”باتھ روم میں کچن کیوں‘‘

جمعرات اکتوبر    |    ارشاد بھٹی

وہ ساتویں مرتبہ سگار سلگا کر کوئی 20ویں مرتبہ کھانسا۔ 3وزرا ء ا عظم اور 4صدور کے ساتھ کام کر چکے اس بوڑھے بیوروکریٹ کی گذشتہ دوگھنٹوں سے سگار ، کھانسی اور زبان رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔حقہ سٹائل میں سگار کا کش مار کر اس نے سامنے پڑی فائل کھول کر اسے پھر سے پڑھنا شروع کر دیا ۔2014" کو ہی لے لو ،سوا چار ارب روپے سالانہ بجٹ والی قومی اسمبلی گذشتہ سال صرف 10قوانین ہی بنا پائی اور اسکے 60فیصد اراکین 365دنوں میں ایک لفظ تک نہیں بولے۔
قانون وانصاف کی عملی صورتحال یہ کہ ہماری عدالتوں میں 17لاکھ93 ہزار مقدمات زیر سماعت جبکہ 2014میں سوا چھ لاکھ اور مقدمے درج ہوگئے ،صرف پنجاب کی 32جیلوں میں 50ہزار قیدی جن میں ڈیڑھ ہزار نابالغ بچے ۔گذرے سال دہشت گردی کے 1206 حملوں میں 1723افراد جاں بحق اور 3142زخمی ہوئے، 12ڈاکٹروں،13وکیلوں اور 14صحافیوں کو قتل کر دیا گیا جبکہ مختلف اداروں کی حراست میں 63لوگ جان گنوا بیٹھے ۔

(خبر جاری ہے)

سندھ میں 925،خیبرپختونخواہ میں 26اور پنجاب میں 276مشتبہ افراد پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے ۔

ملک بھر میں 144فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات ہوئے ، 547خواتین اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں ،828عورتوں پر جنسی تشدد ہوا ، 36حوا کی بیٹیوں کو ننگا پھرایا گیا ، 923خواتین جبکہ 82نابالغ بچیوں کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا اور 92خواتین جبکہ 13معصوم بچیوں کو تیزاب کی آگ میں جلا دیا گیا ۔ نائجیریا کے بعد تعلیمی بدحالی کے حوالے سے ہم دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ،اڑھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم جبکہ گذشتہ سال بھی 55لاکھ بچے سکول نہیں جا پائے ۔
کیا کیا بتاوٴں اور اپنی اس جہنم بنی جنت کے کس کس دکھ کی بات کروں “، اُس کی آواز اور آنکھوں میں اب نمی آچکی تھی ،وہ بولتے بولتے رکا،عینک اتاری اورپھر اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے اس نے اپنی آنکھوں کو اس صفائی سے رگڑا کہ اُس کے آنسو اُسکی آنکھوں کے پیٹ میں ہی دم توڑ گئے ۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اُس نے دوبارہ عینک پہنی اور اپنی دودھیا رنگ کی مونچھوں کو تاوٴ دینے کے بعد سگار سلگا کر بولا ” مجھے دنیا کے تمام رہنماوٴں سے ملنے کا اتفاق ہوا ۔
دنیا بھر کے حکمرانوں اور حکومتوں کوانتہائی قریب سے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ صاف نیت ، مقصد سے سچی لگن اور ویژن یہی 3عوامل دنیابھر میں ترقی کی وجہ ہیں اور یہی 3چیزیں ہمارے ہاں نہیں ۔ایک چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گا ۔ بے نظیر بھٹو قتل ہوئیں تو راولپنڈی جنرل ہسپتال کانام شہید بے نظیر بھٹو ہسپتال رکھا گیاپھر اسلام آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا نام بھی تبدیل کر کے بے نظیر بھٹو انٹر نیشنل ائیر پورٹ رکھ دیا گیا، اس کے بعد 5 سال پیپلز پارٹی کی حکومت رہی اور 5سال ہی بے نظیر بھٹو کے خاوند صدر رہے مگر سوائے ان دوعمارتوں کے ناموں کے بورڈ بدلنے کے ایک دیوار تک کی سفیدی نہ ہو سکی اور 5سال یہ عمارتیں کچرے کا ڈھیر بنی رہیں جبکہ نام بدلنے کے بعد پرانے شہر نواب شاہ اور آج کے شہید بے نظیر آباد کا حال بھی سب کے سامنے ہے حالانکہ سندھ میں گذشتہ 8سالوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے“ ۔
یہ ہیں ہماری نیتیں اور اپنے مقصد سے لگن کا حال ۔اس نے بجھے سگار کو دوبارہ سلگا کر اور اپنے ملازم کو کافی کا آرڈر دے کر پھر سے بولنا شروع کیا ۔” اب اپنے ویژن کا حال بھی دیکھ لو ۔مشرف دور میں یورپی ماہرین کا ایک وفد پاکستان آیا۔دو ماہ شہر شہر ،قصبہ قصبہ گھوم کر ان لوگوں نے پاکستان پرایک 100نکاتی رپورٹ تیار کی ۔ مجھے اس رپورٹ کو پڑھتے ہوئے آج بھی اتنی ہی شرم آتی ہے جتنی پہلی بار اِسے پڑھتے وقت ندامت ہوئی تھی ۔
نااہلیوں ،بے وقوفیوں اورذاتی فائدوں کی خاطر ملک وقوم تک کو داوٴ پر لگا دینے کی ہماری داستانوں بھری اس رپورٹ میں یورپی ماہرین لکھتے ہیں کہ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس ملک کے پالیسی سازوں کی سمجھ میں یہ حقیقت بھی نہ آ سکی کہ پاکستان جس کی ریڑھ کی ہڈی اسکی زراعت ہے اس ملک میں فیصل آباد ،شیخوپورہ ،لاہور ، گجرات،گوجرانوالہ ،وزیرآباد اور سیالکوٹ جیسے انتہائی زرخیز علاقوں میں فیکٹریاں لگا دی گئیں ،یہاں انڈسٹریل ایریا ز بنا دیئے گئے ۔
ان علاقوں میں جہاں ایک تو بارش کم ہوتی ہے اور دوسرا ہوا بھی کم چلتی ہے لہذا فیکٹریوں کی بدبو اور فضائی آلودگی یہاں ہر وقت اور ہر جگہ موجود اور پھر اس خطے میں زیر زمین پانی 25سے 50فٹ پر ہے لہذا فیکٹریوں کا آلودہ پانی چند گھنٹوں میں ہی زیر زمین صاف پانی کو بھی زہریلا بنا دیتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر گذرتے دن کے ساتھ جہاں زمین کی زرخیزی کم سے کم ہوتی جا رہی ہے جہاں فضائی آلودگی اور زہریلے پانی کے استعمال سے فصلیں،سبزیاں اور فروٹ زہریلے ہوتے جا رہے ہیں وہاں 90فیصد آبادی معدے ،جگر اور ہیپاٹائٹس کی مریض بن چکی ۔
ان ماہرین کے مطابق اگر یہی فیکٹریاں جہلم سے اٹک کے درمیان لگ جاتیں تو یہاں مسلسل چلتی ہوا اور آئے روز برستی بارشوں کی وجہ سے فضائی آلودگی بھی نہ ہوتی اورپھر زیرِزمین پانی 2سو فٹ سے 3سوفٹ پر ہونے کی وجہ سے انڈسٹریل ایریا کا آلودہ پانی جب تک اس پانی تک پہنچتا تو زمین کی کئی تہوں اور دھاتوں سے گذر کر یہ صاف ہو چکا ہوتا اور سب سے بڑی بات کہ نسبتاً اس بنجر اور غیر آباد علاقے میں انڈسٹریل زون بننے سے پنجاب کی زرخیز زمینیں بچ جاتیں ۔
ویسے تو اس رپورٹ کا ایک ایک لفظ ہی باعث ِ شرمندگی ہے مگر اس کے عنوان کو دیکھ کر یہ شرمندگی ڈبل ہو جاتی ہے ، اس رپورٹ کا عنوان ہے” باتھ روم میں کچن “کیونکہ اس10رکنی ٹیم کا خیال ہے کہ پاکستان وہ گھر کہ جس کا کچن اسکے باتھ روم میں بنا دیا گیا ہے“۔ یہ سدا بہار بیوروکریٹ جونہی خاموش ہوااور اس سے پہلے کہ وہ کوئی نیا موضوع چھیڑ دیتا میں نے اجازت لیکر وہاں سے نکلنے میں ہی عافیت سمجھی کیونکہ مجھ میں اب مزید اپنی بے وقوفیاں سننے کا حوصلہ نہ تھا۔

3گھنٹے کی اس بیٹھک کے بعد واپس جاتے ہوئے میرا ذہن رپورٹ کے عنوان ”باتھ روم میں کچن “ میں ہی اٹکا ہوا تھا ۔ اور پھر جب اسے سامنے رکھ کر سوچنا شروع کیا تو نہ صرف اپنے ملک کے ہر شعبے اور ہرا دارے کا کچن اس کے باتھ روم میں ہی نظر آیا بلکہ زیادہ دکھ تو اس بات کا ہو ا کہ ہم اس صورتحال پر مطمئن بھی ہیں اور خوش بھی ، کسی کو کوئی فکر نہیں۔ روز نیا ایشو اور روز نئی بحثیں ۔ حال یہ ہے کہ آج "Axact" اور ”بول “ پر بول بول کرنہ تھکنے والی عوام کے دیس میں ابھی چند دن پہلے جب این اے 125کا فیصلہ آیا تو جھوٹ اور سچ کچھ اس طرح بغلگیر ہوئے کہ چند گھنٹوں بعد ہی الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ بھی صحیح،سعد رفیق بھی سچے اور عمران خان بھی ٹھیک یہی نہیں بلکہ یہاں پھانسی چڑ ھ جانے والا صولت مرزا بھی درست اور ایم کیو ایم کا موٴقف بھی حقیقت پر مبنی،یہاں ذوالفقار مرزا کے الزامات بھی ٹھیک اور آصف زرداری کے جوابات بھی ٹھیک ، اور تو اور یہاں کے قاتل بھی جنتی اور مقتول بھی شہید ۔
۔ اور پھر اسی شام یہی کچھ سوچتے سوچتے اچانک مجھے ایک حدیث ِنبوی یاد آگئی اور اس حدیث کے ذہن میں آتے ہی جعلی زم زم بیچنے سے تربوزوں میں سرخ رنگ کے ٹیکے لگاتی دو نمبر یوں میں نمبر ون اپنی قوم کی ہر بے کسی ، ہر بے بسی اور ہر مجبوری کی وجہ سمجھ آگئی ۔ آپ بھی جب اپنے حا لا ت ، واقعات اور مصائب کے گریبانوں میں جھانکتے ہوئے ابن ماجہ جلد سوئم کی 1332ویں یہ حدیث پڑھیں گے تو آپ پر بھی بہت کچھ واضح ہو جائے گا ۔
نبی اکرم کا فرمان ہے کہ ” جب کسی معاشرے میں فحاشی عام ہوجاتی ہے تو وہاں ایسی وبائیں اور روگ پھوٹتے ہیں کہ جن کا انکی پہلی نسلوں میں گذر تک نہیں ہوتا ۔جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگتے ہیں تو انہیں حکمران طبقے کا ظلم سہنا پڑتا ہے ،ان کو خشک سالی سے دوچار کر دیا جاتا ہے اور مہنگائی اور اشیاء کی عدم دستیابی عام ہوجاتی ہے ۔جب لوگ زکوٰة نہیں دیتے تو ان کو آسمان سے پانی ملنا بند ہو جاتا ہے او راگر جانور نہ ہوں تو ان کو بارش بھی نہ ملے۔جب لوگ اللہ اور سول کا عہد توڑ تے ہیں تو اللہ ان پر باہر سے ایسا دشمن مسلط کر دیتا ہے جو بزورِبازو ان سے بھتہ لیتا ہے اور جب حکمران کتاب اللہ کی رو سے فیصلے اور احکام الہی نافذ نہیں کرتے تو اللہ ان کو ایکدوسرے سے لڑا دیتا ہے “۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com