کاش! باقی افسران بھی حیدر اشرف جیسی سپرٹ پیدا کر لیں

جمعرات نومبر    |    حافظ ذوہیب طیب

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج اور کچھ سال پہلے کی پولیس میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ کچھ سال قبل تھانے کا ایس۔ایچ۔تو دور بلکہ محرر بھی بھی علاقے کا سردار ہو تا تھا بلکہ عرف عام میں اسے علاقے کی ماں کہہ کر پکارا جا تا تھا۔ کچھ ہی لمحوں میں بدمعاش کو معزز اور معزز کو بد معاش دینے کا فن اسے بخوبی آتا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ عام شہری پولیس کے اس روئیے کی وجہ سے کالی وردی میں ملبوس پولیس والے سے شدید نفرت رکھتے تھے جس کے جواب میں کالی وردی والے بھی عام شہری سے انتہائی بد تمیزی اور بد اخلاقی سے پیش آتے۔
تھانے جو عقوبت خانوں کی مثل دکھائی دیتے تھے جس کی وجہ سے عام آدمی تو دور کی بات پڑھے لکھے لوگ بھی اپنے جائز کا موں کے لئے بھی یہاں آنے سے کتراتے تھے اور جس کی رہی سہی کسر پولیس والوں کی مخصوص لینگوئج پوری کر دیتی تھی ۔

(خبر جاری ہے)

لوگ پنے جائز کاموں کے لئے مہینوں انتظار کرتے کرتے، سسٹم کو بُرا بھلا کہہ کر بالآخر تھک ہار کر اس ذلالت کو اپنا نصیب سمجھ کر بیٹھ جاتے ۔ پولیس افسران بھی اپنے عہدے کو انجوائے کرتے ہوئے ، ان تما م معاملا ت میں بہتری لانے کی بجائے صرف خاموشی کو ہی مقدم جانتے ہوئے ایسے تما م اقدامات پر صرف اور صرف سیاستدانوں کے تلوے چاٹنے کا مجرمانہ فریضہ سر انجام دیتے ہوئے اپنا وقت پورا کرتے تھے۔


اللہ بھلا کرے ڈاکٹر حیدر اشرف جیسے پولیس افسران کا جنہوں نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے پولیس اور عوام کے درمیان محبت و ایثار کا رشتہ قائم کر نے کے لئے کاوشوں کا آغاز کیا اور یہ ان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ شہر لاہور میں کچھ ہی عرصے میں، صدیوں پر محیط نفرت کے رشتے کو محبت و ایثار میں تبدیل ہو گیا ہے ۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے تھانہ کلچر میں حقیقی تبدیلی کے خواب کی تکمیل ڈاکٹر حیدر اشرف کا خاصہ ہے ۔
مجھے یاد ہے جب ڈاکٹر صاحب نے لاہور پولیس کے آپریشنز ونگ کی کمان سنبھالی تو انہوں نے فیصل آباد میں اپنے زیر سایہ کامیابی سے ہمکنار ہونے والے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس کلچر میں اصلا حات لانے کے کئی منصوبوں کا ذکر مجھ سے کیا تو میں اسے دوسرے پولیس افسران کی طرح جو قلم کاروں کی ہمدردیاں بکھیرنے کے لئے بڑے بڑے حقیقت سے دور دعوے کرتے تھکتے نہیں ہیں، ایسی ہی صرف ایک ”بڑھک “ سمجھ کر نظر انداز کر گیا۔
لیکن صرف چھ ماہ کے دوران ہی تھانہ کلچر میں تبدیلی کے لئے اٹھائے گئے ان کے اقدامات کے ثمرات لاہور کے تھانوں میں نظر آنا شروع ہو گئے اور میرے نزدیک تھانہ کلچر میں تبدیلی کا مشکل ترین کام کی تعمیل، اپنے آخری فیز میں داخل ہو چکا ہے ۔
جس کا ثبوت یہ ہے کہ اب تھا نوں میں اپنے کاموں کے لئے لوگ بغیر کسی خوف و خطر کے جاتے ہیں ، جہاں پڑھے لکھے اور اخلاقیات کی دولت سے مالا مال عملہ ،ان کی بات بڑے انہماک سے سنتا ہے اور جلد از جلد انہیں حل کروانے میں بھرپور کوشش کرتے نظر آتے ہیں ۔
کچھ روز قبل ہی ملک عزیز میں رائج سسٹم کو ہر وقت کوستے، امریکہ میں مقیم ا یک دوست بتا رہے تھے کہ ان کا پاسپورٹ کہیں گم ہو گیا جس کی گمشدگی کی رپٹ درج کرانے کے لئے متعلقہ تھانے گئے ۔ جہا ں تعینات عملے نے ان کی درخواست لکھی اور رپٹ مو صولی کے لئے آئندہ آنے والے کل کا وقت دے دیا ۔ کچھ ہی گھنٹے ہی گزرے تھے کے متعلقہ تھانے سے فون آگیا کہ آپ کا کام ہو گیا ہے آپ اپنی گمشدگی کی رپٹ لے جائیں۔ وہ پولیس کلچر میں تبدیلی کے اس حیرت انگیز کارنامے پر واہ واہ کر رہا تھا اور میں جو اپنی تما م تر کاوشوں کے بعد بھی سسٹم میں بہتری کے اقدامات پر اسے قائل نہ کر سکا ،ڈاکٹر حیدر اشرف کو دعائیں دے رہا تھا کہ ان کی وجہ سے ایک پاکستانی کی پاکستان کے اداروں پر برسوں پرانا کھویا ہوا اعتماد دوبارہ بحال ہوا تھا۔

قارئین !بطور ڈی۔آئی،جی پولیس آپریشنز ونگ، جہاں وہ مختلف پروجیکٹس کے ذریعے لاہور کے شہریوں کی خدمت میں مصروف ہیں وہاں بطور ایک ڈاکٹر اور نفسیات دان کے محکمہ کے ملازمین کی فلاح و بہبود اور ان کے مورال کو بلند کر نے کے لئے بہت سے پروجیکٹس کی تکمیل کے لئے بھی سر گرم نظر آتے ہیں۔ ہسپتال اور پولیس اہلکاروں کے بچوں کے لئے سکول کا انتظام ، پولیس لائن میں صاف ستھرے کھانے کی رعایتی نرخوں پر فراہمی ، اہلکاروں کو رہائش کے لئے گھر جیسا صاف ماحول فراہم کر نا اور اب پولیس کی تاریخ میں پہلی بار پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں ملازمین کی سہو لت اور اشیا ئے خوردو نوش رعایتی نرخوں پر فروخت کر نے کے لئے ”یوٹیلٹی سٹور“ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جہاں8000 پولیس اہلکار اشیا ء وخوردونوش،گراسری،گارمنٹس ودیگر تما م تر مصنوعات رعایتی نرخوں پر خرید سکیں گے۔
اس کے علاوہ ملازمین کے لئے ڈسکاؤنٹ کارڈز بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں جس کے تحت بڑے اور معروف برانڈز کی مصنوعات رعایتی نرخوں پر خرید سکیں گے۔
قارئین کرام!اگر حکمران حقیقی معنوں میں پورے ملک میں پولیس کلچر میں تبدیلی لا نا چاہتے ہیں تو انہیں، ان کے سامنے رکوع کرنے، تلوے چاٹنے اور ان کے مقاصد کو پورا کر نے کی بجائے ڈاکٹر حیدر اشرف جیسے ایماندار پولیس افسر تعینات کر نے ہو ں گے اور جو افسران بھی اپنے اپنے علاقوں میں بہتری لانے کے خواہاں ہیں تو انہیں حیدر اشرف جیسی سپرٹ پیدا کر نے کی ضرورت ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس جیسا ایک افسر کسی ادارے کو میسر آجائے تو وہ کچھ ہی مہینوں میں ادارے کا قبلہ تبدیل کر کے رکھ دے گا ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com