بدعاؤں کے مراکز

جمعرات اگست    |    اسرار احمد راجہ

محترمہ مریم نواز شریف اور خود میاں نوازشریف نے ایک سے زیادہ مرتبہ بائیس کروڑ بوڑھوں ، بیماروں ، بیواؤں ، غریبوں ، خودکشیوں کے منتظر بیروزگاروں اور جناب اسحاق ڈار ، خواجہ آصف اور دیگرڈاروں ، خواجوں ، ملکوں ، چوہدریوں ، میروں ، وزیروں ، مشیروں اور ن لیگ کے قلمکاروں کے ستائے ہوئے پاکستانیوں سے میاں صاحب کی صحت یابی اور جلد پاکستان واپسی کی اپیل کی ہے۔ میاں صاحب اور صاحبزادی صاحبہ کی اپیل نہ تو وزن دار تھی اور نہ ہی غم گسار تھی۔
یہ اپیل ایسے ہی تھی جیسے ملک کا صدر یا وزیراعظم عید کے موقع پر عوام کو مبارک باد دیتا ہے یاکسی حادثے میں سو پچاس لوگوں کے مرنے پر دکھ اور غم کا اظہار کرتا ہے۔ وزیراعظم اور صدر کو شائد پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ملک کی ستر فیصد آباد نے کبھی خوشی سے عید نہیں منائی ۔

(خبر جاری ہے)

نہ اُن کے پاس عیدپر پہننے کے لیے کپڑ ے ہوتے ہیں، نہ اُن کے گھروں پر پکوان پکتے ہیں، نہ پاؤں میں جوتے ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ کسی کو مبارک باد دینے جاتے ہیں۔


صدر اور وزیراعظم جن حادثات پر غم کا اظہار کرتے ہیں در اصل وہ اس حادثے کے خود ذمہ دار اور مجرم ہوتے ہیں ۔ موٹروے سمیت پاکستان کی کوئی ایسی سٹرک نہیں جو حادثات کی دعوت نہ دیتی ہو۔ ٹریفک کے متعلق جتنے قوانین اس ملک میں رائج ہیں سب فرسودہ اور کرپشن کے فروغ کے لیے بنائے گئے ہیں۔ موٹروے پولیس سمیت سار پولیسنگ نظام رشوت خوری، ہٹ دھرمی اور دھونس پر مبنی ہے۔ موٹر وے پولیس کو شائیستگی اور نرم خوئی کا کبھی درس نہیں دیا گیا ۔
یہ پولیس صرف جرمانہ وصول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وراننگ دینے اور گائیڈکرنے کا انہیں سبق یاد نہیں ۔ جرمانہ کہاں جمع کرواناہے یہ بھی ان کی یاداشت میں فیڈ نہیں کیا گیا ۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں اگر آپ کو جرمانہ ہو جائے تو آپ ایک دن جرمانہ سنٹر کی تلاش میں پھریں اور دوسرے دن وہاں لائن میں لگ جائیں تو شائد شام تک آپ جرمانہ ادا کر سکنے کی سعادت حاصل نہ کر سکیں۔ جرمانہ سنٹر جا کر یوں لگتا ہے جیسے سارے اسلام آباد اور پنڈی کے لوگوں کو جرمانے کی بیماری لگ گئی ہے ۔
موٹر وے پولیس کا کم سے کم جرمانہ ریٹ پانچ سو روپے ہے۔ اگر آپ جرمانہ سنٹر کے باہر بیٹھے کسی جرمانہ ایجنٹ سے ملیں تو وہ مزید پانچ سو روپے لیکر آپ کا کام آسان کر سکتا ہے۔
لگتا ہے کہ یہ ایجنٹ بھی موٹروے والوں ہی کے ہیں مگر پھر بھی لوگ انہیں اچھا سمجھتے ہیں کہ چلوں مدد گار تو ہیں۔ جناب اسحاق ڈار اور چوہدری نثار سے درخواست ہے کہ آپ ایزی پیسہ والوں سے رابطہ کریں اور انہیں فی جرمانہ ایک سو روپیہ جرمانہ در جرمانہ لیکر جرمانہ وصول کرنیکا اختیار دے دیں۔
اس طرح آپ کے خزانے میں بھی اضافہ ہوگا اور ایز ی پیسہ والوں کی بھی کمائی ہو جائے گی۔ وہ اہلکار جو جرمانہ سنٹروں کے باہر جرمانہ سہولت کار کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں انہیں جناب اسحاق ڈار موٹروے سے قرضہ لیکر ایزی پیسہ جرمانہ سنٹر کھولنے کی سہولت فراہم کر دیں تاکہ لوگ ان سنٹروں سے خریداری کے علاوہ جرمانہ بھی ادا کر دیاکر یں۔ اس سہولت کے تین فائدے ہونگے ۔ اول روزگار کی فراہمی ، دوئم جرمانے کے جلد ادائیگی اور قومی خزانے کی بہتری اور سوئم ایزی پیشہ بنکاری کا فروغ ۔

اس سہولت کی وجہ سے جرمانہ سینٹروں کے باہر ہزاروں لوگ جو ذلیل و خوار ہوتے حکومت اور حکمرانوں کو گالیاں اور بد عائیں دیتے ہیں اس میں کچھ کمی آجائے گی ورنہ بدعاؤں کا سیلاب کسی دن عذاب بن کر نازل ہوگا۔ میاں صاحب اور مریم صاحبہ کو شائدپتہ نہیں کہ اس ملک کا ہر غریب ، بیمار ، بیروزگار ، بوڑھا اور مسکین دن رات بدعاؤں میں مصروف ہے۔ ان لوگوں کے پاس دعاؤں کا وقت نہیں ۔ اس رمضان میں خواجہ آصف ، اسحاق ڈار او رعابد علی شیر کے لیے عوام نے بدعاؤں کا خصوصی انتظام کر رکھا تھا۔
چونکہ خواجہ ا ٓصف اور عابد شیر علی نے ان لوگوں کو ستانے اور انہیں روزے جیسے مذہبی فریضے سے باز رکھنے کے لیے لوڈ شیڈ نگ کا خصوصی پروگرام ترتیب دیا تھاتاکہ لوگ روزہ نہ رکھ سکیں۔اٹھاراں اور بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگ پانی سے بھی محروم رہے اور میاں برادران کو بذریعہ خواجہ آصف اور عابد شیر علی کے بدعاؤں کے خصوصی پارسل بھجواتے رہے ہیں عوام کشی میں جناب اسحاق ڈار نے بھی خوب نام کمایا ہے اور اپنی بھرپور ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عام استعمال کی کوئی چیز عام آد می کی دسترس میں نہیں چھوڑی۔
دکانیں ، ٹھیلے ، کھوکھے ، تندور اور پھیری والے بھی بد دعاؤں کے مراکز بن چکے ہیں۔ عام آدمی کسی بھی چیز کا بھاؤ پوچھتے ہی سب سے چھوٹی بد عا دیتے ہوئے بے ساختہ بول اُٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ بیڑہ غرق ہو اس حکومت کا اور حکمرانوں کا ۔ جو حکمران لندن میں لیٹا ہو، ھیر لڈ میں شاپنگ کرتا ہو، ہائیڈپارک میں خاتون اول کے ہمراہ چہل قدمی کرتا ہواور مہنگے ترین ہوٹلوں میں کھانے کھاتا ہو اور مہنگے ترین علاقے میں رہتا ہوا ُسے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ غریبوں سے دعاؤں کی اپیل کر کے اُنکا مذاق اُڑائے۔

بدعاؤں کے مراکز میں بینک ، ائیر پورٹ ، بس اڈے اور ریلوے اسٹیشن بھی شامل ہیں ، چند روز قبل بینک جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ایک بوڑھے شخص کی آہ وزاری سن کر میں بھی اُ س کی بدعاؤں میں شامل ہوگیا ۔ اس شخص نے بیٹی کی شادی کے لیے بڑی مشکل سے پانچ لاکھ روپیہ جمع کر رکھا تھا۔اس بوڑھے کے پاس ایک فہرست تھی جس کے مطابق کھینچ تان کر بمشکل شادی کے لوازمات پورے کرنے تھے۔ اس فہرست میں بیٹی کا واجبی روائیتی اور دیہاتی جہیز وغیرہ شامل تھے۔
اس فہرست میں باپ کی طرف سے سونے چاندی کا کوئی زیور ، لہنگا ، فریج ، استری ، ٹیلی ویژن یا کسی قسم کا بجلی پر چلنے والا سامان شامل نہ تھا۔
بوڑھے شخص نے چیک جمع کروایا تو اسے پانچ لاکھ سے تین ہزار کم ملے چونکہ تین ہزار جسے آجکل ڈار ٹیکس کہا جاتا ہے کہ مد میں بینک نے کاٹ لیے تھے۔ اس تین ہزار کی کمی پر بوڑھے شخص نے جو واویلہ کیا اُسکا بیان مشکل ہے۔ وہ بار بار کہتا تھا کہ یہ تین ہزار کیسے پورے کرونگا ۔
یہ پیسہ میں نے کئی لوگوں سے قرض لیکر اور اپنا مال مویشی بیچ کر جمع کیا تھا ۔ اب مجھے قرض کون دیگا ۔ میں کس کے آگے ہاتھ پھیلاؤ نگا ۔ وہ با ر بار جنرل پرویز مشرف کویاد کر رہا تھا اور رو رو کر کہہ رہا تھا کہ یا اللہ مشرف کو واپس لاتا کہ وہ ان ڈاکوؤں کو پھر ملک سے نکال دے۔
اس سے پہلے کہ بوڑھا تین ہزار کے غم میں مرجاتا ایک خاتون اسے بینک سے باہر لے گی اور اسے باہر بیٹھا کر بینک میں آئی اور پھر واپس جا کر اُسے تین ہزار دیکر رخصت کر دیا۔
پوچھنے پر خاتون نے بتا یا کہ میں نے اسے باہر بٹھا کر کہا کہ تھوڑا صبر کرو بینک والے میرے جاننے والے ہیں میں تمہارے پیسے واپس لے آؤنگی۔ بینک سے باہر جا کر میں نے اسے تین ہزار دیکر بھجوادیا ہے اور کہا کہ آئندہ بینک میں پیسہ جمع نہ کروانا۔ میں اسحاق ڈار کو بھی بتا دونگی کہ وہ ایسا نہ کرے۔ بینکوں کے علاوہ قومی بچت کے مراکز ملک میں سب سے بڑے بدعا سنٹر ہیں۔ بوڑھے پنشنر ، بیوائیں اور دوسرے لوگ صبح نماز پڑھ کر گھروں سے نکلتے ہیں اور بینک کھلنے سے کئی گھنٹے پہلے آکر ٹوکن حاصل کرنے کے لیے قطاروں میں بیٹھ جاتے ہیں ۔
قومی بچت کا ادارہ دینا کا سب سے بڑا انسانی تذلیل کا مرکز ہے ۔یہ ادارہ اپنے مراکز سستی جگہوں پر قائم کرتا ہے جہاں ا سے کم سے کم کرایہ دینا پڑے ۔ان مراکز میں بیٹھنے کی کوئی سہولت نہیں ہوتی اور نہ ہی پانی اور ٹائیلٹ کا کوئی نظا م ہے لوگ کھڑے رہتے ہیں یا پھر زمین پر بیٹھ جاتے ہیں۔ صبح نو بجے بینک کے اوقات کے مطابق یہ مراکز کھل تو جاتے ہیں مگر عملہ غائب رہتا ہے۔ عملہ باری باری اپنی مرضی سے آتا ہے تو ٹوکن تقسیم ہوتے ہیں۔
ایک گھنٹہ شاہی عملہ گپ شپ کرتا ہے اورپھر کام شروع ہوتا ہے مگر کیشئر اکثرغائب ہوتا ہے۔ قومی بچت کا عملہ انتہائی بد تمیز اور بداخلاق ہے ۔ ایک لاکھ سے زیادہ وصولی کے لیے دو دن پہلے درخواست دینی پڑتی ہے اور تیسرے دن بھی گارنٹی نہیں ہوتی کہ آپ کو اپنی ہی رقم کا پرافٹ مل سکے۔ رقم جمع کروانا بھی دشوار عمل ہے چونکہ ایک ہی کیشئیر ادائیگی اور وصولی کا کام کرتا ہے۔ جب سے جناب اسحاق ڈار نے خزانے پرقبضہ جمایا ہے قومی بچت کا منافع انتہائی کم ہو گیا ہے جو کہ سراسر ظلم اور زیادتی ہے ۔
حکومت چاہتی ہے کہ لوگ اپنی رقومات نکال لیں تاکہ ادارہ بند کر دیا جائے۔ صبح سویرے لاکھوں غریب ، بوڑھے اور بیوائیں ان مراکز کے باہر بیٹھے حکومت اور حکمرانوں کو گالیاں اور بد دعائیں دیتے ہیں چونکہ یہ کارنامہ اسی حکومت کا ہے ۔ اسی ادارے کے باہر بوڑھے فوجیوں کا ایک گروپ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بھی اسحاق ڈار کی طرح یاد کرتا ہے ۔ اُن لوگوں کا کہنا ہے کہ جنرل کیانی نے آرمی ویلفےئر کا ادارہ ختم کر دیا اور ہماری چھوٹی چھوٹی بچتوں پر پہلے اسحاق ڈار کی طرح بتدریج منافع کم کیا اور آخر میں ادارہ ختم کر دیا۔
اب یہی روش قومی بچت نے اختیار کر رکھی ہے ۔ آرمی ویلفےئر سکیم نے یہ کہہ کر رقومات واپس کر دیں کہ اس ادارے کو کوئی جگہ میسر نہیں جہاں سرمائیہ کاری کی جائے۔ دیکھا جائے تو یہ ایک دھوکہ تھا چونکہ اس ادارے کے پاس فوجی سیمنٹ ، فوجی فرٹیئلائیزر ، عسکری سیمنٹ ، ڈی ایچ اے ، شورگر ملیں ، فوجی سیریل ، پولٹری ، ڈیری اور عسکری بینک سمیت درجنوں ادارے موجود ہیں جہاں بڑے بڑے سیٹھ اپنا سرمائیہ لگا کر اربو ں کھربوں کما رہے ہیں۔
ان اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے اشہارات دیکھ کر حیرانگی ہوتی ہے کہ ان کے پاس وطن کی خدمت کرنیوالوں کی چھوٹی بچتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں مگرسیٹھوں ، ٹیکس چوروں اور لوٹ مار سے جمع کرنیوالے سرمائیہ داروں کے لیے بہت گنجائش ہے یہ کارنامہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا ہے جن کے بھائیوں نے اربوں کما کر باہر منتقل کر دیے اور چند روز شور کے بعد سب کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی اور زبانیں خاموش ہوگئیں ۔
بیان کردہ فوجی ادارے جرنیلوں کے بچوں ، داماودں اور رشتہ داروں کی جنت ہیں ۔ فوجی جرنیل اپنے بچے فوج میں نہیں بھیجتے بلکہ انہیں بیرون ملک تعلیم دلو ا کر ان اداروں میں ایڈجسٹ کرواتے ہیں جہاں لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ کے علاوہ دیگر شاہی سہولیات بھی میسر ہیں۔
جن ریٹائرڈ فوجیوں ، یتیموں اور بیواؤں کا معمولی معمولی سرمائیہ آرمی ویلفیئر سکیم نے واپس کیا انہوں نے قومی بچت کا سہار لیا مگر اب یہ ادارہ بھی AWS کی طرح منافع کم کرتے کرتے اختتام کی طرف جارہا ہے۔

اگر میاں اینڈ ڈار ٹریڈنگ کمپنی ایک سیاسی جماعت ہوتی توا نہیں اپنے ملک کے غریبوں کا احساس ہوتا اور وہ جنرل کیانی کی طرح جنرل ویلفےئر اینڈ کیانی برادرز کارپوریشن کی ترقی اور خوشحالی کی عمارتAWT اور AWS کی بنیاد پر نہ رکھتے اور اپنے ریٹائرڈ افسروں اور جوانوں کی ویلفےئر کا خیال رکھتے ۔ جس میں بوڑھوں ، بیماروں ، یتیموں ، غریبوں اور پنشنروں کی زندگیاں اجیرن ہوں ۔ انہیں ذلیل ورسوا کرنے کے لیے حکومتیں منصوبہ بندیاں کریں اور جس ملک میں قدم قدم پر بدعاؤں کے مراکز کھلے ہوں وہاں عذاب الہٰی کا نزول یقینی امر ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com