قاضی کہاں ہے؟

بدھ مئی    |    اسرار احمد راجہ

ماہرین عمرانیات کہتے ہیں کہ انسانوں نے باہم رہنا شروع کردیا تو بستیاں آباد ہوگئیں۔ پھر بستیوں کی تعداد بڑھ گئی تو ایک قبائلی معاشرہ بن گیا۔ معاشرہ بنا تو معاشرتی مسائل نے بھی جنم لیا۔ جن میں عورتوں، زمینوں، جائیدادوں، جانوروں، پانی کے کنوؤں سے لیکر جنگلوں اور پہاڑ کی ملکیت تک کے جھگڑے لڑائیوں اور قتل و غارت کا موجب بننے لگے۔ اِن جھگڑوں اور مسائل سے نبردآزماء ہونے کیلئے قبائلی لیڈروں اور سرداروں نے ملکر کچھ اصول بنائے اور باہمی رضامندی سے ایک قبائلی ریاست کا وجود سامنے آیا۔
چونکہ ہر شخص اِس ریاست کے امور چلانے کا اہل نہیں تھا۔ اس لئے ایک دانا شخص کو منصف مقرر کردیا گیا۔ جو حالات، واقعات اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں فیصلے کرتا اور منصف کا ماتحت عملہ ان فیصلوں پر عمل درآمد کرواتا۔

(خبر جاری ہے)

یوں کچھ بنیادی اصولوں جنہیں ابتداء میں قوانین کی حیثیت حاصل تھی ایک منصف یا جج کی عقلی دلیل اور علم کی روشنی میں معاشرتی اور ریاستی امن و ترقی کا موجب بنا۔
معاشرہ و ریاست جدید ہو یا قدیم اُس کی ترقی اور امن بنیادی اصولوں اور قوانین کے نفاذ اور ایک منصف یا جج کے اِن اصولوں اور قوانین کے تحت فیصلوں سے ہی ممکن ہے۔

مملکت خداد پاکستان کی حالت زار دیگر مسلمان ملکوں سے مختلف نہیں۔ چونکہ مسلمان حکمران عدلیہ اور پولیس یعنی قاضی اور اُس کا ماتحت عملہ اسلام کے بنیادی اصولوں اور ان سے اخذ کردہ قوانین سے نہ صرف مبرا ہیں بلکہ ان کے عملی نفاذ سے بھی روگرداں ہیں۔ جب حکمرانوں، قاضیوں اور ماتحت عملے پر کسی قانون کا نفاذ نہ ہو اور اُن کی خواہش ، آسائش اور حکم کو ہی اصول، قانون اور ریاستی وجود تصورکر لیا جائے تو محض ایک برائے نام اسلامی معاشرہ اور ریاست زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔

دیکھا جائے تو آج ملک ایک عجیب بحران سے دوچار ہے۔ مگر سوائے فوج اور فوج کی معاونت کرنیوالے انٹیلی جنس اداروں کے کوئی ادارہ کام نہیں کررہا۔ حکمران جماعت اور اپوزیشن ملکی وسائل لوٹنے اور لوٹی ہوئی دولت بیرون ملک منتقل کرنے میں لگی ہوئی ہیں اور میڈیا اسے اچھالنے اور مال کمانے پر ۔ عدلیہ خاموش ہے اور کبھی کبھی اپنی بے بسی یا پھر حکمرانوں کو اصولوں اور قوانین کی پاسداری کا بھولا ہوا سبق یادلاتی ہے۔
کوئی معزز جج یا خود جناب چیف جسٹس کسی تقریب میں یا پھر عدالت میں ایسا جملہ کہہ دیتے ہیں جس سے عدالتی وجود اور قاضی کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ اگر ملک کے اندرونی مسائل کا تجزیہ کیا جائے تو تمام تر اندرونی مسائل تین بڑے مسئلوں سے منسلک ہیں اوران تین بڑے مسئلوں کی بنیاد عدل کا فقدان ہے۔اگر عدلیہ چاہے تو یہ تین مسئلے تین ماہ میں ختم ہوسکتے ہیں اور ملک میں خوشحالی اور امن بحال ہوسکتا ہے۔

سب سے پہلا مسئلہ برُی حکمرانی ہے جس کی ذمہ دار عدلیہ ہے۔ اگر آئین کی شک62اور63کا من و عن نفاذ ہو تاتو کوئی کرپٹ، نااہل ، سمگلر، ڈاکو، چور، نام نہاد پیر، عالم دین اور نو دولتیا جاگیردار اسمبلی میں نہ آتا۔الیکشن سے پہلے جب یہ لوگ بحیثیت امیدوار جج صاحبان کے سامنے پیش ہوئے تو معزز و محترم ججوں نے نہ صرف آئین کی شق62اور63کا مذاق اڑایا بلکہ اسلامی اصولوں اور قوانین کی بھی توہین کی۔ ججوں نے شادیوں کی تعداد، ازواج کیساتھ شب بسری کے اوقات، قومی ترانہ، آیت الکرسی، دعائے قنوت اور نماز کی چند دعائیں سنیں اور الیکشن لڑنے کا اہل قراردے دیا۔
بہت سے امیدوار سزا یافتہ تھے جن کی سزائیں الیکشن سے پہلے معاف کردی گئیں اور جن لوگوں نے بینکوں سے قرض لیکر ہڑپ کئے تھے انہیں بھی معافی نامے اور اجازت نامے جاری کردیئے گئے۔اگر عدلیہ چاہے تو ان تمام سزایافتگان، ٹیکس چوروں اور دھوکہ دہی کے ذریعہ الیکشن لڑنے والوں کی سابق سزاؤں کو بحال کردے اور نہ صرف انہیں اسمبلیوں سے باہر نکال دے بلکہ جرمانوں کے ساتھ سزائیں بھی دے۔
عدلیہ نے کئی بار نیب کو ڈیڈ لائن دی مگر نیب چیئرمین نے کسی بھی ڈیڈ لائن پر کام مکمل نہ کیا۔
میگا کرپشن کیسوں سے لیکر نندی پور، اورینج ٹرین، میٹروبس، انرجی منصوبے، ہاؤسنگ سکیموں کی لوٹ مار اور ملک کے اندر ذاتی ریاستوں کے قیام سے لیکر بیرون ملک اثاثے اور اب پانامہ پیپرتک نیب نے کسی بھی مسئلے پر دھیان نہیں دیا اور نہ ہی عدلیہ اور الیکشن کمیشن اِن مسائل پر دھیان دینے کے موڈ میں ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ کسی کرپٹ سیاستدان، نااہل اور غاصب حکمران کو عدلیہ ، الیکشن کمیشن، عوام یا پھر نیب کا ذرہ بھر ڈر نہیں اور نہ ہی کسی اصول کی پاسداری اور قانون کے نفاذ کا خوف ہے۔
سیاسی جماعتیں اپنے قائدین کی کرپشن کا دفاع کررہی ہیں اور اُن کے اعلیٰ ترین عہدیدار اور وزیر میڈیا پر اسے جائز اور درست قراردے رہے ہیں۔ کچھ کالم نگار ارو نام نہاد دانشور کعبے میں جاکر قسم کھانے کو تیار ہیں کہ اُن کے پسندیدہ عہدیدار اور حکمران فرشتہ سیرت انسان ہیں۔ اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ جناب آصف زرداری، نوازشریف، الطاف بھائی اور دیگر سیاستدانوں اور حکمرانوں کو نومبر کا انتظار ہے۔
یہ لوگ بینڈ بجاتے ، دھمال ڈالتے اور گیت گاتے پاکستان آئینگے اور نہ صرف ملک کی اینٹ سے اینٹ بجائینگے بلکہ ملک کو کنگال کرکے کسی سُپر پاور کے حوالے کردینگے۔
آخر کیا وجہ ہے ان لوگوں نے ایسا کیوں تصور کررکھا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے بعد آنیوالا آرمی چیف ان کی ذاتی خواہشات کے سامنے سرتسلیم خم کرلیگا۔یہ بہت بڑا سوال ہے جس پر نہ صرف فوج بلکہ ہر ذی شعور اور حب الوطن شہری کو سوچنا ہوگا ۔ ایم کیو ایم اور بھارتی خفیہ ایجنسی کے تعلقات سب کے سامنے ہیں مگر حکومت اسپر خاموش ہے۔
اچکزئی اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے تعلقات کی ویڈیو فلمیں ٹی وی دکھا چکے ہے مگر حکومت نے اسپر توجہ نہ دی چونکہ اچکزئی برادران حکومت کا حصہ ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی اور بھارت کے تعلقات ڈھکی چھپی بات نہیں۔ جبکہ مولانا فضل الرحمن کے بیرونی دنیا سے تعلقات بھی تحقیق طلب ہیں۔ جناب آصف علی زرداری اور اسحاق ڈار کے بیرون ملک اثاثے پاکستان کے مجموعی اثاثوں سے کسی طور کم نہیں اور اب وزیراعظم پاکستان کے معصوم بچوں کے اثاثوں کا حجم شائد ملکی اثاثوں سے کئی گنا بڑھ کرہیں۔

بظاہر تو فوج نے اس لو ٹ مار پر کوئی بیان جاری نہیں کیا مگر کوئی بات ایسی ہے کہ پاکستان کی سب سیاسی جماعتیں اور لیڈر کسی خوف میں مبتلا ہیں اور نومبر تک کے عرصے کو گندی سیاست اور کرپشن سے کمائی ہوئی دولت کیلئے بُرا شگون تصور کئے ہوئے ہیں۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ عوام کی نمائندگی کی دعویدار سیاسی جماعتوں اور آئین کی محافظ قومی اسمبلی اور سینٹ ممبران کو نہ تو عوام کے سامنے جوابدہی کا خوف اور نہ کسی آئین و قانون کی پاسداری کا خیال ہے۔
وہ عوام کی نبض کو جانتے ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ عوام میںٰ اتناشعور ہی نہیں کہ وہ ان کا احتساب کرسکیں۔عوام کی حیثیت غلامانہ ہے اور وہ رعایا کی طرح بادشاہوں کا حکم ماننے کے عادی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کسی کرپٹ اور لٹیرے سے پوچھا جائے تو وہ پورے تکبر اور تڑی سے کہتا ہے کہ فیصلہ عوام پر چھوڑو۔ پانچ سال بعد عوام فیصلہ کرینگے۔اُنہیں یقین ہے کہ عوام میں ہمت اور شعور نہیں کہ وہ احتساب کریں۔
پاکستان کے اندرونی حالات اسقدر ابتر ہیں کہ کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔
پچھلی اور موجودہ حکومت نے ملکر دحشت گردی کو پروان چڑھایا ہے جس میں دہشت گردوں کی بھتہ خوروں ، اغواء کاروں اور سمگلروں اوربیرون ملک دولت جمع کرنیوالوں کے ذریعے مالی معاونت ، الیکشن میں ووٹوں کا حصول، اپنے ملٹری ونگز کی تربیت اور اسلحہ کی ترسیل شامل ہے۔پچھلی اور موجودہ حکومت نے قومی اداروں کو ناکارہ اور کھوکھلا کردیا اور کوئی بھی ادارہ فعال کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔بیرونی قرضوں کا بوجھ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔
کرپشن انتہا کو چھو رہی ہے اور عام آدمی کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری نہیں رہی۔جرائم پیشہ عناصر کو حکومت کی آشیرباد حاصل ہے اور عدلیہ کا رویہ نرم ہے۔اس کی بڑی مثال عیان علی کے پچیس سے زیادہ پھیرے ہیں۔ پکڑے جانے کے باوجود یہ ثابت نہیں ہوا کہ چوبیس بار پانچ کروڑ کس کے لئے جاتے تھے؟ اس کے علاوہ درجنوں اداکارائیں ، ماڈلز ، فنکار اور صحافی بھی اسی طرح کے کارناموں میں ملوث ہیں مگر کسی کو ان کی پرواہ نہیں۔
ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے قتل عام، مصطفی کانجو اور جتوئی کے دن دیہاڑے فائرنگ کے شوق کو بھی قتل کی شوقیہ واردات سمجھ کر درگز ر کردیا گیا ہے۔لاہور ایئرپورٹ پرپکڑے جانے والے سونے کے بیوپاری اور ان جیسے دیگر بیوپاریوں اور ان کے سہولت کاروں پر بھی قانون کی گرفت نہیں او ر نہ ہی عدلیہ متحرک ہے۔بڑے قانون دانوں اور وکیلوں کا خیال ہے کہ از خود نوٹس حکومتی کاروبار میں مداخلت ہے اور اچھی روایت نہیں۔
سیاستدان اور سیاسی مفکر کہتے ہیں کہ مارشل لاء کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل پیدا کرنے کا جواز ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملک کو موجودہ حالات اور نام نہاد قیادت کے رحم و کرم پر چھوڑدیا جائے؟ اگر یہ ہوا تو حادثہ یقینی ہے۔مایوسی کے اس عالم میں دھیان پھر قاضی وقت کی کرسی کی طرف جاتا ہے۔اعلیٰ عدلیہ چاہے تو از خود نوٹس لیکر آف شور کمپنی مالکان، بیرون ملک اثاثہ جات رکھنے والوں سے سات یوم کے اندر جواب مانگیں کہ وہ ثابت کریں کہ یہ پیسہ کس طرح بیرون ملک لیکر گئے؟اگر یہ لوگ جواب نہ دے سکیں تو ان کی اسمبلی رکنیت ختم کردیں اور نیب اور ایف۔
آئی ۔اے سمیت دیگر اداروں پر مشتمل ٹیم بناکر تفتیش کا عمل شروع کریں۔ان لوگوں کے نام، اثاثے اور دولت انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ اس پر وقت اور پیسہ ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔ جن لوگوں کی دولت ہے وہ خود ثبوت پیش کریں نہ کہ کوئی نام نہاد کمیشن مزید اربوں ڈالر تین سال بعد سب اچھا کی رپورٹ پیش کریں۔ جہاں تک نیب اور الیکشن کمیشن کا تعلق ہے ان میں اتنی سکت نہیں اور نہ ہی دلچسپی ہے۔ عدلیہ کا ترازو قاضی وقت کے ہاتھ ہے جسے حکمرانوں اور عوام کے درمیان عدل کا اختیار ہے۔ آج عوام پوچھ رہے ہیں کہ قاضی کہاں ہے؟ اگر قاضی نے عدل نہ کیا تو پھر حکمران، عوام اور قاضی خدائی عدل کے منتظر رہیں اور یہ بھی سوچ لیں کہ الہٰی عدل عذاب الہٰی کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com