ماں !میرا ایک کام کرنا

اتوار نومبر    |    خواجہ محمد کلیم

پیار ی ماں !آج پھر تمھاری بہت یاد آئی ،لیکن اس لئے نہیں کہ آج پھر ابو نے مجھے بے وجہ مارا،اس لیے کہ آج اس معاشرے کے ایک اور مرد نے میرے بے بس ننگے بدن پر اپنی مردانگی دکھائی اور پھر اپنی رعونت کا یہ نمونہ پوری دنیا کو دکھایا۔ماں !مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب تو گُل گُل پکارتی
بے وجہ مجھے اپنے سینے سے لگا کر بھینچ لیتی تھی ، مجھے چومتے چومتے تجھے سانس چڑھ جاتی تھی اور اس حالت میں ابو تجھے جن نظروں سے دیکھتے تھے مجھے ان نظروں میں چھپی نفرت بھی آج تک نہیں بھولی ۔
ابو کی نظروں میں نفرت کیوں تھی یہ مجھے بہت بعد میں پتہ چلا ، اس لئے کہ میں مرد نہیں تھی لیکن عورت بھی نہیں کہلا سکتی تھی،لیکن اس میں میرا کیا قصور؟ جانے کیوں قدرت نے مجھے اس امتحان میں ڈالا۔

(خبر جاری ہے)

ماں !مجھے یاد ہے جب مجھے سکول میں داخل کرایا گیا تو آپ بہت خوش تھیں لیکن پتہ نہیں کیوں ابو مجھے شاکی نظروں سے دیکھتے تھے ،سکول ٹیچر کو جب میر انام گُلباز بتایا گیا تو اس نے بھی مجھے عجیب نظروں سے دیکھاتھا ۔

کیسے اچھے دن تھے ماں !مجھے اپنی زندگی کے وہ خوبصورت دن یاد ہیں جب روز تو میرے بال سنوارتی تھی اور میرے چہرے پر بوسہ دے کر مجھے سکول روانہ کرتی تھی لیکن جو نہی میں تھوڑی بڑی ہوئی اور میٹرک کر لیا تو مجھ سے یہ خوشی بھی چھین لی گئی ۔ ایک تو سکول چھوٹ گیا دوسرا ابو کی عجیب نظریں مجھے کاٹ کھانے کو دوڑتی تھیں ۔ماں!مجھے وہ منحوس دن اچھی طرح یاد ہے جس دن ابو نے مجھے بے تحاشا مارا اور پھر گھر سے نکال دیا۔
میں اس وقت پندرہ برس سے کچھ بڑی ہوں گی ۔میں نے بعد میں کچھ لوگوں سے سنا کہ اس عمر میں بچوں کو ماں باپ کی نگرانی کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ زمانے کے اچھے برے کو سمجھ سکیں اور کسی غلط کام میں پڑ کر اپنی زندگی نہ بگاڑ لیں ، لیکن ابو نے پتہ نہیں مجھے کیوں اسی عمر میں گھر سے نکال دیا۔ مجھے یاد ہے ماں !اس دن ابو نے مجھے بہت مارا تھا لیکن روئی تُو بھی بہت تھی ،لیکن اس موئے مرد معاشرے کے ہاتھوں مجبور تو ایک کمزور عورت تھی ،رونے کے سوا اور کر بھی کیا سکتی تھی؟
میں گھر میں تھی تو گلباز تھی باہر نکلی توشنایا بن گئی ، لکی نے مجھے جینے کے لئے سہارا دیا اور رہنے کے لئے چھت بھی ، پاپی پیٹ کو بھرنے کے لئے کچھ تو کرنا تھا ، اس معاشرے میں جب مجھے اور کوئی کام نہ ملا تو لکی کا سکھایا ہنر میرے کام آیا۔
گھر چھوٹ جانے کے بعد لکی ہی میری ماں تھی اور وہ ہی میر ا باپ لیکن کچھ عرصے بعد اس کی جگہ سپنا نے لے لی ۔وہ کام ڈھونڈتی اور میں اپنے جسم کو سجا سنوار کر کسی شادی والے گھر کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لئے اعضا کی شاعری سے کام لیتی۔پھر یوں ہوا کہ ابو مر گئے ، مجھے کوئی خاص افسوس نہیں ہوا لیکن ماں !جس دن تم نے دنیا سے منہ موڑا میں بہت روئی ،شائد تم دنیا کا واحد فرد تھی جسے مجھ سے محبت تھی ،پہلے یہ آس ہو اکرتی تھی کہ کبھی کبھار تیرے سینے سے لگنے کا موقع ملے گا لیکن اب تمھاری قبر کی مٹی کو بوسہ دینا بھی میرے لئے ناممکن بنا دیا گیا ۔
جس شہر میں میر ا بچپن گزرا ،جن گلیو ں میں میں نے اپنی سکھیوں کے سنگ کوکلا چھپاکی کھیلی ، اس شہر کو میرے لئے جہنم بنادیا گیا ،مانی چو رنامی ایک مر دنے میرے جسم پر اپنی مردانگی سے جو زخم لگائے وہ میری روح کے اندر تک اتر گئے ۔ میں بہت روئی ، پولیس کے پاس گئی لیکن تھانے میں میز پر پاوٴں پسارے کرسی پر بیٹھا کالا موٹا پولیس افسر بھی مجھے ایسی ہی نظروں سے دیکھتا تھا جیسے مانی چور۔میں نے میڈیا کی مد د لی اور شہر اقتدار کے حکمرانوں سے انصاف کے لئے التجا کی، لیکن میری ایک نہ سنی گئی ۔
تھک ہار کر میں فیصل آباد چھوڑ کر سیالکوٹ آگئی ۔
معلوم نہیں کیوں یہاں بھی ججا بدمعاش نامی ایک مرد میری جان کا دشمن ہوا، معلوم نہیں یہ میرے کن گناہوں کی سزا تھی ،لیکن میں توججے بدمعاش کو جانتی تک نہیں تھی ۔لیکن مجھے یہ معلوم تھا کہ حسد کی آگ میں جلنے والی میرے ہی قبیلے کی ”پھول “اس کی چہیتی تھی ۔ پھر یوں ہوا کہ ایک دن ججے بدمعاش نے اپنے ساتھیوں سمیت ہم پر دھاوا بولا،اپنی مردانگی دکھائی اور میرے منہ میں اپنے جوتے ٹھونسے ، غرور کے سریے سے تنی گردن کے ساتھ اس بے شر م نے ہمارے سامنے اپنے مثانے کا بوجھ ہلکا کیا اور مجھے حکم دیا کہ اسے مشروب جاں سمجھ کو نوش کرو۔
مجھے نیکی کا دعویٰ تو کبھی نہیں رہا لیکن اس لمحے میں اللہ سے ڈر گئی اورپیشا ب پینے سے انکار کردیا، یہی انکار میرا جرم بنا دیا گیا۔ ججے نے مجھے کھینچ کر چارپارئی پر گرایا، رعونت سے اس کی گردن اور تن گئی ، اس نے اپنا پاوٴں میرے منہ پر رکھا اور پھرمیری ننگی پیٹھ پر چمڑے کی بیلٹ برسنے لگی ۔ شائد یہی وہ لمحہ تھا جب قدرت اس کے غرور پر قہر بار ہوئی اور میری بے بسی پر خدا کو ترس آگیا۔اس نے جو ویڈیو میرے تذلیل کے لئے بنائی تھی وہ اس کے ماتھے کی کالک بن گئی ، اس معاشرے کے کچھ آدمیوں نے انسانیت کے نام پر آواز اٹھائی جو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ گئی ،پولیس حرکت میں آئی اور ججے بدمعاش کو اس کے ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا ۔
میں نے سنا ہے عدالت کے باہر ایک صحافی نے اس سے پوچھا تم نے شنایا کو کیوں مارا تو اس نے جواب دیا کہ وہ میری دوست ہے ، برے کا م سے روکا ، نہیں رکی تو اس لئے مارا۔ ماں!اب تو ہی بتا مجھے اس بھری دنیامیں ایک بھی انسان کی دوستی میسر آتی تو مجھے اور کیا چاہیے تھا؟ماں !اس معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو میڈیا والوں کو اچھا نہیں سمجھتے لیکن میڈیا والوں نے میری بہت مدد کی ، میرے دکھ میں شریک بنے اور مجھ پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ۔
کل میں نے دیکھا وہی ججا جوکچھ دن پہلے نعوذباللہ خدا کے لہجے میں بات کررہا تھا وہ ہتھکڑیاں پہنے حوالات میں ناچنے پر مجبور کردیا گیا۔ لیکن اس چند سیکنڈ کے ناچنے نے اس کے غرور کو ایسے توڑا کہ وہ دیواروں میں ٹکریں مار کر رویا ۔اندازہ کروں ماں میں تو گھنٹوں اس معاشرے کے انسانوں کی خوشی کے لئے ناچتی ہوں لیکن آج تک اُف نہیں کی ، لیکن اس معاشرے میں قدم قدم پر پھیلے مانی اور ججے میرا جینا حرام کئے ہوئے ہیں ۔سنا ہے ججے کے خلاف جو مقدمہ بنایا گیاہے اس میں بہت جلد اس کی ضمانت ہو جائے گی اور کیس آگے چل بھی گیا تومجرموں کو سخت سزا کی امید نہیں ۔ ماں !سنا ہے جو اس دنیا کو چھوڑتے ہیں وہ خدا کے پاس چلے جاتے ہیں ،ماں !میرا ایک کام کرنا، خد اسے کہنا میرے جیسا کوئی کسی گھر میں پیدا نہ کرے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com