچاو اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لئے حکومتی کارکردگی بہت بڑاسوالیہ نشان ہے.نئے شہروں کی تعمیر حکومت کے کسی منصوبے میں شامل ہی نہیں.پرانے اور بے ہنگم شہروں کی ٹریفک,, آبادی,,امن و امان کو کنٹرول کرنے میں حکومت نے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی.بلاشبہ سی پیک خطے میں گیم چینجر منصوبہ ثابت ہو گا,,اس منصوبے کے ذریعے صوبوں کے احساس محرومی کو ختم کیا جا سکتا تھا مگر حکومتی اور انتظامی نااہلی کی بناء پر اس منصوبے کی تکمیل کے ساتھ ساتھ صوبوں کے احساس محرومی میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے.آئین میں ریاست کے کسی چوتھے ستون کا ذکر موجود نہ ہونے کے باوجود میڈیا کو ریاست کے چوتھے ستون ہونے کا دعوی کیا جاتا ہے.بدقسمتی سے سرمایہ دارمیڈیا مالکان خود ہی میڈیا کی آزادی اور آزادی اظہار رائے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئے ہیں.مالکان کی جانب سےکروڑوں روپےکے اشتہارات کے نام پر کارکن صحافیوں کے ہاتھ باندھ کرحکومتوں کی نااہلیوں پر پردے ڈالے جا رہے ہیں,,یہی وجہ ہے کہ میڈیا نے آج تک اس معاملے کو اجاگر نہیں کیا کہ ملک میں روپے کی بنیادی اکائی ایک پیسےکے سکے کا وجود ہی نہیں تو پھر معیشت کا پہیہ کس بنیادی اکائی کے سہارے گھوم رہا ہے.میڈیا نے آج تک یہ کیوں نہیں بتایا کہ ایک پیسے کا سرے سےوجود نہ ہونے اور ایک یا دو روپے کے خاتمے کے بعد حکومت پانچ یا دس روپے کے ٹھیپے کو بنیادی اکائی تسلیم کر کے آئندہ سے ٹیکس کا نفاذ کرئے گی جو عوام کی شہ رگ پہ مالیاتی چھری پھیرنے کا باعث بن سکتا ہے.میڈیا کی چشم پوشی کا ہی نتیجہ ہے کہ بڑے مالیاتی اداروں کی کرپشن کے قصے دن دیہاڑے دفنا دئیے جاتے ہیں جبکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے ملنے والے اشتہارات انہیں عوام الناس کو سر عام لوٹنے کی ضمانت فراہم کر رہے ہیں.طرفہ تماشا یہ ہے کہ ریاست کے چوتھے ستون کو کبھی چھت کے ساتھ لٹکا دیا جاتا ہے اور کبھی دیوار کے ساتھ لگا دیا جاتا ہے.مرد حر آصف علی زرداری کو کئی برس تک پابند سلاسل دیکھنے اور شریف برادران کی دس سالہ جلاوطنی کے بعد عوام الناس نے یہ تصور کر لیاتھا کہ سیاست دانوں نے اپنی اپنی غلطیوں سے سیکھ لیاہے اب وہ مفادات کی سیاست کی بجائے خدمت کی سیاست کریں گے مگرافسوس وقت نے ثابت کیا ہے کہ سرمایہ دار اور جاگیر دار کی سوچ نہیں بدل سکتی انکے لئے نفع ہی سب کچھ ہے.یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کو دس روپے کا ٹھیپا تھمانے والےمعاشی بازی گروں نے ان سے خاموشی کے ساتھ ابتدائی طور پر چار اور مجموعی طور پرنو روپے چھین لئے.
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com