خوشیاں کہاں گئی

جمعہ فروری    |    حُسین جان

ہمارا ایک کزن ہے جس نے بہت غربت میں پرورش پائی ۔ آج ماشاء اللہ وہ خوشحال ہے اور ایک بچے کا والد ہے۔ لیکن اس کزن میں ایک خاصیت ہے کہ ہم نے اُسے آج تک پریشان نہیں دیکھا وہ ہر وقت مسکراتا رہتا ہے اور دوسروں کو بھی مسکرانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ وہ جب غریب تھا تب بھی خوش رہتا تھا آج چند روپے ہیں تو پھر بھی خوش رہتا ہے۔ وہ سنجیدہ بھی ہوتا ہے مگر تب جب اس کی ضرورت ہو ورنہ عام حالات میں وہ جولی موڈ میں ہی رہتا ہے۔

اب آتے ہیں میرے دوسرئے کزن کی طرف جس کے والد صاحب کے پاس کافی جائداد تھی، والد صاحب کی وفات کے بعد اُس کو کل جائداد کا والی بنا دیا گیا۔ یعنی اچھا کاروباراور جائداد ترکے میں مل گئی ۔ لیکن اس کے باواجود وہ ہر وقت پریشان دیکھائی دیتا ہے وہ ہر وقت پیسے اور چیزوں کے جوڑ توڑ میں مصروف رہتا ہے ، اُسے بھولنے کی بیماری بھی لگ چکی ہے۔

(خبر جاری ہے)

اُسے کچھ یاد نہیں رہتا کہ کس کو کیا دینا ہے اور کس کو کیا دیا ہے۔

بڑی سے بڑی خوشخبری بھی وہ ایسے دیتا ہے جیسے کوئی بری خبر سنا رہا ہو ۔ میرے نزدیک وہ لڑکا جو کم روپے رکھتا ہے لیکن خوش رہتا ہے اس پیسے والے سے زیادہ بہتر ہے۔
یہ تو دو لوگوں کی کہانی ہے جبکہ پاکستان ایسے کرادروں بھرا پڑا ہے۔ ہم لوگ خوشی منانا بھول چکے ہیں۔ ہم عجیب مخلوک بن چکے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں اگر خوشی منائی یا اپنی خوشی میں کسی کو شریک کیا تو ہماری خوشیوں کو نظر لگ جائے گی۔ جبکہ بزرگوں نے کہا ہے کہ غم بانٹنے سے کم ہوتے ہیں اور خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے۔
اگر ہم کوئی بڑا مکان خریدیں یا بنائیں تو لوگوں کو خوش ہو کر نہیں بتائیں گے کہ ہم نے مکان خریدا ہے۔ بلکہ روتے ہوئے بتائیں گے یار دیکھو مکان خریدا ہے بہت مہنگا پڑا ہے۔ جو پیسے تھے اس میں صرف ہو گئے ہیں۔ اب سوچ رہا ہوں آگے کیا کروں گا۔ مستری مزدور بہت پیسے لے گئے ہیں۔ پلمبر اور بجلی والے نے بھی لوٹ لیا۔ سریا بہت مہنگا پڑا وغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح اگر کوئی دوست یا رشتہ دار نئی گاڑی خرید لے گا تو بجائے کہ آپ کو خوشخبری دے آپ کو مٹھائی کھلائے وہ کہے گا یار کچھ نہ پوچھو آج کل کتنا تنگ ہوں ، گاڑی نے تو بالکل کنگال کر دیا ہے۔
ہاں بچوں کو لیجانے اور لانے میں آسانی ہو گئی ہے مگر پیٹرول بہت مہنگا پڑتا ہے۔ اُوپر سے اگر گاڑی کا کوئی کام نکل آئے تو الگ سے پیسے لگتے ہیں۔ جب سے گاڑی لی ہے کام بھی کچھ تیز ہو گیا ہے، مگر سڑکوں پر بہت رش رہتا ہے ۔ میں تو کہتا ہوں حکومت موٹر سائیکل والوں کا سڑکوں پر آنا بند کر دے۔ انہی کی وجہ سے ٹریفک کے تمام مسائل جنم لیتے ہیں۔
یہی حال اُن لوگوں کا ہے جو بیٹیوں یابیٹوں کی شادی کرتے ہیں۔
شادی تو بہت دھوم دھام سے ہو گئی پر کیا بتاؤں پیسہ بہت خرچ ہو گیا۔ کھانے ،جیولری، کپڑئے ، وغیرہ نے تو کمر ٹور کر رکھ دی ہے۔ بال بال قرض میں ڈوب گیا ہے۔ سوچ رہا ہوں اب دو دو کام کرنا شروع کر دوں۔ ایسی کہانیاں عموما پیسے والے لوگ ہی سناتے دیکھائی دیں گے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستانیوں کو بہت سے مسائل نے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ لیکن ہمیں کم از کم خوشیوں کو تو خوشیوں کی طرح ہی منانا چاہیے۔
اب کسی کے گھر بچہ پیدا ہو گیا تو لے کر بیٹھ جائے گا ہسپتال کے خرچے کو۔ دوائیوں کی لسٹ کو بار بار دیکھائے گا کہ بہت مہنگی ہو گئیں ہے۔
یعنی ہم لوگ خوشیوں کو منانا تقریبا بھول چکے ہیں۔ بھائی اگر آپ نے نیاء گھر خریدا ہے تو بہن بھائیوں ،دوست احباب کی دعوت کرؤ چھوٹا سا پرو گرام ترتیب دو لوگوں کو اپنی خوشی میں شریک کرو، بڑؤں کی دعائیں لو۔ جہاں کروڑوں روپے لگ گئے ہیں وہاں چند ہزار اور لگ جائیں گے تو کیا فرق پڑتا ہے۔
ہماری انہی حرکتوں کی وجہ سے اب ہمیں کوئی کام کرتے یہ نئی چیز خریدتے خوشی محسوس نہیں ہوتی۔ اب تو بڑی سے بڑی خوائش بھی پوری ہو جائے تو خوشی کا احساس نہیں جاگتا۔
جہاں پریشانیاں ہیں وہاں خوشیاں بھی تو ہیں ، اگر پریشانی میں پریشان ہوتے ہو تو خوشی میں خوش ہو کر بھی تو دیکھاؤ۔ مسائل کا حل بھی تب ہی ممکن ہے جب ہم اپنے دماغ کو پرسکون رکھیں گے۔ رونے دھونے سے تو کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اگر آپ کسی کو کہیں گے کہ چلو آج سیر کرنے چلیں وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر ٹال دے گا۔
اگر آپ کہیں چلو کسی دوست کے گھر چلتے ہیں تو مصروفیت آرئے آجاتی ہے۔ اور تو اور ہم تو بیمار رشتہ داروں کی عیادت تک کو نہیں چاسکتے۔ اگر یہی حالات رہے تو ہماری آنے والی نسل بھی ایسی ہی پیدا ہو گی۔ یعنی ہر وقت دکھی اور رونے دھونے والی۔ ایک تو پہلے ہی ہمارے سیاستدانوں نے ملک کی درگت بنائی ہوئی ہے۔ جو بچے ابھی دُنیا میں تشریف بھی نہیں لائے قرضوں کے بوجھ تلے دفن ہیں۔ ہمیں اپنے لیڈران کو ایک طرف کر کے اپنے مسائل کا حل خود ہی ڈھونڈنا ہو گا۔
ایک دوسرئے کی خوشی میں شریک ہونا ہو گا اور دوسروں کو اپنی خوشی میں شامل کرنا ہو گا۔ پہلے تو شادی پر مہمانوں کی ایک لمبی لسٹ ہوا کرتی تھی دور دور سے رشتہ داروں کو دعوت نامے بھجوائے جاتے تھے۔ اب یہ لسٹ گھٹتے گھٹتے چند لوگوں تک محدود ہو گئی ہے۔ پریشانیوں کو چھوڑیں ، خوشیوں کو منانا سیکھیں ، چند دن کی زندگی کو اپنے لیے بوجھ مت تصور کریں۔ ایک دوسرئے کا خیال رکھیں مصیبت میں دوست احباب کی مدد کریں ۔ ایک دوسرئے کا حوصلہ بڑھائیں۔ مل جل کر رہنا سیکھیں کہ اسی کا نام زندگی ہے۔ تنہا تو جانور بھی نہیں رہتے ۔ تو پھر ہم نے یہ عادات کیوں اپنا رکھی ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com