بھارت کا ”حسن سلوک“

جمعرات اپریل    |    فرخ شہباز وڑائچ

یہ فروری 2014ء کا ذکر ہے ۔میکال حسن نامی ایک پاکستانی میوزک بینڈ کے فنکار بھارتی گروپوں کے ساتھ بعض مقامات پر موسیقی کے پروگرام کرنے والے تھے۔پاکستانی گروپ نے اپنے پروگرام کا اعلان کرنے کے لیے ممبئی پریس کلب کا ہال کرائے پر لیا تھا۔ نیوز کانفرنس شروع ہونے والی تھی کہ اسی وقت شیو سینا کے 50 کارکن ہاتھوں میں پارٹی کا پرچم لیے پاکستان مخالف نعرے لگاتے ہوئے اچانک اندر داخل ہوئے اور نیوز کانفرنس روک دی۔
اس موقع پر شیو سینا کے کارکنوں نے نا صرف پاکستانی فنکاروں سے بد تمیزی کی بلکہ پاکستانی فنکاروں کو واپس پاکستان بھیجنے کا مطالبہ بھی کرد یا۔شیو سینا کے ایک کارکن کا کہنا تھا’ ہم پاکستان کے گلوکاروں کو یہاں پرفارم نہیں کرنے دیں گے۔

(خبر جاری ہے)

کیا ہمارے یہاں گلوکار نہیں ہیں؟ ‘۔ایک دوسرے کارکن نے کہا ’پاکستان نے بھارت کے خلاف پس پردہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ہم پاکستانیوں کو یہاں نہیں آنے دیں گے ان کو فوراً پاکستان واپس بھیجا جائے۔

‘اس سے قبل پیر کو شیو سینا نے اپنے اخبار ’سامنا‘ میں شائع ایک مضمون میں میکال حسن گروپ کو دھمکی دی تھی کہ وہ بھارت سے واپس چلا جائے۔یہ اکتوبر 2015ء کی بات ہے بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیم شیوسینا نے نئی دلی کے گڑ گاوٴں میں نے پاکستانی فنکاروں کی تقریب پر دھاوا بول دیا۔ نئی دلی کے گڑ گاوٴں میں شیوسینا کے کارکنوں نے پاکستانی فنکاروں کو اسٹیج ڈرامے میں پرفارم کرنے سے روک دیا۔اس موقع پرشیوسینا کے غنڈوں نے تھیٹر میں گھس کر ہنگامہ آرائی کی اور فنکاروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔
شیوسینا کے کارکنوں نے فنکاروں کی پرفارمنس کے دوران پاکستان مخالف نعرے بھی لگائے ۔اسی سال پاکستانی عظیم گلوگار استاد غلام علی کو بھارت میں نو اکتوبر کوکنسرٹ کرنا تھا۔ مگرشیو سینا نے پاکستانی لیجنڈ استاد غلام علی کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے بھارت میں کنسرٹ کیا تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔شیوسینا کا کہنا تھا کہ وہ وہ پاکستان کے ساتھ ثقافتی تعلقات نہیں چاہتی۔ اگراستاد غلام علی نے کنسرٹ کیا تو اس کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔
اس دھمکی کی بنای پر یہ کنسرٹ منسوخ کر دیا گیا۔اس سے پہلے شیوسینا نے پاکستانی گلوکارعاطف اسلم کو بھی پونا میں کنسرٹ کرنے سے روک دیا تھا۔ جبکہ کامیڈین شکیل صدیقی پر ممبئی میں تشدد کیا گیا تھا۔
یہ دسمبر 2014کے اخبارات کی خبر ہے۔بھارت کے مرکزی شہر ممبئی میں پاکستانی گلوکاروں کو این سی پی اے میں کنسرٹ کرنے سے پولیس کے ذریعے جبراًروک دیا گیا۔یہ واقعہ تب پیش آیا جب مقبول پاکستانی بینڈ ’سچل جاز انسمبل‘نے ممبئی کے نیشنل سینٹر آف پرفارمنگ آرٹس میں کنسرٹ کرنا تھا ٹکٹ بیچے جا چکے تھے عوام جمع ہوچکی تھی لیکن ممبئی پولیس نے آخری وقت میں اجازت نامہ منسوخ کرتے ہوئے پاکستانی فنکاروں کو پرفارم کرنے سے روک دیا۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے اس بینڈ میں تین برطانوی جب کہ سات پاکستانی فنکار شامل تھے۔ بھارتی میڈیا ذرائع کے مطابق پولیس نے برطانوی فنکاروں کو تو پرفارمنس کی اجازت دے دی لیکن پاکستانی پرفارمرز کے بارے میں کہا کہ موجودہ پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستانی فنکاروں کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔ایک دفعہ پھر بھارتی متشدد تنظیموں نے اپنی تاریخ دہرائی اور جولائی 2015 ء میں بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے دھمکیوں کے بعد پاکستانی فلم ”بن روئے“ کی نمائش روک دی گئی ۔
پاکستانی فلم”بن روئے“طویل عرصے بعد بھارتی سنیماوٴں کی زینت بننے جارہی تھی۔ تاہم ہندو انتہا پسند تنظیم مہاراشٹرا نوی نرمان سیناکی دھمکیوں کے بعد فلم ڈسٹری بیوشن کمپنی نے بھارتی ریاست مہارشٹرا میں فلم کی نمائش روک دی ہے۔جن دنوں پاکستانی فلم کی نمائش ہندوستان میں روکی جارہی تھی ٹھیک اسی وقت بھارتی فلم”بجرنگی بھائی جان“ کو پاکستان میں نمائش کی اجازت دے دی گئی ۔
سال 2015 ء میں ممبئی شہر میں بی سی سی آئی اور پی سی بی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے موقع پر شیو سینا کے بے لگام کارکنان نے آئی سی سی آئی کے ہیڈکوارٹر پر دھاوا بول دیا۔
مشتعل کارکنان نے پاکستان اورچیئر مین پی سی بی کیخلاف شدید نعرے بازی کی، اور پاک بھارت سیریز کی منسوخی کا مطالبہ کیا۔ہندو انتہا پسندوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ شہر یار خان واپس جاؤ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے۔
آئیے تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں یہ مارچ 2014 ہے۔بھارتی فلمسٹار اوم پوری کے بعد بھارتی معروف اداکارہ دیویادتہ اور پھربھارتی گلوگار ہنس راج ہنس پاکستان آتے ہیں اور یہاں مختلف تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔
پاکستان میں منعقد ہونے والی تقریب کے دوران پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں اوم پوری کا کہنا تھا ’وہ امن چاہتے ہیں۔حکومتوں کے تعلقات بہتر ہوں گے تو دونوں طرف امن کی فضاقائم ہوگی، دونوں طرف کے لوگ اپنے آباواجداد کی جنم بھومی اور رشتے داروں و دوست احباب سے ملنے کے لیے ترستے رہتے ہیں ۔نصیرالدین شاہ نے دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا۔ جوہی چاولہ بھی دو تین مرتبہ پاکستان آچکی ہیں۔ شتروگھن سنہا تو پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دے چکے ہیں۔
اس کے علاوہ بھی بے شمار بھارتی فنکاروں نے پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھا ہے۔
2016 کا آغاز ہوتا ہے لاہور لٹریری فیسٹیول میں شرکت کے لیے شرمیلا ٹیگورلاہور تشریف لاتی ہیں اس موقع پران کی وزیراعظم نوز شریف سے ملاقات بھی ہوتی ہے اور وہ پاکستان سے ملنے والے پیار کا خیرمقدم بھی کرتی ہیں۔ان تین ماہ کے دوران بھارتی اداکار رضامراد اپنی فیملی کے ہمراہ بعد ازاں ماضی کی معروف بھارتی اداکارہ زینت امان اور درجنوں بھارتی آرٹسٹ پاکستان آئے۔
زینت امان نے لاہور آمد کے موقع پر بیان دیا کہ ”میں نے لاہور آنے میں بہت دیر کردی“۔حال ہی میں معروف پاکستانی شاعر عباس تابش مشاعرے پڑھنے کے لیے بھارت گئے،اجمیر میں مشاعرے کے آغاز کے وقت شیوسینااور بجرنگ دال کے کارکنوں نے پنڈال کے باہر مظاہرہ شروع کر دیا اس موقع پر مشتعل ہجوم نے محترم عباس تابش کی تصاویر اور پاکستان کا جھنڈا نذر آتش کیا۔
ان سالوں میں ہونے والے ان واقعات کا بغور جائزہ لیجیے آپ کو پاکستانی فنکاروں کے ساتھ بھارت میں ہونے والے سلوک اور بھارتی فنکاروں کے ساتھ پاکستان میں ہونے والے سلوک میں190ڈگری کا تضادنظر آئے گا۔
آپ ان فنکاروں کے پاکستان کے متعلق بیانات نکال کر دیکھ لیجیے آپ کو بھارتی اور پاکستانی ”مہمان نوازی“ میں واضح فرق محسوس ہوگا۔پاکستان میں بھی مذہبی جماعتیں اپنی سٹریٹ پاور رکھتی ہیں پاکستان پر بھی عدم برداشت کا کلچر نظر انداز ہو رہا ہے مگر اس کے باوجود میں نے آج تک ادب اورآرٹ کو اس سے متاثر ہوتے نہیں دیکھا۔میں نے ہندوستان سے آئے ہوئے صحافیوں سے ملاقات بھی کی ہے ہندوستانی شاعروں کے مشاعرے بھی سنے ہیں۔
اس عاجز کو آج تک کسی بھارتی فنکار کی آمد پر پاکستان میں اس طرح کی ہنگامہ آرائی نظر نہیں آئی۔آخر کب تک محبت کے ان سفیروں کے ساتھ بھارت یہ ”حسن سلوک“ جاری رکھے گا۔۔؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

بھارت


متعلقہ کالم