گمنام جماعت کا منشور

جمعرات مارچ    |    عمار مسعود

یہ وطن ہمارا ہے اس کی دیکھ ریکھ میں ہم اپنا کردار ادا نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔ دیار غیر میں بیٹھ کر ہر لمحہ اپنے وطن کی یاد ستاتی تھی۔ اپنے ہم وطنوں پر ہونے والے مظالم یاد آتے تھے۔ کیا سے کیا بنا دیا ہے اس ملک کو ظالموں نے۔ کبھی ہم اپنی ثقافت ، فنکاروں اور امن پسندی کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ اب چوروں لٹیروں کی حکومت ہے۔ کرپشن کی داستانیں ہیں ۔ لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔ بدامنی کا راج ہے۔
مجرم اہل اقتدار ہو گئے ہیں۔ پاکستان کو درست راہ پر ڈالا جا سکتا ہے۔ محنت اور الولاعزمی سے منزل پائی جا سکتی ہے۔صراط مستقیم پر چلایا جا سکتا ہے۔ مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے بہت برا وقت دیکھ لیا اب نئی صبح ہماری منتظر ہے۔ اتحاد ہماری ضرورت ہے اور اسکی یکجہتی کو حاصل کرنے ہم اپنا سب کچھ چھوڑ کر بیرون ملک سے یہاں آگئے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

اب یہی وطن ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ہمارے بس میں جو کچھ ہوا ہم کریں گے۔

اس سارے سسٹم کو تبدیل کر یں گے
حضرات گرامی مندجہ بالا ارشادات مصطفی کمال کی کل کی جذباتی تقریر سے اخذ نہیں کیئے گئے۔ یہ وہ کلمات ہیں جو کبھی معین قریشی کے ذہن مبارک سے ادا ہوتے ہیں ، کبھی ان فرمودات کا نزول شوکت عزیز کی جانب سے ہوتا ہے ، آفاق احمد اور عامر خان ان باتوں کو دھراتے ہیں، کبھی ان مبارک کلمات کو طاہر القادری ادا کرتے ہیں اور اب مصطفی کمال بھی اسی روایت کے داعی ہو گئے ہیں۔
مدتوں سے بیرون ملک رہنے والوں کو اچانک حب الوطنی کو جوش چڑھتا ہے۔ وطن واپسی ہوتی ہے۔ میڈیا پر بلند بانگ دعوے کیئے جاتے ہیں۔ تبدیلی کے خواب دکھائے جاتے ہیں اور سب کچھ بدلنے کا دعوی کیا جا تا ہے۔لیکن کچھ نہیں بدلتا ۔ یہ سب بیرونی پرندے اپنا اپنا دانا چگ کر پھر عازم سفر ہوتے ہیں۔انقلاب کے نعرے دم توڑ چکے ہوتے ہیں۔ منزل معدوم ہو چکی ہوتی ہے اور ہم پھر سے کسی بیرون ملک مسافر کی راہ تکنے لگ جاتے ہیں۔
جو آئے اور سب کچھ بدل دے۔
ایم کیو ایم کے خلاف یہ الزامات بھی نئے نہیں ہیں۔ جنرل نصیر اللہ بابر کے زمانے سے آج تک ایم کیو ایم کو توڑنے کی بے شمار کوششیں کی گئی ہیں ۔ ہر دفعہ آغاز بھارت کے ساتھ الزامات کے ساتھ ہوتا ہے۔ پھر جرائم پیشہ افراد کی فہرست سامنے آجاتی ہے۔ اربوں ، کھربوں کے سکینڈل سامنے آتے ہیں۔ دہشت گردی میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ چوری ، ڈاکے میں شامل افراد کی تصاویر سامنے آتی ہیں۔
بھتہ خوری کے گینگ کے گینگ پکڑ لیئے جاتے ہیں۔ موبائل چھین لینے والے درجنوں گرفتار ہو جاتے ہیں ۔ مگر ایم کیو ایم اپنے پورے سیاسی وجود سے قائم رہتی ہے۔ انتخابات چاہے آزادانہ ہوں یا رینجرز کی موجودگی میں نتیجہ وہی رہتا ہے۔ایم کیو ایم کا ووٹ بینک ہزار کوششوں کے باوجود کوئی بھی توڑنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ایم کیو ایم ہو حکومت کا حصہ بنتی ہے۔ اپنی اہمیت سیاسی طور پر منواتی ہے اور جلد ہی نئے الزامات کا شکار ہو جاتی ہے۔

مصطفی کمال کی واپسی بھی اس نوعیت کی ایک بہت بھونڈی کوشش ہے جس میں بہت جلد دم توڑ جانے کی بے پناہ اہلیت ہے۔ اس کی بنیادی
وجہ تو اچانک وطن کی محبت کا درد ہے جو ایسے کرادروں کے سینے میں تاریخی طور پر سما جاتا ہے اور دوسر ان ااصحاب کا ماضی ہے جو معاملے کو قابل یقین بنانے سے روکتا ہے۔ مجرم منصف کی صف میں نہیں بیٹھ سکتا ۔ سچ کا نعرہ جس شدت سے چاہے مرضی لگایا جائے اگر ماضی جھوٹ سے داغ دار ہو تو آواز خلق نہیں بنتی بس بے ہنگم شور میں اضافہ ہوتا ہے۔

ایم کیو ایم پر الزامات سے نپٹنے کے طریقے دو ہی ہیں۔ پہلا حکومت اس بات کا لحاظ نہ کرے کہ کس جماعت کی اسمبلی میں کیا حیثیت ہے۔ اس سوچ سے ماورا ہو کر ہر جماعت میں شامل جرائم پیشہ افراد کو قرار واقعی سزا ملے۔اسمبلی میں آنا آپ کو جرم کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔جو سنگین الزامات ایم کیو ایم پر آج لگ رہے ہیں اس کی تفتیش بہت پہلے ہو جانی چاہیے تھی۔ مجرموں کو سزا مل جانی چاہیے تھی۔ قانون حرکت میں آ جانا چاہیے تھا۔
لیکن مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے مفاد کے لیئے یہ سب کچھ ہونے دیا۔حقائق سے آنکھ بند کر لی۔ اب نوبت جب غداری کے الزامات تک پہنچ گئی ہے تو اچانک بھونڈی کوششوں سے اس معاملے کو ٹھیک کرنے کوشش کی جا رہی ہے۔ایسی جماعتیں جن کا ووٹ بینک اتنا مضبوط ہو انکو ان کوششوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
اپریشن ایم کیو ایم کے خلاف نہیں جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہونا چاہیے۔ہر جماعت میں اچھے برے افراد موجود ہیں۔
بہتر لوگوں کی پذیرائی کی جائے۔ مجرموں کو سزا دی جائے۔ قانون سیاسی مفادات سے بالاتر ہو تو یہ معاملہ اس نہج تک پہنچ ہی نہیں سکتا تھا۔
ہم نے ماضی قریب میں دیکھا کی پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، اے این پی اور پی ایم ایل ق کو رفتہ رفتہ اس سسٹم نے رد کر دیا ۔یہ ووٹ کی طاقت ہے۔ کراچی میں سیاسی طور پر بہت بڑا خلا ہے۔ پی ٹی آئی اور اور پی ایم ایل ن کو اس خلا کو پر کرنا چاہیے۔ سیاسی معاملات کو درست کرنا چاہیے اپنی تنظیم بندی کو مضبوط کرنا چاہیے۔
سیاسی جماعتوں کو صرف سیاسی طور پر شکست دی جا سکتی ہے۔ اس صبر آزما کام کا نیک نیتی سے آغاز کرنا چاہیے۔
ورنہ مصطفی کمال اورآفاق احمد جیسی بے معنی کوششیں ہوتی رہیں گی اور ان سب کاوشوں سے ایم کیو ایم اور مضبوط ہوتی جائے گی۔سیاست میں پیراشوٹ برادر وقتی بھونچال کے سوا کچھ نہیں حاصل کر سکتے۔ گمنام جماعتوں کے گمشدہ منشور سے تبدیل نہیں آتی۔واضح اور بامعنی سیاسی کاوشوں سے حقیقی تبدیلی ظہور پذیر ہوتی ۔ یہ راستہ دشوار اور وقت طلب ہے۔ لیکن یہی حل ہے اور یہی جمہوریت کا پھل ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com