ملااختر منصورکی ہلاکت !

بدھ جون    |    حافظ محمد فیصل خالد

افغان طالبان کے رہنماء ملا اخترمنصور کو بلوچستان کے علاقے میں مشکوک انداز میں ایک ڈرون حملے میں مار دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ کاروائی 21-05-2016 بروز ہفتہ تقریباََ دوپہر کے وقت ہوئی جس کے بعد اگلے دن امریکیوں کی طرف سے یہ دعوی کیا گیا ہے کہ اس ڈرون حملے میں ملا اختر منصور جو کہ ایرانی سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہوا تھا ماراگیا۔ اس ساری کاروائی کے بعدپینٹا گون کے ترجمان پیٹر کوک نے اپنے بیان میں بتایا کہ یہ کاروائی امریکی محکمہ دفاع نے کی جسکی اجازت خصوصی طور پر امریکی صدر باراک اوبامہ سے لی گئی۔
اس کے بعد پاکستانی حکام کو مطلع کر کے کاورائی عمل میں لائی گئی۔
اب اس ساری صورتِ حال میں پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ بیان ہے قابلِ غور ہے جسمیں انہوں نے اس بات کا دعوی کیا کہ اس کاروائی کا علم پاکستانی حکام کو تھاجبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس کاروائی کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی بلکہ کاروائی کے بعد ہمیں مطلع کیاگیا۔

(خبر جاری ہے)

امریکیوں کے اس بیان کے بعد صورتِ حال بگڑتی نظر آرہی ہے کیونکہ ایک طرف تو پاکستان نے طالبان کے ساتھ جو مذاکراتی عمل شروع کر رکھا تھا وہ براہِ راست متاثر ہوا ہے۔

اوراس مذاکراتی عمل کے متاثر ہونے سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوگا جسکا پاکستان اس وقت متحمل نہیں ہو سکتا ۔ دوسری اہم بات یہ کہ یہ سارا عمل جس میں ملا اختر منصور کی حرکات و سکنات پر ایک عرصہء دراز تک نگاہرکھی گئی ،لیکن اسے مارا نہیں گیا اور اب اس وقت اسے پاکستانی علاقے میں مارنے کا دعوی کرنا گئی شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ مثلاََ کیا وجہ تھی کہ ملا اختر منصور کو عرصہء دراز تک under Observation رکھا گیا مگر اسے مارا نہیں گیا؟ کیا وجہ تھی کہ اسکو اس وقت نہیں مارا گیا جب وہ ایران میں کھلے عام گھومتا پھر رہا تھا؟کیا وجہ تھی کہ ملا اختر منصور پر ایک لمبے عرصے تک نظر تو رکھی گئی مگراسے مارا نہیں گیا اور اگر مارا گیا تو عین اس واقت مارا گیا جب ایران اور ہندوستان آپس میں ایک دوسرے کے قریب ہو رہے ہیں؟یہ وہ چند سوالات ہیں جو امریکیوں کی طرف سے کی گئی اس مشکوک حرکت کے بعد وجود میں آئے اور تاحلا انکا کوئی مئوثر جواب نہیں مل سکا۔

اب اس صورت حال میں # ایک طر ف تو پاک افغان مذاکراتی عمل متاثر ہو گا جو کہ کسی صورت بھی پاکستان کے مفاد میں نہیں بلکہ پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہے جبکہ دوسری جانب یہ بات بھی بعد از قیاس نہیں کہ یہ ساری حکمتِ عملی پاکستان کو خطے میں کمزور اور اکیلا کرنے اور ہندوستان کو خطے پر مسلط کرنے کی ایک عالمی سازش کا حصہ ہے ۔کیونکہ ایک طرف تو پاکستان میں اس قسم کی کاروائیاں کر وا کر پاکستان کو متنازعہ کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب ہندوستان اور ایران ایک دوسرے کے قریب لایا جا رہا ہے تاکہ وہ ملکر خطے میں اپنا تسلط قائم کر سکیں۔

لہذا اس ساری صورتِ حال میں جہاں امریکیوں کی پاکستان مخالف حکمتِ عملی کھل کر سامنے آرہی ہے، ہمیں بھی اپنی جامع دفاعی حکمتِ عملی وضع کرنا ہو گی تاکہ اس قسم کی کاروائیوں کا ہر سطح پر مئوثر اور منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔اور اسی سلسلے میں موجودہ حکومت جو کہ بد قسمتی سے ابھی تک وزیرِ خارجہ مقرر نہیں کر سکی، اس سے گزارش ہے کہ مہر بانی فرما کر پاکستان کے حال پر رحم کریں اور ایسے معاملات کو سنجیدگی سے لیں کیونکہ یہ ملکی سلامتی سے متعلق ہیں۔ اور اس قسم کی کاروائیوں کے سدِ باب کیلئے جامع حکمتِ عملی وضع کریں۔ اور اگر )ھر بھی کوئی تدبیر کام نہیں آتی تو پھر اس قسم کی کاروائیوں کا منہ توڑ جواب دیں تاکہ آئندہ کسی کو اتنی جرائت نہ ہو کہ وہ پاک سرزمین پر اس قسم کی کاروائی کر نے کی جسارت کرے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com