اپنے رب سے تعلق قائم کریں

ہفتہ جنوری    |    عارف محمود کسانہ

ہر کوئی کسی دوسرے کے بارے میں گلہ کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس شکوے کی زد میں دوست احباب،عام ملنے والے ، رشتہ داریہاں تک کہ خونی رشتے بھی آتے ہیں۔ ہماری شاعری میں اس موضوع پر بہت کچھ کہا گیاہے۔ چونکہ شاعر بہت حساس مزاج ہوتے ہیں اورمعاشرے میں ہونے والے انسانی رویوں کو اپنا موضوع سخن بناتے ہیں جس کی جھلک ہمیں اُن کے کلام میں ملتی ہے ۔جیسے فراز کا یہ شعر بہت مقبول ہے
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
حفیظ جالندھری نے دوستائی کی بے وفائی کو اپنء انداز میں خوب کہا کہ
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
اور غالب نے تو سارا معاملہ ہی ختم کردیا جب یہ کہا کہ
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
یہ توقع کیوں اٹھ جاتی ہے۔

(خبر جاری ہے)

دوست دوستوں سے کیوں بے وفائی کرتے ہیں۔ انسان کیوں بدل جاتے ہیں۔ ماہر ین نفسیات اور دوسرے اہل علم اپنی تحقیق اور فہم کے مطابق بہت کچھ لکھا ہے لیکن اس بارے میں سب سے مستند اور حتمی رائے انسان کو تخلیق کرنے والے کی ہے۔ انسانیت کے نام اپنے آخری پیغام میں حضرت انسان کو پیدا کرنے والا رب اس کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ انسان ناشکرا جلد باز اور جھگڑالو ہے۔یہ حیوانی جذبات سے مغلوب ہوجاتا ہے۔
جب مصیبت پڑے تو خدا یاد کرتا ہے۔ احسان فراموش ہے۔ تنگ دل ہے۔ امانت خداوندی میں خیانت کرتا ہے۔ ظالم اور جاہل ہے۔ بے صبرا ہے۔ مفاد کے پیچھے لپکتا ہے۔ اپنے آپ کو پست ترین درجہ پر لے جاتا ہے۔سر کش واقع ہوا ہے۔ انسان حاسد ہے۔ وسوسے پھیلا کر شر پھیلاتا ہے۔ اپنے جذبات کو کھلا چھوڑ دیتا ہے۔
انسان کے اندر یہ رویے اور خصوصیات اُس کی تخلیق کے ساتھ ہی رکھ دئے گئے ہیں یعنی BY DEFAULT انسا ن میں موجود ہیں۔
یہ اس کی سرشت میں ہیں جسے آپ انسان کی فطرت کہہ سکتے ہیں۔ جب انسانوں میں بے وفائی، ناشکراپن، احسان فراموش، مفاد پرست اور حسد جیسے جذبات پیدائشی طور پر موجود ہوتے ہیں تو پھر شکوہ یا گلہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بقول میاں محمد بخش کہ آدم ہمیشہ سے بے وفا ہے۔ انسان کی تخلیق کے وقت فرشتوں کا یہی اعتراض تھا کہ ایسی مخلوق پیدا کی جارہی ہے جس میں شر پھیلانے کا اختیار ہوگا۔ فرشتوں کا خالق انسان اورکائنات نے کیا خوب جواب دیا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔
اس انسان میں نیکی اور بدی دونوں کو اختیار کرنے کی صلاحیت ہی اسے دیگر مخلوقات سے اشرف بنائے گی۔ اسلام رہبانیت نہیں سکھاتا کہ انسان دوسروں سے کٹ کر تنہائی میں زندگی گذارے بلکہ اسلام معاشرہ میں دوسروں کے ساتھ اچھے اخلاق اور طرز عمل کے ساتھ جینے کا درس دیتا ہے۔
رب العزت نے جب انسان کو بنایا تو ساتھ ایک ہدایت نامہ بھی دے دیا اور واضع طور پر بتا دیا کہ جوانسان اس ہدایت پر عمل کریں گے وہ اپنی ان خامیوں پر قابو سکیں گے۔
ان خامیوں پر وہی لوگ قابو پاسکتے ہیں جو وحی خداوندی کو اپنی زندگی کا نصب العین بناتے ہیں ۔ایک روایت ہے کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے۔ صحابہ اکرام  نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایاکہ ہا ں میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہے لیکن میں نے اپنے شیطان کو مسلمان کرلیا ہے۔رسول پاک نے کیا زریں اصول بتایا ہے جس سے انسان اپنے منفی جذبات اور خیالات کو مثبت خوبیوں میں بدل سکتا ہے۔
یہ تب ہوتا ہے جب انسان اپنا اور اپنے خالق کا تعلق سمجھتا ہے جو عبد کا معبود سے تعلق ہے۔ انسان جب اپنی تخلیق پر غور کرتا ہے اور اپنے آپ کو پہچانتا ہے تو وہ پھراپنے رب کو بھی پہچان سکتا ہے۔ قرآن پاک اسی پر غور کرنے کو کہتا ہے کہ اے انسان تو اپنی تخلیق پر غور کر۔ علامہ اقبال نے اپنے آپ کو پہچانے کے لیے خود ی کی اصطلاح استعمال کی۔ اُن کے مطابق خودی سے مراد اطاعت الہی، محبت رسول، ضبط نفس ، نیابت الہی اور تسخیر کائنات ہے۔
یہ تزکیہ نفس سے انسانی حد تک اللہ کے صفات کے کردار کی تعمیر ہے۔ جب اپنی رضا کو رب کی رضا کے مطابق کرلیا جاتا ہے تو پھر رب پوچھتا ہے کی اب تو بتا تیری کیا مرضی ہے۔ پھر وہ مقام آتا ہے کہ جو سورہ الزمر کی آیت ۳۶ میں ہے کہ کیا بندے کے لیے اللہ کافی نہیں۔بندے کا اپنے رب کے ساتھ تعلق بندگی سے پیدا ہوتا ہے یعنی
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی
یہ بندگی خدائی، وہ بندگی گدائی
یا بندہ خدا بن، یا بندہ زمانہ
پریشانیوں اور مایوسیوں سے بچاو کا ایک مومن کے پاس یہ لائحہ عمل ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کے ساتھ کے اپنا تعلق نہ صرف استوار کرتا ہے بلکہ اسے محسوس کرتا ہے۔
وہ ایک ایسا سجدہ کرتا ہے کہ پھر کسی اور کے سامنے جھکنا نہیں پڑتا۔ نماز اور قرآن سے اپنے رب سے تعلق قائم ہوتا ہے۔نماز مومن کی معراج اور قرآن کلام اللہ ہے۔ محبت رسول ﷺ اپنے رب تک پہنچنے کاذریعہ ہے۔ جب اپنے رب سے باتیں کرنے کو جی چاہے تو نمازکے ذریعہ باتیں کریں اور جب اپنے رب کی باتیں سُننا ہوں تو قرآن حکیم کو پڑھیں، رب آپ سے باتیں کرے گا۔ نماز ادا کرتے وقت یہ محسوس ہو کہ اللہ کو دیکھ رہے ہیں اور اس کی بارگاہ میں اپنی گذارشات پیش کررہے ہیں۔
قرآن کی تلاوت کرتے وقت بقول والد علامہ اقبال یہ سمجھیں کہ یہ آپ پر نازل ہورہا ہے۔ قرآن کلام اللہ ہے۔جب اسے پڑھتے ہیں تو اللہ آپ سے مخاطب ہوتا ہے ۔ جب یہ تعلق دل سے محسوس ہوگا تو رب سے تعلق پیدا ہوگا اور رب ہی سب سے اچھا دوست اور ساتھی ہے اور رسول پاک ﷺ کے آخری الفاظ بھی یہی تھے ۔ اسوہ حسنہ ہمارے لیے مشعل را ہ ہے جو ہمارا تعلق رب سے جوڑتا ہے۔چھوڑیں دوسروں کے گلے ، شکوے اور اپنے رب سے اپنا تعلق قائم کریں کیونکہ
چھڈ دنیا دے جنجال
کچھ نیں نبھناں بندیا نال
رکھیں ثابت صدق اعمال
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com