کچھ گڑ بڑ گھوٹالہ ہے

پیر اکتوبر    |    عمار مسعود

کچھ گڑ بڑ گھوٹالہ ہے۔ گزشتہ دو ہفتے میں حالات عجیب سی کروٹ لے رہے ہیں۔ کچھ ہونے کا امکان بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ چاروں اور سراسیمگی سی پھیلی ہے۔ ایک بے چینی ہے جو حکومت کے کیمپ میں نظر آ رہی ہے۔ اپوزیشن پہلے سے زیادہ پھرتیاں دکھا رہی ہے۔ گڑے مردے اکھاڑے جا رہے ہیں۔ الزامات میں شدت آ گئی ہے۔ احتجاج کی دھمکیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اسلام آباد بند کرنے کا سندیسہ مل چکا ہے۔ اس سے پہلے اٹھائیس کو ایک اور احتجاج اسلام آباد کے پیش نظر ہے۔

پانامہ لیکس کا طوفان تھم ہی نہیں رہا۔ حکومت ہر محاز پر اپوزیشن کو مطمئن کرنے کی کوشش کر چکی ہے مگر کوئی بھی مطمءئن نہیں ہو رہا۔ پانامہ لیکس کے دوسرے نامی گرامی لوگوں کی طرف نہ کسی کا دھیان جا رہا ہے نہ کسی کی بساط ہے کہ ان پر بات کرے۔

(خبر جاری ہے)

بس وزیر اعظم کو مسند اقتدار سے اتارنے کی دھن سوار ہے۔ پانامہ کا فسانہ ابھی چل ہی رہا تھا کہ سرل المائدہ جان کو آ گئے۔ خبر کس نے لیک کی۔ تردید پر تردید آ رہی ہے مگر کوئی نہیں مان رہا۔

کوئی وزیر اعظم کے خاندان کا نام لے رہا ہے ، کسی کا شک ان پر ہے جوغداری کا الزام لگا رہے۔ کوئی کسی وزیر کی جان کو آگیا ہے اور کسی نے مشیر خاص پر اپنا شبہ ظاہر کیا ہے۔
اسی ہنگامے میں چیف جسٹس کا جمہوریت کی بے ثباتی کا پیغام قوم کے نام آ گیا۔ انہوں نے تو ایک ہی ہلے میں ساری جمہوریت کو توم ڈالا۔ گو کہ اس بیان کے بارے میں تردید بھی آ گئی ہے مگر بات تو نکل گئی ہے اب تردید کو کون مانتا ہے۔ تحقیق میں کون پڑتا ہے۔
تفتیش کی کسے پرواہ ہے۔
شیخ رشید پھر اپنی جون پر آ گئے ہیں۔ جمہوریت پر شب کون کے بڑے رومان پرور نطارے دکھا رہے ہیں۔ جلا دو، گرا دو اور آگ لگا دو کے نعرے لگا رہے ہیں۔ شیخ صاحب جب چست نطر آتے ہیں تو کوئی تو بات ہوتی ہے۔ اندر کی خبر بحرحال شیخ ساحب کے پاس ہوتی ہے۔
کراچی کے حالات پرانی نہج پر واپس آ رہے ہیں۔ الطاف حسین انگلینڈ سے باعزت بری ہو چکے ہیں۔ پاک سر زمیں پارٹی وجود میں آ چکی ہے۔
اسلحہ آئے روز ریوڑیوں کی طرح برامد ہو رہا ہے۔بینکوں میں ڈاکوں کی کہانیاں عام ہونے لگیں ہیں۔
مائنس ون کا فارمولا زیر بحث آ رہا ہے۔ نواز شریف کی برطرفی کی نوید سنائی جا رہی ہے۔ کرپشن کے یکدم خاتمے کا اعلان کیا جا رہاہے۔ نئے انقلاب کا نعرہ لگا یا جا رہا ہے۔آنے والے زمانے کی ترقی کا پرچم لہرایا جا رہا ہے۔
کہانی میں اب مصالحہ ہے۔ بات سادی نہیں کچھ گڑ بڑ گھوٹالہ ہے
یہ منظر اس ملک نے پہلے بھی دیکھا ہے۔
جمہوری حکومتوں کو رسوا کر کے رخصت کرنے کی روایت نئی نہیں ہے۔اٹھاسی سے اٹھانوے تک یہی تو ہوا ہے۔ باریاں ملتی تھیں۔ وقت کم ہوتا تھااور کرپشن زیادہ ہوتی تھی۔ جمہوری قدریں پنپنے کی فکر کسے تھی۔ملک کا کیا بنتا ہے اس کی کسے پرواہ تھی۔جمہور کی آواز ایسے میں کون سنتا ہے۔
سارا مسئلہ میثاق جمہوریت کا ہے۔ ملک کی دو بڑی جماعتیں اس بات پر متفق ہو گئیں کہ اب غیر جمہوری اقدامات کی ھوصلہ افزائی نہیں کریں گی۔
آمریت کا رستہ روک کر رہیں گی۔یہیں سے مشکل کا آغاز ہوا۔ ایک دور جمہوریت تو جیسے کیسے گزر گیا اور اب جمہوریت کے ثمرات نظر آنے کو ہیں تو غیر جمہوری قوتوں کو اپنی بقا کی فکر پڑ گئی۔دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں ن لیگ کی متوقع فتح کا خوف سروں پر منڈلانے لگا ہے۔
اس ہنگامے مین یاد رکھنے کی بات صرف اتنی ہے کہ بھٹو کو پھانسی دی گئی تو بے نظیر اس سے زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آئیں۔نواز شریف کو جلا وطن کیا گیا تو تو وہ پہلے سے بڑی قوت بن کر ابھرے۔ وقتی اشتعال کے اب ہم متحمل نہیٰں ہو سکتے۔ جمہوریت کی گاڑی اب پٹڑی سے اتری تو جانے کب اسٹیشن نطر آئے گا۔یاد رکھیے ضروری نہیں کہ سیٹی کے بجنے کے ساتھ ہی سب مسافر ایک جانب کو دوڑ پڑیں۔ بعض اوقات گاڑی کو خالی بھی سٹیشن سے جانا پڑتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com