صرف پاکستان

اتوار نومبر    |    خرم بٹ

کمرہ کا ماحول ہی بدلا ہوا تھا۔دیوار پر لگی ہو چھیالیس انچ کی ایل ای ڈی پر اسکا پسند یدہ چل رہا تھا۔کمرہ صندل کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔سرہانے رکھے شیشے کے کیورم میں رنگ برنگ مچھلیاں شرارتی انداز میں ایک دوسرے سے کھیل رہی تھی۔دیواروں کا ہلکا نیلا رنگ گویا ٹمٹماتے بلبوں کی دودھیا روشنی کو اپنی آغوش میں لئے ہوئے تھا۔اور سب سے بڑھ کر ایک خوبصورت دوشیزہ سرہانے بیٹھی اسکے سر کے بال انگلیوں سے سہلا رہی تھی اسکے دائیں ہاتھ میں اورنج جوس کا گلاس پکڑا ہوا تھا۔
اور وہ محبت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ ۔۔یہ کاموکا بیڈ روم تھا اور کامو اس دوشیزہ کی انہی بالوں میں پھرتی ہوئی پیاری انگلیوں کے لمس کو محسوس کر کے بیدار ہوا تھا۔بیداری سے لے کر اب تک کامو حونقوں کی طرح اس خوبصورت دوشیزہ اور اپنے بیڈ روم کے بدلے ہوئے ماحول کو تک رہا تھا۔

(خبر جاری ہے)

کامو کو حیران پریشان دیکھ کر دوشیزہ نے اپنے خوبصورت لب ہلائے اور میٹھی آواز میں اس سے مخاطب ہوئی کہ جاگ جائیے صبح ہو چکی ہے اور جوس پی لیں۔

اسکے بولنے پر کامو حیرانی سے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور دوشیزہ سے کہنے لگا کہ تم کون ہو اور میں کہاں ہوں۔ کیا میں مر چکا ہوں کیا میں جنت میں ہوں؟دوشیزہ اسکا سوال سن کر کھلکھلا اٹھی اور کہنے لگی کہ جاگ جائیے میں شیداں ہوں آپکی بیوی۔۔یہ سن کرکامو کو گویا گیارہ ہزار وولٹ کا کرنٹ لگا اور اسکے دماغ میں شیداں کا مرجھایا ہوا چہرہ آ گیا۔۔ وہ حیرت سے بولا۔۔۔شیداں۔۔۔۔میری بیوی۔۔۔تم میری بیوی شیداں نہیں ہو۔
۔۔۔اس بات پر شیداں نے اسے محبت بھری نظروں سے دیکھا اور کہا سرتاج ۔۔۔۔جاگ جائیے ۔۔ ہم نئے پاکستان میں ہیں اور نئے پاکستان میں بیویاں بھی مجھ جیسی خوبصورت نوخیز اور فرمانبردار ہیں ۔۔۔ نئے پاکستان میں سب کچھ نیا ہے۔۔۔ آپ ابھی تک نیند میں ہیں۔۔۔دیکھیں گھر کس طرح جمگما رہا ہے۔بجلی مفت جو ہے۔اور پلک چھپکنے کو بھی نہیں جاتی۔سوئی گیس بھی مفت ہے ۔۔ لکڑیاں بھی نہیں جلانی پڑتی۔ بچے کبھی بھی ناشتے کے بغیر نہیں جاتے ۔
بڑا بیٹا بھی بے روزگار نہیں۔سرکار نے گھر آ کر نوکری جو دے دی ہے۔باقی تین بچے اچھے سرکاری سکولوں میں مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ہمارے بچوں کے ساتھ آرمی کے جرنیل،اور وزرا کے بچے بھی ایک ہی جیسے سکولوں میں ایک ہی جیسا سبق پڑھتے ہیں۔ہسپتالوں میں علاج مفت ہے،انصاف کا دور دورہ ہے۔تھانے ویران پڑے ہیں کہ جرم کرنے والا باقی نہیں بچا۔۔۔۔ کامو اب تم چڑچڑے نہیں ہو بلکہ بہت ہی اچھے مزاج کے شوہر اور باپ ہو، زرا یہ آئینہ تو دیکھو۔
۔۔شیداں نے ایک خوبصورت سنہری فریم میں جکڑا ہو آئنہ اسکے چہرے کے سامنے کر دیا۔۔۔ کامو نے اپنا عکس دیکھا تو اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔اگرچہ وہ ابھی صرف پینتالیس سال کا تھا لیکن آئنہ میں ایک خوبصورت وجیہ مرد کا عکس تھا۔اجڑے ہوئے بالوں کی بجائے نہایت خوبصور تی سے ترشے ہوئے بال شخصیت کو اور نکھار رہے تھے حالانکہ وہ سو کر اٹھا تھا۔غربت ، حسرت اور حالات کی تلخ حقیقتوں کی گرد آلود جھریوں کی بجائے چہرہ کسی نوجوان کی طرح تر و تازہ تھا۔
آنکھوں میں کامیابیوں کی چمک تھی۔اور ہونٹوں پر ایک پرسکون مسکراہٹ۔۔۔کامو کی حیرانی کم نہیں ہو رہی تھی لیکن وہ اس نئے خوبصورت پاکستان کو مان لینے پر بخوشی تیار ہو گیا۔۔کامو نے کئی مرتبہ اپنی انگلی دانتوں تلے بھی دبائی تھی لیکن اب وہ اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ وہ نئے پاکستان میں ہی ہے۔
کامو ایک پرائیویٹ کمپنی میں گارڈ کی ڈیوٹی کرتا تھا۔ پرانے پاکستان میں مسلسل محنت کے باوجود مہنگائی اور بد عنوانی کے سبب اسکے گھر کا چولہا مشکل سے جلتا تھا۔
بجلی گیس کے بل آنے پر گھر میں گویا ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ۔ وہ خوب شور شرابہ کرتا اور گھر کے سب افراد ایک دوسرے پر الزام دھرتے کہ کس کی بے احتیاتی ہے۔لڑ جھگڑ کر تھک ہارنے کے بعد سب گم سم ہو جاتے اور ان سب باتوں کو اپنا نصیب سمجھ کر چپ ہو رہتے۔بچوں کی تعلیم بمشکل چل رہی تھی جبکہ اسکا بڑا بیٹا بی اے کرنے کے بعد مسلسل بے روزگار تھا۔ مزید تعلیم مہنگی بہت تھی ۔ کامو اب سوچنے پر مجبور تھا کہ اسے بھی کسی فیکٹری میں گارڈ لگوا دے ۔
تاکہ اور کچھ نہیں تو گھر کا نظام تو بہتری کی طرف جائے ۔لیکن اپنے خوابوں کو یوں ٹوٹتا دیکھ کر اسکی آنکھیں بھر آتیں کیوں کہ اسنے بیٹے کو بابو بنانے کے لئے پڑھایا تھا۔کامو کا باپ بھی گارڈ ہی کی نوکری کرتا تھا جو ساٹھ سال کی عمر میں چل بسا ۔اور کامو سوچتا تھا کہ اسکی اگلی نسل بھی اسی کی طرح راتیں جاگ کر سرمایہ داروں کے حرام مال کی چوکیداری کرنے پر معمور ہو جائے گی۔ لیکن آج کی بیداری نے اسے نہال کر دیا تھا۔
وہ نئے پاکستان میں تھا۔۔سب کچھ بدل چکا تھا
اپنے پسند کے کھانے پینے کے بعد کامو اپنے گھر سے باہر کو نکلا کہ باہر کا ماحول دیکھ سکے کہ نئے پاکستان نے کیا کچھ بدل دیا تھا۔گھر سے نکلتے ہی اسکی حیرانی میں اضافہ ہو گیا۔ صاف ستھری گلی اسکی منتظر تھی۔میونسپل کی گاڑی محلے کی صفائی کر کے جانے کب سے جا چکی تھی۔پورا محلہ لش لش کر رہا تھا۔محلے سے باہر نکلنے پر اسنے دیکھا کہ دھلی دھلائی سڑکوں پر کس سکون سے گاڑیاں اور موٹر سائکل رواں دواں تھے۔
جیسے کوئی شفاف پرسکون دریا بہ رہا ہو۔نہ کوئی پبلک ٹرانسپورٹ کا کنڈیکٹر کسی سواری کو کھینچ رہا تھا اور نہ ہی کوئی گاڑی کسی دوسری گاڑی سے آ گے نکلنے چکر میں اپنی لائن سے ہٹتی تھی۔چوکوں پر کوئی ٹریفک پولیس اہلکار کسی پبلک ٹرانسپورٹ گاڑی کو روک کر چائے پانی لیتا ہوا نظر آیا۔چند بہترین وردی میں ملبوس سارجنٹ سڑک کنارے اکا دکا ہیوی موٹر سائکلوں پر بیٹھے دکھائی دئے۔کامو پیدل چلتا رہا سامنے ہی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کا بورڈ لگا ہوا تھا۔
وہ ہسپتال میں داخل ہوا تو سفید کوٹ پہنے ہوئے میڈیکل سٹاف کے دو نوجوان سٹیچر لے کر اسکی جانب بھاگے اور اسے سٹیچر پر لٹانے کی کوشش کی۔کامو پہلے تو انہیں بتانے لگا کہ اسے کوئی مرض نہیں ہے لیکن نئے پاکستان کے اس سرکاری ہسپتال کو بحیثیت مریض دیکھنے کی خواہش کے سبب وہ چپ چاپ لیٹ گیا۔ایمرجنسی میں جونہی سٹییچر ڈاخل ہوا تو دو لیڈی ڈاکٹر اسکی جانب بھاگیں اور اسکی آنکھیں اور نبض چیک کرنے لگیں۔
ایک میڈیکل سٹاف بوائے نے اسکا نام پوچھا اور بھاگ کر کمپیوٹر میں انٹری کروا کر پرچی لے آیا۔ لیڈی ڈاکٹر اس سے پوچھ رہی تھی کہ اسے کیا محسوس ہو رہا ہے کیوں کہ اسکی نبض اور سانس نارمل ہے۔اسنے کہا کہ اسے سر میں درد ہے۔اسکے فوری طور پر ٹیسٹ یے جانے لگے۔کامونے ایمرجنسی کے بستر پر پڑے ارد گرد دیکھا تو سو بیڈ کے اس وارڈ میں صرف دو مریض تھے جن میں دونوں زخمی تھے ایک مریض سڑک پر پاؤں پھسلنے کے باعث گر کر زخمی ہوا تھا اور دوسرا گھر میں گر کر زخمی ہوا تھا۔
ہر مریض کی بیڈ کی سائڈ ٹیبلوں پر پھو لوں کے خوشبودار گلدستے سجے ہوئے تھے۔تھوری ہی دیر میں کامو کے تمام ٹیسٹوں کی رپورٹیں آ گئیں۔ڈاکٹروں نے رپورٹس دیکھ کر اطمنان سے سر ہلایا اور کامو سے کہنے لگے کہ مبارک ہو اپکی تمام رپورٹس درست ہیں اپنی غذا کا خیال رکھیں اگر بہتر محسوس نہیں کر رہے تو ہسپتال کی ایمبولنس آپکو گھر چھوڑ آئے گی آپ گھر میں کچھ ریسٹ کریں۔کامو نے نفی میں سر ہلایا اور پیدل ہی ہسپتال سے باہر آ گیا۔
کامو کا دل بلیوں اچھل رہا تھا۔واقعی نیا پاکستان وجود میں آ گیا تھا۔کامو نے گزرتے ہوئے قریبی تھانے پر نظر ڈالی جو ویران پڑا تھا۔باہر ایک مسلح سپاہی ڈیوٹی پر موجود تھا۔کامو کو شہر میں ایک عجیب خوشی اور سکون کا تاثر نظر آ رہا تھا۔ہر جانب ہریالی تھی۔جنت نما خوشحالی تھی۔ چوک میں لگی ایک بڑی سکرین پر جلوہ گر ایک نیوز کاسٹر ملکی و غیر ملکی حالات سے سب کو آگاہ کر رہی تھی۔اچھی اچھی خبریں آ رہیں تھیں ۔
۔کامو خود کو جنت میں ہی محسوس کر رہا تھا۔وہ خوش تھا کہ اسکے لیڈر نے اپنے کئے تمام وعدے پورے کر دکھائے۔ کامو نے مسرت کے جزبات سے مغلوب ہو کر اپنے آنکھیں موند لیں اور ایسے میں اچانک اسے کسی نے زور سے دھکا دے دیا
کامو نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولی تو منظر بدل چکا تھا۔۔۔اسکی عمر رسیدہ بیوی شیداں جسکے بال ایسے تھے جیسے سر میں کوئی سوتری پٹاخا چلا گیا ہو اسکا کاندھا جھنجھوڑ رہی تھی۔۔اٹھو اٹھو گیس نہیں آ رہی بچوں نے ناشتہ کرنا ہے بازار سے کچھ لا کر دو۔
۔کامو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔۔۔ارد گرد دیکھا تو تو وہی پرانا ماحول ۔دیواروں سے پلستر اکھڑا ہوا۔۔سامنے اٹھارہ انچ کا ٹی وی لگا ہوا تھا جس پر بم دھماکے کی خبر اور زخمی اور کٹی پھٹی لاشوں کی فوٹیج لائیو چل رہی تھی۔۔اسنے بھاگ کر پہلے ٹی وی بند کیا۔۔اور شیداں کی طرف غصے سے دیکھ کر بولا کی ٹی وی کیوں لگا ہوا ہے جب کوئی موجود نہیں پتا ہے پچھلے ماہ کتنا بل آیا تھا بجلی کا؟۔شیداں اس وقت بہت غصے میں نظر آ رہی تھی۔
بولی چھوڑو ٹی وی کو ناشتے کا کچھ کرو بچوں نے سکول جانا ہے۔۔کتنی مرتبہ کہا ہے ایک سلنڈر خرید کر بھروا دو۔۔۔۔کامو جوتے پہن کر اپنا پرس تلاش کرتا باہر کی جانب بھاگا۔۔گلی سے نکلتے ہی سائڈ پر پڑے کوڑا دان سے باہر نکلتی ہوئی غلاظت اور تعفن نے اسکا استقبال کیا۔۔کامو نظر چراتا ہواناک پر ہاتھ رکھ کر سڑک کیجانب بڑھا۔۔ سڑک پر ٹریفک بدترین جام تھی۔ ریڑھیوں کے ہجوم،گاڑیوں کے دھویں۔اڑتی مٹی گرد اور پریشر ہارن کے تیز ّآوازوں نے اسکے غصے میں اضافہ کر دیا۔
سائڈ پر کھڑے کچھ پولیس اہلکار ٹریفک پولیس اہلکاروں کے ہمراہ چائے پینے میں مشغول تھے۔۔وہ چوک کراس کر کے چاچے گامے کی چھولوں والی ریڑھی کی جانب بڑھا۔۔۔جو کم قیمت میں کھانے کا ایک زریعہ بھی تھا۔۔۔چاچے سے چھولے اور نان خریدتے وقت اسنے نے گلوگیر آواز میں کہا کہ چاچا کیا ہم پرانے پاکستان میں ہی ہیں۔۔چاچے نے ڈوئی سے اسکی پلیٹ میں تھوڑے سے چنے مزید ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اوے پتر تو فیر کوئی خواب ویکھ لیا اے۔
۔۔تسی عوام وی بس خواباں دی دنیا وچ رہندے او۔۔ خدا پچھے گا اینا نوں جیڑے اپنی حکومت بنان واسطے عوام نوں خواب ہی وکھاندے نیں۔۔۔۔جدوں فوجی آ جاندے نے تے جمہوریت دا خواب دیکھدے او تے جدوں لنگڑی لولی جمہوریت آ جاوے تے فیر فوجیاں دے خواب دیکھدے او۔۔۔مینو دس پتر۔۔۔جیڑے خواب عمران خان عوام نوں دکھا ندا اے۔۔۔اے خواب پیلز پارٹی،مسلم لیگ، ایم کیو ایم،جماعت اسلامی، سمیت ساریاں سیاسی پارٹیاں عوام نوں وخا کے اقتدار وچ آ جاندے نے۔۔۔ساڈی اکھ کھلدی اے تے عمران خان ورگا کوئی ہور عوام نوں ہور نوے خواب وخا دیندا ہے۔ سب ڈرامہ اے۔۔۔حکومت لین واسطے ۔۔۔۔۔نواں خیبر پختون خواہ وہ نئی بنیا ۔۔۔۔۔پتر کوئی نواں پاکستان نئی بنے گا ساڈے واستے۔۔۔ پاکستان صرف پاکستان اے۔۔نا نیا پاکستان تے نا پرانا پاکستان۔۔۔صرف پاکستان۔۔۔۔ختم شد۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

خرم بٹ کے مزید کالم