فاحشہ

بدھ مارچ    |    جاہد احمد

ایک مفتی صاحب پنجاب حکومت کی جانب سے خواتین کو تشدد کے خلاف تحفظ فراہم کرنے والے قانون کو پاس کرنے پر اسقدر سیخ پا ہوئے کہ بنفس نفیس اس قانون کے خلاف ایک عدد انتہائی فصیح و بلیغ ویڈیو پیغام ریکارڈ کروا کر اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے مشتہر کر دیا۔بلاشبہ ان کی جانب سے اس قانون کو غیر اسلامی و غیر اخلاقی قرار دیا گیا ہے۔ غیر اخلاقی ہو بھی کیوں نہ کہ یہ خواتین کو تشدد کے خلاف قانونی حقوق فراہم کر نے کی بات کرتا ہے۔
بحث کا محور اس قانون کی ضرورت، بنیاد، تعمیل ،عملداری، قانونی شقیں،فائدہ یانقصان ہوتا تو پیغام نہ صرف مفتی صاحب کا مدعا بہتر طور پر بیان کر سکتا تھا بلکہ پر مغز بات چیت کے آغاز کا موجب بھی بن سکتا تھا پر کیونکہ مغز اور ملائیت کا دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں تو منطقی انجام یہی ہوا یہ کہ پیغام صرف محیط تھا نفی کے اظہار پر، نفرت کے پرچار پر، فتوے بازی پر،گالم گلوچ پر، دھمکیوں پر، ریاستی رٹ کی رد پر اور سب سے بڑھ کر خواتین کے لئے اُسی زن بیزار تضحیک آمیز رویے اور اندازِ خطاب پر۔

(خبر جاری ہے)

فاحشہ ! فاحشہ کا خطاب ملا ہے شرمین عبید چنائے کو مفتی صاحب کی شیریں زبان سے جس کا براہ راست تعلق ہے مفتی صاحب کے ذرخیز دماغ سے۔ملک کے منتخب وزیر اعظم اور صوبائی وزیر اعلی کو جن خطابات سے نوازا گیا ہے وہ اس کے سوا ہیں۔کیا تبدیل ہوا ہے ؟ کچھ بھی تو نہیں۔مذہب کا بیوپاری کل بھی طاقت رکھتا تھا اور آج بھی۔
شرمین عبید چنائے نامی’ فاحشہ‘ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ پاکستان کی اس باصلاحیت ’فاحشہ‘ شہری نے 2012 میں خواتین کے چہروں پر تیزاب پھینکے جانے کے واقعات پر ’سیونگ فیس‘ نامی ڈاکیومینٹری بنا کر آسکر ایوارڈ جیتا تھا۔
اس سال ایک بار پھر اسی ’فاحشہ‘ کی ڈاکیومنٹری ’اے گرل ان دی ریور‘ جو کہ غیرت کے نام پر خواتین کے قتل کئے جانے کے موضوع پر بنائی گئی ہے پھر آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد ہو چکی ہے۔یوں پھر سے پاکستان کا جھنڈا ایک فاحشہ سر بلند کر رہی ہے جبکہ پاکستان کے پاکباز مفتی فتوی ساز فیکٹری سے محض عدم برداشت، قدامت پسندی، تشدد اور نفرت کے گہرے سائے پیدا کرنے میں مشغول ہیں۔ بہت امید ہے کہ یہ ڈاکومینٹری بھی اس سال آسکر ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی۔

ایسے نازک موضوعات کو پردے پر اجاگر کرنا اور ڈاکیومنٹری کی شکل میں اپنی اعلی ترین فنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کردنیا کے بڑے سے بڑے فورم پر موثر ترین انداز میں پیش کرنے والے کو’ فلمساز‘ تو ضرور کہا جا سکتا ہے لیکن ’فاحشہ‘ کیسے؟ وہ کون سا ایسا علم اور تحقیق ہے جس کے تحت ایک عدد فلمسازکو فاحشہ گردانا جائے جبکہ فلمساز انسانی زندگی سے جڑے تلخ موضوعات پرفلمسازی کر رہا ہو۔جو جواب سمجھ آتا ہے اس کا تعلق پاکستانی معاشرے کے رویوں سے ملتا ہے اور وہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے فلمساز ایک عدد خاتون ہے جبکہ فاحشہ کا خطاب دینے والا مذہب کا طاقتور بیوپاری ہے ۔
پس ثابت ہوگیا کہ پاکستانی فلمساز فاحشہ ہے!
فلمساز ایک فاحشہ ہے کیونکہ وہ خواتین کے تیزاب سے جھلسے با حیا با پردہ چہروں کو بے نقاب کر کے دنیا کو ان کی تکلیف سے آشنا کراتی ہے۔وہ ان پگھلے چہروں کی بدصورتی سے چادرہٹا کر ان کے لئے حقوق اور زندگی کا مطالبہ کرتی ہے۔وہ ان نا امید تیزاب خوردہ چہروں کو بے پردہ کرتی ہے اور انہیں دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا حوصلہ دینا چاہتی ہے۔وہ ان بے پردہ چہروں کی تصاویر بناتی ہے، انہیں فلماتی ہے، ان کے خیالات ریکارڈ کرتی ہے اور پھر دنیا کو دکھاتی ہے۔
وہ غیرت کے نام پر کٹے ہوئے مردہ نسوانی جسموں کی کہانیوں کو بھی کمال بے حیائی سے پردے پر پیش کرتی ہے۔ کس بے شرمی سے پاکستانی معاشرے کے عریاں حصوں کی منظر کاری کرکے بہتری کی جانب قدم اٹھانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ سچ مچ بڑی فاحشہ ہے۔
مغرب کی ایجنٹ اس فاحشہ کو چاہیے کہ مفتی صاحب کے معیار پر پورا اترنے اور نیک و پاکباز بی بی بننے کے واسطے ایسی غلیظ اور اخلاق باختہ ڈاکیومنٹریاں بنا کر پاکستانی معاشرے کے کوڑھ زدہ جسم کی نمائش کر کے سستی شہرت و پیسہ کمانے کے بجائے دین کی سربلندی اور مغرب کے دانت کھٹے کرنے کی خاطر ہمسائیہ ملک میں جا کر جنگ و جدال کی تربیت حاصل کرے، گولی بندوق چلانا سیکھے، سر قلم کرنے نیز خود کش بمبار ی کی تربیت لے، بم وم پھاڑنا سیکھے کیونکہ اسی میں اس فاحشہ کی اصلاح ، بہتری اور ابدی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔

یوں تو مغرب اور مغربی سازشوں سے انتہائی خائف مفتی صاحب کا دبنگ ویڈیو بیان بہرحال غیر اسلامی ایجاد فیس بک سے نشر ہوا۔جس آلے سے پیغام ریکارڈ ہوا وہ بھی یقینا مغرب کی ایجاد ہے۔ جس انٹرنیٹ کو استعمال کر کے پیغام اپ لوڈ کیا گیا اور لاکھوں لوگوں تک پہنچا وہ بھی مغرب کا تحفہ ہے۔لیکن بلا شک و شبہ مفتی صاحب نے کافروں کی ان ایجادات کے استعمال سے متعلق کوئی فتوی ضرور لے رکھا ہو گا وگرنہ کبھی انہیں استعمال میں نہ لاتے۔
برملا کہا جا سکتا ہے کہ مفتی صاحب جیسے نابغہ روزگار افراد کو دیکھ کر ہر سو اندھیرے، تیرگی اور نا امیدی کا احساس ہوتا ہے جبکہ فاحشہ فلمساز جیسے زندہ ذہن چراغ اور امید کی مانند ہیں۔ خالد احمد کا لازوال شعر ہے:
ظلمتِ شب میں کچھ کمی ہوئی نہ کوئی آثار سحر کے ہیں
مگر مسافر رواں دواں ہیں ہتھیلیوں پہ چراغ دھر کے
ہمارا کام صرف آگے بڑھتے رہنا اور اپنی سی کوشش کرتے رہنا ہے۔

جدیدیت کی جانب بڑھتا ہر قدم رجعت پسند افراد کے سینوں پر مونگ دلتا ہے۔ ایسے اقدامات کی توثیق جو خواتین کو مرد کی زیادتی کے خلاف حقوق فراہم کریں رجعت پسند افراد کے لئے ہمیشہ سے سخت ناپسند فعل رہا ہے۔ سادہ بات ہے کہ ایسے اقدامات سیدھا ان کی دکانداری پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ پیٹ کا سوال ہے بابا! عوام جسقدر باشعور ہوگی اتناہی ان کے چنگل سے آزاد ہوتی چلی جائے گی اور یہی بات اس طبقے کے لئے نا قابلِ قبول ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com