ایم کیو ایم اور آپریشن

منگل ستمبر    |    عمار مسعود

انیس سو ستتر سے بات کا آغاز کرتے ہیں۔ اس سال انتخابات میں دھاندلی کو بنیاد بنا کر ایک ملگ گیر تحریک کا آغاز ہوا۔ نو ستارے اکھٹے ہو گئے۔ اپوزیشن کی جماعتوں کا اتحاد ہوا۔ احتجاج ، جلسے، جلوس اور لاقانونیت دنوں میں انتہا کو پہنچ گئی۔ امن و عامہ کے حالات اتنے خراب ہوئے کہ مارشل لاء لگانا پڑا۔ یہاں سے اس گیارہ سالہ دور اذیت کا آغاز ہوا جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔اس دور پر بہت بات ہوچکی ہے۔
آج وہ مارشل لاء اور اس کے اثرات زیر بحث نہیں ہیں۔ آج صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ مارشل لاء کے اس دور میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور جیالوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا اور اس کا نتیجہ کیا نکلا۔ اس زمانے میں پی ٹی وی پر پیپلز پارٹی کو مکمل بین کر دیا گیا۔

(خبر جاری ہے)

پیپلز پارٹی کا نام تک لینا سنسر کی حددو میں د خل اندازی کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ کارکنوں کو سرعام کوڑے لگائے گئے۔ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں۔

سٹوڈنٹ یونین اور مزدور تنظیمیں توڑ دی گئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی تصاویر جلا دی گئیں۔ پی ٹی وی میں موجودذوالفقار علی بھٹو کی تقاریر پر مبنی تاریخی ریکارڈ تلف کر دیا گیا۔ چند جیالوں نے ان تاریخی تقاریر کی وڈیوز کو زمیں دفن کر محفوظ بنایا۔ لیکن بہت سا اہم مواد ضائع ہو گیا۔ اس دور میں وہ سارے سرکاری ملازم جنکاپیپلز پارٹی سے تعلق کا ذرا سا بھی شائبہ ہوتا تھا ان کو سزا دی گئی۔ ترقیاں روک دی گئیں۔
ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا۔ دھمکیاں دی گئیں۔ بال بچوں کو ڈرایا دھمکایا گیا۔ سزا دینے کی غرض سے دور دراز میں پوسٹنگ کی گئی۔ صرف ایک ٹی وی چینل ہونے کی وجہ سے سرکار کی مرضی کے پروگراموں تک عوام کی رسائی تھی۔ ہر پروگرام میں بھٹو کو غدار بنا کر پیش کیا گیا۔ ڈرامہ ہو یا ڈاکومنٹری، گیت ہو یا تبصرہ ، خبریں ہوں یا مارننگ شو۔ ہر جگہ پیپلز پارٹی کی مناہی کی گئی۔ بھٹو کی کردار کشی کی گئی۔ بھٹو خاندان کو قومی مجرم بنا کر پیش کیا گیا۔
اخبارات میں بھی سنسر کی پالیسی اپنائی گئی۔ ہر وہ خبر جس میں پیپلز پارٹی کا ذکر کسی اثبات سے آیا ہو اس کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی۔ ہر وہ کالم جس میں بھٹو کے حوالے سے کوئی مثبت بات تھی اس میں تحریف کر دی گئی۔ اخبارات کے صفحات زیادہ تر خالی ہی شائع ہونے لگے۔ مطلب پرست اس زمانے میں مخالفین پر جیالا ہونے کا الزام لگا کر انعامات سے سرفراز ہونے لگے۔ ان گیارہ برسوں میں پیپلز پارٹی کا نام ملک کی تاریخ کے گوشے گوشے سے کھرچ کر مٹا دیا گیا۔
لیکن اس سے کیا ہوا ؟ جیسے ہی ضیاء الحق کا عتاب ناک دور ختم ہوا پیپلز پارٹی پھر برسر اقتدار آگئی۔ معتوب جیالوں نے جس طرح بے نظیر کا استقبال کیا وہ تاریخی تھا۔متروک لوگ پھر حکمران ہو گئے۔جنہیں غدار کہا جا رہا تھا عوام نے انہیں کو ووٹ دے کے حکومت سونپ دی۔پیپلز پارٹی کی ہے جمالو کی آواز ملک بھر میں پھر گونجنے لگی۔ آمرکی گیارہ سال کی نفرت عوام کے سیلاب میں کہیں کھو گئی۔
آصف زرداری کے پانچ سالہ دور حکومت میں کرپشن اور بد امنی اپنے عروج پر رہی۔
پانچ سال کی حکومت میں شائد ہی کوئی اچھا کام ہوا ہو۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ پھر دو ہزار تیرہ کے الیکشن ہوئے اور پیپلز پارٹی کا وجود ہی مٹ گیا۔ وہ جماعت جس کو ایک آمر گیارہ سال میں تمام قوت سے ختم نہیں کر سکا صرف ایک الیکشن نے ہی اسکا قلع قمع کر دیا۔ اس کو سارے ملک سے اٹھا کر ایک صوبے کے ایک حصے تک محدود کر دیا۔
اب ذکر انیس سو بانوے کا ہو جائے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کا آغاز ہواتھا۔
ان کو غدار قرار دے دیا گیا تھا۔ اس زمانے میں بھی جناح پور کے نقشے اور را سے تعلقات کے ثبوت ملے تھے۔ اس زمانے میں بھی ایم کیو ایم کے سینکڑوں کارکن گرفتار ہوئے تھے۔ اس زمانے میں بھی لیک ہوئی فون کالیں پکڑی گئی تھیں۔ اس زمانے میں بھی ایم کیو ایم کے دفاتر مسمار کئے گئے تھے۔ اس زمانے میں بھی ملک دشمن عناصر کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تھی۔ اس زمانے میں بھی ایک ایم کیو ایم حقیقی بنی تھی۔اس زمانے میں بھی روز اس حقیقی جماعت میں شامل ہونے والوں کی خبریں جلی حروف سے شائع ہوتی تھیں۔
اس زمانے میں بھی اس جماعت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم کیا گیا تھا۔لیکن جیسے ہی آپریشن ختم ہوا ۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے اپنے ووٹ سے ایک بار پھر ایم کیو ایم کو وہی مقام دلوا دیا جوپہلے اس کا استحقاق تھا۔
الطاف حسین نے لندن میں بیٹھ کر جو نفرت انگیز تقریر کی ہے اس کے بعد انکا پاکستان کی سیاست میں نہ کوئی مقام رہا ہے نہ کوئی گنجائش۔ ملک کے خلاف نعرے لگوانے والے ملک کی کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں ہو سکتے۔
کراچی میں رینجرز کے آپریشن نے حیران کن نتائج حاصل کیئے ہیں۔ وہ ساری جماعتیں جن کے عسکری ونگز ہیں یا جن کی صفوں میں جرائم پیشہ افراد موجود ہیں انکے خلاف قانونی چارہ جوئی لازمی ہے۔ لیکن ماضی کی مثالوں سے ہم نے یہی سیکھا ہے کہ جب بھی کسی جماعت کو بزور بازو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ پوری قوت اور شدت سے واپس آ گئی ہے۔ لوگوں کو ڈرایا دھمکایا جا سکتا ہے لیکن یہ کیفیت مسلسل نہیں رہ سکتی۔مسئلے آخر میں صرف سیاسی بنیادوں پر حل ہوتے ہیں۔
طاقت کا استعمال وقتی حل ہے۔ کچھ لوگوں کو توڑ کر جماعت کا ایک اور حصہ بنانا پائیدار عمل نہیں ہے۔جب تک عوام کسی شخص، جماعت یا نظریئے کے طرف دار رہیں گے وہ شخص ، جماعت اور نظریہ قائم رہے گا۔
ایم کیو ایم کراچی کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ اس میں بہت سے اچھے لوگ بھی ہیں۔ اس جماعت کو عوامی پزیرائی بھی حاصل ہے۔اس سیاسی جماعت سے اگر اختلاف ہے تو اس مخالفت کو نکالنے کا واحد حل سیاست کا میدان ہے۔
تاریخ کے اس کٹھن موڑ پر ایم کیو ایم کو ختم نہ کیجئے کیونکہ اس طرح کوئی بھی سیاسی جماعت ختم نہیں ہو سکتی۔ اگر ممکن ہو تو ایم کیو ایم کی مدد کیجئے۔ اس کے بہتر لوگوں کو پاکستان کی خدمت کا موقع دیجئے۔ملک دشمن عناصر ختم کر نے میں ان کا ہاتھ بٹائیے۔ یاد رکھیئے طاقت کے استعمال اور دھونس دھمکی سے ایم کیو ایم اور مضبوط ہو گی۔اس کی مثالیں ہماری تاریخ میں بہت موجود ہیں۔ ان مثالوں سے سبق سیکھیئے۔

یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں الطاف حسین کا باب اب ختم ہو چکا ہے۔ کراچی کے لوگوں کو مہاجر کہیں یا اردو بولنے والے۔ وہ جو بھی نام دیں یہ ملک سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔انکی حب الوطنی پر سوال نہ اٹھائیے۔اب تو ایم کیو ایم کا آئین بھی تبدیل ہو گیا، جھنڈا بھی بدل گیا، لوگوں کی سوچ بھی بدل گئی اور وقت بھی بدل گیا۔ اب مصلحت سے کام لیجیے ۔ اردو بولنے والوں کو قومی دھارے میں شامل کیجئے ۔ محب وطن اہلیان کراچی کو گلے سے لگائیے۔ماضی کی غلطیاں اس دفعہ نہ دہرائیے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

متحدہ قومی موومنٹ


متعلقہ کالم