ابھرتے سورج کی سرزمین میں۔ قسط نمبر2

اتوار ستمبر    |    عارف محمود کسانہ

ٹوکیو ٹاور سے شہر کا نظارہ بہت دلفریب تھا۔ عزیزم شاہد مجید ہمیں شہر کے مختلف حصوں کی تفصیلات سے بھی آگاہ کررہے تھے۔ چاروں طرف بلند وبالا عمارتیں جاپانی قوم کی ترقی اور عظمت کی گواہی دی رہی تھیں۔ یہ وہی قوم تھی جو دوسری جنگ عظیم کے بعد بد ترین شکست سے دوچار ہوئی تھی او ر انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی بھی اس ملک نے دیکھی تھی جو دو ایٹم بموں کے گرانے سے ہوئی۔ جرمنوں کی طرح انہوں نے ترقی اور خوشحالی کے لئے سخت محنت اور جدوجہد کی اور آج جنگ عظیم کے دونوں شکست خوردہ اتحادی دنیا کی اقتصادی اور سائنسی ترقی کی روشن مثالیں ہیں۔
ٹوکیو ٹاور دیکھنے کے بعد شہر کی سیاحت کے لئے نکلے۔ اسلامک سینٹر کی بہت خوبصورت عمارت جس میں ایک بڑی مسجد بھی موجود ہے دیکھنے کا موقع ملا۔

(خبر جاری ہے)

اس مرکز میں اسلامی تعلیمات کے علاوہ جاپانی عوام کو عربی زبان کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ بہت سے جاپانیوں نے اپنے شوق سے عربی زبان سیکھی ہے۔ ٹوکیو میں ترک مسجد بھی ایک بڑا سلامی مرکز ہے۔ ترکوں کے دلوں میں اسلام کی محبت جاگزیں ہے اور دنیا بھر میں جہاں بھی وہ مقیم ہیں، انہوں نے مساجدتعمیر کررکھی ہیں۔

سویڈن، ڈنمارک اور جرمنی میں سب سے زیادہ مساجد ترک مسلمانوں کی قائم کردہ ہیں۔ شہر کے مختلف حصوں سے گذرتے ہوئے ہم نواحی علاقہ سائیتاما پری فیکچر کے سوکا کی جانب گامزن ہوئے جہاں اردو نیٹ جاپان کے تحت میری کتابوں افکار تازہ اور اسلامی معلومات کے تناظر میں بچوں کے لئے دلچسپ اور انوکھی کہانیوں کی تقریب رونمائی منعقد ہونی تھی۔
تقریب رونمائی میں شرکت کے لئے دور دراز سے بہت سے احباب شرکت کے لئے بروقت تشریف لائے جو میرے لئے متاثر کن اور باعث مشرت تھا۔
اردو نیٹ جاپان کی ساتویں سالگرہ اور تقریب رونمائی کی مشترکہ اجتماع میں جاپان میں مقیم معروف پاکستانی سیاسی، سماجی، دینی، علمی، صحافتی اور معروف کاروباری شخصیات سے ملنے اور تبادلہ خیالات کا موقع ملا۔ اردو نیٹ جاپان کے چیف ایڈیٹر اور تقریب کے میزبان ناصر ناکاگاوا مہمانوں کو خوش آمدیدکہنے میں بہت مستعد تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض ممتاز عالم اور الطاف غفار نے بہت خوبصورتی سے ادا کیے۔
حافظ مہر شمس کی تلاوت کلام پاک کے بعد سفارت خانہ پاکستان جاپان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن عدنان جاوید، ٹوکیو یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکٹر سہیل عباس، کالم نگار حسین خان، طیب خان، ملک حبیب الرحمٰن، شاہد مجید، سردار اعجاز رفیق اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ ٹوکیو یونیورسٹی میں مطالعات خارجی میں اردو کے جاپانی پروفیسر توسوگوچی، پی آئی اے سنئیر آفیسر رانا عبدالوحید، بنگلہ دیش کے سید محمود الحسن اور نومسلم جاپانی محمد علی نے بھی شرکت کی۔
ٹوکیو یونیوسٹی میں شعبہ اردو کے پروفیسر جناب سہیل عباس سے علمی وادبی اور دیگر امور پر بہت مفید گفتگو ہوئی اور انہوں نے یونیوسٹی کے دورہ کی دعوت بھی دی لیکن وقت کی کمی کے باعث معذرت کرنا پڑی ۔ پاکستان میں یونیورسٹی دور کے میرے ہم جماعت اورنیپال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کیشب کمار باٹا جو نے بھی اردو میں اظہار خیال کیا۔اٹھائیس برس بعد اپنے ہم جماعت اور دوست سے ملاقات بہت خوشگوار تھی۔
وہ جاپان میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کرنے آئے تھے اور بعد میں انہیں جاپان میں ہی ملازمت مل گئی ۔ ڈاکٹر کیشب کمار باٹا جو نے افسردہ لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 1988 کے بعد وہ دو برس قبل پھر پاکستان گئے تھے اور دیکھ کر پریشان ہوگئے کہ یہ وہ پاکستان نہیں جو چھبیس برس قبل تھا۔ وہ مجھے پوچھ رہے کہ آخر ایسا کیوں کیسے ہوا اور وہ پاکستان کہاں کھو گیا۔ اُن کا سوال میرے لئے بھی بہت تکلیف دہ تھا میں بھی ماضی کے خیالوں میں گم ہوگیاکہ ڈاکٹر باٹاجو نے کل دوبارہ ملنے اور ائیرپورٹ تک چھوڑنے کا وعدہ کرتے ہوئے اجازت لی۔

جاپان میں تیسرے اور آخری روز ناصر ناکا گاوا ہمیں اپنے اہل خانہ سے ملانے کے لئے اپنے گھر لے گئے۔اُن کے دونوں بیٹے تو یونیورسٹی ہونے کی وجہ سے نہ مل سکے لیکن اُن کی جاپانی اہلیہ اور خوش دامن نے ہمارا پُرتپاک استقال کیا اور کچھ دیر خوب بات چیت جاری رہی۔ جاپان جائیں اور سوشی نہ کھائیں تو سمجھیں کہ آپ نے جاپانی کھانوں کا مزا ہی نہیں لیا۔ ناصر ناکا گاوا نے بتایا کہ جاپان آنے والے اپنے ہر مہمان کو الوداعی دعوت سوشی دینے کی روایت ہے۔
ہمیں بھی اس اعزاز سے نوازا گیا وہ جاپان میں سوشی کھانے کا مزا دوبالا ہے۔ جاپان میں مقیم معروف کالم نگار اور صحافی جناب عرفان صدیقی سے ملاقات نہ ہوسکی کیونکہ وہ پاکستان گئے ہوئے تھے لیکن ناصر ناکا گاوا نے ان کی کتاب جاپان نامہ عنائیت کی جس سے جاپان کے بارے میں بہت اہم اور مفید معلومات پڑھنے کو ملیں۔ عرفان صدیقی کا انداز تحریر بہت عمدہ اور دلچسپی لئے ہوئے ہے۔جاپان نامہ اُن کے کالموں کا مجوعہ ہے جو جاپان کی معاشی، معاشرتی، سیاسی، سماجی اور سائنسی ترقی کے مختلف پہلووں کا بہت خوبصورت انداز میں تجزیہ اور معلومات لیئے ہوئے ہیں۔
انہوں نے بہت محنت سے اعدادوشمار کی روشنی میں لکھا ہے ۔ جاپانی کی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستان کا تذکرہ کیا ہے اور اس درد دل کا ذکر کیا ہے جو ہر وہ محب وطن کرتا ہے جو پاکستان سے باہر مقیم ہے۔ جاپان نامہ ابھرتے سورج کی سرزمین کے بارے میں مصدقہ معلومات کی ایک دستاویز ہے کیوں کہ عرفان صدیقی ایک مدت سے وہاں مقیم ہیں اور باقاعدگی سے لکھ رہے ہیں۔
ناصر ناکاگاوا جاپانی زبان کے ماہر ہیں اور مترجم کے فرائض بھی سر انجام دیتے ہیں۔
انہوں نے تین دنوں میں ہمیں جاپانی زبان کے کئی الفاظ اور مختصر جملے یاد کرادیئے ۔خوش آمدید کے لئے جاپانی زبان میں رشا مسے، یوکو سو کہتے ہیں۔ شکریہ آری گاتو، سمجھ گیا ویکاری میشٹا، کوئی مسئلہ نہیں ای اے، ہیلو کے لئے کونی چیوا، صبح کا سلام اوہائیو اور کسی کو کوئی چیز پیش کرنی ہو تو ڈوزو کہتے ہیں۔ معاف کیجئے گا یعنی Excuse me کا ناصر صاحب نے سیما سین جس انداز میں بتایا وہ کبھی نہیں بھولے گا۔ تین یادگار دن جاپان میں گذارنے کے بعد اپنے اگلی منزل جین جانے کے لئے روانہ ہوئے۔ ڈاکٹر کیشب کمار باٹاجو نے ہمیں ناریتا ائیرپورٹ پر الوداع کہا اور ہم انہیں جاپانی میں سائیونارا کہتے ہوئے رخصت ہوئے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com