افغانستان میں امن؟

پیر فروری    |    خالد ارشاد صوفی

افغانستان میں قیام امن اورموجودہ حکومت اور طالبان گروپوں کے مابین مفاہمتی کوششوں کے سلسلے میں 23فروری کو پاکستان،افغانستان چین اور امریکہ کے نمائندگان کا اجلاس کابل میں منعقد ہوا جس میں افغانستان حکومت اور طالبات گروپوں کے مابین براہ راست مذاکرات آئندہ ماہ مارچ میں پاکستان میں منعقد ہوں گے۔ان کاوشوں کے ثمرآور ثابت ہونے کے حوالے سے یہ طالب علم زیادہ پُرامید نہیں ہے اس کم امید کی بنیاد افغانستان میں جاری دہائیوں کے جنگی ماحول اور نئی نسل میں پروان چڑھے جنگجوآنہ مزاج،طالبان کے گروپوں میں تقسیم ہوجانا اور قیام عمل و مفاہمت کے لیے ماضی میں کی جانے والی کوششوں کے نتائج ہیں۔

نو سال ،ایک مہینے ،تین ہفتے اور ایک دن کی جنگ میں اپنے ہزاروں فوجی مروانے اور لاکھوں افغانوں کو مارنے کے بعد سوویت یونین نے افغانستان سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تواپریل 1989کو پاکستان اور افغانستان نے جنیوا معاہدے پر دستخط کئے جس کے بنیادی نکات یہ تھے کہ افغانستان کی خود مختاری اورافغان عوام کا حق خود اختیاری قائم رہے گا ‘ اس کے معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی ‘ افغان مہاجرین کی بحفاظت اور باعزت واپسی کا بندوبست کیا جائے گا ۔

(خبر جاری ہے)

بعد ازاں اسی سال مئی میں یہ معاہدہ طے پایا کہ تمام غیر ملکی افواج افغانستان سے واپس چلی جائیں۔ غیر ملکی افواج سے مراد سوویت افواج تھا۔ اس معاہدے کے تحت 15افروری1988کو آخری سوویت فوجی نے دریائے آموں پار کیا اور اس طرح افغانستان سے سوویت افواج کا انخلا مکمل ہو گیا‘ لیکن یہ ایک بحران کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک نئے بحران کا آغاز تھا۔
افغانستان سے سوویت فوجوں کا انخلا ابھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ مغربی پریس نے افغانستان میں اگلی حکومت کے قیام کے بارے میں چہ میگوئیاں اور قیاس آرائیاں شروع کردیں۔
افغانستان میں نجیب اللہ کی حکومت تھی‘ لیکن سوویت افواج کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کے مختلف گروہ بھی افغانستان میں خود کو اقتدار کے حق دار سمجھتے تھے۔ اس کا نتیجہ ایک چپقلش کی صورت نکلا اور افغان صدر نجیب اللہ نے اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لئے مجاہدین سے لڑے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کے نتیجے میں افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی ۔
1992میں مجاہدین نے نجیب اللہ کا تختہ الٹ دیا ‘ امن پھر بھی قائم نہ ہو سکا ۔
الٹا خانہ جنگی تیز ہو گئی۔ اب مجاہدین کے مختلف گروہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہوگئے۔
نجیب اللہ کے مستعفی ہونے کے بعد اپریل1992میں معاہدہ پشاور عمل میں لایا گیا‘ جس کے تحت تمام افغان پارٹیوں کو متحد کیا گیا ؛ تاہم گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی اس معاہدے کا حصہ نہ بنی اور اس کی جانب سے کابل پر حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس طرح معاہدہ پشاور پر پوری طرح عمل درآمد نہ ہو سکا۔ جون 1992میں شیڈول کے مطابق برہان الدین ربانی کو افغانستان کا صدر بنا دیا گیا۔
لیکن مجاہدین کے اختلافات دور نہ کئے جا سکے۔
اب پاکستان‘ ایران اور سعودی عرب کی کوششوں سے 7مارچ 1993کو اسلام میں ایک اور معاہدہ کیا گیا‘ جس میں طے پایا کہ ربانی جون 1994تک بدستور افغانستان کے صدر رہیں گے ‘ حکمت یار کو وزارت عظمیٰ دی جائے گی اور کابینہ میں تمام پارٹیوں کو نمائندگی ملے گی۔ اس معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے افغان لیڈروں نے مکہ کا دورہ ار وہاں اس معاہدے پر قائم رہنے کی قسم کھائی۔
لیکن اس معاہدے پر بھی وہ قائم ہ رہ سکے۔
18مئی1993کو اس معاہدے میں کچھ ترامیم کی گئیں اور حکمت یار کو کچھ مزید اختیارات دئے گئے ‘ لیکن اس سے مسئلہ حل نہ ہو سکا۔
1994میں طالبان ابھرئے اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے طاقت حاصل کرلی۔ اور 26ستمبر 1996میں وہ کابل پر قابض ہو گئے۔اس دوران شمالی اتحاد اور طالبان کی سپاہ میں شامل”مجاہدین“ اور بدنصیب افغان عوام کی ہلاکتوں اور املاک کے تعلقات کا ادراک مایوسی کے اندھیروں میں دھکیلنے کے لیے کافی ہے۔
1996سے 2001تک اگرچہ افغانستان میں طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں صورتحال کچھ بہتر رہی لیکن افغانستان کے باقی حصوں میں خانہ جنگی کا سماں رہا۔ اسی دوران نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا اور اس کے بعد کے واقعات تو ماضی قریب کی تاریخ ہیں اور ابھی ذہنوں میں تازہ ہیں۔چنانچہ یہ سوال اہم ہے کہ اگر ماضی میں افغان قوتیں مل کر نہیں بیٹھ سکیں تو اب کیسے مل بیٹھیں گی۔ افغان مذاکرات کی کوششیں کرنے والوں کے ذہن میں شاید یہ خدشہ موجود نہیں۔

دیگر عوامل کے علاوہ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت بھی قیام امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے یہ ملک جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے،پھر آج کی ”پانچ “ایٹمی طاقتوں:چین،بھارت،پاکستان،ایران اور کسی حد تک روس کا ملاپ ہوتا ہے۔ جب تک افغانستان میں ”آگ “جلتی رہے گی اس کی” تپش “سے ہمسایہ ممالک کے در و دیوار بھی دہکتے رہیں گے۔یہ ملک نہ صرف خود معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے بلکہ اس کے پڑوسی ممالک تیل و گیس کے وسیع ذخائر رکھتے ہیں۔

باراک اوباما نے امریکی عوام کو اپنے دور حکومت کے اختتام تک افغانستان کے بحران کے خاتمے کی امید دلائی تھی، تاہم یہ اب ماند پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔تشدد مسلسل بڑھ رہا ہے، طالبان نئی کارروائیوں میں مصروف ہیں داعش افغانستان میں اپنے قدم جمانے کی ممکنہ کوششیں کر رہا ہے اورامن کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔افغانستان ماضی کی طرح اب بھی ایک میدان جنگ قائم رکھے ہوئے ہیں۔
باراک اوباما دوسری بار افغانستان سے اپنے فوجیوں کے مزید انخلاء کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔
غالباً 2017ء میں عہدہ صدارت سے سُبک دوش ہونے سے پہلے اوباما افغانستان میں سرگرم اپنے 9,800 فوجیوں کی تعداد کم کر کے اسے 5,500 تک کرنے کے منصوبے پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ادھر اوباما کے افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی مندوب جیمزڈوبنس کا کہنا ہے کہ شاید اوباما یہ فیصلہ آئندہ امریکی صدر پر چھوڑ دیں گے۔ گذشتہ موسم خزاں میں اوباما نے یہ کہتے ہوئے اپنا یہ فیصلہ بدل دیا کہ افغانستان سے مزید امریکی فوجیوں کے انخلاء کے لیے حالات بہت نازک ہیں۔
اوباما نے 2016 ء میں اپنے 9,800 فوجیوں کی تعداد برقرار رکھنے کے منصوبے کا اعلان کیا، تاہم اس عرصے میں امریکی فوج کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکی فوجی کسی جارحانہ جنگی کاروائی میں ملوث نہیں ہوں گے بلکہ انسداد دہشت گردی کے مشن اور افغان فورسز کی طالبان باغیوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے مشیر کا کردار ادا کریں گی۔افغان حکومت اور طالبان گروپوں میں براہ راست مذاکرات کا عمل شروع ہونے جارہاہے۔لیکن اندیشوں کے سانپ پھن پھلائے کھڑے ہیں کہ ان مذاکرات کے ثمر آور ہونے کی صورت جبھی ممکن ہے پہلے افغان گروپوں میں باہمی اتحاد ہو اور وہ اپنی ترجیہات پر متفق ہوں پھر افغان حکومت فراغ دلی اور لچک کا مظاہرہ کرے۔خدا کرے یہ دونوں صورتیں روپذیرہوجائیں۔لیکن اندیشوں کے سانپ داعش کے وجود کی صورت خطے میں قیام امن کے خواہش مندوں کو پھر بھی ڈرائے ہوئے ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

افغانستان


متعلقہ کالم