موسم کا عذاب چل رہا ہے

پیر دسمبر    |    آدرش فاروق

موسم کا عذاب چل رہا ہے
بارش میں گلاب جل رہا ہے۔۔۔۔
درد ، تکلیف، ازیت اور کرب احساسات کے ساتھ ہی جڑے ہیں مگر معاشرتی حالا ت وواقعات ہمیں ان سے بے بہرہ کر دیتے ہیں کہ ہم کچھ بھی سمجھنے کی بجائے آنکھ بچا کر نکلنے کی کو شش کرتے ہیں جیسے وہ احساسات نہیں بلکہ آسیب ہیں ۔ ہم ان احساسات کو اتنی با ر اپنے اندر پیدا ہو کر مرتے ہوئے محسوس کر چکے ہوتے ہیں کہ حکومتی وعدوں کی طرح انکی معنویت ختم ہو جاتی ہے اور اندر باہر ایک سا کہر آلود جمود طاری ہوجاتا ہے ۔
ایسا لگتا ہے کہ سوچنے ،سمجھنے اور کبھی کبھار بولنے کی صلاحیت سلب ہو جاتی ہے۔الفاظ ہوامیں معلق ہو جاتے ہیں اور ذہن کی تختی صاف ستھری ہو تی ہے پھر نہ اندر ، باہر کا موسم بدلتا ہے نہ ہی آنکھ کوئی منظر دیکھ پاتی ہے۔

(خبر جاری ہے)

گھٹن اتنی کہ سانس لینا محال۔۔۔۔۔
د لوں کے حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور نیتوں کے حال بھی وہی جانتا ہے ۔ مگر جہاں جہالت،گھمنڈ، غرور اور اتراہٹ بحثیت قو م وطیرہ بن جائے اُن قوموں کی قسمت نادر ہی بدلتی ہے۔

ہمیں ہر چیز میں صفائی اور نفاست پسند ہے مگر اپنے اند ر کی صفائی اور طبیعت کی نفاست پہ بہت سے خود کا ر آلہ کی طرز کے کئی قد غن لگا رکھے ہیں ۔
وقت اپنی رفتا ر سے گزر رہا ہے اورہمیں آج تک اس بات کو سوچنے کی فُرصت نہیں ملی کہ ترقی یافتہ معاشروں کے طرز پر زندگی گزارنی ہے یا کہ اپنی ہی درویشانہ صفت پہ۔اس کوے اور ہنس کی چال نے ہمیں آدھا تیتر اور آدھا بیٹر بنا رکھا ہے ۔جیسے آگے تو بڑھنا چاھتے ہیں محنت کے بغیر،منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں راستوں کا تعین کئے بغیر، منزل چاہتے ہیں سفر کی دھول چٹے بغیر۔
۔۔ اقبا ل نے جن شاہینوں کے خواب آنکھوں میں سجائے تھے وہ تو محبت، بھائی چارے جیسے احساسات کی طرح کہیں کھو گئے ہیں۔غربت اور افلاس نے جہاں بھو ک اور ننگ کو فروغ دیاہے و ہیں اخلاقیات اور انسانی قدریں بھی ختم ہو تی جاتی ہیں ۔۔انسانی زندگی کی قدر پاکستانی روپے کی طرح کم ہوتی جا رہی ہے۔ جن معاشروں کی روش میں بے حسی، خود ستائش اور ڈھٹائی پائی جا تی ہے وہاں معصوم لوگ اپنی اُمیدوں کا جنازہ اُٹھاتے ہیں ۔
شفقت بھی ان ہی لوگوں میں سے ہے جو روز چندے کا بکس لے کر سڑک کنارے بیٹھا کرتا اور ہم میں سے بہت سے لوگ کبھی کبھار نوازتے ، کچھ بالے بانکے مذاق اُڑاتے اسکو تحقیر سے دیکھا کرتے اور کچھ رحم طلب نظروں سے اُسے دیکھ کر آگے بڑھ جاتے۔لیکن جب وہ اپنی عمر کے بچوں کو نئے کپڑے پہنے سکول جاتے دیکھتا تو اس کے دل میں سکول جانے کی خواہش سر اُٹھانے کی لگتی انہی سوچوں اور سڑک کی زندگی نے اسے ایک دم ہی کمسنی سے بہت بڑا کر دیااتنا بڑا کہ پا س سے گزرنے والی ہر نظر کا مفہوم سمجھنے لگا ۔
ان رویوں کے کٹر معنوں نے اسے نہ صرف گھر سے لیکر باہر والے ہر فرد سے بلکہ خود سے بھی متنفر کر دیا ۔جب یہ نفرت کراہت میں بدلتی تو اسے خود کے وجود سے بھی بدبو آنے لگتی ۔وحشت اور خودترسی کی وجہ سے معاشرتی صاحبِ عقل ا ُسے نفسیاتی مریض سمجھنے لگے جبکہ شفقت جانتا تھا کہ اندر جگی اس بے چینی ، خود ترسی اور معاشرتی ذلت کا احساس کیسا ہے؟
ہر اُٹھتی نظر نے شفقت کو اسکی کسمپرسی اور احساسِ محرومی کا یقین دلایا۔
ہر لمحے اند ر سے بار ہا مرنے کی اذیت نے اسکے احساسات کو منجمد کر دیا ہے مگر شفقت کا سوال یہ ہے کہ میری ذندہ لاش۔۔۔ جس میں خودترسی اور زوال کا تعفن ہے ، محرومی کا اندھیرا ہے جو کہیں چین نہیں لینے دیتا میراقصور کیا ہے؟ ایسے کئی شفقت ہیں جو زندگی کی خوبصورتی کو محسوس کئے بغیر ہی اپنے آپ سے بدلا لیتے لیتے ہی کھو گئے ۔
ہماری تھوڑی سی بے دھیانی اور لا پرواہی نے ایسے کئی چراغ گُل کر دیئے ۔کتنے ڈاکٹر، انجینئر اس ملک وقوم کے رکھوالے ہم نے گنوا دیے یہ جانے اور سوچے بنا ایک شفقت کے کھو نے سے ہمارا معاشرتی طور پر کتنا بڑا نقصان ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com