زراعت بچائو مارچ کی ضرورت کیوں؟

اتوار ستمبر    |    میاں اشفاق انجم

پاکستان کسان اتحاد21ستمبر2016ء کو زراعت بچاؤ مارچ کر رہا ہے،اخبارات میں مرکزی صدر خالد محمود کھوکھر اور صوبائی صدر چودھری رضوان اقبال کی طرف سے اشتہارات شائع کئے جا رہے ہیں، جس کے مطابق پنجاب بھر کے تمام کاشتکاروں کو بسوں،ویگنوں، موٹر سائیکل ، ٹریکٹر ٹرالی اور دیگر گاڑیوں پر سوار ہو کر اوکاڑہ بائی پاس پر جمع ہونے کا کہا گیا جہاں سے زراعت بچاؤ مارچ شروع ہو گا اور پارلیمینٹ ہاؤس اسلام آباد تک جائے گا، کسان اتحاد کی طرف سے جاری کئے گئے پمفلٹ نما اشتہار میں بڑے ہی سنجیدہ انداز میں ایسا پراپیگنڈکیا گیا ہے جیسے موجودہ حکومت زراعت پر سیاست کر رہی ہے۔

اس پمفلٹ میں ایک نعرہ تحریر کیا گیا ہے ’’کرپشن کے خلاف جنگ پاکستان کسان اتحاد کے سنگ‘‘ خدا کے لئے سیاست اور ذات کو ایک طرف رکھ کر زراعت کو بچانے کے لئے 21ستمبر کو ’’زراعت بچاؤ مارچ‘‘ کو کامیاب کرانے کے لئے نکلیں۔

(خبر جاری ہے)

پاکستان کسان اتحاد کا کہنا ہے کہ اس وقت حکومتی ترجیحات میں زراعت شامل نہیں ، کپاس، چاول، آلو، مکئی کا کاشتکار معاشی طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ حکومت زراعت کی طرف توجہ نہیں دے رہی، اس لئے پاکستان کسان اتحاد مجبوراً ملکی معیشت کو بچانے کے لئے زراعت مارچ کر رہا ہے، جس میں تمام کسان بھائیوں،تمام سیاسی پارٹیوں، تاجر برادری، وکلا برادری، تمام کسان تنظیموں، تمام مذہبی تنظیموں، سول سوسائٹی، مزدور یونینز اور صحافی برادری، تمام کسان تنظیموں، تمام مذہبی تنظیموں، سول سوسائٹی، مزدور یونینز اورصحافی برادری کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کی زراعت کو بچانے کے لئے کسان اتحاد کا ساتھ دیں۔


کسان اتحاد نے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں پانچ سال کے لئے زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے، حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے پاک بھارت تجارت بند کی جائے، تمام کھادوں سے جنرل سیلز ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے، کھادوں پر200ارب روپے کی سبسڈی دی جائے، زرعی تحقیق کو بہتر بنایا جائے، تمام بڑی فصلوں کپاس، چاول، مکئی، آلو کی امدادی قیمت مقرر کی جائے، زرعی مارکیٹنگ سسٹم کو بہتر بنایا جائے، بجلی کا ریٹ5روپے35پیسے دن رات کا ایک ریٹ مقرر کیا جائے، کسانوں کے بجلی کے بقایا جات معاف کئے جائیں، زرعی انکم ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے۔

کسان اتحاد کے مطالبات کو اگر سامنے رکھا جائے اور ان کی حکومت مخالف تحریک کا جائزہ لیا جائے تو اس میں واضح تضاد نظر آتا ہے، اشتہار کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کسان اتحاد کا زراعت بچاؤ مارچ بھی کسی احتجاجی تحریک کا شاخسانہ ہے، کیونکہ بڑے بڑے گروپ، اپوزیشن، پی ٹی آئی، شیخ رشید، طاہر القادری جیسے رہنما ستمبر کو اہم قرار دے رہے ہیں اور عوام وہ وکیل ہوں،طلبہ ہوں، مزدور ہوں، مذہبی تنظیمیں ہوں ان کو سڑکوں پر لانے کے لئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

پاکستان کسان اتحاد کی طرف سے زراعت بچاؤ مارچ کے وقت کا تعین اور موجودہ حکومت کو زراعت دشمن قرار دے کر کسانوں کو بیدار کرنے کی ترغیب،زراعت بچاؤ کی بجائے اور مقاصد کو مشکوک بنا رہے ہیں، کیونکہ زمینی حقائق کو سامنے رکھنا چاہئے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے کسانوں کے لئے200ارب روپے کے پیکیج کو متعارف کرائے ابھی دیر نہیں ہوئی اور کھانوں پر سبسڈی کی تفصیلات بھی روزانہ جاری کی جا رہی ہیں اور بڑی کسان تنظیم اور کسان اتحاد کی طرف سے چند ہفتے پہلے ہی ایک احتجاجی مارچ اسمبلی ہال لاہور کے سامنے ہوا تھا،جس پر پنجاب حکومت نے بیشتر مطالبات تسلیم کر لئے تھے، کھادوں پر جی ایس ٹی میں کمی کا اعلان بھی ہو چکا ہے۔
میاں شہباز شریف نے پنجاب بھر کے زرعی ماہرین کو تین ماہ کا الٹی میٹم دیا ہے،اپنا اپنا قبلہ درست کرنے کا کہا ہے ورنہ گھر کا راستہ لینے کی دھمکی بھی دے دی ہے۔ اِن حالات میں حکومت کو وقت دینا چاہئے وہ اپنے وعدے سچ کر دکھائے ورنہ مارچ اور احتجاج کا آپشن تو ہر وقت موجود ہے۔
البتہ کسان اتحاد کے دو تین مطالبات پر غور ضروری ہے مثلاً کپاس، چاول، مکئی کی امدادی قیمت مقرر کی جانی چاہئیں ، بجلی کی قیمتیں مقرر کی جانی چاہئے، کسان کی عزت اور تکریم کا خیال کیا جانا چاہئے۔
بھارت سے سبزیوں اور پھلوں کی تجارت بند ہونی چاہئے اس کی وجہ سے ہماری اپنی پیدوار ٹکے ٹوکری ہو جاتی ہے ۔
زراعت بچاؤ کے لئے عملی اقدامات اور عملی تجاویز سامنے لانی چاہئیں ، جس میں حقیقتاً کسان کو نئی زندگی ملے، خوشحالی آئے اور کسان کو اُس کا حق ملے۔
حکومت پر جو الزامات لگائے گئے ہیں اس کی بھی وضاحت آنی چاہئے۔ اگر کسانوں کے نام پر بعض مفاد پرست گروہ کسانوں کو بدنام کرنا چاہ رہے ہیں اس کا تدارک ہونا ضروری ہے۔

ان تمام باتوں سے بالاتر ہو کر کسان کی عملی زندگی کے حالات کا جائزہ بھی لینا چاہئے، اس کی کسمپرسی کے حقائق کا بھی جائزہ لینا چاہئے، کسان کی مصنوعات کی منڈیوں تک رسائی اور درمیان میں لوٹ مار کرنے والے گروپ کو بھی بے نقاب کرنا چاہئے۔ پاکستان کسان اتحاد اگر کسانوں سے مخلص ہے تو پیش کئے گئے مطالبات کے ساتھ ساتھ اِن باتوں کی طرف بھی آنا چاہئے۔
کسانوں کے نام پر احتجاجی تحریک کی آڑ میں اقتدار ہدف نہیں ہونا چاہئے، کسی گروپ یا تنظیم کی نمائندگی نہیں ہونی چاہئے۔ کسان کی خوشحالی کے لئے کئے گئے حکومتی اقدامات کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے، حکومت کو عملی تجاویز پیش کر کے ’’پاکستان زندہ باد زراعت زندہ باد‘‘ بنانا چاہئے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com