Need and Greed

ہفتہ مئی    |    ارشاد بھٹی

جناب ہمیں یہ علم کہ جھوٹ بولنے کی2وجوہات ایک خوف اوردوسرالالچ ،محترم ہمیں یہ پتا کہ خوف اورلالچ کی کشتی میں کوئی تبھی سوارہوجب NeedاورGreedکافرق مٹ جائے اور قبلہ ہمیں یہ تجربہ ہو چکا کہ NeedاورGreedکا فرق مٹنے سے انسان کیسے جانوربن جائے ۔
کبھی NeedاورGreedکایہ حال تھاکہ ایک طرف جس دن حضو ر رحلت فرماتے ہیں اُس سے اگلی رات دیاجلانے کیلئے حضرت عائشہ پڑوسن سے تیل ادھارلیتی ہیں جبکہ دوسری طرف اِسی گھر میں حضور کی7بہترین اورقیمتی تلواریں لٹکی ملتی ہیں کبھیNeedاورGreedکایہ حال تھا کہ قیصرو کسریٰ کو شکست دے چکے حضرت عمر  کی خلافت کازمانہ،جمعے کاوقت اورلوگوں سے کھچاکھچ بھری مسجد ِنبوی، اس سے پہلے کہ امیرالمومینین کے انتظارمیں بیٹھے لوگوں کی چہ مگوئیاں اونچی آوازوں میں بدلتیں،اس وقت کے سب سے بڑے حکمران حضرت عمر  آئے اورسیدھے جا کر منبرپربیٹھ کربولے ”سب سے معذرت کہ مجھے آنے میں دیرہوگئی مگر دیراس لئے ہوئی کہ میں نے جمعہ کیلئے اپنااکلوتاسوٹ دھویاتھااوراسے آج سوکھنے میں زیادہ وقت لگ گیا“
خیریہ تولوگ ہی اورتھے، ان کی مثال کیادینی ،آپ سکندرِاعظم کولے لیں اپنی بادشاہت کے لئے 10لاکھ افرادقتل کرنے والے الیگزینڈر دی گریٹ کو بالآخر بسترِ مرگ پر جب آ خری لمحوں میں NeedاورGreed کافرق محسوس ہوا توبے اختیار کہہ اُٹھا”میراتابوت میرے طبیب اٹھائیں تاکہ سب کوپتاچلے کہ کوئی طبیب موت سے نہیں بچاسکتا ،میراتابوت جہاں جہاں سے گزرے وہاں وہاں ہیرے اور جواہرات پھینکے جائیں تاکہ سب کومعلوم ہو کہ انسان کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آئے کہ جب دنیاوی دولت کی کوئی حیثیت نہ رہ جائے اورپھر میرے دونو ں ہاتھ تابوت سے باہرنکال دیئے جائیں تاکہ ہرکوئی یہ دیکھ لے کہ جاتے وقت سکندرِاعظم کے بھی ہاتھ خالی تھے“ ایک ہنری فورڈ تھا ، اپنے وقتوں کا امیر ترین شخص، دنیاکی کونسی ایسی سڑک ہوگی کہ جہاں اس کی کمپنی فورڈکی گاڑی نہ چلی ہو،یہ بیمارہوااوربیمار بھی ایساکہ حلق سے لقمہ اُترنامشکل ،وہ دنیا کے بہترین اسپتال میں داخل ہوا،ٹیسٹ ہوئے ،رپورٹیں بنیں اورپھردنیا کے بہترین ڈاکٹروں نے مل کراس کا علاج شروع کیا ، مگرہرنسخہ اورہرحربہ یوں ناکام ہوا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ہنری فورڈ کے حلق سے پانی کے سوا کچھ نیچے نہ اترا،ابھی علاج جاری ہی تھا کہ ایک رات انتہائی مایوسی کے عالم میں اس نے خود کشی کر لی،یہاں بتانے والی بات یہ کہ ہنری کی لاش کے پاس اس کے اپنے ہاتھوں سے لکھا ایک خط ملا ، جس کا ایک جملہ یہ تھا کہ ” جب میری ساری دولت میرے حلق سے ایک لقمہ نیچے نہ اتار سکی تب مجھے پتاچلاکہ NeedاورGreedمیں کیافرق ہوتاہے “۔

(خبر جاری ہے)


چندسال پہلے سردیوں کی ایک رات میں اس وقت کے بڑے صاحب کے ساتھ ان کے بڑے گھرمیں بیٹھاکافی پی رہاتھاکہ اچانک ان کے سینے میں درداٹھااورپھردیکھتے ہی دیکھتے ان کاحلق خشک ،چہرہ سفیداورسرایک طرف ڈھلک گیااوراس سے پہلے کہ وہ کرسی سمیت گرجاتے میں نے آگے بڑھ کرایک ہاتھ سے ا ن کی کرسی کو تھاما اوردوسرے ہاتھ سے ان کے سامنے پڑی ان کی شاہی گھنٹی بجائی ،مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب تک ان کا سٹاف اور ڈاکٹرپہنچا تب تک میں بڑے صاحب کا سراپنے ہاتھوں میں لئے مسلسل دروداورآیت الکرسی پڑھتارہا،خیرہنگامی طبی امدادکے بعد جب ان کی طبیعت قدرے سنبھلی تو پھرانہیں خفیہ طورپراسلام آباد کے ایک پرائیویٹ اسپتال لے جایاگیاجہاں 25تیس ٹیسٹ کروانے اوراوپرنیچے 5ٹیکے لگوانے کے بعداسپتال کے وی آئی پی روم میں لیٹے صاحب نے اچانک میراہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کربڑے جذباتی اندازمیں کہا ”آج کے جھٹکے نے تو Need اورGreed کافرق سمجھادیا،یاراللہ نے آج مجھے نئی زندگی دی“لیکن میں آج بھی یہ سوچوں تو یقین نہ آئے کہ اس رات بہتے آنسوؤں اوربھرائی آوازمیں عمر بھرکارِخیر کاعزم کرنے والے یہ صاحب کیسے بعد میں بھی اقتدارسے چمٹے رہے ،کیسے بعد میں بھی انہوں نے پیسوں کی خاطر ہربراکام کیااور کیسے جاتے جاتے وہ یتیموں اور مسکینوں کا فنڈ بھی کھاگئے۔

مگرپھر سوچتا ہوں کہ بونوں میں گھرے اب خود بھی اچھے خاصے بونے ہو چکے اس صاحب کا کیا قصور، ہمیں تو 69سالوں میں کوئی ایک بھی ایسا نہ ملا کہ موقع ملنے پر جسے Needاور Greedکافرق یاد رہا ہو، پرانی کہانیاں اور Outdatedقصوں کو چھوڑیں 28جنوری اور 4مارچ 2009کی گفتگوہو یا15فروری2010اور 5مئی 2012کے خطابات ،تب اپنی Needاور Greedکے عین مطابق میاں نواز شریف کہاکرتے تھے ”زرداری صاحب سوئس بینکوں میں پڑا پیسہ آپ کا نہیں ملک و قوم کا ہے ،زرداری صاحب قوم نے جب مجھے مینڈیٹ دیا تب میں سوئس بینکوں میں پڑے آپ کے ملین ڈالر زواپس لانے میں ایک لمحے کی دیربھی نہیں لگاؤں گا “ مگر جب میاں صاحب کی Needیا Greedبدلی تو قومی مینڈیٹ ملنے سے لے کر اب تک انہوں نے سوئس بینکوں کی طرف پلٹ کر نہ دیکھا۔
یہ بھی Needیا Greedہی تھی کہ بھاٹی گیٹ لاہورمیں جوشِ خطابت کے زور پر مائیک گراتے ہوئے میاں شہبازشریف نے للکارا ”زرداری صاحب ہم ڈینگی مارسکتے ہیں تو آپ سے بھی نمٹ سکتے ہیں “، اورپھر چھوٹے میاں صاحب کے اس جملے نے تو مقبولیت کاہرریکارڈتوڑڈالا ” اگرمیں نے علی باباچالیس چوروں کو سڑکوں پرنہ گھسیٹاتو میرانام شہبازشریف نہیں “،لیکن جب ان کی Need یا Greed بدلی تونہ گھسیٹاگھسیٹی ہوئی اورنہ میاں صاحب نے نام بدلااورپھریہ بھیNeedیاGreed ہی تھی کہچند سال پہلے ایک ٹی وی پروگرام میں اسحاق ڈاراورنویدقمرکے ساتھ بیٹھے دانیال عزیزنے میاں برادران پرایسے چڑھائی کی کہ ہکے بکے اسحاق ڈارکو پہلے توکچھ سجھائی اورسمجھائی ہی نہ دیااورپھرجب ڈار صاحب نے کچھ کہنے کی کوشش کی تودانیال عزیزنے انہیں ایک لفظ ادا کرنے کا موقع تک نہ دیا ، اسی پروگرام میں دانیال عزیز ایک موقع پرڈارصاحب کی طرف اشارہ کرکے فرماتے ہیں”گو کہ ڈارصاحب ماشاء اللہ ایسےAccountantکہ جنہیں نمبرزکے ہیرپھیرمیں کمال حاصل، مگرپھربھی ان کے پاس یقیناًمیری اس بات کا کوئی جواب نہیں ہوگاکہ فتح پورسیکری میں مغلیہ طرزکے بنے وزیراعظم ہاؤس پرجتنے پیسے خرچ ہوئے اتنے پیسوں سے غریب عوام کیلئے کتنے اسکول اورکتنے اسپتال بن سکتے تھے ،ڈارصاحب تو یہ بھی نہیں بتا نہیں سکتے کہ ان کے قائدین نے پیلی ٹیکسی سکیم میں بینکوں کے کتنے پیسے ڈبودیئے او ر 500سے 600روپے سالانہ ٹیکس دینے والے ڈارصاحب کے لیڈروں کے اگر صرف رائیونڈمحلات کے شاہی اخراجات کاہی حساب کتاب ہوجائے تو ہر چوری کابھانڈہ پھوٹ جائے“لیکن پھرجب NeedیاGreed بدلی تووہی دانیال عزیزاب اسحاق ڈارسے بھی زیادہ میاں برادران کے وفادار۔
ان کوبھی چھوڑٰیں ذراNeedاورGreedکی یہ روشن مثال ملاحظہ فرمائیں کہ والدنثارمیمن صدرپرویزمشرف کے وزیرجبکہ بیٹی ماروی میمن میاں نوازشریف کی ٹیم میں اوراوپر سے سربراہ بھی بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی۔مگر دوستو ہمارے ملک میں سب کچھ ممکن، یہی ملک کہ جہاں آکسفورڈیونیورسٹی میں خانساماں اورڈرائیورساتھ لے جانے اورزندگی میں کبھی ایک لباس دوسری مرتبہ نہ پہننے والے لیاقت علی خان جب پاکستان کے پہلے وزیراعظم بنتے ہیں تو وہ یہ کہہ کراپنانواب پن چھوڑدیتے ہیں کہ ”غریب ملک کے وزیراعظم کویہ سب زیب نہیں دیتا“یہی نہیں پھٹی بنیان اورسوراخوں والی جرابیں پہنے جب خان صاحب قتل ہوتے ہیں توان کے بینک اکاؤ نٹ میں اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ کفن دفن کاانتظام ہوسکے بلکہ الٹا وہ اپنے درزی حمیدکے مقروض ‘لیکن اب اسی ملک کے اٹھارہویں وزیراعظم نوا ز شریف کی بھی سن لیں ، یہ پچھلے ہفتے کی بات ہے، میاں صاحب کو روہڑی بائی پاس پر سکھرملتان موٹر وے کا افتتاح کرنا ہوتا ہے ، مگر وزیر اعظم کے آنے سے 5 دن پہلے مقررہ جگہ پر اڑھائی سومزدورپہنچ کر جنگل کومنگل بنانے میں لگ جاتے ہیں ،پھر وزیراعظم کے آنے سے 2دن پہلے پانچ اضلاع کی پولیس آکرپورے علاقے کوگھیرے میں لے لیتی ہے ،اسی دوران جب ایک طرف دو ہزار افراد کیلئے پنڈال سج سنور رہا ہوتا ہے تو دوسری طرف کراچی سے اسپیشل خیمہ آیا اورپھر اس خیمے کو ٹھنڈاٹھاررکھنے کیلئے 10ہیوی ائرکنڈیشنرزاور10جنریٹر بھی آگئے ،اور پھرافتتاح والے دن جونہی 2ہزارافرادکیلئے انواع و اقسام کے کھانے پک چکے تب 45گاڑیوں کے حصارمیں میاں نوازشریف آئے اور دوگھنٹوں میں سب کچھ بھگتا کر چلتے بنے ،یہاں سنانے والی بات یہ کہ ان دوگھنٹوں کی تقریب پر خرچہ ہوا دو کروڑ،مطلب بھوکی ننگی قوم کوپانامہ لیکس میں گھرے وزیراعظم کاایک منٹ پڑاایک لاکھ 65ہزار روپے میں ،مگر دوستو جیسے پہلے کہا کہ یہاں سب کچھ ممکن، یہاں مارشل لائی ڈگڈیوں سے جمہوری تماشوں تک ،فوجی جرنیلوں سے عوامی ڈکٹیڑوں تک ،سیاستدانوں سے بیوروکریسی تک ،مذہب سے سیاست تک اورشکل مومناں سے کرتوت کافراں تک جیسے سب کی Needہی ان کیGreed ویسے ہی یہاں ترک خاتون اول کے ہارچرانے سے قومی مینڈیٹ چرانے تک ، 67کروڑ گھر میں چھپانے والے سیکرٍٍٍٍٍٍٍٍٍٹری خزانہ بلوچستان سے آف شور کمپنیوں میں 7ارب چھپانے والوں تک اورکراچی میں دُکھی روحی بانو کے پلاٹ پرقبضے سے اسلام آبادمیں معذورمریضہ سے زیادتی تک یہاں سب کی Greedہی ان کی Need،گو کہ یہاں اب اپنے مطلب کے علاوہ نہ کوئی کسی سے کچھ کہتا ہے اور نہ کوئی کسی کی سنتا ہے ،مگر پھر بھی دل یہی کہے کہ جان کی امان پا کر رینٹل پاورسیکنڈل سے پانامہ لیکس تک اپنے تمامNeedyاورGreedyجھوٹ کے پیغمبروں سے یہ ضرور کہوں کہ جناب ہمیں یہ علم کہ جھوٹ بولنے کی2 وجوہات ایک خوف اوردوسرالالچ ،محترم ہمیں یہ پتا کہ خوف اورلالچ کی کشتی میں کوئی تبھی سوارہوجب NeedاورGreedکافرق مٹ جائے اور قبلہ ہمیں یہ تجربہ ہو چکا کہ NeedاورGreedکا فرق مٹنے سے انسان کیسے جانوربن جائے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com