آخر مذہبی جماعتیں کیوں نہیں؟

بدھ نومبر    |    حافظ محمد فیصل خالد

قیامِ پاکستان سے لیکر آج تک وطن ِ عزیز میں یا تو سیاسی جماعتیں بر سرِ اقتدار رہی ہیں یا پھر آمریت کا راج رھا ہے اور کسی حد تک ملک کے ْقلیل حصے میں مذہبی جماعتیں بھی پاور میں رہی ہیں۔اور قیامِ پاکستان سے لیکر آج تک ان سیاتدانوں اور حکمرانوں نے اس پاک سر زمین کا جو حال کیا ہے وہ محتاجِ بیاں نہیں۔
یہاں دستور ہے کہ ایک جماعت بر سرِ اقتدار آتی تو دوسری جماعت زیرِ عتاب آجاتی اور جب دوسری جماعت بر سرِ اقتدار آتی تو پہلی والی کے برے دن شروع ہو جاتے۔
اور جب کبھی آمریت کا بول بالا ہوتا تو حکمران اتحاد کو اسکی جماعت کی کار کر دگی کے مطابق حصہ مل جاتا اور حزبِ اختلاف کوخاصے برے دن دیکھنے پڑتے۔ہم نے پاکستان مسلم لیگ(ن )کو بھی کئی بار آزما رکھا ہے ۔

(خبر جاری ہے)

اور اس قوم نے پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی کئی مواقع دئیے۔یہاں پرویز مشرف کی آمریت میں مسلم لیگ (ق )کو بھی آزمایا گیا اور اس ملک میں مختلف ادوار میں آمروں نے بھی اپنا لوہا منوانے کی کوشش کی۔ لیکن بد قسمتی سے نتیجہ یہی نکلا کہ بر سرِ اقتدار آنے والے چند خاندانوں کی تو نسلیں سنور گئیں مگر غریب عوام د نبد ن بد سے بد تر ہوتے گئے۔

عوامی مسائل کیا ہیں، کیوں ہیں، ان کا حل کیا ہے ، ان مسائل کے حل کیلئے جامع حکمتِ عملی کیا ہو سکتی ہے ان بنیادی معاملات سے ہمارے ہمدرد حکمرانوں کو کبھی کوئی غرض نہیں رہی خواہ وہ دورِ جمہوریت ہو یا دورِآمریت ۔اور یہی وجہ ہے کہ آج قوم اس سٹیج پر آپہنچی ہے کہ ان تمام تر لا زوا ل اور لا تعداد قربانیوں کے باوجود واپسی مزید قربانیاں مانگ رہی ہے۔جسکاشاید اب یہ ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔
بہر حال عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ قوم جہاں پچھلے تقریباََ 69سال سے ان مختلف سیاسی جماعتوں کو آزما رہی ہے جنکی کارکردگی سے لیکر نتائج تک سب کچھ عوام کے سامنے ہے وہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وطنِ عزیز اور اس باسی آج جہاں کھڑے ہیں انکو یہاں تک لانے میں بنیادی کردار انہی حکمرانوں کاہے۔
تو اب ایسی صورتِ حال میں جہاں ہم سب انکو آزما چکے ہیں کیوں نہ ایک موقع مذہبی جماعتوْں کوبھی د یا جائے؟ ۔ انکو بھی شاید اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا دیگر سیاسی جماعتوں کو۔مگر یہ اہم فیصلہ صرف اور صرف عوام ہی کا حق ہے او رعوام ہی کو کرنا ہے۔ کیونکہ اس نظامِ جمہوریت میں کم ازکم یہ حق عوام کو دیا گیا ہے۔
لہذا، اب آخر میں یہی گزارش کرتا چلوں کہ اب اس ساری صورتِ حال میں جہاں ہم نے ان تمام جانے ان جانے لوگوں کو آزما رکھا ہے، کیوں نہ اب ایک موقع مذہبی جماعتوں جن میں جمیعت علماء اسلام ، جماعتِ اسلامی و غیرہ شامل ہیں کو بھی دیا جانا چاہئے۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ مذکورہ بالا جماعتیں ان نامنہاد سیاست دانوں اور انکی جماعتوں سے بہتر اور عوام کے حق میں فیصلے کر سکیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com