شکریہ ۔ پاناما لیکس

پیر مئی    |    عمار مسعود

جو کچھ ہو رہا ہے ، بہت اچھا ہو رہاہے۔ پاکستان کے لیئے اچھا ہو رہا ہے۔ جمہوریت کی بقاء کے لیئے بہتر ہو رہا ہے۔ عوام کی فلاح کے لیئے درست ہو رہا ہے۔ غلاضت باہر آرہی ہے۔ سسٹم سے گند نکل رہا ہے۔ کرپشن کے قصوں کے گٹر ابل رہے ہیں۔ لاکھوں ، کڑوڑوں کی نہیں اربوں، کھربوں کی لوٹی ہوئی دولت سامنے آ رہی ہے۔ کرپشن کی مد میں ملک سے باہر جانے والی رقم اتنی ہے کہ عام آدمی کا دماغ اسکا متحمل ہی نہیں ہو سکتا۔
سیاسی افراد ، بیوروکریٹ اور فوج کے افسران بھی اس جرم میں ملوث ہیں۔ کھربوں کا سرمایہ اس ملک سے باہر گیا مگر کسی کو کانوں کان خبر ہی نہ ہوئی۔ جو تخمینے تبصرہ نگار پیش کر رہے ہیں وہ انسان کو مبہوت کر دیتے ہیں۔ ششدر رہنے کے سوا اس ملک کے عوام کے پاس کوئی چارہ نہیں رہتا۔

(خبر جاری ہے)

بات صرف اتنی ہے کہ ہم غریب نہیں بدقسمت لوگ ہیں۔ لوگوں کو اپنے ساتھ ہونے والی اس بد قسمتی کا اندازہ ہی نہیں ہے او راس ناسمجھی کی وجہ وہ جو ماتم کناں دانشوران ملت جور ہر روز شب ماتم سجاتے ہیں مگر اس مسئلے کی شدت سمجھا نہیں پاتے۔


چلیں حساب لگانے کی خاطر فرض کرتے ہیں کہ ایک عام دیانتدار پاکستانی محمد سلیم کی ماہانہ تنخواہ پچاس ہزار روپے ہے۔ جو کہ پاکستان جیسے نادار ملک میں اوسط آمدنی سے بہت زیادہ ہے۔ حساب لگانے کی خاطر یہ فرض کرتے ہیں کہ محمد سلیم تیس سال نوکری کرتا ہے ۔ تو اسکی ساری زندگی کی آمدنی ایک کڑوڑ اسی لاکھ بنتی ہے۔ یہ وہ کل آمدنی ہے جو ایک عام خوش حال پاکستانی ساری زندگی میں کماتا ہے۔ اسی میں وہ گھر والوں کا پیٹ پالتا ہے۔
ماں باپ کا علاج معالجہ کرواتا ہے۔ بچے پالتا ہے۔ انکی تعلیم کے اخراجات ادا کرتا ہے۔ بجلی ، گیس ، فون اور موبائل کا بل ادا کرتا ہے۔ مکان کا کرایہ ادا کرتا ہے۔ سواری کے لئے رقم خرچ کرتا ہے۔ خوشی ، غمی کے اخراجات ادا کرتا ہے۔ بچوں کی شادی کرتا ہے۔ کمپیوٹر اور انٹریٹ استعمال کرتا ہے۔دوستوں کے ساتھ ملتا ہے۔ سماجی روابط رکھتا ہے۔ اس ساری کاوش کے بعد تیس سال نوکری کرنے میں اس کی کل آمدنی ایک کڑوڑ اسی لاکھ بنتی ہے۔
اس بات کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ محمد سلیم کی مثال صرف تخمینے کی خاطر لی گئی ہے۔ ورنہ اتنے خوشحال عام عوام پاکستانی نہیں ہیں۔
اب دوسری جانب چلتے ہیں ۔ کرپشن کے اعداد کی بات کرتے ہیں۔ لوٹی ہوئی رقموں کو گنتے ہیں۔ سچ بات تو یہ کہ کیلکولیٹر جواب دے جاتے ہیں۔ انسانی دماغ ان رقموں کو جمع کرنے کا متحمل ہی نہیں۔ ڈاکٹر عاصم کے کیس میں یہ بتایا گیا کہ چارسو باسٹھ ارب روپے کی بے ضابطگی سامنے آئی ہے۔
جو ساڑھے چار کھرب سے زیادہ کی رقم بنتی ہے۔ سمجھانے کے لیئے یہ بات ضروری ہے کہ ایک کھرب میں سو ارب اور ایک ارب میں سو کروڑ ہوتے ہیں۔ سمجھانے کے لیئے یہ بات بھی کہنا ضروری ہے کہ ایک دیانتدار پاکستانی کی ساری زندگی کی حلال آمدنی ایک کروڑ اسی لاکھ بنتی ہے۔ آف شور کمپنیوں کے حوالے سے جو اعداد و شمار سامنے آئے ان کا تخمینہ دو ارب ڈالر کے قریب ہے۔ جب کہ پاکستان کی معیشت پر کل بیرونی قرضہ ستر ارب ڈالر کا ہے۔
سمجھانے کے لیئے یہ بات بتانا ضروری ہے کہ پنجاب میں تعلیم اور صحت کے لیئے صرف اسی ارب روپے مخصوص ہیں۔ نیب کے صرف ایک کیس کے مطابق اس ملک میں تریسٹھ ارب روپے کی بجلی چوری کی گئی۔ ایک ماہر معاشیات نے بتایا کہ دوبئی جو پاکستان کی غیرقانونی پیسے کا سب سے بڑا مدفن ہے وہاں کی آدھی جائیداد کی ملکیت غریب پاکستانیوں کے نام ہے۔چھ دفعہ ہم ایمنسٹی سکیموں کے ذریعے اس سے بڑی بڑی غیرقانونی رقموں کو حلال کر چکے ہیں۔
سوئس اکاونتس میں بے شمار پاکستانیوں کے اربوں ڈالرز دفن ہیں۔ یہ پیسہ اس قدر بڑی تعداد میں ہے کہ اس سے کئی ممالک کا خزانہ بھرا جا سکتا ہے۔ آرمی چیف کے کرپشن کے خاتمے کے سلسلے میں لازاوال اقدامات کے نتیجے میں حالیہ برطرف شدہ جرنل عبید اللہ خٹک کے اثاثہ جات بھی اربوں میں بتائے جاتے ہیں۔ ایک بریگیڈیر صاحب کے ذمے بھی تیرہ ارب روپے لگا ئے گئے ہیں۔ ایک جج صاحب کا نام بھی آتا ہے جو اربوں رپوں کے اثاثے بنا چکے ہیں۔
شرجیل میمن کے گھر سے دو ارب روپے برآمد ہوتے ہیں۔ ایان علی پانچ لاکھ ڈالر کے اکاسی غیر قانونی دورے کر چکی ہیں۔ مشتاق رئیسانی کے گھر سے ستر کڑوڑ نکلتے ہیں۔ کوئٹہ کی تزئین وا ٓرائش کے لئے دو ارب روپے کا بجٹ ملتا ہے جس سے صرف شاہراوں پر گملے سجا دیئے جاتے ہیں۔ صوبائی حکومتوں کے گھپلے ، وزیروں کی کرپشن ، سرکاری اداروں میں جونکوں کی طرح چمٹے بد عنوان بیوروکریٹس کی مالی بدعنوانیوں کا کوئی حساب نہیں۔
یاد رہے۔ یہ سار ے قصے زمانہ حال کے ہیں جب کہ اس ملک کے ساتھ یہ کھلواڑ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔
چینل چیخ چیخ کر یہ بتا رہے ہیں کہ ہر آف شور کمپنی غیر قانونی نہیں۔ پاناما لیکس میں سامنے آنے واے سب نام قومی مجرموں کے نہیں۔غیر ملک میں کاروبا رکرنا کوئی گناہ نہیں۔یہ بات بالکل د رست ہو گی ۔لیکن اس کا قطعی مطلب نہیں ہے کہ سب آف شور کمپنیاں ، دوبئی کے اکاونٹس اور سوئس بینکوں میں دفن رقوم حلال ہیں۔
یہ مان لینا چاہیے کہ ایسی رقومات زیادہ تر بین الاقوامی کانٹریکٹس میں سے کک بیک کے طور پر وصول کی گئی ہو گی۔ ٹیکس کو غیر قانونی طریقے بچایا گیا ہو گا۔دھونس اور دھاندلی سے قرضے معاف کروائے ہوں گے۔ایل پی جی کے گھپلے ہوں گے۔ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے قصے ہوں گے۔ رینٹل پاور کے ٹھیکوں کے کمیشن ہوں گے ۔تعمیراتی پراجیکٹس میں سے حصہ وصول کیا گیا ہوگا۔رشوت کے طور پر ہر ترقیاتی منصوبے میں سے لاکھوں ڈالر وصول کیئے گئے ہوں گے۔
خام مال میں خرد برد کی گئی ہو گی۔سڑکوں کی تعمیر میں دھوکے ہوئے ہوں گے۔ گھوسٹ سکول ، کالج اور ہسپتال بنے ہوں گے۔زکوت کی رقم میں خرد برد ہوئی ہو گی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ رقم کس کی ہے۔؟ کون ہے اسکا مالک۔؟کہاں سے جمع ہوئی یہ دولت؟ ۔ وائٹ کالر جرائم کے اس خرابے کاکسی کو نہیں پتہ شائد یہ رقم معذور افراد کے سکولوں کی تعمیر کی ہو۔ شائد اس رقم سے نابینا بچوں کی تعلیم کا انتظام ہونا ہے۔
شائد اس رقم سے لڑکیوں کے سکول بننے ہوں۔ شائد اس رقم سے دور افتادہ گاوں میں سڑک بننی ہو۔ شائد اس رقم سے کئی ہسپتال تعمیر ہونے ہوں۔ شائد اس رقم سے غریبوں کا مفت علاج ہونا ہو۔ شائد اس رقم سے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار ملنا ہو۔ شائد اس رقم سے کسانوں کی امداد مقصود ہو۔ شائد اس رقم سے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے منصوبے بننے ہوں۔شائد اس رقم سے غربت مٹانی ہو۔شائد اس رقم سے تھر میں پانی پہنچانا ہو۔ شائد اس رقم سے صاف پانی کی کوئی سکیم لگنی ہو۔
شائد اس رقم سے عدالتی نظام نے بہتر ہونا ہو۔ شائد اس رقم سے پولیس کی حالت بہتر ہونی ہو۔ شائد اس رقم سے لاکھوں ڈسپنسریاں کھلنی ہوں۔ شائد اس رقم سے زچہ بچہ کی صحت پر اخراجات ہونے ہوں۔ شائد اس رقم سے یونیورسٹیاں تعمیر ہونی ہوں۔ شائد اس رقم سے کارخانے لگنے ہوں۔یہ سب سرمایہ پاکستان کا سرمایہ ہے۔ اسی غریب ملک سے لوٹاگیا ہے۔ انہی پراجیکٹس کے نام پر بنایا گیا ہے۔ یہ سرمایہ پاکستان کے غریب عوام کا ہے۔
یہ سرمایہ میرا ہے ، یہ سرمایہ آپ کا ہے ۔ یہ سرمایہ ہر محمد سلیم کا ہے۔
جرنل راحیل شریف نے بہت اچھا کیا کہ کرپشن کے خلاف جنگ کا آغاز اپنے گھر سے کیا۔ وزیر اعظم نے بھی اچھا کیا کہ خود کو احتساب کے
لیئے پیش کر دیا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت میں خود کو انصاف کے لیئے پیش کر دیا۔لیکن احتساب سب کا ہونا چاہیے ۔ لوٹی ہوئی ہر پائی کا حساب ہونا چاہیے۔ صاف ستھرے لوگ احتساب کے عمل سے نتھر کر سامنے آنے چاہیں اور مجرمان کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ سزا سے مراد ان افراد کی قید کرنا ، کوڑے لگانا یا پھانسی دینانہیں۔ سزا صرف اتنی ہے کہ بس لوٹی ہوئی رقم اس ملک میں واپس آنی چاہیے۔
ہم زوال کی جس انتہا پر پہنچ چکے ہیں یہ عروج کی غمازی کرتا ہے۔ پاناما لیکس جیسی پستی کے مواقع قوموں کی زندگیوں میں کم آتے ہیں۔ یہی موقع ہے اس نفی کو اثبات میں بدلنے کا۔ ایک ایک پائی کا حساب لینے کا۔ اس وقت ٹی او ٓرز کی بحث میں الجھنا بے معنی ہے۔ یہ رانگ نمبر ہے۔ دھوکا ہے۔ فریب ہے۔ یقین مانیئے اگر یہ ہماری لوٹی ہوئی رقم اس ملک میں واپس آجاتی ہے تو پاکستان دہائیوں میں نہیں برسوں میں ترقی یافتہ کہلائے گا۔ یہاں تک کہ اس ملک کا ہر فرد شکریہ۔ پاناما لیکس کے نعرے لگائے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

پانامہ پیپر لیکس


متعلقہ کالم