سب مل کر بولو ۔ شکریہ راحیل شریف

پیر نومبر    |    عمار مسعود

چڑھتے سورج کے سب پجاری ہوتے ہیں ، جانے والوں کو کوئی شکریہ بھی نہیں کہتا۔
شکریہ راحیل شریف وہ نعرہ ہے جو گذشتہ تین برس پوری شدت سے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر لگا ہے۔یہ نعرہ کبھی بھی تشکر کے معنوں میں نہیں لگا، کبھی بھی اسکا مقصد خراج تحسین پیش کرنا نہیں تھا۔ اس نعرے کا مقصد ہمیشہ اس ملک کے معزز عسکری ادارے کو اکسانا تھا، شہہ دلانا تھا۔ دھرنے کے دن ہوں، طاہر القادری کی آمد کا علان ہو، اپوزیشن کا اتحاد ہو، حکومت کی ناقص کارکردگی ہو یہ نعرہ جگہ جگہ زور پکڑنے لگتا۔
کچھ کرنے پر اکسانے لگتا۔ اب جبکہ راحیل شریف اپنی ذمہ داریاں پوری کر کے پوری آبرومندی کے ساتھ رخصت ہو رہے ہیں۔ کوئی یہ نعرہ نہیں لگا رہا۔ زہر اگلنے والے سب سانپوں کی زبانیں ایسے چپ ہیں۔

(خبر جاری ہے)

جیسے کوئی ان کوڈس گیا ہو ۔
اس بات میں کوئی باک نہیں کہ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں بے تحاشہ ایسے کام ہوئے جو بے حد لائق تحسین ہیں۔ جس وقت جنرل راحیل نے یہ عہدہ سنبھالا تھا اس وقت کے اور آج کے پاکستان میں بہت فرق ہے۔

ان تین سالوں میں فوج بحثیت ایک ادارہ اور مضبوط ہوئی۔ اس معزز ادارے کی فعالیت بہتر ہوئی۔ جوانوں کا مورال بلند ہوا سرحدوں کا دفاع پہلے سے موثر بنایا گیا۔ فوج کے اندر کرپشن کا خاتمہ کیا گیا۔اس ادارے کو مثال بنا کر پیش کیا گیا۔ اپنا ہی احتساب سب سے پہلے کیا گیا۔
تین سال پہلے دہشت گردی کے حملے روز کا معمول تھے۔ روز ہم لاشیں اٹھاتے اور تعزیتیں کرتے تھے۔خون اور آگ کی ہولی ہر روز کسی نہ کسی شہر میں کھیلی جاتی اور ہمارے پاس صرف ماتم کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
آج کا پاکستان اس سے بہت مختلف ہے۔ اب دہشت گردی کے واقعات میں بہت حد تک کمی ہوئی ہے۔ اگر چہ اس عفریت سے مکمل طور پر نجات تو نہیں ملی مگر حالات بہت بہتر ہوئے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب جنرل راحیل شریف کا وہ کارنامہ ہے جس کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ کراچی کے حالات جنرل راحیل شریف کے آنے سے پہلے دگرگوں تھے۔ ٹارگٹ کلنگ، بھتے اور سٹریٹ کرائمزعروج پر تھے۔ اب کا کراچی بہت مختلف ہے۔
رینجرز کے کامیاب آپریشن سے دہشت گردوں اور مافیا والوں کی بیخ کنی ہوئی ہے۔ امن و امان کے حالات بہتر ہوئے ہیں۔ رونقیں بحال ہوئی ہیں۔ ہر روز ناجائز اسلحہ برآمد ہو رہا ہے۔ مجرمان کے گھروں پر چھاپے پڑ رہے ہیں۔ جرائم پیشہ افراد کو سیاسی مصلحتوں سے بالائے طاق ہو کر قانون کے حوالے کیا جا رہاہے۔اے پی ایس کے سانحے کے بعد جو اقدامات کیئے گئے وہ یقیناقابل توصیف ہیں۔ جنرل صاحب نے سول حکومت سے مل کر قدم اٹھایا۔
سول حکومت اور ملٹری مل کر ایک سمت میں چلے اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کامیاب سے کامیاب تر ہوتا چلا گیا۔ اس سے پہلے دہشت گردوں کو پھانسی دینے کی روایت موجود نہیں تھی جو ریاست کے مجرموں کے خلاف ریاست کی کمزوری سمجھی جاتی تھی۔ جنرل راحیل نے اس بت کو بھی توڑا اور مجرمان کو یکے بعد دیگرے کیفر کردار تک پہنچانے کا ذمہ سر لیا۔اس جرات مندانہ اقدام سے دہشت گرد وں کی کمر ٹوٹی اور اب وہی دہشت گرد، دہشت زدہ ہو کربھاگ رہیں ہیں۔
مفرور ہو رہے ہیں۔ یہ کارنامہ جنرل راحیل شریف کا ہے اس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ اس پر جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے۔شکریہ راحیل شریف کی کہنے کی ایک اور وجہ راحیل شریف کی آئین اور قانون کی پاسداری ہے۔اس ملک کے دستور کے ساتھ وفا داری ہے۔ گزشتہ تین سال میں بہت سے طالع آزما ، لالچی ،خود غرض اور مطلب پرست ٹی وی اینکروں نے ہر لمحہ آپ کو اشتعال دلانے کی کوشش کی۔ ہر لمحہ آپ کو جمہوریت کی بساط لپیٹ دینے کا مشورہ دیا ۔
ہر موقع پرآپ کو کہا کہ اس ملک کے آئین کو پاوں تلے روند دیں۔ اس ملک کے دستور کو کاغذ کاچیتھڑا بنا دیں۔ آپ کو بتایا گیا کہ آپ ہی مالک و مختار ہیں اس ملک کے ۔ آپ ہی کے اشاروں پر جمہور اور جمہوریت قربان ہو سکتے ہیں۔ آپ ہی کے قدموں پر عوام کے ووٹ نچھاور ہو سکتے ہیں۔ بس آپ کی منشاء حتمی ہے باقی سب کیڑے مکوڑے ہیں۔ سب کرپٹ ہیں ، جاہل ہیں ، بے راہ رو ہ ہیں ، بے ایمان ہیں۔ آپ ہی نیک اور صالح ہیں اور اس ملک کی کمان صرف آپ ہی کے ہاتھوں میں سجے گی۔
اس سلطنت کا تاج آپ کے ماتھے کا جھومر بنے گا۔ کبھی یہ شہہ دھرنے کے دنوں میں دلائی گئی کبھی کسی کو آپ کی ذات میں ایمپائر کی انگلی دکھائی دی ۔ کبھی کرپشن کے خلاف جہاد پر آپ کو اکسایا گیا۔ کبھی کسی کو آپ کے انگھوٹھے میں جمہوریت کا علاج نظر آیا۔ کبھی آپ کے نام والے پوسٹر شہروں کی زینت بنتے ۔کبھی کرکٹ ٹیم کے پش اپ کو آپکی عظمت قرار دیا گیا۔کبھی سوشل میڈیا پر آپ کو جمہوریت سے برتر و اعلی بتا یا جاتا۔
حکومت پر جو وقت مشکل آتا ۔ شکریہ راحیل شریف کا نعرہ زور پکڑ جاتا۔ آج جب آپ آئین کی پاسداری کر کے۔ اپنی ذمہ داریوں سے احسن طریقے سے سبکدوش ہو کر، پوری آبرومندی کے ساتھ ریٹائر ہو رہے ہیں تو شکریہ راحیل شریف کا نعرہ لگانے والی سب زبانیں چپ ہیں۔ سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔اس لئے کہ کبھی بھی اس نعرے کا مقصد تحسین نہیں تھا۔ اسکا مقصد ہمیشہ سے ترغیب تھا۔ آج موقع ہے شکریہ راحیل شریف کہنے کا ۔ آج موقع ہے آپ کی داد و تحسین کا۔
آج موقع ہے آپ کی شان میں قلابے ملانے کا۔ سب مل کر بولو ۔شکریہ راحیل شریف کیونکہ آپ نے ریاست کے ساتھ جمہوریت کی پاسداری بھی کی ہے۔ اس ملک کے قانون سے وفاداری کی۔ اپنی دھرتی کانام روشن کیا ہے اپنے عظیم خاندان کا نام سربلند کیا ہے۔آپ سے التماس ہے کہ جب آپ رخصت ہو رہے ہیں اور نیا سپہ سالار اس وطن کے لئے منتخب کیا جا رہاہے تو آنے والے سپہ سالار کو بس یہ بتا دیجئے گا کہ ٹی وی سکرینوں پر بیٹھے سانپوں کی، منہ زو ر ز بانوں کے، اگلے زہر سے، شکریہ نہیں بنتا ، شکریہ آئین، قانون، اور جمہوریت پر یقین سے بنتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com