سعودی عرب

جمعہ اکتوبر    |    خالد ارشاد صوفی

گزشتہ دنوں ایک ہی ہفتے میں سعودی عرب کو دو واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلاجب امریکی کانگریس نے اکثریتی ووٹوں کے ذریعے صدر کے ویٹو کے اختیار کو ختم کر دیا اور اس طرح نائن الیون کے سانحے کا شکار بننے والوں کے خاندانوں کو یہ اختیار حاصل ہو گیا کہ وہ سعودی عرب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی کانگریس نے سعودی عرب کو 1.15بلین ڈالر مالیت کے فوجی ٹینکوں کی فروخت بھی روک دی ہے۔
اسے جاسٹا The Justice Against Sponsors of Terrorism Act (JASTA) کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ایسے کسی اقدام کی راہ میں رکاوٹ تھے اور اس حوالے سے بھی تحریک کو ویٹو کر سکتے تھے اور سعودی عرب یا کسی دوسرے ملک کے خلاف اب تک کسی قسم کی قانونی چارہ جوئی نہ ہو سکنے کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر کا یہی ویٹو کا اختیار تھا۔

(خبر جاری ہے)

اس بل کی وجہ سے سعودی عرب اور امریکہ کے مابین تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے اور باہمی تعلقات پہلے والی سطح پر نہیں رہے۔

سعودی عرب چند ماہ قبل امریکہ اور ایران کے مابین ڈیل طے پانے اور ایران پر سے اقتصادی پابندیاں ہٹائے جانے پر پہلے ہی خاصا برہم تھا۔سعودی حکام نے امریکہ میں ہونے والی اس پیش رفت پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سعودی عرب نے امریکہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر یہ بل منظور ہوا تو وہ 750بلین ڈالر کے امریکی اثاثے فروخت کر دے گا؛ تاہم کئی غیر جانب دار معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے لئے اس دھمکی کو عملی شکل دینا ممکن نہیں کیوں کہ اس سے خود سعودی عرب کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
اس نئے تنازعے کی وجہ سے سعودی عرب اور امریکہ کی تجارت متاثر ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین تجارت کے حجم کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ 2016میں اب تک امریکہ نے سعودی عرب کو.4 9370ملین ڈالر کی برآمدات کیں‘ جبکہ وہاں سے 9313.8 ملین ڈالر کی اشیا درآمد کیں۔
ٹوین ٹاورز کو نشانہ بنانے والے 19حملہ آوروں میں سے 15کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ باقی چار میں سے دو امریکہ اور ایک ایک مصر اور لبنان سے تعلق رکھتے تھے۔
مغرب والوں کا خیال یہ ہے کہ اس طرح سعودی عرب کو دنیا کے دوسرے علاقوں میں انتہا پسندی پھیلانے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
امریکی کانگریس کی جانب سے یہ قانون منظور ہونے کے دو روز بعد یعنی 30ستمبر کو نائن الیون کے حملوں کے نتیجے میں پینٹاگون میں ہلاک ہونے والے نیوی کمانڈر پیٹرک ڈن کی بیوہ سٹیفنی راس ڈی سائمن وہ پہلی فرد بن گئیں‘ جو اس نئے قانون سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ سٹیفنی نے واشنگٹن کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں سعودی عرب کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔
یہ مقدمہ سٹیفنی نے اپنی بیٹی کی جانب سے دائر کروایا ہے‘ جو نائن الیون کے حملوں کے وقت ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی اور سٹیفنی اس وقت دو ماہ کی حاملہ تھی۔ مقدمے میں اس نے موقف اختیار کیا کہ اس کے شوہر کی ناموافق حالات میں موت ہوئی‘ جس کی وجہ سے اسے شدید جذباتی تناؤ کا سامنا کرنا پڑا‘ اسے اپنے ہونے والے نقصان کا ازالہ درکار ہے۔ 2001میں ہونے والے ان حملوں کی تحقیقات کے لئے بنائے گئے امریکی کمیشن نے 2004میں جاری کردہ اپنے رپورٹ میں قرار دیا تھا کہ ”اس امر کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ سعودی عرب نے بطور ایک ادارہ یا سعودی حکومت کے سینئر حکام میں سے کسی نے القاعدہ کی فنڈنگ کی “ اب ایک بار امریکی عدلیہ سے یہ سوال ایک بار پھر پوچھا جا رہا ہے کہ ”آیا سعودی عرب نائن الیون کے حملوں کا ذمہ دار ہے؟“ سعودی عرب کی حکومت نے بھی ایسے الزامات کی تردید کی تھی۔
لیکن اب یہ پینڈارا باکس پھر سے کھلا ہے تو کئی سوالات پوچھے جانے لگے ہیں۔ دوسری جانب سعودی حکومت میں اس بل کے بارے میں تحفظات پائے جارہے ہیں۔ سعودی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر نے 29ستمبر کو سعودی حکومت کے تحت چلنے والی سعودی پریس ایجنسی کو بتایا کہ امریکی کانگریس کو ”غیر متوقع سنگین نتائج “ سے بچنے کے لئے اس بل پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ افسر نے یہ بھی کہا کہ یہ بل سعودی سلطنت کے لئے بڑے اور سنجیدہ تحفظات کا باعث ہے۔

اس نئے بل کے تحت جب مقدمات درج ہوں گے تو سعودی عرب کو بھی اپنا موقف بیان کتنے کا موقع ملے گا۔ ممکنہ طور پر سعودی عرب کو اس طرح کے سوالات کے جواب میں اپنا تحفظ کرنا پڑ سکتا ہے:بشمول القاعدہ انتہا پسند گروپوں اور علیحدگی پسندوں کو فنڈز فراہم کرنا اور اسی طرح کے دوسرے معاملات۔ ان حالیہ تبدلیوں سے یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے ۔
اس کی ایک وجہ تو غالباً یہ ہے کہ امریکہ کا سعودی تیل پر اب اتنا انحصار نہیں رہا‘ جتنا ماضی میں تھا؛ چنانچہ اگلے سال کے آغاز میں امریکی اقتدار سنبھالنے والی نئی انتظامیہ کو مشرق وسطیٰ کے بارے میں بدلے ہوئے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسی ہفتے کے دوران دوسرا غیر معمولی واقعہ جب الجیریا میں ہونے والی اوپیک ممالک کی کانفرنس میں سعوددی عرب کو اپنی تیل پالیسی کو تبدیل کرنا پڑا۔ پچھلے کچھ عرصے میں سعودی عرب کی تیل پالیسی یہ رہی کہ پوری گنجائش کے مطابق تیل پیدا کیا جائے اور قیمتیں کم سے کم سطح پر رکھی جائیں۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اگر انتہائی نچلی سطح پر رہیں تو دوسرے کئی عوامل کے ساتھ ساتھ اس کی ایک وجہ سعودی عرب کی یہ پالیسی بھی تھی۔ سعودی عرب نے یہ پالیسی کیوں اپنائی؟ اپنے ایک سابقہ کالم میں اس کی وضاحت کر چکا ہوں کہ اس کا مقصد پہلے سے عالمی اقتصادی پابندیوں کے شکار ایران کو مزید نقصان پہنچانا تھا۔ سعودی عرب کے یہ مقاصد تو پورے نہیں ہوئے البتہ سعودی عرب کی اپنی معیشت کی چولیں ہل گئی ہیں اور اسے شدید ترین مالی مسائل کا سامنا ہے‘ جس کے ثبوت سعودی حکومت کی جان سے کئے گئے کئی حالیہ اقدامات کی صورت میں سامنے آئے ۔ تیل کی پیداوار کم کرنے کے دو فوری نتائج سامنے آئیں گے۔ اول: دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ‘ دوئم: ایران کا مالی استحکام۔ ممکن ہے اس کے نتیجے میں سعودی ایران جھگڑا مزید شدت اختیار کر جائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com