ابھرتے سورج کی سرزمین میں ۔ قسط نمبر1

اتوار اگست    |    عارف محمود کسانہ

اس سال تعطیلات گذارنے کے لیے چین کا انتخاب تو اہلیہ نے جاپان جانے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر چین جارہے ہیں تو کیوں نہ جاپان سے بھی ہوآئیں کیونکہ دونو ں ایک دوسرے کی قریب ہی واقع ہیں اور پھر بچپن سے جاپان دیکھنے کی خواہش ہے۔تو پھر کیوں کا سوال ہی نہیں تھا کہ بیگم کی خواہش کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتا تھا، سو جانے کی تیاری کرنے لگے تو حاحبزادے نے بھی جانے پر اصرار کیا اس طرح ہمارا تین رکنی وفد سویڈن سے براستہ دوہا ، ٹوکیو کے لیے روانہ ہوا۔
جانے سے قبل سویڈن میں مقیم چین اور جاپان کے ملنے والوں نے وہاں گرم موسم سے خبرادر کیا لیکن وہاں پہنچ کر احساس ہوا کہ کوئی ایسی شدید گرمی نہ تھی۔ دوہا سے جب جہاز نے ٹوکیو کے لیے ا ڑان بھری تو پاکستانی فضا میں سے ہوئے سیالکوٹ کے قریب سے گذرے۔

(خبر جاری ہے)

یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان کی فضا میں سے گذرے لیکن سرزمین پاکستان پر نہ اترے۔ ہمارے لیے یہ بھی پہلا موقع تھا کہ بھارتی فضا میں سے گذرے۔ساڑھے دس گھنٹے کے بعد ہمارا جہاز ٹوکیو کے ہانیدا کے بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر اُترا۔

کسی بھی ملک میں پہلا تجربہ بہت اہم ہوتا ہے چاہے یہ اچھا ہو یا نا خوشگوار۔ جہاز کسے نکلتے ہی دروازے پر ہمیں ایسا خوشگوار تاثر ملا کو آج تک کسی ملک میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ جونہی جہاز سے باہر قدم رکھا تو ایک باوردی پولیس آفیسر ہر مسافر کو سلوٹ کرکے خوش آمدید کہہ رہا تھا۔ جاپان میں آنے والوں کا اس انداز سے استقبال ایک نہایت خوشگوار اور آداب کا اظہار ہے۔ اپنے دورہ کے دوران ہمیں یہ احساس ہوا کہ جاپانی بہت باخلاق، مودب اور سلجھے ہوئے لوگ ہیں۔
سلام بھی جھک کرکرتے ہیں اور اگر خریداری کریں تو بل اور بقایا ریزگاری ایک چھوٹے سے ٹرے میں رکھ کر دیتے ہیں۔ کئی جاپانی منہ پر مساک چڑھائے ہوتے ہیں تاکہ کود کو ماحولیاتی آلودگی سے بچائیں اور دوسروں کو بھی اپنے جراثیم سے محفوظ رکھیں۔ ہوائی اڈہ پر عزیزم شاہد مجید ہمارے استقبال کے لیے موجود تھے جو ایک طویل عرصہ سے جاپان میں مقیم ہیں اور اُن سے میری ملاقات بھی کوئی بیس سال بعد ہوئی ۔ ہوائی اڈہ سے ہوٹل جانے کے لیے ٹیکسی لی جس کا کرایہ سویڈن جیسا ہی تھا۔
جاپان بھی سویڈن کی طرح مہنگا ملک ہے لیکن کئی چیزیں سویڈن سے بھی سستی ہیں جیسے مقامی ذرائع آمدورفت اور کھانا پیناوغیرہ۔ جاپان کرنی تبدیل کروانا یورپ بلکہ پاکستان کی طرح نہیں ہے بلکہ وقت طلب اور تھوڑا پیچیدہ ہے جس کا تجربہ ہمیں ائیرپورٹ پر ہوا۔ کرنسی تبادلہ کے لئے باقاعدہ ایک فارم پر اپنی تفصیلات دی جاتی ہیں جسے پہلے کھڑکی پر موجود شخص دیکھتا ہے پھر اپنے افسر کو دیتا ہے وہ چیک کرکے پھر دوبارہ اُسے دیتا ہے اور یہی کام پھر ہوتا ہے جب انہیں کرنسی نوٹ دیے جاتے ہیں اس طرح روایتی انداز اب بھی انہوں نے اپنایا ہوا ہے۔

ٹوکیو دنیا کا سب بڑا شہر ہے ، بلند و بالا عمارتیں ،منظم نظام ، صفائی اوراچھے شہری اس کی پہچان ہیں۔ زیر زمین ریلوے کا بہت شاندار انتظام ہے۔ نابیناؤں کے لیے خصوصی راستے بنے ہوئے ہیں۔ جاپان میں مقیم معروف صحافی، مصنف اور اردو نیٹ جاپان کے مدیر اعلیٰ ناصر ناکا گاوا شہر کی سیاحت کے لیے ہمارے رہبر تھے۔ وہ بہت باخلاق، مہمان نواز اور کھرے انسان ہیں۔ مشرق بعید بلکہ دنیا بھر میں اردو کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں اور دو کتابوں کے مصنف ہیں۔
جند ماہ قبل جب وہ سویڈن تشریف لائے تو مجھے ان کی میزبانی کا بھی موقع ملا اورکئی تفصیلی نشستیں ہوئیں۔ وہ پہلے پاکستانی مرد ہوں گے جنہوں نے شادی کے بیوی کے نام کے ساتھ اپنا نام لگانے کی بجائے بیوی کا خاندانی نام ناکا گاوا اپنے نام کے ساتھ ایسا لگایا کہ اب یہ نام اُن کی پہچان بن گیا ہے۔ اُن کی اہلیہ اور خوش دامن سے ملاقات بھی ہوئی اور انہوں نے روایت جاپانی مہمان نوازی اور خوش خلقی سے ہمیں خوش آمدید کہا۔
ناصر ناکاگاوا نے ٹوکیو شہر کی سیاحت کے حوالے سے بتایا کہ شہر کا قدیمی علاقہ آساکوسا سیاحوں کی دلچسپی کا اہم مرکز ہے جو بدھ مت مذہب کا گڑھ بھی ہے اور جاپان کی ثقافت بھی وہاں دیکھنے کو ملے گی۔ آسا کوسا میں یک میلے کا سماں تھا اور بارش کے باوجود سیاحوں کی بہت بڑی تعداد وہاں گھوم پھر رہی تھی۔بہت سی جاپانی خواتین بھی اپنے روایتی لباس میں وہاں نظر آئیں۔ پرانی عمارتیں جو جاپان کے عہد قدیم کی گواہ ہیں، دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔
روایتی کھانے پینے کے سٹال اور خرید و فروخت کی اشیاء سب کچھ موجود تھا۔ بدھ مت کی درگاہ پر سیاحوں اور زائرین کا رش تھا اور وہاں ہونے والی سرگرمیوں کا دیکھ کر بالکل ایسا محسوس ہوا کہ کہ یہ کوئی برصغیر کی درگاہ ہے۔ کوئی مقدس پانی سے ہاتھ منہ دھو رہا تھا اور کسی جگہ کسی اور تبرک سے فیض یاب ہونے کی کوشش کی جارہی تھی۔ ایک جگہ سے دھواں اٹھ رہا تھا جس کے اردگرد لوگ اپنے عضا کو دھویں سے مس کررہے تھے تاکہ درد اور دیگر بیماریوں سے نجات مل سکے۔
کہیں لوگ منتیں مانگ رہے تھے اور دھاگے باندھ رکھے تھے۔ تعویز بھی خوب بک رہے تھے اور اُن کی قیمت خواہش اور کام کے اعتبار سے متعین تھی۔ ہماری درگاہوں کی طرح زائرین یہاں بھی نذرانے دے رہے تھے۔ محبوب کو رام کرنے کے لئے بھی وہاں اشیاء دستاب تھیں جہاں نوجوان لڑکے لڑکیاں کا خوب رش تھا۔ جاپانی ایک ترقی یافتہ قوم ہونے کے باوجود اس طرح کی تواہمات پر اس قدر عمل کیسے کرسکتے ہیں ۔ جب ناصر ناکا گاوا سے میں نے یہ پوچھا انہوں نے بتایا کہ وہ ہمارے لوگوں کی طرح پختہ یقین کے ساتھ ایسا نہیں کرتے بلکہ اسے سرسری اور غیر سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
شہر کا یہ وسطی علاقہ بہت پررونق اور دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ وقت کی کمی اور بارش کے باعث ٹوکیواسکائی ٹری نہ دیکھ سکے جو ۶۳۴ میٹر بلند ہونے کی وجہ سے جاپان کا سب سے بلند اور بُرج الخلیفہ کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا ٹاور ہے۔ اگلے روز شاہد مجید کے ساتھ ٹوکیو ٹاور دیکھنے سے کسی حد اس کمی کی تلافی ہوگئی جس کا احوال اگلے ہفتے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com