اخلاقیات نہیں قانون

اتوار اپریل    |    جاہد احمد

اخلاقیات کے اتم درجہ پرفائز پاکستانی قوم کے لئے بہرحال ’اخلاق‘ نامی شے یا رویہ’لیاقو کانے‘ کا درجہ رکھتا ہے۔ ہر وہ خواہش اور عمل جو کسی انفرادی یا ذاتی قائم معیار پر پورا اترتے دکھائی نہ دیں انہیں ’لیاقو کانے‘ کے کھاتے میں ڈال دینا تسلی بخش قومی عمل ہے۔یہ ایک نفسیاتی مسئلہ بھی ہے کہ شخصیت میں جس وصف کی کمی سب سے زیادہ ہو انسان اسی خصوصیت کا ذکر بار بار دہرا کر دوسروں کو اپنے باوصف ہونے کا یقین دلانا چاہتا ہے۔
یہی نفسیاتی مسئلہ پاکستان کا قومی نفسیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔
عملی سطح پر پاکستانی قوم کے اخلاق کا عالم ملاحظہ کیجئے! مردہ گائے بھینسوں کے گلوں پر تکبیر پڑھی چھری چلائے بنا گوشت فروخت کرنا بالکل ناجائز اور حرام جانتے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

گدھے گھوڑے کیاکتے تک کاٹ کاٹ کر عوام کو کھلا دینے میں بھی کوئی عار نہیں کیونکہ جو گدھا گھوڑا ہضم کر سکتا ہے اس کے لئے کتا کیا حیثیت رکھتا ہے یوں بھی کتا تو قد و قامت میں گدھے گھوڑے سے کافی چھوٹا جانور ہے۔

اخلاق پر ایسا ملکہ رکھتے ہیں کہ نت نئے طریقوں سے ملاوٹ کرنے میں نہ رکتے ہیں نہ جھجھکتے ہیں، ذخیرہ اندوزی کے فن میں ماہر ہیں، رشوت خوری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ہیں حالانکہ جس کرسی پر بیٹھ کر رشوت لیتے ہیں اسی کے ٹھیک پیچھے دیوار پر اوپر کر کے جلی حروف میں لکھا ہے کہ رشوت لینے والے جہنمی ہیں۔ کیونکہ اشیائے خرد و نوش کے ضیاع کو برداشت نہیں کرسکتے اسی لئے مردارجانوروں کی آلائشوں سے تیل کا آخری قطرہ تک نچوڑ کر بیچ ڈالتے ہیں۔
ایسا اخلاق کہ کیا مجال جو سڑک پرسے اکیلی لڑکی بغیر چھڑے گزر جائے۔ پانچ پانچ سال کے بچے بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے سے نہ کبھی گھبراتے ہیں اور نہ کبھی کتراتے ہیں۔ایسے اعلی مضبوط اخلاق ہیں کہ غیرت کے نام پر بہن بیٹیوں بیویوں پر کلہاڑیاں، چاقو، ٹوکے، گولیاں چلاتے ہاتھ میں ذرا لرزش پیدا نہیں ہونے دیتے۔ زبان سے ادا ہوا جملہ پانچ سات ننگی گالیوں سے مرکب نہ ہو تو بات کی درست وضاحت پیش نہیں ہوتی۔
اخلاقیات کے یہ اعلی معیار قائم کرنے میں پاکستانیوں نے برس ہا برس ریاض کیاہے۔ ایسی اعلی اخلاقیات رکھنے والی پاکستانی قوم تحفظ نسواں بل کو غیر اخلاقی قرار دے تو کیا غلط ہے!
پاناما لیکس کلی طور پر ایک عدد قانونی معاملہ ہے ۔ اس سے جڑے تمام افراد اپنے اثاثہ جات اور کمائی کے ذریعوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں جوابدہ ہو سکتے ہیں یا جوابدہ ہوں گے۔کیونکہ آفشور کمپنیاں بذاتِ خود غیر قانونی حیثیت نہیں رکھتیں لہذا کسی بھی منطقی انجام تک پہنچنے کے لئے ان کمپنیوں میں کی گئی تمام قسم کی سرمایہ کاری کو محض قانونی تناظر ہی میں جانچنے کی ضرورت ہے ۔
جزا یا سزا کا فیصلہ قانون کرے گا اخلاق نہیں۔
پاکستانی وزیرِ اعظم سے آئس لینڈ کے وزیرِ اعظم کی تقلید میں وزارت سے اخلاقی بنیادوں پر مستعفی ہونے کا مطالبہ اعلی ترین اخلاق کے حامل کسی بھی پاکستانی کے منہ سے اچھا معلوم نہیں ہوتا لہذا اس معاملے کے اخلاقی پہلوؤں پر بحث کرنا وقت کا ضیاع ہے کیونکہ پاکستانی سیاستدان بھی اتنے ہی با اخلاق ہیں جتنے کہ ہم سب دیگر پاکستانی۔ مزید یہ کہ آئس لینڈ کے وزیرِ اعظم کسی بھی صورت اخلاقی بنیادوں پر مستعفی نہیں ہوئے بلکہ وہ براہ راست آفشور کمپنیوں سے مستفید ہو رہے تھے اور پاناما لیکس کے بعد اس براہ راست استفادے سے انکار ممکن نہیں رہا تھا۔
اخلاقی بنیادوں پر استعفی کا تاثر دیا جانا بر خلاف حقائق ہے۔ جبکہ دیگر ممالک کے اعلی عہدیداروں نے یا تو پانامہ لیکس کو یکسر مسترد کر دیا ہے یا پھر تحقیقات شروع کر نے پر پر تولے ہیں۔بنیادی نقطہ یہ ہے کہ پانامہ لیکس سے متعلق تمام ممالک کا ردِ عمل اپنے معروضی حالات ، زمینی حقائق اور مروج قوانین کی مناسبت سے سامنے آ رہا ہے۔
وزیر اعظم پاکستان کی تقریر کے مندرجات کو ایک طرف رکھ دیں تو کم از کم یہ بات ضرور خوش آئیند ہے کہ ایک جمہوری دورِ حکومت میں ریاستِ پاکستان کے منتخب وزیرِ اعظم نے پاناما لیکس میں اپنے بچوں کے نام سامنے آنے پر اپنے آپ کو تحقیقات کے لئے پیش کیا ہے۔
تحقیقات کے فورم یا طریقہ کار پر اختلافِ رائے ہو سکتا ہے کہ آیا تحقیقات انکوائری کمیشن کے ذریعہ سے ہوں گی یا کہ عدالتی کمیشن سے، پر بنیادی اور اہم نقطہ یہ ہے کہ منتخب وزیرِ اعظم پاکستان نے اپنے آپ کو کم از کم کسی نوعیت کے احتساب کے لئے پیش تو کیا ہے!! بلاشبہ ایسا عمل ایک جمہوری نظام ہی سے توقع کیا جا سکتا ہے جو پاکستان کی جمہوریت کے لئے ایک اچھی روایت بھی قرار دی جا سکتی ہے وگرنہ ایسے حکمران بھی گزرے ہیں جو آئین و قانون کو ردی اور اسے پامال کرنے کو بائیں ہاتھ کا کھیل سمجھتے رہے ہیں۔
یہ وہی طبقہ ہے جو عدالت میں پیش ہونے کو اپنی تضحیک جانتا ہے اور ہر قسم کی کرپشن کے باوجود باعزت طور پر آج کل ملک میں پایا بھی نہیں جاتا۔
یہ بھی غور طلب ہے کہ گر وزیرِ اعظم پاکستان نے پاناما لیکس کے بعد نہ کوئی تقریر کی ہوتی اور نہ ہی تحقیقات کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا ہوتا تو یقینا آج انکوائری کمیشن یا احتساب کے طریقہ کار پر تنقید کرنے والے کم از کم کسی ایسے ہی انکوائری کمیشن کا مطالبہ کرتے دکھائی دیتے جو وزیرِ اعظم نے خود تجویز کیا ہے۔
امید ہے کہ ایسے تمام افراد جو سب کچھ، سچ سچ، صد فیصد جانتے ہیں کہ آفشور کمپنیوں میں پیسہ نہ صرف غیر قانونی طور پر بھیجا گیا ہے بلکہ یہ پاکستانی عوام کا لوٹا ہوا پیسہ ہے انہیں فوراٌ سے پہلے اخلاقیات کے لیاقو کانے پر ملبہ ڈالنے کے بجائے شواہد اکھٹے کر کے انکوائری کمیشن میں پیش کرنے کے لئے کمر کس لینی چاہیے کہ پاکستان کو ایک بد نیت کرپٹ سیاستدان سے نجات دلانے کا اس سے بہتر موقع جانے کب دوبارہ ہاتھ آئے۔ قانون کی عملداری قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ قانون غالب رہے گا تو اخلاق بھی سدھرنے لگیں گے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com