جنگل اداس ہے!

اتوار مئی    |    خالد ارشاد صوفی

ہمارے جنگل اداس ہوتے جا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دل بھی اداس ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کا ذمے دار کوئی اور نہیں‘ ہم خود ہیں۔ پچھلے دنوں چڑیوں کا عالمی دن منایا گیا تو محسوس ہوا کہ کئی رنگوں کی چڑیاں جو ہم بچپن میں دیکھا کرتے تھے‘ آج نظر نہیں آتیں۔ میں مسلسل سوچ رہا ہوں! ان کے قاتل ہم ہیں؟ ان کی نسل ختم کرنے ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے؟
کبھی آپ کو ایسی کسی صورتحال کا سامنا ہو جائے کہ زندگی اور موت کا مسئلہ درپیش ہو اور آپ کو یہ پیش کش کی جائے کہ 30قیرط کے ہیرے جواہرات لے لیں یا آکسیجن کا ایک سلنڈر‘ جو آپ کو مزید چندروز تک زندہ رکھ سکتا ہو توآپ کا جواب کیا ہو گا؟ جواب نہایت سادہ ہے اور سب کو معلوم ‘لیکن کیا یہ بات حیرت کا باعث نہیں کہ ہم مادی ترقی کی خاطر اسی ماحول کو تباہ کر رہے ہیں‘ جو زندگی افروز ہے‘ جو ہمیں تحفظ دیتا ہے۔

(خبر جاری ہے)

اگر یہ کہا جائے کہ آج کے انسان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے تو ممکن ہے کچھ کا جواب خوراک ہو اور کچھ اس بات کی نشان دہی کریں کہ تہذیبوں کے تصادم کا سر اٹھاتا ہو اخطرہ آج کی انسانیت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ قوموں اور ملکوں کے درمیان جاری اختلافات‘ داعش جیسے وحشیوں کی بڑھتی ہوئی قوت ‘ طالبان یا بوکوحرام کو موجودہ تہذیب کی تباہی کا باعث قرار دیں‘ لیکن بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہو گی کہ تیزی سے جاری موسمیاتی تبدیلیاں ہمارے ماحول کو اس قدر نقصان پہنچا رہی ہیں کہ اگر ان پر وقت رہتے قابو پانے کی کوئی ٹھوس کوشش نہ کی گئی تو یہاں حالات نسل انسانی کے جاری رہنے کے لئے سازگار نہیں رہیں گے۔
ہم نے پرندوں اور دوسرے جانوروں کو نابود کیا‘ لیکن ہم خود بھی اسی انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ڈیزاسٹر پلاننگ شعبے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے قحط سالیوں‘ سیلابوں اور انسانی المیوں کے خطرات میں بے حد اضافہ کر دیا ہے۔ اندازہ اس بات سے لگائیے کہ گزشتہ صرف ایک سال میں دنیا بھر میں زلزلوں‘ سیلابوں‘ گرمی کی شدید لہروں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 22773افراد ہلاک‘ 98.6ملین یعنی 9کروڑ86لاکھ افراد کو شدید متاثر کیا جبکہ ان سے 66.5بلین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔

اپنے اس گھریعنی اس زمین کی 4.54بلین سال کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ روئے ارض ہر دور میں موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں رہا ہے۔ پچھلے چھ لاکھ پچاس ہزار برسوں میں یہاں تین بڑے برفانی دور آئے اورگزر گئے۔ وہ موسمیاتی تبدیلیاں زمین کے مدار میں ہونے والی خفیف سی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں سورج سے زمین پر پہنچنے والی روشنی اور توانائی کی مقدار میں کمی بیشی کی وجہ سے رونما ہوئی تھیں‘ لیکن محقق ہمیں بتاتے ہیں کہ گزشتہ ایک ڈیڑھ صدی میں ہونے والی صنعتی ترقی کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات‘ مختلف نوعیت کے کیمیکلز‘ کوئلے کے بے دریغ استعمال اور ایٹمی تجربات کی وجہ سے اس کے موسموں‘ ماحول اور آب و ہواکو جتنا نقصان پہنچا ہے‘ اتنا شاید پچھلے دس ہزار سال میں بھی نہ پہنچا ہو گا۔
ہمارا معیار زندگی ماضی کی نسبت ضرور بلندہو چکا ہے‘ لیکن اس کا خمیازہ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں اور اس کی وجہ سے نسل انسانی کی صحت پر پڑنے والے اثرات کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے اور شاید ہماری آنے والی نسلوں کو ہم سے زیادہ۔
پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے‘ جو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سب سے زیاددہ متاثر ہو رہے ہیں‘ اگرچہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسز پیدا کرنے میں ان کا حصہ بے حد کم ہے۔
موسمیاتی تبدیلوں کی وجہ سے پاکستان پر پڑنے والے اثرات اس طرح ہیں: گلوبل وارمنگ کی وجہ سے اگلی دو تین دہائیوں میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں پر واقع گلیشیئرز پگھل جائیں گے جس کے نتیجے میں دریاؤں میں پانی کا بہاؤ کم ہو جائے گا اور یوں تازہ پانی کی کمیابی کے مسائل شدید تر ہو جائیں گے‘ جو کسی نہ کسی صورت میں اب بھی موجود ہیں۔ اس کا ایک نتیجہ بائیو ڈائیورسٹی(حیاتیاتی تنوع)کے ضیاع کی صورت میں سامنے آئے گا۔
بہت سی حیاتیاتی نسلیں اپنا وجود کھو سکتی ہیں۔سمندری اور دریائی سیلابوں کی وجہ سے پاکستان کے جنوبی ساحلی علاقے زیر آب آ جائیں گے اور ساحلی علاقوں کی بستیاں تباہ ہو جائیں گی۔ موسمیاتی تبدیلیاں کی وجہ سے پاکستان میں فصلوں کی پیداوار کم ہو جائے گی جس سے طرز زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے‘ کیونکہ بعض عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے‘ جہاں لوگوں کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔
سیلابوں‘ خشک سالی‘ اور قحط جیسے مسائل کی وجہ سے انسانی المیے جنم لے سکتے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ چار پانچ سالوں میں ہر سال موسم برسات میں آنے والے سیلاب اس کی مثال ہیں‘ جن کی وجہ سے آبادی کا ایک خاصا بڑا حصہ متاثر ہوا تھا۔ لائیو سٹاک اور فصلوں کا نقصان اکے کے علاوہ ہے۔ ہمارے میں مارچ اپریل میں کبھی سیلاب نہیں آئے‘ لیکن اس سال ایسا ہوا ہے۔ اپریل کے آغازمیں خیبر پختونخوا‘ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ہونے والی طوفانی بارشوں نے تباہی و بربادی پھیلا دی اور بارشوں کے دوران مختلف حادثات کا شکار ہو کر سو کے لگ بھگ افراد جاں بحق ہو گئے۔
جو بھاری مالی نقصان ہوا‘ وہ اس کے علاوہ ہے۔ یہ قدرت کی طرف سے اشارے ہیں کہ اگر انسان کی جانب سے ماحول کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ایک دن یہی ماحول انسان کو بھی تبا ہ کر دے گا۔
انہی سارے مسائل پر غور اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے چند ماہ پہلے فرانس کے شہر پیرس میں ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا‘ جس میں دنیا بھر کے ممالک کے سربراہان مملکت یا سربراہان حکومت نے مل بیٹھ کر ایک معاہدے کو حتمی شکل دی‘ جس کے چیدہ نکات درج ذیل ہیں۔
(1)گرین ہائس گیسز کے پھیلنے کی رفتار کو کنٹرول کیا جائے گا۔(2) زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار کو کنٹرول کیا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کہ یہ اضافہ صنعتی دور سے پہلے والی سطح پر آ جائے۔ (3) 2020ء تک ایک فنڈ قائم کیا جائے گا جس میں تمام ممالک مشترکہ طور پر موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لیے 100بلین ڈالر کا ایک فنڈ قائم کریں گے۔ (4) کانفرنس میں حصہ لینے والے 186ممالک نے اپنے اپنے منصوبے پیش کیے ہیں کہ وہ کس طرح 2025ء یا زیادہ سے زیادہ2030ء تک گرین ہاؤس گیسز سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کے لیے کام کریں گے۔
کانفرنس اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ تمام ممالک اس حوالے سے تازہ ترین معلومات فراہم کرتے رہیں۔ (5) معاہدے کے تحت تمام ممالک اپنے اپنے اعدادوشمار جمع کرائیں گے کہ کس طرح وہ گرین ہاؤس گیسز میں اضافہ روکنے کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ (6) موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو کم سے کم سطح پر لایا جائے گا اور اب تک ہو چکے نقصان کے ازالے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔اس معاہدے کے نکات تو بہت اچھے ہیں‘ لیکن سوال یہ کہ یہ عالمی لیڈر اپنے ہی اس معاہدے پر عمل کرا سکیں گے؟
اداس جنگلوں کی رونقیں واپس لوٹانے کے لئے ہمیں اپنے طرز زندگی کو تبدیل کرنا ہو گا۔
لگژری زندگی چھوڑ کر سادہ طرز حیات اپنانا ہو گی۔ جو چڑیاں اور جو پرندے رخصت ہوئے ان کی خیر‘ لیکن جو بچ رہے ہیں‘ ان کو زندہ رکھنا ہے‘ تاکہ وہ ہمارے درمیان رہیں اور ہماری زندگیوں میں چہچہے بکھیرتے رہیں‘ ورنہ ہم بھی وہیں پہنچ جائیں گے‘ جہاں نابود ہونے والی چڑیاں پہنچ چکی ہیں۔ عالمی برادری دنیا بھر میں تیزی سے کٹتے اور کم ہوتے ہوئے جنگلات کا رقبہ ایک بار پھر بڑھا لے تو نسل انسانی نابود ہونے سے بچ سکتی ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com