”مگر میں نے اپنا کام کردیا“

ہفتہ مئی    |    ارشاد بھٹی

بات کرتے کرتے ہاشوانی صاحب کا لہجہ بھرّا گیا ، وہ چپ ہوئے ، اُنہوں نے عینک اتار کر بھیگی آنکھوں کو ٹشو سے صاف کیا ، عینک دوبارہ پہنی اور چند لمبی لمبی سانسیں لے کر بولے ” مگر میں نے اپنا کام کر دیا “ ،لیکن ذرااِس کہانی سے پہلے کی باتیں بھی سن لیں۔
جب رات کا دوسرا پہر اختتامی لمحوں میں داخل ہو چکا ، جب کھانے اور میٹھے کے بعد قہوے کا دور چل چکا ، جب ایک ”باخبر دوست“ دو بڑوں کی ملاقات کی ریکارڈنگ دِکھا کر ایک بڑی خاتون کے چھوٹے پن کی کئی مثالیں دے چکا ، جب ایک ”اندر کا آدمی“ پانامالیکس میں پھنسے دیسی شہزادوں کو Rescueکرتے ولائیتی شہزادوں کی کہانی سنا چکا ، جب ایک مصاحب کے بھائی کے بینک فراڈ اور دوسرے درباری کے 6ارب کے پلازے کی بات ہوچکی ، جب یہ تذکرہ بھی ہوگیا کہ یہتو ایسا ملک کہ ایک طرف 30ماہ میں غذائی قلت 13سو بچوں کو ماردے جبکہ دوسری طرف بے حساب وبے شمار مراعات لیتے انہی بچوں کے سینٹ اور قومی اسمبلی میں بیٹھے بڑے اپنی تنخواہوں میں 7کروڑ کا اضافہ کر کے بھی نا خوش ، جب سراج الحق یہ کہہ چکے کہ” ایک سٹیل مل سے اربوں منافع کمانے والے شریف خاندان کو میں تب مانوں جب وہ پاکستانیوں کی پاک سٹیل کو بھی منافع بخش بنادیں “ اور جب امیر جماعت اسلامی یہ بھی بتا چکے کہ ”دنیا میں 2طرح کے طرزِ حکومت ، ایک حکومت ِعقلیہ یعنی انسانی فہم ودانش پر مبنی نظام اور دوسرا حکومتِ الہیہ مطلب اللہ تعالیٰ کے احکامات پر مبنی نظام مگر بدقسمتی سے جو طرزِحکومت ہمارے ہاں رائج وہ نہ عقلیہ اور نہ الہیہ بلکہ وہ حکومت ِحیوانیہ مطلب جنگل کا قانون ،جسکی لاٹھی اسکی بھینس اور جس کے پاس لاٹھی وہ بادشاہ اور بادشاہ کے منہ سے جو نکلے وہ حرفِ آخر ۔

(خبر جاری ہے)


اس رات جب یہ سب کچھ ہو چکا تب چپ چاپ سب کی سنتے ہوٹلنگ کنگ صدر الدین ہاشوانی بولے اور ایسا بولے کہ پھر وہی بولے ، مجھے اچھی طرح یاد کہ اُس رات ہاشوانی صاحب نے بات کچھ یوں شروع کی ” ہمارے 90فیصد مسائل کی وجہ ہماری لیڈر شپ کیونکہ ملک وقوم سے زیادہ اپنی آل اولاد سے محبتیں کرتی ہماری لیڈر شپ نے ہمیشہ ذاتی مفاد کو ملکی مفاد پر ترجیح دی ، بات سمجھانے کیلئے ایک کہانی سناتا ہوں بلکہ اسے کہانی کہنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ یہ تو ایک سچ یا میرے سینے میں چھپا وہ راز جو میں آج پہلی بار شیئر کررہا ہوں ، مشرف کا زمانہ تھا ، ایک شام شوکت عزیز کا فون آیا، وہ اس وقت وزیرِ خزانہ تھے ، سلام دعا کے بعد بولے ”ایک فائل بھجوا رہا ہوں، سرمایہ کاری کا ایسا سنہری موقع ہے کہ عمر بھر یاد کرو گے “ میں نے پوچھا ” کس قسم کی سرمایہ کاری “جواب ملا ” چند دوستوں کو بلوچستان میں ریکوڈک نامی فیلڈ ایوارڈ ہوئی ہے ، انہیں 25فیصد شیئرز پر ایک پارٹنر چاہیے تم انہیں جوائن کرکے اربوں کماسکتے ہو “ یہ سن کر میں نے کہا ”یہ مہربانی مجھ پر ہی کیوں ؟“ شوکت عزیز قہقہہ ما ر کر بولے ” اس لیئے کہ ایک تو تم دوست، دوسرا آئل وگیس کا وسیع سیٹ اَپ ہونے کی وجہ سے تم اس کام کیلئے موزوں اور پھر تم بلوچ ہو اور بلوچوں کو جانتے ہو لہذا بلوچستان میں تم سے بہتر کوئی اور ہوہی نہیں سکتا “۔

اگلے دن شوکت عزیز نے فائل بھجوائی تو اس پرپہلی نظر ڈالتے ہی میں حیران رہ گیا کیونکہ اس فائل میں تو سونے اور تانبے کے ذخائر کی بات ہو رہی تھی، مجھے لگا کہ دال میں کچھ کالا ہے ، میں نے فوراً یہ فائل اپنی ٹیکنیکل ٹیم کو بھجوا کر ریکوڈک سے متعلق باخبر لوگوں سے پوچھنا شروع کردیا اور پھر ا گلی سہ پہر تک ٹیکنیکل ٹیم اور باخبر لوگوں کے فیڈ بیک سے جو کہانی بنی وہ کچھ یوں تھی ” افغانستان اور ایران کے بارڈر کے قریب اڑھائی لاکھ آبادی والے ضلع چاغی کے ایک پسماندہ گاوٴں ریکوڈک میں دنیا کے پانچویں بڑے سونے اور تانبے کے ذخائر نہ صرف بڑی خاموشی سے ایک غیر ملکی کمپنی اونے پونے داموں ہتھیا چکی بلکہ کچھ اپنے بڑے بھی اس سودے میں حصے داراور اس ڈیل کا فرنٹ مین مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والا ہمارا وہ بزنس مین جو کبھی بنگلہ دیشی حکومت کو بھی مطلوب تھا ، یہ سب جان کر مجھے اس نتیجے پر پہنچنے میں ذرا سی بھی دیر نہ لگی کہ یہ تو دن دیہاڑے ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے ۔

دو یا تین دن ہی گذرے ہوں گے کہ ایک شام شوکت عزیز بن بلائے میرے گھر آگئے ،علیک سلیک اور چند رسمی جملوں کے بعد اُنہوں نے بڑے رازدارانہ انداز میں پوچھا ”فائل پڑھ لی “ میں نے کہا ”ہاں پڑھ لی “ آہستگی سے بولے ” کیا فیصلہ کیا “ میں نے جواب دیا ”یار میں اِس ڈیل کا حصہ نہیں بننا چاہتا “ یہ سنتے ہی شوکت عزیز کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا ، شدید حیرانگی میں وہ رُک رُک کر بولے ”تمہیں ۔
۔۔پتا ہے کہ ۔۔۔تم ۔۔۔ کروڑوں ڈالر ٹھکرا رہے ہو “ میں نے کہا ”ہاں پتا ہے مگر کیا کروں میں کروڑوں ڈالروں کیلئے ملک تو نہیں لوٹ سکتا “یہ سن کر ماتھے پر تیوریاں چڑھا کر جب شوکت عزیز بولے تو انکے لہجے میں تلخی نمایاں تھی ” تمہارا مطلب ہے کہ ہم ملک لوٹ رہے ہیں “جب میں نے کہا ”ہاں “ تو شوکت عزیز اُٹھے اور غصے سے پاوٴں پٹختے کمرے سے نکل گئے ۔
شوکت عزیز کے جاتے ہی میں نے سوچنا شروع کر دیا کہ ملکی اثاثہ لٹنے سے کیسے بچایا جائے اور پھراسی سوچ میں اگلے دن میں نے اپنے دوست قاضی حسین احمد کو فون کر کے انہیں پوری کہانی سنا ئی تو قاضی صاحب نے کہا ” یہ فائل ابھی مجھے بھجوادیں “، میں نے اُسی وقت ریکوڈک کی فائل اِنہیں بھجوا دی او رپھر 4پانچ روز بعد قاضی صاحب کا فون آگیا، کہنے لگے ” ہاشوانی بھائی واقعی دن دیہاڑے ملک لوٹنے کی تیاریاں ہیں ، اب بتائیں کرنا کیا ہے “ میں نے کہا ” قاضی صاحب میں سامنے نہیں آنا چاہتا ، فرنٹ پر مجھے آپکا ایک ایسا آدمی چاہیے جو ایماندار، نڈراور بکاوٴ مال نہ ہو میں اس کے ذریعے ریکوڈک ڈیل کے خلاف عدالت میں جاوٴں گا اور سارا خرچہ میرا ہوگا “ قاضی صاحب نے اگلے ہی دن مجھے ایک شخص کا نام بھجوادیااور میں نے ہفتے کے اندر اندر ایک نامور وکیل کرکے بلوچستان ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کردی ۔

صدر الدین ہاشوانی بات کرتے کرتے رُکے ، ٹھنڈے ہو چکے قہوے کا گھونٹ بھرااور سراج الحق کی طر ف دیکھ کر دوبارہ بولے ”یہ کیس کیسے چلا ، ہائیکورٹ میں ہم کیوں ہارے ، ہمیں کیا دھمکیاں ملیں ، کیا آفرز ہوئیں ، ہم سپریم کورٹ میں کیسے آئے اور جسٹس چوہدری نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑ اڈاکہ کیسے ناکام بنا دیا ، یہ ایک لمبی کہانی مگر میں یہاں یہ ضرور کہوں گا کہ اللہ قاضی صاحب کو جنت میں جگہ دے، اگر ان کا ساتھ نہ ہوتا تو میرے لیئے یہ سب کچھ کرنا بہت مشکل ہو جاتا “ ، مجھے یاد ہے کہ جب کیس حتمی مراحل میں تھا تب ایک سماعت کے بعد بیمار قاضی حسین احمد بڑی مشکل سے چھڑی کے سہارے چلتے ہوئے جسٹس چوہدری کے قریب جا کربولے ” چیف صاحب ہو سکتا ہے کہ میں زندہ نہ رہوں مگر آپکو وعدہ کرنا ہوگا کہ ملک کی محبت میں میری او رصدر الدین ہاشوانی کی اس لڑائی کو انجام تک پہنچا کر آپ ملک لٹنے سے بچائیں گے “ اور آپ ایک سچ اور بھی سن لیں کہ کروڑوں ڈالر کی پارٹنر شپ چھوڑ کر اس کیس پر اپنے پاس سے کروڑوں روپے لگا کر اور کیس سے علیحدہ ہونے پر 100ملین ڈالر کی پیشکش ٹھکرا کرمجھے کبھی ایک لمحے کیلئے بھی افسوس نہیں ہوا لیکن اب یہ دیکھ کر ہر لمحے افسو س ہو کہ قوم سوئی ہوئی اور مافیا ایک بار پھر ر یکوڈک ہتھیانے کی سازشوں میں لگا ہوا ، بات کرتے کرتے ہاشوانی صاحب کا لہجہ بھرّا گیا ، وہ چپ ہوئے ، اُنہوں نے عینک اتار کر بھیگی آنکھوں کو ٹشو سے صاف کیا ، عینک دوبارہ پہنی اور چند لمبی لمبی سانسیں لے کر بولے ” مگر میں نے اپنا کام کر دیا “ ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com