کیاہنگامہ بر پا کر نے والے یہ لوگ دودھ کے دھلے ہیں؟

جمعرات اپریل    |    حافظ ذوہیب طیب

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ جتنا نقصان ہمارے معاشرے کا کرپشن نے کیا ، شاید ہی کسی اور چیز نے کیاہو۔میرے نزدیک ہر قسم کا جرم کرپشن کی کوکھ سے جنم لیتا ہے لہذا اسے ” ام الجرائم“ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا ۔ ہمارے جمہوری آقاؤں کوبھی شاید اس کا علم ہو لیکن وہ اپنی عزت بچانے کے لئے خاموشی کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔ بھلا ہو ہماری فوجی قیادت کا جس نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا ۔
اپنے دورہ کوہاٹ کے دوران چیف آف آرمی سٹاف ، جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کے جوانوں اور شہیدوں کے لواحقین سے ، معاشرے میں سر طان کی طرح پھیلتی، بڑھتی اور پروان چڑھتی ”کرپشن “ کے خلاف بات کرتے ہوئے اسے ایک ایسا ناسور قرار دیا تھا جس کے خاتمے تک دیر پا امن کا قیام ممکن نہیں ۔

(خبر جاری ہے)

جنرل صاحب نے اس موقع پر اس ناسور کو ختم کر نے کا عزم مصمم بھی کیا اور اپنی کچھ بھی کر گذرنے کی سابقہ روایات پر عمل کرتے اگلے ہی روز سب سے پہلے اپنے ہی گھر سے احتساب کا عمل شروع کرتے ہوئے ملک کے طاقتور ادارے ،فوج کے ا فسران کو کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر بر طرف کر دیا ۔


یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جمہوری اداروں کی طرح جہاں بڑوں بڑوں کی کرپشن کا نزلہ چھوٹے چھوٹے لوگوں پرآگرتا ہے جسکے نتیجے میں بڑوں کو تو کلین چٹ دے دی جاتی ہے اور چھوٹوں کو قربانی کا بکرا بنا دیا جاتا ہے کہ بر عکس بڑوں کی سزائیں ان کے کھاتے ہی میں ڈالی گئی ہیں ۔ جس کے نتیجے میں انسپکٹر جنرل آرمز لیفٹینٹ جنرل عبید اللہ خٹک اور سابق آئی جی ۔ ایف، سی بلوچستان میجر جنرل اعجاز شاہد سمیت11فوجی افسران کو بر طرف کر کے ان کی تما م مراعات بھی واپس لے لی گئی ہیں ۔
ملکی تاریخ بتاتی ہے کہ مالی بد عنوانی پر 11فوجی افسران کو جبری ریٹائرڈ کیا جاناپاک فوج کی تاریخ کی سب سے بڑی کاروائی ہے ۔
قارئین !پہلے پانامہ لیکس اور اب فوج میں شروع ہونے والے اس احتسابی عمل کی وجہ سے جہاں حکمران جماعت میں تشویش پائی جاتی ہے وہاں بڑی اپوزیشن جماعتیں بھی ایک گرینڈ الحاق بنا کر حکومت پر پریشر ڈالنے کی اپنی سی کوششوں میں مصروف عمل ہیں ۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے جلسے ، دھرنے اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے نفرت میں لپٹے بیانات ، حکمرانوں کو اپنے روئیے کے بارے سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں ۔
پانامہ لیکس میں حکمران خاندان کانام آنے پر ایک ہنگامہ خیز صورتحال کا آغاز ہو ا ہے ۔ جس سے صرف اسی ہی صورت نکلا جا سکتا ہے کہ جب وزیر اعظم ، قوم سے خطاب کے دوران کئے گئے وعدے، اپنے اور اپنے خاندان کو احتساب کے لئے پیش کر نے والے کو پایہ تکمیل تک پہنچا یا جائے۔
لیکن یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہو تا ہے کہ کرپشن کے خلاف احتجاج کر نے والی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے لوگوں کا اپنا دامن کر پشن کی غلاظت سے لتھڑا ہو ا نہیں ہے ؟ اگر ہے تو سب سے پہلے انہیں اپنی جماعتوں کے ان ذمہ داروں کے خلاف احتجاج کر نا ہو گا جنہوں نے اربوں روپے اپنے اکاؤنٹس میں بھرے ، اربوں روپے نا جائز طریقے سے ہڑپ کئے؟ ۔
حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جس جس طرح فراڈ اور دھوکہ دہی کے ذریعے کرپشن کی گئی اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ بجائے کرپشن کاالزام لگنے پر کاروائی کی جاتی ایسے کرپٹ لوگوں کو مزید ترقی دینا پیپلز پارٹی کا منشور ہے ۔ یوسف رضا گیلانی کو جب مبینہ کرپشن اور خراب طرز حکمرانی کے ریکارڈ قائم کر نے پر سپریم کورٹ کے حکم پر گھر بھیجا گیا تو راجہ پرویز اشرف عرف ” بادشاہ ِکرپشن“ کو وزیر اعظم بنا دیا گیا۔
قطع نظر اس کے کہ اُس وقت بجلی کے شعبہ میں بڑی بد عنوانی کی وجہ سے ان کا نام راجہ رینٹل پڑچکا تھا ۔ 2008کے الیکشن کے نتیجے میں قائم ہونے والی پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں زرداری صاحب نے 3،اہم پوسٹوں پر ایسے کرپٹ افسران کو تعینات کیا جو کرپشن کے مقدمات کی وجہ سے 1998-99میں ملک چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔
سندھ کی صورتحال بھی عوام کے سامنے ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہاں حکومت نام کی کوئی شے مو جود نہیں۔
جس کا جی کر تا ہے قومی خزانے پر ڈاکہ مارتا ہے اور رفو چکر ہو جا تا ہے جس کی تازہ مثال کراچی میں پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد منظر عام پر آنے والی وہ رپورٹ میں جس میں اے ۔ آئی۔جی لاجسٹک پولیس کے لئے خریدی جانے والی بلٹ پروف جیکٹس کی خریداری کے لئے مختص رقم ہڑپ کر کے بیرون ملک فرار ہو گیا ہے ۔ تحریک انصاف کی صفوں میں بھی ایسی کچھ کالی بھیڑیں ہیں جو ”مستند کرپٹ “ ہیں اورجنہیں بچانے کے لئے T.O.Rکمیشن سے ، سب کی بجائے صرف نوازشرف کے احتساب کر نے کے نعرے لگوائے جا رہے ہیں ۔

قارئین محترم !مجھے بہت افسوس کہ ساتھ یہ بات لکھنے پڑ رہی ہے کہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے ”کرپشن“ کے خلاف کسی تحریک کا آغاز وقت اور وسائل کے ضیاع کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ ان لوگوں سے اُس وقت تک اس طرح کی کوئی امید رکھنا بے سور رہی گی جب تک وہ اپنی صفوں میں موجود بد عنوانی کی تاریخ رقم کرنے والے لوگوں اور ان کے سر غنہ کو عبرت کا نشان نہیں بناتے۔ہاں ! اپنے آپ کو دودھ کے دھلے سمجھنے والے یہ لوگ عارضی طور پر ہنگامہ بر پا اورایک دوسرے پر الزامات کی بھر مار کر کے اپنی کالی کرتوتوں پر پر دہ ڈالنے کی کوشش میں ضرور کامیاب ٹہرتے ہیں جس کی مثال آپ کے سامنے ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com