دورِ حاضرکے خضر راہ

اتوار اپریل    |    عارف محمود کسانہ

علامہ اقبال کی زندگی اُن کی جدوجہد اور اُن کے پیغام کا جائزہ لینے کے بعد قاری پر یہ حقیقتسامنے آتی ہے کہ انہوں نے بیک وقت کئی محاذوں پر لڑائی لڑی ۔اُس وقت مسلمان ممالک غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور خود مسلمانوں میں نہ صرف قیادت کا فقدان تھا بلکہ مذہبی قیادت انہیں دین کے اصل پیغام سے دور صرف مذہبی رسوم کا پابند بنارہی تھی۔نسل اور وطن پرست نظریہ نے انسانوں کو تقسیم کر رکھا تھا ان حالات میں علامہ نے صدائے حریت بلند کی اور قوم پرستوں ،تنگ نظر، مذہبی سوچ، بے عمل تصوف، لادین عناصر، غلامانہ ذہنیت اور بے عملی کے خلاف جدوجہد کی اور کسی قسم کی مخالفت اور تنقید کی پرواہ نہ کی ۔
دور حاضر کے مضطرب اور تلاشِ حقیقت کے متلاشی نوجوانوں کے لئے فکر اقبال خضرراہ کا کام دے سکتی ہے علامہ نے نوجوانانِ ملت کو اپنا پیغام خودی ، فقر، عشقِ قرآن، عشق رسولﷺ علم وعقل ، اجتہاد،مسلم قومیت، مردِ مومن اور وحدتِ انسانی کی صورت میں دیا ہے وہ پیام انقلاب ہے انہوں نے مغربی تہذیب کی جن خامیوں اور خرابیوں کی نشاندہی کی ہے اس سے صرفِ نظر ممکن نہیں ۔

(خبر جاری ہے)

اسلام کی نشاتِ ثانیہ کے حوالے سے نوجوانوں کو جو انہوں نے پیغام بذریعہ جاوید دیا ہے وہ آج بھی مشعلِ راہ ہے جاوید نامہ، خضر راہ،طلوع اسلام، ساقی نامہ مومن، مردِ مسلماں غرض ان کی شاعری کا مجموعی کلام ایک اعلیٰ کردار کی تعمیر کرتا ہے علامہ نے تقدیر کی بجائے عمل ، جامد تقلید کی بجائے اجتہاد ، محض رسمی عبادات کی بجائے دین کے اصل مقصد کو اجاگر کیا ہے ۔

اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اہلِ مغرب اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ کو اسلام کی اصل روح سے آگاہ کرنے کے لئے اُن کے خطبات ذہن کی گھپتوں کو آج بھی سلجھا سکتے ہیں۔علامہ نے امت مسلمہ کے زوال اور پستی کی سب سے بڑی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر
علامہ اقبال کی شخصیت ایک متوازن اور دانائے راز کی شخصیت ہے۔یہ علامہ اقبال کی ہی شخصیت ہے جنہوں نے پیام مشرق صحبت رفتگاں میں ٹالسٹائی،کارل مارکس، ہیگل،کومٹ اور کوہگن کو جمع کیا ۔
یہ اقبال ہی ہیں جو گوئٹے ،گرونانک سر آرنلڈ ، شیکسپئر،نپولین اور دوسرے کئی غیر مسلم تاریخ ساز شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتے ۔تو پھر فکر اقبال سے راہنمائی لینے والا کیوں اعتدال اورمذہبی رواداری کا حامل نہ ہوگا ۔وہ نطشے کو خراج عقیدت بھی پیش کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں#
اگرہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں
تو اقبال اس کو سمجھاتا مقام کبریا کیا ہے
علامہ اقبال جہاں ایک طرف رومی، جامی،نظام الدین اولیاء، سید علی ہجویری ،خواجہ معین الدین چشتی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں وہاں مذہبی پیشوائیت اور ملائیت پر کڑی چوٹ بھی کرتے ہیں اور یہاں تک کہہ جاتے ہیں صوفی اور ملا کی قرآن کی تشریح نے خدا، رسول پاکﷺ اور جبرئیل کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ جو یہ کہہ رہے ہیں وہ حقیقت کے برعکس ہے۔
دین کی غلط تشریح پر وہ اس طبقہ پر جابجا کھلے الفاظ میں تنقید کرتے ہیں اور اپنی نظموں پیرو مرید ،زہد اور رِندی، ملا اور بہشت پنجاب کے پیرزادوں سے خانقاہ ، شیخ مکتب سے باغی مرید ملائے حرم ،پنجابی مسلمان، صوفی سے تصوف اور اے پیرم حرم میں کھل کر اظہار خیال کرتے ہیں وہ مذہب کو رسمی عبادات کی بجائے ایک نظامِ زندگی کی صورت میں دیکھنا چاہتے تھے اور برملا کہتے ہیں ۔#
گر صاحبِ ہنگامہ نہ ہو منبر ومحراب
دیں بندہٴ مومن کے لئے موت ہے یا خواب
اقبال کی شاعری اور نثر قاری کے دل میں اُتر جاتی ہے اور اس میں ایک فکری انقلاب پیدا کر دیتی ہے وہ امید اور کامیابی کا پیغام دیتی ہے مادہ پرستی اور استحصال کی سیاست کے خلاف ایک آواز ہے جو وحدتِ انسانی اور محبت کا پیغام ہے آج کے دور میں مسلمان جس طرح عالمی سطح پر پستی کا شکار ہیں اس میں فکر اقبال ایک نوید مسیحا بن کر سامنے آتی ہے۔
جویہ پیغام دیتی ہے کہ قربانیاں دے کر ہی کوئی قوم عروج حاصل کر تی ہے جس طرح کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا وہ طوفانِ مغرب سے پریشان ہونے کے بجائے اُسے مسلمان کوبیدار ہونے کا منظر دیکھتے ہیں آج کے دور میں اُن کی شاعری خصوصاً نمود صبح ، ترانہ ملی، خطاب بہ جوانانِ اسلام شکوہ اور ابلیس کی مجلس شوریٰ مشعل راہ ہوسکتی ہے وہ امید کا پیغام دیتے ہیں اورآج کی نوجوان نسل کو اُن کے اس پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اپنا مقام پہچاننے کی ضرورت ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ
خدائے لم یزل کا دستِ قدرت تو، زباں تو ہے
یقین پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گماں تو ہے
مکاں فانی، مکیں آنی، ازل تیرا، ابد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے تو، جاوداں تو ہے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com