مدت ملازمت میں توسیع کی بحث کیوں؟

بدھ فروری    |    ڈاکٹر اویس فاروقی

دنیا بھر کے جمہوری ملکوں میں شخصیات کے اچھے کاموں کی تعریف و توصیف تو کی جاتی ہے مگر انہیں ناگزیر نہیں سمجا جاتا اور نہ ہی ہماری طرح کسی شخصیت کے آنے یا جانے پر چوبیس چوبیس گھنٹے ٹاک شو کئے اور ریلیاں نکالی جاتی ہیں ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہمارے ہاں جمہوری حکومتوں نے کچھ ”خاص“ ڈلیور نہیں کیا اور ان کے آپسی تفرقے اور تقسیم نے طالع آزما قوتوں کے اقتدار کی راہ ہموار کی حالانکہ اس وقت جمہوریت ہی واحد نظام حکومت ہے جسے موجودہ دور کے لحاظ سے کچھ بہتر کہا جاسکتا ہے لیکن ہمارے ہاں یہ نظام ابھی تک عوام کی حکومت کا واضع تصور رائج نہیں کر سکا سول حکومتیں قائم تو ہوئیں لیکن عوام کی شمولیت کے بغیر ،اسی لئے ہمارے ہاں کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ”جمہوریوں“ سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے اور خوش قسمتی سے راحیل شریف جیسا بہادر نڈر اور قومی مرض شناس جنرل چیف آف آرمی سٹاف ہو تو لوگ امید و آس کے خواب بننے لگتے ہیں ۔

(خبر جاری ہے)

خواب بننے کی وجہ بھی موجود ہو کہ کس طرح خوف و دہشت کے مارے پاکستان کو خوف کی دہشت ناک فضا سے نکالتے ہوئے معمولات زندگی کو بلا خوف خطر جاری و ساری کیا ورنہ آج سے صرف ڈیڑھ دو سال پہلے اس بات کا تصور ہی نہیں تھا کہ یہاں کبھی نارمل زندگی گزاری جاسکے گی۔ ایسے جری جرنیل کے بارئے عوام الناس کا یہ کہنا کہ انہیں توسیع ملنی چاہیے کوئی انہونی بات نہیں۔
لیکن اگر کسی ملک کانظام عدل وانصاف کی مظبوط عمارت پر کھڑا ہو اور عام آدمی کے مسائل حکومت کی اولین ترجیح ہوں تو وہاں کسی کے آنے یا جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
لیکن جب ایسا نہیں ہو رہا ہو تو پھر شخصیات اہم ہو جاتی ہیں جیسا کہ افواج پاکستان کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کے مسلے کو ان کے ملازمت کی مدت کے اختتام سے پہلے ہی ”قومی ایشو“ بنا کر ٹی وی کے ٹاک شوز ،اخبارات کے کالموں ،تجزیوں تبصروں کا موضوع بنا دیا گیا اس مسلے کی اس قدر گرد اڑائی گئی کہ، خود آرمی چیف کو کہنا پڑا کہ وہ اپنے وقت پر گھر چلے جائیں گے۔ ہمارئے ہاں میں شخصیات کو مظبوط کیا گیا جبکہ اداروں کی مظبوطی پر توجہ نہیں دی گئی ۔
اگر اداروں کو مظبوط بنانے پر توجہ دی گئی ہوتی توآج پاکستان ترقی یافتہ قوموں کی صف میں سینہ تانے کھڑا ہوتا اور دہشت گردی، انتہا پسندی جیسی لعنتوں کا بھی شکار نہ ہوتا اور کسی کے آنے جانے سے بھی کوئی فرق نہ پڑتا۔ لیکن ایسا باوجوہ کیا نہیں گیا۔ اس لئے ملکی سطع پر اگر کوئی شخصیت عوامی امنگوں کی ترجمانی کرئے ہوئے اقدمات اٹھاتی ہے تو عوام اسے ہیرو کا درجہ دے کر اس سے امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں۔
جس طرح جنرل راحیل شریف سے قوم نے امیدیں وابستہ کر لیں جو درست بھی ہیں کیونکہ قومی افق پر جمہوری نظام اور اس نظام کے پشت بان سیاست دانوں کی کار کردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے ۔
آٹھ برس کے اس جمہوری دور میں عوام اور ملک کاکیا حال ہو چکا ہے ہر روز ملک کے عوام کے ساتھ تمام سرکاری اداروں ،ہسپتالوں ،تھانوں ،عدالتوں اور تعلیمی اداروں میں بیت رہی ہے سوداگروں کی حکومت نے غریب آدمی کے پیدا ہوتے بچے کوبھی نہیں بخشا دنیا بھر میں اشیا خورد و نوش کی قمیتوں میں کمی واقع ہو رہی ہے جب یہاں منگائی کو طوفان آیا ہو ا ہے۔
’قیادتیں وہیں ناگزیر ہوتی ہیں جن کے اندر کی آنکھیں کھلی اور دماغ روشن ہوتا ہے جس سے وہ مستقبل کے اچھے فیصلے لیتی ہیں جن کے اثرات دورس اور ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح پر مبنی ہوتے ہیں‘۔ بڑے کام بڑئے اذہان ہی کر سکتے ہیں۔ جس کا فقدان ہی نہیں بلکہ دور دور تک ایسی قیادت ہی نظر نہیں آتی۔ اسی خلا ء کو جنرل راحیل شریف نے پورا کیا ملکی اور بین الاقوامی سطع پر ان کی دن بدن بڑھتی مقبولیت سے سیاسی و مذہبی اشرافیہ کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے شروع ہوگئے اور ان کے خلاف ایک محاذ بنا کر ان کی ذات کے مخلتف پہلوں کو ڈسکس کرنا شروع کر دیا گیا جس میں ان کی مدت ملازمت کی توسیع بھی شامل تھی ۔

اس سے پہلے کہ چہ مگوئیاں باقاعدہ بحث کا روپ اختیار کرتیں، جنرل راحیل شریف نے عوامی طور پر فیصلہ کن انداز میں اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع کے بارے میں ہونے والی چہ مگوئیوں کا خاتمہ کر دیا ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ جنرل راحیل شریف نہ ہی مدتِ ملازمت میں توسیع کی درخواست کریں گے، اور نہ ہی وہ توسیع کو قبول کریں گے۔
اس سال نومبر میں پاک فوج کا ایک نیا سربراہ منتخب ہوگا، جس سے وہ ادارتی روایت دوبارہ بحال ہوگی جو پرویز مشرف اور اشفاق پرویز کیانی کے ادوار کے دوران مجموعی طور پر 15 سال کے لیے معطل رہی ہے۔کسی حاضر سروس طاقت ور فوجی چیف جسے عوام کی بھر پور ہمائت بھی میسر ہو کی جانب سے اس طرح کے فیصلے کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔
یہاں ہم اس بات کا اعادہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ جنگ کے دوران ٹھیک ہے محاذ جنگ پر کمانڈر کو تبدیل نہیں کیا جاتا مگر دنیا اس طرح کی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ ناگزیر سمجھی جانے والی قیادتوں کی تبدیلیاں ہوتی آئی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی نظام کو اتنا مظبوط بنایا جائے کہ جہاں ادارئے اور نظام اہم ہو شخصیات نہیں اور دوسرا ایسی شخصیات جو غیر معمولی صلاحتیوں کی حامل ہوں جن سے ملک و ملت کو فائدہ پہنچ سکتا ہو ان کے لئے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے یا عوام کی پسندیدگی انتخابات میں حاصل کرنے کے بعد کردار اداد کیا جاسکتا ہے جس کے لئے مدت ملازت کے اختتام کے بعد سیاست میں آنے کی دو سالہ پابندی کے خاتمے کی کوئی صور ت نکالی جاسکتی ہے۔
ہمارئے جیسے ملکوں جہاں اصولوں کی پاسداری کا کوئی شاندار ریکارڈ نہیں ہے وہاں جنرل راحیل شریف کے فیصلے کو اصولوں کی فتح قرار دیا جانا چاہیے۔کئی حلقوں کی یہ بات بھی درست ہے کہ حالت جنگ میں کمانڈر تبدیل نہیں کرتے اس کے لئے ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی ہے کہ حکومت اور آرمی چیف کے عہدے کی مدت کا دورانیہ چار سال کر دیا جائے جسے صائب قرار دیا جارہا ہے ایسا اگر پارلیمنٹ کے زریعے ہو جاتا ہے تو یہ بھی آئین اور اصولوں کی فتح ہوگی۔
ایک آئینی اور جمہوری پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ افراد ہمیشہ اداروں کے تابع ہوں ہوں، اور تمام ادارے ایک جمہوری طور پر منتخب حکومت کے تابع ہوں۔ جس دن اس ملک میں ایسا ہو گیا اس دن کے بعد پاکستان کو ترقی کرتے ہوئے دنیا دیکھے گی جہالت غربت اور پس مائندگی کا خاتمہ بھی اصولوں کی پاسداری سے ہو گا ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com