خوش آمدید جناب وزیر اعظم!

بدھ مئی    |    اظہر تھراج

پارلیمنٹ کی کارروائی جیسی بھی ہوٹھیک۔یہ اچھا ہوا کہ جہاں عوام نے ان کو نمائندے بنا کر بھیجا تھا وہاں ہی یہ ایک دوسرے سے گلے شکوے کرینگے،عوام کو چند دنوں کیلئے سڑکوں پر لگے ڈرامے اور اسٹیج شو سے سکون ملے گا،ہاں ٹی وی پر یہ ضرور لڑتے دکھائی دینگے جس کسی نے بھی انجوائے کرنا ہو ٹی وی لگاکر سکرین کے آگے بیٹھ جائے خوب مزہ آئے گا۔
پانامہ لیکس نے شاہی خاندان،سیاستدانوں،سرمایہ داروں کی آف شورکمپنیوں کا پردہ کیا چاک کیا ہے کہ ملک میں ہنگامہ برپا ہے،حکومت اور اپوزیشن دونوں معاملات کو سلجھانے کے بجائے الجھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں،ایک دوسرے کو مختلف القابات سے نوازا جاتا ہے تو گھروں میں جانے تک کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔
وزیر اعظم نے اپنے آپ اور خاندان کو احتساب کیلئے پیش کیا ہے،وزیراعظم کہتے ہیں کہ میرے سمیت سب کا احتساب ہونا چاہیے جبکہ اپوزیشن کہتی ہے پہلے وزیراعظم اور ان کے خاندان کا احتساب ہوگا اس کے بعد دوسروں کے بارے سوچا جائے گا،ویسے ایک بات سوچنے کی ہے کہ جو لوگ حکومت سے آف شور کمپنیوں بارے جوابات مانگ رہے ہیں ان کی تو اپنی بھی آف شور کمپنیاں ہیں یا ماضی میں رہی ہیں،ایک چو رکیا دوسرے چور سے جواب مانگ سکتا ہے؟حساب تو عوام کو مانگنا چاہیے نا جو سوائے سیاسی تقریروں کے کہیں نظر نہیں آتی۔

(خبر جاری ہے)


ماضی کی فائلوں سے گرد اٹھائی جائے تو اس کمیشن اور پانامہ پیپرز پر شور محض سیاسی سٹنٹ نظر آتا ہے،پاکستان کی اڑسٹھ سالہ تاریخ میں جب بھی کرپشن،کمیشن کیخلاف شور مچا ،چند دن ہلچل پیدا کرنے کے بعد خود ختم ہوگیا یا بوٹوں کی چاپ تلے دب گیا،ہر دفعہ عوام کی بات کی گئی،عوام کی پائی پائی وصول کرنے کی پلاننگ کی گئی،علی بابا اور چالیس چوروں کو سڑکوں پر گھسیٹنے کا نعرہ بلند کیا گیا،کہاں گئے علی بابا اور چالیس چور؟حقیقت یہ ہے کہ ہماری سیاست کا دستور بن چکا ہے کہ اقتدار میں ہو تو کھاؤ پیو موج اڑاؤ،اپوزیشن میں ہو تو شور مچاتے رہو،یہاں عمران خان کو وزیراعظم بننے کی جلدی ہے،بلاول کو اپنی پارٹی کی باری آرام نہیں لینے دے رہی،پیپلز پارٹی اپنے دو وزرائے اعظم کو عدالتوں میں گھسیٹے جانے کا بدلہ لینا چاہتی ہے۔
رہی باقی اپوزیشن تو وہ ہمیشہ تماشائی رہی ہے کبھی آمروں کے پیچھے تالیاں پیٹتی تو کبھی دیگر حکومتی خیموں میں پناہ لیتی نظر آئی ہے،حکومت ہویا اپوزیشن دونوں کی صفوں میں لوٹ مار کرنیوالے موجود ہیں یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ معاملات صحیح سمت جائیں،دونوں ”رولا،شولا پائی رکھو“کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،دونوں عوام سے مخلص ہوتے تو اب تک آئس لینڈ،برطانیہ،نیوزی لینڈ،آسٹریلیا اور بھارت کے سیاستدانوں کی طرح معاملہ کسی سمت لگا چکے ہوتے،افسوس کہ دونوں یہ نہیں چاہتے،دونوں عوام کی توجہ اصل ایشوز سے ہٹا کر اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔
مسلم لیگ ن کی حکومت نے تین سال نکال لیے ہیں،مزید دو سال بھی اسی شور میں نکل جائیں گے،اپوزیشن حکمران پارٹی کو گندہ کرنے اور آنیوالے الیکشن کی تیاری میں لگی ہوئی ہے۔
وزیر اعظم صاحب اور ہماری پیاری اپوزیشن اس معاملے کو ایوان میں لے ہی آئی ہے تو کوئی بہتر حل نکلنا چاہیئے۔وگرنہ یاد رکھے کہ ہر ڈھلتی شام کے ساتھ زندگی کا ایک دن غروب ہوجاتا ہے،صبح کا سورج کس نے دیکھا؟
پاکستان میں اقتدار کا سورج کب غروب ہوجائے،سیاست کی بساط کب لپیٹ دی جائے کسی کو خبر نہیں۔
جس نے تکبر کیا یا حماقت کی دھڑام سے نیچے آگرا۔خواہ ٹرک ہویا لفٹر،کرسی ہویا کنٹینر،جو چیز خدا کو ناپسند ہے وہ ٹھیک ہو ہی نہیں سکتی۔ابھی بھی وقت ہے اپنی روش بدل لیجئے ۔یہ جو بیس کروڑگوشت پوست کے انسان ہیں جو بظاہر گونگے،بہرے اور اندھے نظر آتے ہیں ،حقیقت میں یہ ہیں نہیں۔ان کا ضمیر نیند میں ہے دماغ سن ہے جس دن جاگ گیا وہ اقتدار اور سیاست کا آخری دن ہوگا۔
وزیراعظم صاحب اپوزیشن کی فرمائش کڑوی سہی،کڑوا گھونٹ ہمیشہ بڑوں کو ہی پینا پڑتا ہے بچے تو ضد کرتے ہی رہتے ہیں۔اسی میں سب کی بھلائی ہے،پارلیمنٹ رہے گی تو کاروبار سیاست بھی چلتا رہے گا،آپ کی حماقتوں کی وجہ سے خدانخواستہ یہ نہ رہا تو کوئی جدہ میں ریوڑیاں تو کوئی لندن اور دبئی میں کچھے اور بنیانیں بیچتا پھرے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com