وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اتوار مارچ    |    ڈاکٹر اویس فاروقی

گزشتہ دنوں ایک مقامی ہوٹل میں تحفظ حقوق نسواں پر ایک سیمنار کا انعقاد کیا گیا جس میں خواتین کے حقوق اور پنجاب حکومت کی جانب سے حقوق نسواں بل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی جس کا خلاصہ تو انسانی جان کی حرمت ہی قرار پایا لیکن ساتھ میں معاشرئے کے منفی روئیوں کا بھی زکر کیا گیا مقررین نے حکومت پنجاب کی جانب سے خواتین کے تحفظ کے بل کی ہمائت کے ساتھ اسے ایک اچھی پیش رفت بھی قرار دیتے ہوئے خواتین کے حق میں کسی بل کا پاس ہو جانے کے عمل کو قابل تحسین گردانا گیا۔
آج کے دور میں معاشرئے ہوں یا ملک ان میں خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی کا خواب نہ صرف ادھورہ ہے بلکہ شرمندہ تعبیر ہو ہی نہیں سکتا کون سا ایسا شعبہ ہے جس میں خواتین فعال کردار ادا نہیں کر رہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ جن اداروں کی سربراہ خواتین ہیں ان اداروں کی کار کاردگی مثالی ہے۔

(خبر جاری ہے)


لیکن یہی ”عورت“ مردوں کے معاشرئے میں کہنے کی حد تک قابل احترام اور حقوق کی حامل ہے جبکہ عملی طور پر اس جیسا مظلوم بھی کوئی نہیں ہے گھروں سے لیکر بازاروں اور دفتروں تک اس کیساتھ حتک آمیز سلوک اور ہراسمنٹ تو ایک عام اور معمول کی بات ہے جبکہ خاندانی تنازعوں میں معصوم بچیوں کا لین دین معاشرئے کی سوچ اور کردار پر بد نما داغ ہے اگر ان برائیوں کو کوئی اجاگر کرئے تو اس پر بیرونی آقاوں کے ایجنٹ کا لیبل لگا دیا جاتا ہے ۔


حکومت کی یہ زمہ داری ہے کہ ملکی آبادی کے اس آدھے حصے کی ہر طرح سے حفاطت کے لئے صرف قانون سازی ہی نہیں بلکہ عملی طور پر اقدامات اٹھائے تاکہ یہ خود کو بے یار و مدد گار نہ سمجھے گو کہ حکومتی سطع پر کی جانے والی قانون سازی کے بعد یہ ممکن ہو گیا ہے کہ خواتین اب بے یار و مدگار اور بے سہارا نہیں ہیں حکومت ان کی پشت بان ہے۔ جمہوری حکومت کو یہ بھی حق ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود ،ترقی اور تحفط کے لئے وقت کے تقاضوں کے مطابق قانون سازی کرئے جس کا مینڈیٹ اسے عوام دیتی ہے اس کے لئے پارلیمان کو کسی دباو کا شکار نہیں ہونا چاہیے ۔

علامہ ا قبال نے عورت کو کائینات کے رنگوں سے تشبیح دیتے ہوئے کہا تھا کہ
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز ِ دروں
اس” ساز اور رنگ“ کے ساتھ کس طرح کا سلوک روا رکھا جاتا ہے اگر ان واقعات کی عکس بندی کی جائے تو ہمارے رونگٹے کھڑئے ہو جائیں میڈیا کے زریعے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ معاشرہ میں عورتوں کے ساتھ تشدد، تیزاب سے جلائے جانا ، قتل اور غیر انسانی رسموں کا شکار ہوتی ہے یہ ہوا کی بیٹی جبکہ ملک میں خواتیں کوبھیڑ بکریوں سے بھی کم حیثیت دی جاتی ہے، ہماری جہالت کا یہ عالم ہے کہ کئی علاقوں میں عورت کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا ، مردوں سے اختلاف کو غیرت قرار دے کر قتل کر دیا جاتا ہے خدا کی بہترین ساخت (صورت) کے چہرئے پر تیزاب پھینک کر اسے معاشرے میں نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے ۔

ایک نظر ان چند واقعات کی طرف جس کا شکار عورت ہوتی ہے ۔صرف 2014 میں پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں صرف پنجاب بھر میں سب سے زیادہ خواتین پر تشدد کے سات ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس سال میں خواتین کو اغوا کرنے کے ایک ہزار سات سو سات کیسز جبکہ ریپ اور گینگ ریپ کے ایک ہزار چار سو آٹھ کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ پنجاب میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب بھر میں عزت کے نام پر قتل کے سب سے زیادہ 340 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ایک رپورٹ کے مطابق تیزاب گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے مطابق سال 2009 میں پورے پاکستان میں 3 4 خواتین تیزاب گردی کا شکار ہوئیں، جب کہ 2010 میں 55 خواتین اس ظلم کا نشانہ بنیں اور 2011 میں یہ تعداد بڑھ کر سو فی صد اضافے کے ساتھ 155 ہوگئی سنہ 2014 میں تیزاب گردی کے 143 کیسز سامنے آئے اور اس سال یہ تعداد بڑھی ہے۔
تیزاب گردی کے 80 فیصد کیسز پنجاب سے آرہے ہیں لیکن حال ہی میں کراچی سے بھی چار کیس رپورٹ ہوئے یہ اعدادوشمار پڑھ کر ہی رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن معاشرے میں ان پر آواز نہیں اٹھائی جاتی ہم عورت کو کیا سمجھتے ہیں؟
صوبہ پنجاب کی اسمبلی میں خواتین کو گھریلو تشدد، معاشی استحصال، جذباتی اور نفسیاتی تشدد، بدکلامی اور سائبر کرائمز سے تحفظ کا بل منظور کر لیا گیا ہے۔ایسے کسی قانون کی عدم موجودگی میں پنجاب میں خواتین کے خلاف تشدد پر سزا ئیں جرائم کے خلاف عمومی وفاقی قانون کے تحت دی جارہی تھیں۔
پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین کی چیئرپرسن فوزیہ وقار نے اسے خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق گھر کے اندر تشدد کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ ایسے واقعات کے خلاف اقدامات اب آسان ہو جائیں گے۔یہ قانون گزشتہ برس بھی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا تاہم پارلیمٹیرنینز کی جانب سے کئی اعتراضات اٹھائے جانے کے باعث یہ منظور نہیں ہوسکا تھا۔ لیکن اب متفقہ طور پر اس قانون کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ بل گورنر کی رسمی منظوری کے بعد قانون کا درجہ اختیار کر لے گا۔

اس قانون پر بحث و مباحثہ جاری ہے جسے اچھی روایت قرار دیا جانا چاہیے مگر”دھونس دھاندلی اور طاقت“ کے زور پر اپنی بات منوانے کے رجحان کو سختی سے روکنا چاہے خواتین اس ملک کا وہ مظلوم طبقہ ہے جس کا استحصال اس کی پیدائش کے ساتھ شروع ہوجاتا ہے اور مرنے تک وہ ظلم زیادتی اور جبر کی چکی میں پستی رہتی ہے اسے کئی علاقوں میں تو انسان تک نہیں سمجھا جاتا وہ اپنی مرضی سے نہ جی سکتی ہے نہ مر ،حکومت کو چاہیے کہ اس بل میں جو کمیاں کوتاہیاں ہیں انہیں دور کرتے ہوئے اس کا فوری نفاذ کرنے کے ساتھ اس پر عملدرامد کو بھی یقینی بنائے، قانون سازی کا افادیت اسی وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب حکومت پوری قوت کے ساتھ اس پر عمل بھی کرائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com