No Extension!

ہفتہ جولائی    |    ارشاد بھٹی

آج موضوع 4اور سب سے پہلے بات ترکی کی ، استنبول کے ایک فوجی ڈویژن کی ناکام بغاوت کے بعد 6ہزار فوجیوں کی گرفتاری تو سمجھ میں آئے مگر 1ہزار نجی سکول ، 12سو فلاحی تنظیمیں ، مزدوروں کی 19سو آرگنائز یشنز ، 15یونیورسٹیاں اور 35طبی اداروں پر پابندی ، 21ہزار اساتذہ سمیت محکمہ تعلیم کے 40ہزار ملازمین ،وزارتِ داخلہ کے 8777اور وزارتِ مذہبی امو ر کے 5سو ملازمین کی معطلی و گرفتاری ، 38صوبائی گورنرزاور 47ڈسٹرکٹ گورنرز کی برخاستگی ،42صحافیوں کے وارنٹ، 10ہزار ماہرین کے پاسپورٹس کی منسوخی اور سینکڑوں دانشوروں کے بیرونِ ملک جانے پر پابندی کے حکم نامے سمجھ سے بالاتر ، کیا عوام نے سینوں پر گولیاں کھا کر اور ٹینکوں کے آگے لیٹ کر اسی جمہوریت کو بچایا تھا اور کیا فوجیوں کو ننگا کرنے، ان کے منہ پر تھوکنے ، باغیوں کی نماز ِ جنازہ پر پابندی اور انہیں علیحدہ دفنانے سے جمہوریت مضبوط ہو جائے گی ، کیا ایسا تو نہیں کہ ترکی کے دشمن جو چاہتے تھے ترک قیادت وہی کچھ کر رہی اور کیا ایسا تو نہیں کہ شام ،عراق ،لیبیا اور مصر میں نفرتوں کے بیج بونے والے یہاں بھی سرگرم عمل ہو چکے، اگریہ سلسلہ جاری رہا تو جمہوریت کیلئے قربانیاں دینے والے بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ انہوں نے قربانیاں جمہوریت کیلئے دیں یافردِواحد کیلئے ، یہ یاد رہے کہ دشمن کی آنکھوں میں بہت پہلے سے مصر، ترکی اور پاکستان کی فوج کھٹک رہی ،باقی یہاں تذکرہ اپنے ان افلاطونوں کا بھی کہ جو ناکام ترک بغاوت کی آڑ میں پاکستان اور ترکی کے زمینی حالات نظر انداز کرتے ہوئے اپنی اپنی بھڑاسیں نکال رہے اور بغلیں اور بینیں بجار ہے لیکن انہیں شائد یہ یاد نہیں رہا کہ یہ ترکی نہیں یہ پاکستان،وہ پاکستان کہ جہاں جب فیلڈ مارشل ایوب کے 3جرنیل آدھی رات سکندر مرزا کو بیڈ روم سے نکال کر دومنٹ میں استعفیٰ لے لیں یا چند گھنٹوں میں مارشل لاء لگا کر ضیاء الحق چند مہینوں میں بھٹو کو لٹکا بھی دے تب بھی جمہوراور جمہوریت لمبی تان کر سوئی رہے یا پھر مشرف کے مارشل لاء والی شام جب صرف 17فوجی وزیراعظم ہاوٴس میں داخل ہوں تونہ صرف دو تہائی اکثریت والی جمہوریت منہ لپیٹ کر وزیراعظم ہاوٴس کے پچھلے دروازے سے نکل جائے بلکہ جمہور اتنی مٹھائیاں بانٹے کہ دکانوں پر مٹھائیاں ہی ختم ہو جائیں اور پھر وہ ملک کہ جہاں جمہوریت آج بھی روزانہ بادشاہ سلامت کے پاوٴں دبا کر سوئے ، جہاں آج بھی جمہوریت کی لوریاں صرف شہزادوں اور شہزادیوں کیلئے ، جہاں جمہوریت ایسی کہ ایک طرف 2فیصد کی موجوں کی ٹرین رُکے ہی نہ اور دوسری طرف 98فیصد کی بھُک ننگ کا سفر ختم ہی نہ ہو ، جہاں جمہوریت کی نظر اتنی تیز کہ وہ زرداری صاحب اور اسحق ڈار کے اندر چھپی معصومیت بھی دیکھ لے اور جہاں جمہوریت اتنی مضبوط کہ قائداعظم بھی کراچی میں ایم کیو ایم اور لاہور میں مسلم لیگ (ن) سے ہا رجائیں اور جہاں کی سدا بہار جمہوریت جیتے جی عبدالقدیر خان کو بھلا دے اور مرنے کے بعد ایدھی صاحب پر کفر کے فتوے لگادے وہاں اپنی اپنی جمہوری درگاہوں پر خوشی کے شادیانے اور خوشامد کی بینیں بجاتے سب خوشامدیوں کیلئے بھی وہی پرہیزجو ایک ڈاکٹر نے اُس سپیرے کیلئے تجویز کیا کہ جس نے پیچس لگنے پر دوائی لینے کے بعد جب ڈاکٹر سے پوچھا کہ ”ڈاکٹر صاحب میں پرہیز کی کراں “ تو ڈاکٹر کا جواب تھا ” بس ہن بین وجاندے ہویاں زیادہ زور نہ لاویں “۔

(خبر جاری ہے)


آج دوسرا موضوع داعش کا ، وہ داعش جس نے عراق ،شام اور لیبیا کی اینٹ سے اینٹ بجادی جو اپنے ہیڈ کوارٹر شام سے8سو میل دور سعودی عرب میں دھماکے کرلے ،جو 2ہزار میل دور برسلز پر حملہ آور ہو جائے ،جو 21سو میل دور فرانس اور ڈنمارک میں قتلِ عام کر دے ،جو3ہزار میل دور بنگلہ دیش میں خون ریزی کرنے کی صلاحیت رکھے ، جس سے ہزاروں میل دور یورپ خوفزدہ اور وہ داعش جو اسلام کی ٹھیکیدار بنی ہوئی وہی داعش اپنے ہیڈ کوارٹر سے صرف3سو کلو میٹر دور مسلمانوں کے دشمن اسرائیل کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھے ۔
۔۔ ایسا کیوں ۔۔۔سوچیئے گا ضرور!
آج کی تیسری بات اس آسٹریلین نرس برونی وئیر کی جو سالہا سال سے اُن مریضوں کی خدمت کر رہی کہ جنہیں ڈاکٹر لاعلاج قرار دیدیں ،جن سے گھر والے ، رشتے دار ، دوست احباب حتی کہ پورازمانہ منہ پھیر لے اور جن مریضو ں کو خود بھی یہ معلوم کہ وہ چند دنوں یا دو چار ہفتوں کے مہمان ، 8کمروں،4برآمدوں اور 2لانوں والے گھر میں صبح سے شام تک موت کی دہلیز پر بیٹھے ہووٴں کی فرمائشیں پوری کرتی اور مرنے سے پہلے انہیں مرنے سے بچانے میں لگی وہ برونی وئیرجو کبھی کسی کے پیپ زدہ زخم دھوتی ملے تو کبھی کسی کینسر زدہ کی الٹیاں صاف کر تی پائی جائے اور جو کبھی کسی کو بائبل سنا کر سکون پہنچائے تو کبھی کسی کو چرچ لے جاکر اسکا ڈیپریشن کم کرے اسی برونی وئیر اور آخری سانسیں گنتے اسکے مہمانوں کے ساتھ دو ماہ پہلے ایک غیر ملکی ٹی وی چینل کی ٹیم نے پورا دن گزرا،اس روز 10گھنٹے ساتھ بِتا کر شام کو خدا حافظ کہنے سے ذرا پہلے دروازے میں کھڑے ٹی وی چینل کے ٹیم لیڈر نے برونی سے جب یہ آخری سوال کیا کہ ”موت کے قریب پہنچ کر لوگ کیا سوچتے اورکیا کہتے ہیں“تو بھورے لمبے بالوں کو اپنے چہرے سے ہٹاتے ہوئے برونی بولی ”آخری دنوں میں 99فیصد لوگوں کے 5پچھتاوے، کاش لوگوں کو خوش کرنے کی بجائے ہم اپنے خدا کو خوش کر لیتے ، کاش زندگی میں ہم اتناہی کام کرتے جتنا ضروری تھا ، کاش جو کچھ ہمارے دل میں تھا وہ ہم بتا پاتے ، کاش ہم اپنے ساتھ ساتھ اس دنیا کیلئے بھی کچھ کر دیتے اور کاش ہم فضول قسم کے خوف اور پریشانیوں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنی مرضی کی زندگی جی لیتے “ یہ کہہ کر برونی بات کرتے کرتے رکی اور پھر اس نے ایک لمبی سانس لے کر صحافی کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا ” مجھے آج تک کوئی ایک بھی ایسا نہیں ملا کہ جس نے اپنے آخری دنوں میں یہ کہا ہو کہ کاش وہ کچھ پیسہ اور اکٹھا کر لیتا ،کاش وہ بڑا گھر یا مزید مہنگی گاڑی لے لیتا یا کاش وہ کوئی بڑا عہدہ حاصل کر لیتا مطلب جن چیزوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے عمر گذرے وہ سب چیزیں جاتے وقت بے معنی ہو جائیں “ برونی نے بات ختم کی ، صحافی سے ہاتھ ملایا اور دروازہ بند کر کے قبروں میں ٹانگیں لٹکائے اپنے مہمانوں کی طرف لوٹ گئی لیکن دوستو جب سے میں نے برونی کی باتیں سنیں تب سے میری دعاوٴں میں یہ دعا سر فہرست کہ ” سسکی سے ہچکی تک وہ مختصر ترین دورانیہ جسے ہم زندگی کہیں ، اللہ اس زندگی کی حقیقت ہم خاک سے بنے انسانوں کو خاک کا حصہ بننے سے پہلے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے “۔

اوراب آخر میں بات اس شخص کی کہ جس نے ثابت کر دیا کہ اگر نیت صاف اور Personal Agendaنہ ہوتو ناممکن بھی ممکن ہو جائے، جی با لکل میں بات کر رہا ہوں اپنے آرمی چیف کی ،اگر حکومتی مہم جو ئیاں تھمی رہیں اور اگر حالات نے کوئی Extraordinaryرُخ اختیار نہ کیا تواب یہ طے کہ جنرل راحیل شریف نومبر میں اپنی مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائر ہو جائیں گے کیونکہ 13بار Continueکرنے کی پیشکش ٹھکرانے اوراب لاہور میں اپنا گھر شروع کروا چکے سپہ سالار کو چند دن پہلے جب پھر ایک اہم شخصیت نے Extensionکی آفر کی تو نہ صرف پھر سے نہ کرتے ہوئے اُنہوں نے اپنی اولین ترجیح وقت پر ریٹائر ہونا بتائی بلکہ یہ بھی کہا کہ انکی خواہش کہ فوج سیاست سے دور رہے ، مجھے وہ سہ پہر یا د کہ جب بیسووٴں افراد چیف کے گرد گھیرا ڈالے کھڑے ایک ہی بات کیئے جارہے تھے کہ ” اس اہم موقع پرآپ فوج کی قیادت نہ چھوڑیں “ مگر مسلسل مسکراتے راحیل شریف کا ایک ہی جواب تھا کہ ” اہم میں نہیں اہم فوج اور الحمد للہ فوج وہ ادارہ کہ جہاں کسی کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا“ اور مجھے وہ شام بھی نہ بھولے کہ جب ایک تقریب کے بعد جنرل راحیل شریف کو شرکاء نے ملک کی خراب صورتحال کی داستانیں سنا سنا کر یہ کہا کہ ” آپ آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں“ تو چیف کا جواب تھا ”میرا اور فوج کا جو کردار وہ ہم پہلے ہی ادا کر رہے “، اب اگلے آرمی چیف کا اعلان نومبر میں اورنئے چیف کیلئے 4میں سے کو ن سے 2 امیدوار فیورٹ،یہ ذکر پھر سہی ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com