جنگ میں کون جیتے گا؟

بدھ ستمبر    |    عمار مسعود

پاکستان اور بھارت کی موجودہ صورت حال کو مدنظر رکھ کر دونوں ملکوں کے عوام سوال کر رہے ہیں۔ اگر جنگ ہوئی تو جنگ کون جیتے گا؟ کس کو کتنا مفتوحہ علاقہ ملے گا؟ فتح کی صورت میں مال غنیمت کس طرح تقسیم ہو گا؟ تمغے کس کے سینے پر سجیں گے؟ نعرے کس ملک کے لگیں گے؟ خوشی کے شادیانے کہاں بجیں گے؟ شکست کا ماتم کس سرزمین پرہوگا؟ زخمی کہاں زیادہ ہوں گے؟ لوگ زیادہ کس ملک کے مریں گے؟ لاشوں کی گنتی میں کون سبقت لے گا؟خون کس علاقے میں زیادہ بہے گا؟ عورتیں کہاں زیادہ بیوہ ہوں گی اور بچے کس ملک کے زیادہ یتیم ہوں گے؟
ایک طرف برتری کا جنون سر پر چڑھ کر بول رہا ہے دوسری طرف جذبہ ایمانی خون میں کھول رہا ہے۔
میڈیا اس موقعے پر جلتی پر پٹرول چھڑک رہا ہے۔ ولولہ انگیز بیانات کا ایک تانتا سا بندھ گیا ہے۔

(خبر جاری ہے)

بہادری کے دعوے کیئے جا رہے ہیں۔ شجاعت کی داستانیں دہرائی جا رہی ہیں۔ جوانوں کی ہمت کے قصے بیان کیئے جا رہے ہیں۔ جنگی مہارت کو سب سے بڑا ٹیلنٹ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔دشمن کی بزدلی پر قہقہے لگ رہے ہیں۔نامردی کے طعنے دیئے جا رہے ہیں۔ اپنی اپنی بندوق چلانے کے لیئے بہانے تراشے جا رہے ہیں۔
منٹو کی طرح سوچنے والے اب مفقود ہیں۔

جو یہ سوچتا تھا کہ یہ بات نہ کرو کہ ہندو مرے یا مسلمان مرے بس اس بات کا ماتم کرو کہ کتنے انسان مرے۔جنگ کے دور میں ایسی انسانیت دو کوڑی کے مول نہیں بکتی۔ بس جنون ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ انتقام کی طاقت کا نشہ ہے جو دلوں کو گرماتا ہے۔ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی خواہش ہے جو ذہنوں کو مسخر کیئے رکھتی ہے۔ سوچ کو مفلوج کیے رکھتی ہے۔ آنکھوں کی بینائی اور دلوں کی سچائی کو یہ جنون چھین لیتا ہے۔
تاریخ بڑی ظالم چیز ہے ۔
یہ ہمیں سبق دیتی ہے کہ ہر جنگ بالاخر ختم ہو جاتی ہے۔ مقاصد چاہے کتنے بھی راست کیوں نہ ہوں آخر کو کشت و خون کے بازار کو بند ہونا ہوتاہے۔ بندوقیں چاہیے کتنی ہی گھن کرج کیوں نہ پیدا کریں آخر کو ان کو خاموش ہونا پڑتا ہے۔ گولہ بارود ایک مقام پر ختم ہو جاتے ہے ۔ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جب لوگ لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک جاتے ہیں۔ بے حسی اور جنون کی کیفیت مستقل نہیں رہتی۔ انسانی سرشت اس سے بالاخر اختلاف کر تی ہے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ جب تک انسان کی امن پسند سرشت عود پر آتی ہے اس وقت تک پلوں تلے بہت سا خون پانی بن کر بہہ چکا ہوتا ہے۔
تاریخ کی کتابوں میں یہ بات کتنی مضحکہ خیز اور بدنما لگے گی کہ دو قومیں جنہوں نے قریبا ایک ہی دن ایک مشترکہ دشمن سے خود کو آزاد کرویا۔ ایک ہی دن آذادی کا جشن منایا وہی دونوں قومیں اس بے طرح ایک دوسرے کی دشمن ہو گئیں۔ ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنے کے درپے ہوگئیں۔دونوں قوموں کی عوام ایک دوسرے کی نفرت کی غلام ہو گئی۔
ہر دو ملکوں میں سیاستدان ہوں یا فوج اسی نفرت کے سائے تلے پلتے ہیں۔اسی نفرت سے پنپتے ہیں۔
جب جنگ کا آغاز ہو تا ہے تو سب کو پتہ ہوتا ہے کیا کرنا ہوتا ہے۔ دلوں کو کیسے گرمانا ہے۔ جوش کو کیسے بڑھانا ہے۔ ترانے کیسے گانے
ہیں۔ٹینکوں کے نیچے کیسے لیٹ جانا ہے۔ پرچم پر جان کیسے دینی ہے۔ دشمن پرحملہ کیسے کرنا ہے۔ خندقیں کیسے کھودنی ہیں ۔ شب خون کیسے مارنا ہے۔ فتح کا جشن کیسے منانا ہے۔ شکست کو کیسے چھپانا ہے۔
اپنی لاشوں کو اعزاز کیسے دینا ہے۔ دشمن کے مردہ جسموں کو کیسے نذر آتش کرنا ہے۔ بستیاں کیسے جلانی ہیں۔ توپ کا دھانہ کس جانب رکھنا ہے۔ بم کیسے گرانے ہیں۔ گاوں کیسے نذر آتش کرنے ہیں۔ مردہ جسموں پر تمغے کیسے سجانے ہیں۔ زخمیوں کو کیسے بہادری کی مثال بنانا ہے۔ یہ سب ان دونوں قوموں کو بہت اچھی طرح ازبر ہے۔ اس لیئے کہ ہم اسی لمحے کے لیئے تیار کیئے جاتے رہے ہیں۔ ہماری ساری تربیت اور سبق اسی جنگ کے امکان کے گرد گھومتے ہیں۔
ہم اسی نفرت کے سحر میں رہتے ہیں۔
جنگ میں کیا ہوتا ہے اس کو جاننے کے لئے کوئی سائنسدان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ لوگ مرتے ہیں ۔ آگ لگتی ہے۔ خون بہتا ہے اور انسانیت بلکتی ہے۔سارا مسئلہ تو اس بات کا ہے کہ جنگ کے بعد کیا ہوتا ہے؟
جب کوئی بھی جنگ ختم ہوتی ہے تو مذاکرات کی میز سجتی ہے۔ ابتداء الزامات کی بوچھاڑسے ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے کئے کرائے کا حساب ہو تاہے۔ مفتوحہ علاقے پر بحث ہوتی ہے۔
لاشیں گنی جاتی ہیں۔ زخمیوں کے اعداد و شمار جمع کئے جاتے ہیں۔ بات طعنے تشنیع تک جا پہنچتی ہے۔ اختلافات کبھی زور پکڑتے ہیں کبھی امن کی خواہش دل میں جگہ بناتی ہے۔اس موقعے پر بین الاقوامی طاقتیں صلح کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔ امن کو اساس گردانتی ہیں۔خارجہ امور کے ماہر سر جوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کچھ دو اور کچھ لو کا فارمولا زیر غور آتا ہے۔
کیا ممکن نہیں ہے کہ اس سے پہلے کہ بہت سا خون بہہ جائے، بہت سی جانیں چلی جائیں، بہت سی املاک جل جائیں۔
ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائیں۔ اسی مذاکرات کی میز پر جس پر ہمیں بعد میں بیٹھنا ہی ہے۔ دہائیوں کی نفرتوں کو بالائے طاق رکھ دیں۔ انسانیت کی بات کریں۔ ماضی سے سبق سیکھیں۔ مستقبل پر نظر کریں۔ جنگ لازمی ہی ہے تو غربت سے جنگ کریں، نفرت سے جنگ کریں، کرپشن سے جنگ کریں، جان لیوا بیماریوں سے جنگ کریں،جہالت سے جنگ کریں، مذہبی شدت پسندی سے جنگ کریں۔
یاد رکھیں ۔ ہتھیاروں سے کی گئی جنگ کا فائدہ صر ف کباڑیوں اور گورکنوں کو ہوتا ہے۔ اب یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم دو ملک قبرستان ہو جائیں ،کباڑ خانہ ہو جائیں یا آنے والی نسلوں کے لیئے کچھ بہتر کر کے چھوڑ جائیں۔امن کی امید دلائیں۔ بہتری کے خواب دکھائیں۔ نفرتوں کو شکست دے جائیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com