بھلے پکوڑیوں سے آگے

منگل جون    |    جاہد احمد

سیانے کہہ گئے ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی، اسی طرح تمام گول اورپوپلی چیزیں بھلے پکوڑیاں نہیں ہوتیں! پاکستان کا صدرِ مملکت گو کہ ریاست کا آئینی سربراہ اور وفاق میں اتحاد کی علامت ہے لیکن یہ اوصاف اور محدود اختیارات رکھنے کے باوجود نوجوانانِ پاکستان انہیں کسی بھی قسم کی رعایت دینے پر تیار نظر نہیں آتے۔جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ جو قصے سن کر یا دیکھ کر یہ پود پلی بڑھی ہے اُن میں صدرِ پاکستان 58-2B کی ننگی تیز دو دھاری تلوار ہاتھ میں تھامے اونچی شاہانہ کرسی پر براجمان ہیں جبکہ سامنے تپتے میدان میں ناتواں، کمزور، بیساکھیوں پر کھڑی، غیر جمہوری ماحول میں ملکی مسائل سے نبرد آزما ہوتی حکومت اپنے تیئں تمام شراکت داروں کے ذوق کی تسکین کے لئے رقصاں ہے۔
صدر ایسا بلوان کہ ادھر حکومت کی کوئی حرکت ناگوار گزری ، ادھر کرسی چھوڑی، اسپ کو ایڑھ لگائی اور حکومت کی گردن اڑا کر نئے انتخابات کا ڈنکا پیٹ ڈالا۔

(خبر جاری ہے)


آج سوشل میڈیا کے غیر سنجیدہ مگر انتہائی پراثر دور میں صدرِ پاکستان کا مصرف پاکستانی عوام خصوصاٌ سوشل میڈیا مجاہدین کے لئے محض اتنا رہ گیا ہے کہ صدر کی تصاویر کو مضحکہ خیز جملوں سے بھر کر ان کی پتلون، ٹائی اور وضع قطع کی کھِلی اڑ ا کر بات بھلے پکوڑیوں پر ختم کر دی جائے، اس بات کو سمجھے بغیر کہ آج کا صدرِ پاکستان نہ ہی ڈکٹیٹر کی قوت رکھتا ہے اور نہ ہی 58-2B کی تلوار! ریاست کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے ہر پارلیمانی سال کے آغاز میں پارلیمان کو قومی پالیسیوں سے متعلق سمت دکھانا اس عہدے کی اہم آئینی ذمہ داری ہے جسے سنجیدگی سے برتنا چاہیے۔

صدرِ پاکستان نے اپنے حالیہ خطاب میں دو اہم ترین نکات کی جانب پارلیمان کی توجہ ضرور مبذول کرائی ہے۔ ایک معیشت کی بحالی کے حوالے سے سیاسی اتفاقِ رائے اور اقتصادی پالیسیوں کا تسلسل جبکہ دوسرا دہشت گردی و شدت پسندی کے خلاف ایک نئے قومی بیانیے کی تشکیل!
سپاہ سالار ِ پاکستان کے مطابق پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ 99% تک ہو چکا ہے۔ظاہر ہے جس کی بنیادی وجوہ آپریشن ضربِ عضب اور نیشنل ایکشن پلان ہی نظر آتیں ہے۔
سپاہ سالار کا دعوی سر آنکھوں پر کیونکہ بلاشبہ دہشت گردی کے واقعات میں کمی ضرور ہوئی ہے!لہذا اعداد و شمار کی بحث میں الجھے بغیر سوال یہ ہے کہ بقایا 1% بچی کھچی دہشت گردی کا سدِ باب کیونکر ممکن ہو گا؟سوال یہ بھی ہے کہ کیا کسی مخصوص وقت میں دہشت گردی کے واقعات میں% 100تک کمی بھی ہو جانا اس ناسور کے مکمل خاتمے کی دلیل شمار کی جا سکتی ہے؟ جسم کے سرطان زدہ حصے کے علاج کا طریقہ یہ ہے کہ سرطان زدہ حصے کو کاٹ کر الگ کر دیا جائے یا اس حصے میں پیدا ہوتے سرطان زدہ خلیوں کو تابکاری کے ذریعے فوری ختم کیا جائے اور تابکاری کے بعد بچے کھچے بیمار خلیوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے کیموتھراپی کا استعمال کیا جائے۔
اس تیز رفتار لیکن تکلیف دہ تابکاری عمل اور کیمو تھراپی کے باوجود سرطان زدہ خلیے جسم سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے ، مزید براں یہ مروج طریقہ علاج سرطانی خلیوں کے ساتھ ساتھ جسم کے صحت مند خلیے بھی تباہ کر دیتا ہے جس سے جسم کی قوتِ مدافعت کافی کم ہو جاتی ہے۔لہذا جسم کے اندر ایسا ماحول پیدا کرنا پڑتا ہے جو دورانِ علاج مکمل ختم ہو چکے سرطانی خلیوں کے دوبارہ پیدا ہونے اور پنپنے کے لئے سازگار نہ ہو اور قوتِ مدافعت کو تقویت بخشے بصورتِ دیگر سرطان لوٹ آنے کا امکان بہت زیادہ رہتا ہے۔
اس صورت میں سرطانی خلیے کمزور قوتِ مدافعت کے فطری ردِ عمل کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ بچا کچھا سرطان، چاہے 1% بھی ہو، بڑھ کر بھر پور قوت سے حملہ آور ہو تا ہے اور جسم پر ایک بار پھر حاوی ہو جاتا ہے۔ سرطان لوٹ کر آئے تواسے قابو کرنا تب آسان نہیں رہتاکیونکہ جسم بار بار تابکاری اثرات کی مار کھانے کی سکت نہیں رکھتا ہے۔
جمہوری نظام کا تسلسل ،معاشی استحکام اور شدت پسندی کے خلاف غیر مبہم، شفاف و مفصل قومی بیانیے کی تشکیل معاشرے میں ایسا سازگار ماحول پیدا کرنے کے لئے بنیادی اجزاء کی حیثیت رکھتے ہیں جو دہشت گردی کے سرطان کو بھرپور قوت سے مسلنے کے بعد مستقل و طویل مدتی بنیادوں پر قابو کرنے میں کلیدی اہمیت کا حامل ہو۔
ان اجزاء میں بھی ریاست کے رگ و پے میں سرائیت کر چکے قومی بیانیے کے اثرات کے بر خلاف ایک ایسے نئے اور مربوط قومی بیانیے کی تشکیل بلاشبہ زیادہ مشکل عمل ہے جو ریاست کے مفادات کو گروہی مفادات سے علیحدہ یا قطع تعلق کر سکے۔ ادارے وسیع تر ریاستی مفادات کے پیروکار ہوں نہ کہ ریاست گروہی مفادات کی محافظ بن بیٹھے جس طور80 کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں تشکیل پائے قومی بیانیے نے نہ صرف شدت پسندی و عدم برداشت و دہشت گردی کی بنیاد رکھی بلکہ معاشرتی، سیاسی اور سماجی ریشے کو تار تار کردیا۔
اسی قومی بیانیے کے اثرات کے تحت ریاست گروہی مفادات کے تحفظ سے ایک قدم آگے بڑھ کر شخصی مفادات اور نظریات کی امین ٹھہری اور شہریوں کی جانب اپنے فرائض سر انجام دینے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔
فی الوقت جمہوری نظام موجود ہے جس کے تسلسل سے چلتے رہنے کی امید رکھی جا سکتی ہے، معیشت کی بنیاد پر سیاست کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے، اب اس کے بعد شدت پسندی کے خلاف ایک ایسا قومی بیانیہ تشکیل دینا وقت کی ضرورت ہے جو ماضی کی سنگین غلطیوں کو گلوریفائی کرنے کے بجائے اس کے مضر ترین اثرات پر روشنی ڈالے اور اٹھائے گئے نقصانات کی نشاندہی کرے، ایک ایسا قومی بیانیہ درکار ہے جو ریاست کی جانب سے مذہب یا مسلک کی بنیاد پر کسی شخص کے لئے کوئی رعایت پیدا نہ کرے، جو ریاست کی شہریت کی اساس پر اکثریت اور اقلیت کی تفریق ختم کرے، جو گروہوں اور شخصیات کے مفادات کو کسی خاطرمیں نہ لاتا ہو، ایسا غیر معمولی قومی بیانیہ جو امن ، بھائی چارے، مساوات، برداشت اور پاکستانیت کے جذبے کو فروغ دے، جو مذہب اور ریاستی امور کے درمیاں واضح لکیر کھینچ ڈالے، ریاست کے لئے اپنی سرحدوں کی حدود سے باہر عدم مداخلت کی پالیسی کا پرچار کرے!وہ قومی بیانیہ جو شدت پسندی کے خلاف زیرو ٹالیرنس کا استعارہ ہو !
صدرِ پاکستان کے خطاب کو سنجیدگی سے لیا جائے تو انہوں نے پارلیمان کوصحیح راہ دکھائی ہے اب اس کے بعد کا کام ریاست کے اس اہم ترین ستون نے سر انجام دینا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com