مقروض نسلیں

منگل اپریل    |    حُسین جان

آج وہ ڈاکٹر صاحب یاد آرہے ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ آزادی کے بعد ہمارئے پاس مریضوں کو دینے کے لیے دوائیں تک بھی نہیں تھیں اور تو اور ہندوں لکھنے والے کاغذ تک بھی ساتھ لے گئے تھے۔ لیکن ہمارئے پاس حوصلہ، ہمت،احساس اور سب سے بڑھ کر غیرت تھی۔ ہم سوچا کرتے تھے کہ اگر ملک بنایا ہے تو اسے چلانا بھی ہے۔ ہمیں پتا تھا آج کے بچے کل کے پاکستان کو ترقی کی طرف گامزن کریں گے۔ ہم مہاجرین کے کمیپوں میں بھاگے بھاگے جاتے اور کچھ نہیں تو اُن کو سینک ہی کر دیا کرتے۔

یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے آنے والی نسل کو بہتر پاکستان دینے کے لیے دن رات محنت کی اور اس میں شک بھی نہیں کہ وہ کافی حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئے، لیاقت علی خان کی مثال سب کے سامنے ہے جب پاکستان آئے تو کسی کی جائداد پر ناجائز قبضہ نہیں کیا، قائد کے ساتھ مل کر دن رات محنت کرتے تھے یہاں تک کہ یہ لوگ اپنی صحت کو بھی خاطر میں نہیں لاتے، ان کامقصد صرف اور صرف پاکستان کو استحکام دینا تھا۔

(خبر جاری ہے)

افسوس صد افسوس آج کے وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں اقتدار کی کڑیاں ہیں وہ جاہے کسی بھی قبیل سے تعلق رکھتے ہوں اس ملک کو پستیوں کی طرف لے گئے ہیں۔

میں نے ایسے بیوروکریٹس کے بارئے میں بھی پڑھا ہے جن کو تنخواہ لینے کی بھی ہوس نہیں تھی۔ وہ دن رات اپنے کام میں جھٹے رہتے۔ ججز ، جرنیل سب کے سب آنے والی نسل کو بہتر پاکستان منتقل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن موجودہ حکمرانوں نے ہماری آنے والی نسلوں کو بھی مقروض کر دیا ہے، اربوں کے حساب سے اس ملک پر قرضہ ہے، روزانہ کروڑوں روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔ بڑئے بڑئے معاہدوں میں کمیشن وصول کیا جا رہے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں کہ جو غیر ملکی قرضہ آرہا ہے وہ کہاں پر خرچ ہو رہا ہے، میٹرو کو دیڑھ کروڑکے قریب ماہانا سبسٹدی دی جارہی ہے، اورنج ٹرین کو کروڑوں میں دی جائے گی۔
کون حساب لے گا، اب جس قوم کے بچے پیدا ہی مقروض ہو ں گے وہ ترقی کیا خاک کریں گے۔ ہمارے سرائکی بھائیوں کے کالم پڑھ لیں رو رو کر اپنا برا حال کرلیتے ہیں کہ یہاں جہالت کی انتہاء ہو چکی ہے، غربت کا گراف بڑھتا چلا جا رہا ہے، کالے قانون کا رواج ہے مگر کسی کو کوئی فکر نہیں۔
ہمارئے وزیر خزانہ صاحب کہتے ہیں ملک میں اقتصادی اصلاحاتک کی وجہ سے کافی بہتری آئی ہیں۔ وزیر آعظم لندن سے بیان فرما رہے ہیں واپس جا کر ترقی کا سفر جاری رکھیں گے یہ کیسی ترقی ہے بھائی جس میں آپ نے پوری کوم کو قرض میں ڈبو دیا ہے، قرض کا پیسہ ،سیاستدان اور دوسرئے سرکاری کارندے کھا جاتے ہیں اور عوام کے حصے میں کیا آتا ہے مہنگائی، غربت جہالت، بے روزگاری، اور قرض۔
یہ قرض کیسے چکا پائیں گے غریب کے کندھے۔ جو لوگ بچوں کو دو وقت کی روٹی نہیں دے پاتے تو خاک تخلیقی کام کریں گے، 4سال پہلے ہمیں بتایا گیاکہ ہمارئے پاس بہت اچھی ٹیم ہیں ہم بہت جلد اس ملک کے مسائل حل کردیں گے، ہم بجلی ،گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم کر دیں گے، ہم روزگار کے مواقع دیں گے، ہم نوکریاں بانٹیں گے، ہم سکول بنائیں گے ہم ہسپتال بنائیں گے، لیکن ہو کیا کچھ بھی نہیں ہاں اشرافیہ مزید امیر ہو گئی، اور غریب مزید غریب ہوتا جا رہا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک ہمیشہ آنے والے وقت کے لیے منصوبہ سازی کرتے ہیں ، لیکن ہمارے صاحبان صرف اشتہاروں کی حد تک منصوبے بناتے ہیں، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ سڑکیں اور پل سال میں بن جائے ہسپتال اور سکول بھلے سالوں بند رہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت سب کے سامنے ہیں، مریضوں کو اتنا خوار کیا جاتا ہے کہ بیمار بیچارئے ایسی زندگی سے موت کو ترجحی دیتے ہیں۔ بہت سی این جی اوز بھی عوامی فلاح کے لیے دوسرئے ممالک سے فنڈز اینٹھتی ہیں لیکن سب پیسے اپنی جیبوں میں بھر لیتے ہیں ۔
ایسے میں ملک نے خاک ترقی کرنی ہے۔
ملک کے برھتے ہوئے قرضوں کی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہیں جب تک کرپشن کے جن کو بوتل میں بند نہیں کیا جائے گا ملکی قرضے کبھی ختم نہیں ہوں گے اور ہماری آنے والی نسلیں اسی طرح مقروض پیدا ہوں گی۔ آرمی نے تو اپنے اندر سے احتساب شروع کر دیا ہے، اسی طرح ججز ،سیاستدان، بیوروکریٹس اور دوسرئے اداروں کو بھی اپنے اند احتساب پیدا کرنا ہو گا تاکہ ملک کو ترقی کی شاہرہ پر ڈالا جاسکے۔
ہمارئے پرائم منسٹر صاحب آج کل قوم سے کافی خطاب کر رہے ہیں۔ اور اپنا مداح عوام کے سامنے رکھ کر سمجھتے ہیں اُن کی زمہ داری ختم ہو گئی ہے۔ ایسی بات نہیں اگر آپ اور آپ کا خاندان کسی قسم کی کرپشن میں ملوث نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں باقی آپ کی زمہ داری نہیں پورئے ملک سے کرپشن ختم کرنا آپ کی ہی زمہ داری ہے۔ ملک کے سربراہ ہونے کی حثیت سے آپ ہی نے ملک کے مسائل کو ختم کرنا ہے۔ بڑھتے ہوئے قرضوں کو جلد از جلد اُترنا چاہیے اور آنے والی نسل کے لیے بہتر پاکستان کی بنیار رکھنی چاہیے ۔
عام آدمی کو پاناما اور اس جیسے بہت سے مسائل کا علم نہیں اُن کی ضروریات کچھ اور ہیں ۔ زندہ رہنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کو عام آدمی کی پہنچ تک چاہیے تاکہ عام آدمی کا معیار زندگی بہتر ہو سکے۔ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہونے کی روش کو جڑ سے اُکھاڑنا ہوگا۔ ملک میں بیلنس کی فزا پیدا کرنی ہو گی۔ اپنی اپنی بین بجانے سے بہتر ہے ہم ملک کے تمام مسائل کا حل ڈھونڈیں اور مستقبل میں ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کریں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com