”تو پھر کچھ آنسو بچا کر رکھیں “

جمعرات دسمبر    |    ارشاد بھٹی

مجھ سے کیا کوئی جرم ہواہے ؟
مجھ پر کیوں یہ ظلم ہوا ہے ؟
وقت پہ آج بھی آیا تھا ،سبق بھی دہرایا تھا
پنسل ،مارکر ،ربڑ ،شاپنر سب کچھ ساتھ لایا تھا
آج تو میرا پیپر تھا ،ٹیچر نے بتلایا تھا
ماں بھی رات کو جاگی تھی ،ابو نے بھی پڑھایا تھا
شور نہ کر وسو جاوٴ ،بہنا کو بھی سمجھایا تھا
آئتیں پڑھ کر پھونکیں ماریں ،ماتھا چوما ،بیٹا سکول بھجوایا تھا
ماں امتحان تو مشکل ہے ،موت سوال جو لازم ہے
پر وعدہ میں نہ توڑوں گا ،یہ سوال نہ چھوڑوں گا
بابا کو بتلادینا ،بہنا کو سمجھا دینا
یونیفارم کو دھو لینا، اب پہروں بیٹھ کے رو لینا
پرچہ آج کچھ یوں ہوا ہے ،بدن لہو لہوہوا ہے
مجھ سے کیا کوئی جرم ہوا ہے ؟
مجھ پرکیوں یہ ظلم ہوا ہے ؟
شہید حذیفہ آفتاب کی ماں نے جب بار بار اُسے ناشتہ کرنے کو کہا تو سکول یونیفارم پہنے وہ ماں کا ماتھا چوم کر بولا ”امی آپ نے میرے لیئے ناشتہ بنایا ،سمجھیں میں نے ناشتہ کر لیا “۔

(خبر جاری ہے)

اُسی شام بیٹے کے تابوت سے لپٹی ماں کہہ رہی تھی ”اتنا لمبا سفر اور خالی پیٹ ،بیٹا تو نے تو ماں کے پیار کا ناجائز فائدہ اٹھایا “۔ ساتویں جماعت میں پڑھتا شہید محمد یٰسین اُس دن اپنی ماں سے مسلسل یہی کہتا رہا ”امی آج میرا سکول جانے کو دل نہیں کر رہا،مگر ماں نے زبردستی تیار کرکے سکول بھجوادیا “۔ پھر ہسپتال کے برآمدے میں زمین پر بیٹھی یٰسین کی ماں کہہ رہی تھی ”یٰسین ایک بار واپس آجاوٴ،اللہ کی قسم آئندہ تمہیں کبھی زبر دستی سکول نہیں بھیجوں گی “۔
فلسطینی سکولوں پر اسرائیلی بمباری کی مذمت کرنے والا شہید مبین شاہ اکثر اپنی فیس بک پر لکھتا ”دکھوں اور غموں کے باوجود ہم خوبصورت قوم ہیں “۔ وہ طالبان کے حوالے سے کہتا ”ہماری مسکراہٹ ان کی بندوق سے زیادہ طاقتور ہے “۔ مبین شاہ کا والد بیٹے کا سکول کارڈ گلے میں ڈالے ہسپتال میں سب کوکہہ رہاتھا ”ایک بار مجھے میرا مبین مل گیا تو اب میں اسے بندوق چلانا بھی سکھاوٴں گا “۔ نماز کے بعد روزانہ قرآن پاک کی تلاوت کرنے والا نویں جماعت کا طالبعلم گل شیر اُس دن باپ سے لنچ کیلئے جو پیسے لے کر گیا تھا ،اپنے بیٹے کی جیب سے وہی پیسے نکال کر خون میں لت پت پڑے گل شیر سے چمٹا باپ یہی کہے جا رہا تھا کہ ” جنت میں آکر تجھ سے پوچھوں گا کہ ظالم تو نے اگر پیسے خرچ نہیں کرنے تھے تو لیئے کیوں“ ۔
ما ں کے ساتھ آخری ناشتہ کرکے گلے ملنے اور ڈھیر ساری دعائیں لے کر جانے والا شہید فضل رحیم کا سفید جوڑے میں جب گھرسے روانگی کا وقت آیا تو روتی ماں بولی ”تم تو 5منٹ کیلئے بھی کہیں جانے سے پہلے مجھے گلے ملتے تھے آج اتنی دور جا رہے ہو اور وہ بھی اتنے لمبے عرصے کیلئے ، جب تک گلے نہیں ملو گے تب تک جانے نہیں دوں گی “۔ اور پھر سکول آپریشن میں حصہ لینے والے سخت دل اور سخت جان کمانڈو کا جمعرات کی شب ہچکیوں میں یہ بتانا کہ ”میں نے بیسووٴں آپریشنز میں حصہ لیا مگر کہیں یہ نہیں دیکھا کہ بچوں کے دل کمر کی طرف سے باہر نکلے ہوئے ہوں “۔
کس کس بات پہ رویا جائے،پشاور میں اجڑے سینکڑوں گھروں کی ہزاروں داستانیں ہیں ۔ کس کس کہانی پر آنسو بہائے جائیں ۔ حضور کے بیمار بیٹے ابراہیم  کا آخری وقت آن پہنچا۔حضرت ماریہ  کے بطن سے پیدا ہونے والے ابراہیم  پر فزع کا عالم تھا ،سانسسیں اکھڑ رہی تھیں ۔اپنے لخت جگر کو سینے سے لگا کر بہتے آنسووٴں میں آپ نے فرمایا ”بلاشبہ جو اللہ کی رضا وہی ہماری رضا،مگر دل افسردہ ہے اور آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور اے ابراہیم  تیری جدائی پر ہم بڑے غمگین ہیں“۔
غور کریں تو یہ جو کچھ ہوا سب کیا دھرا ہمارا اپنا ہی تو ہے،ہم ہی قاتل اور ہم ہی مقتول ،ہم ہی ظالم اورہم ہی مظلوم ،مطلب کل جو ہم نے بویا آج وہی ہم کاٹ رہے ہیں ۔چار امریکی صدور کے مشیر بروس ریڈل حال میں ہی اپنی شائع ہونے والی کتاب میں لکھتا ہے کہ ”ضیاء الحق افغانستان میں وہ مضبوط اسلامی حکومت چاہتے تھے کہ جس کی مد د سے ایکدن روسی مسلم ریاستوں کو فتح کیا جاسکے۔ضیاء کی سرپرستی کی بدولت 1971ء میں 900مدرسے 1980ء میں 8ہزار تک جا پہنچے جبکہ اس وقت 25ہزار غیر رجسٹرڈ مدرسے بھی کام کر رہے تھے۔
1984ء کو سی آئی اے جنرل ضیاء کو 250ملین ڈالر دے رہی تھی جو ریگن کے آنے پر 4ارب ڈالر سالانہ تک جاپہنچی ۔ ایک بار ریگن کا مخبر اعلیٰ بل کیسی پاکستان آیا تو جنرل ضیاء نے نقشہ دکھاتے ہوئے اسے فخر سے بتایا کہ اصل میدان جنگ تو پاکستان ہے ۔ بروس ریڈل مزید بتاتا ہے کہ ”ضیا ء دور میں 40لاکھ افغان مہاجرین پاکستان آئے ۔جبکہ دنیا بھر سے ازبک،تاجک اور عربی جنگجووٴں کو اُنہوں نے خود بلوا کر انہیں علاقہ غیر میں نہ صرف آباد کیا بلکہ ان کی شادیاں بھی کروائیں ۔
جبکہ دوسری طرف افغانیوں کو پاکستان اتنا پسند آیا کہ قندھار کی آبادی اڑھائی لاکھ سے 25ہزار رہ گئی۔لیکن اِدھر روس کو شکست ہوئی تو اُدھر کلاشنکوف اور ہیروئن کے شوقین افغانیوں میں روسی ایجنسیاں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ایسی گھسیں کہ ضیاء کا میدان جنگ لہو لہو ہوا پاکستان آج آپ کے سامنے ہے ۔گوکہ حکمرانوں کے دکھی چہروں کے ساتھ اجلاس ،میٹنگز اور بریفنگز تو پہلے بھی بہت ہو چکیں ،کمیٹیاں اور سفارشات پہلے بھی کئی بار بن چکیں ،پکڑ دھکڑ اور مدد کے وعدے تو اب معمول ہوگئے ، ہم متحد ہیں دہشت گرد ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے، ایسے سینکڑوں بیانات پہلے بھی کئی بار سن چکے اور بہت سارے واقعات پر پہلے بھی بہت دفعہ آغاز اتنا ہی شاندار ہوا، لیکن پھر بھی گذشتہ 6دنوں میں کافی کچھ اچھا ہوا ۔
وزیراعظم پشاور پہنچے ،سب سیاسی جماعتیں ایک ہوئیں ،عمران خان نے دھرنا ختم کر دیا ۔ کابل پیغام پہنچ گیا اورپھانسیاں بھی شروع ہو گئیں ، سب قابل ِتحسین ، لیکن خوف اس بات کا ہے کہ 100سے زیادہ بچوں سمیت 207افراد کے بھوک اور بیماریوں سے تھر میں مرنے پر کچھ نہ کر سکنے والی حکومت ،سروں کو جوڑ کر گولیاں مارتے ، لائن میں کھڑا کر کے گلے کاٹتے اور زندہ جلاتے ان درندوں کے ”ماسٹر مائنڈ ز“ کو انجام تک پہنچا پائے گی یا نہیں ۔
کہیں یہ نہ ہو کہ اس بار بھی حکمران حکمت عملیاں بنا تے رہ جائیں ، اپوزیشن یکجہتیاں کرتی رہے اور قوم اس بار بھی غائبانہ جنازے پڑھتی قرآن خوانیاں کرتی اور موم بتیاں ہی جلاتی رہ جائے ۔ اگر اس با ر بھی پھول جیسے یہ شہداہماری کمزور یادداشتوں کی نذر ہوگئے ،ہم خود نہ اٹھے ،ہمارا فالو اپ کمزور پڑ گیا یا ہم نے سب کچھ ہی حکومت پر چھوڑ دیا تو پھرکچھ آنسو بچا کر رکھیں،آگے کام آئیں گے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com