لاہور کی نوحہ گری۔ قسط نمبر 1

جمعرات جون    |    میاں محمد ندیم

کہتے ہیں کہ ہر 60 سالوں میں کسی شہر کا پورا منظرنامہ بدل جاتا ہے۔ پرانے مکان گر جاتے ہیں یا گرا دیے جاتے ہیں، اور نئے مکان ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ ساٹھ سال کی عمر میں مکانوں کے مکین بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ایک نسل رخصت ہو جاتی ہے اور نئی نسل اس کی جگہ لے لیتی ہے۔لاہور ایک شہر ہی نہیں ایک مکمل تہذیب کا نام ہے -باغوں کا شہرکہلانے والا لاہور آج اپنی بربادی پر نوحہ کناں ہے مگر کسی کے پاس اس کی گریہ زاری سننے کا وقت کہاں-لاہور تیزی سے بدل رہا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے جب میٹرو کے لیے کھدائی ہوئی تھی تو فیروز پور روڈ، مزنگ اور کچہری کے علاقے مٹی اور پتھروں کا ایک کھنڈر بن کر رہ گئے-ہزاروں خاندانوں سے ان کی پناہ گاہیں چھن گئیں جو آج اورنج ٹرین کے نام پر پھر سے چھینی جارہی ہیں-ایک گھر جہاں آپ پیدا ہوئے بچن ‘جوانی کے ایام گزارے اور بڑھاپے کے دہلیزپر پاؤں رکھاکتنی یادیں‘کتنی باتیں‘کتنے سکھ اور کتنے دکھ وابستہ ہوتے ہیں-زندگی کی کئی کئی دہائیاں ساتھ رہنے والے بکھر گئے اپنے محلہ سے نکل کر نئی جگہ پر سہمے سہمے سے‘یہ خوف دو نسلوں تک تو چلے گا ہی جو شعور میں گھر کرچکا اپنے آشیانے کے چھن جانے کا خوف‘کچے مکانوں کے سچے دلوں والے لوگ کہاں ملیں گے ۔

(خبر جاری ہے)

اب وہاں کنکریٹ کا ایک جنگل ہے جس کے درمیان انسان سہمے ہوے گاڑیوں میں سکڑے پھرتے ہیں۔اورنج لائن اور گرین لائن وہ نئے عفریت ہیں جو لاہور کے بچے کھچے حسن کو کھا جائیں گے۔لوگ شور مچا رہے ہیں، کبھی کبھی کوئی حکومتی اہلکار تسلی بھی دے دیتا ہے مگر میاں صاحب اور ان کے ساتھی سیمنٹ کے بیوپاری ہیں، جذبوں اور یادوں کے موتی کے کیا دام دے پائیں گے؟ بیشتر لوگ اپنے والدین کو جانتے ہیں۔ ان کی شکلیں، عادتیں، مزاج اور باتیں۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جنہیں اپنے دادا دادی یا نانا نانی سے ملنے کا موقع ملا ہوگا۔ اگر خود مل نہ بھی پائے تو کم از کم ان کا نام اور تذکرہ ضرور سنا ہوگا۔ ذہن پر زور دیں اور اپنے پر دادا پردادی کا نام یاد کریں۔ شاید ہی کوئی خوش قسمت ہوگا جس کی ملاقات ان سے ہوئی ہے اور بہت کم لوگ ان کے نام سے واقف ہوں گے۔ان سے بھی پہلے کے کسی بزرگ کا سوچیں، آپ کو ایک خلا کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ یہ ہے انسان کی زندگی کی حقیقت۔
ساٹھ سال، سو سال اور شاید ڈیڑھ سو سال میں انسان کا تذکرہ اور اس کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے۔آج کی ٹیکنالوجی لیس سے نسل کو کیا معلوم کہ ٹاہلی پر جھولے کیسے ڈالے جاتے ہیں‘ساون کی بارشوں میں گلیوں میں دوڑنا کیسا لگتا ہے‘وہ بڑے بھی عجیب نہیں تھے رمضان المبارک آتا تو محلے کے سارے بچوں کو ہانک کر مسجد لے جایا جاتا‘ذوق وشوق سے مسجد کے صحن کو عصرکی نمازکے بعد دھونا شروع کردیا جاتا‘پھر ٹبوں میں شربت بنایا جاتا‘ایک آدھ آنکھ بچا کر دوچار گھونٹ پی جاتا‘تربیت گھر سے ہوتی تھی‘آج کے والدین نے یہ ذمہ داری بھی سکولوں پر ڈال دی ہے کہ باپ کے پاس فرصت نہیں وہ چاہتا ہے ہر بچے کے لیے زندگی میں ہی گھر‘کاروبار بنا جائے اور رہی ماں تو اسے فرصت نہیں خریداری‘ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ پر دنیا بھر سے رابطوں سے ماسوائے ان کے جو اس کے آس پاس ہی ہر گزرے دن کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں‘ہماری نسل کے لوگ اس لیے ”مس فٹ“ہیں کہ ہم نے جس ماحوال میں پرورش پائی ا س میں ماں کی تمام تر توجہ کا محورومرکزاس کے بچے اور خاندان ہوتا تھا-میرے نزدیک اس دور کی عورت زیادہ independentتھی آج کی ”ماڈرن لیڈی“کے مقابلے میں ‘اس نے نسلوں کی تربیت کی‘آج کی ماڈرن لیڈی کے اپنے پاس تعلیم ہے اور نہ ہی تربیت کہ کاغذکا ٹکڑا تو سند ہے خوانداہ ہونے کی نہ کہ علم وہنرکی‘ خوش قسمت ہیں وہ جن کو ان کی کسی تصنیف، کسی شاہکار یا کسی خیال کی وجہ سے کچھ سو سالوں یا کچھ ہزار سال تک وقتی دوام مل جاتا ہے۔
اربوں انسانوں میں سے کچھ خوش نصیب لوگ، فنا ہی اس کائنات کی باقی رہ جانے والی حقیقت ہے۔ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جن کو قلندریاد ہونگے جو ریچھ لیکر گلی گلی تماشہ لگایا کرتے تھے ۔ کتنے لوگوں کو یاد ہوگا کہ کیسٹ کے تار اگر کھل جائیں تو پینسل انہیں واپس اپنے مستقر میں پہنچا سکتی ہے۔کتنے لوگوں کو یاد ہے کہ ان کے گھروں میں حجام آیا کرتا تھا حجامت کے لیے۔ تار کا آنا کسی بھی گھر میں کسی بری خبر کا اعلان ہوتا تھا۔
کتنے بچوں نے پٹھو گول گرام کھیلا ہے، گو گو کتنے لوگوں کو یاد ہے اور برف پانی کے کھیل کی ہیجان خیزی سے کتنے لوگ واقف ہیں؟کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں خط لکھنے، اسے پوسٹ کرنے، جواب کا انتظار کرنے، خط کا لفافہ کھولنے اور اسے پڑھنے کی لذت محسوس کی ہوگی؟ایس ایم اس پڑھنے والے، سیکنڈوں میں جواب پانے والے کبھی انتظار، اضطراب، بے یقینی اور یقین کی ان کیفیتوں کو محسوس نہیں کر سکیں گے جو ایک خط کے جانے سے اس کے جواب کے واپس آنے تک گزرتی تھی۔
ٹیلیفون بھی اپنا ایک مزاج لے کر آیا تھا۔ پورے محلے میں ایک ہی فون ہوتا تھا اور پہلے سے ٹائم دے کر رشتہ داروں کو جمع کرنا پڑتا تھا تاکہ بات ہو سکے۔سینے سے موبائل فون لگائے رکھنے والی نسل کو سوشل نیٹ ورکنگ کی وہ دنیا کہاں دیکھنے کو ملیں گے جب تیسرے محلے کے آٹھویں گھر میں کوئی پچیس ہمسائے جمع ہو کر اپنے مشترکہ بھتیجے، بھانجے یا پوتے سے با جماعت بات کیا کرتے تھے۔پہلے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلیاں دیر سے آیا کرتی تھیں۔
کئی نسلوں کے بعد ہی کوئی قابلِ ذکر تبدیلی نظر آتی تھی اور وہ بھی اتنی آہستہ اور سست۔ ایک نسل اپنی اقدار دوسری کے حوالے کر کے رخصت ہو جاتی تھی، ریلے ریس کے کسی اتھلیٹ کی طرح۔ٹیکنالوجی نے ہماری ایک ہی نسل کو مختلف منظر نامے دکھا دیے ہیں۔ ہماری آنکھوں کے سامنے سب کچھ تبدیل ہو گیا ہے۔ ہم وہ نسل ہیں جو شاید ان سارے منظرناموں کی آخری وارث بھی ہے اور ان کی آخری چشم دید گواہ بھی۔ مٹھی سے پھسلتی ریت کی طرح یہ منظر بھی جلد ہی ہمارے ہاتھوں سے نکل کر ریت کے سمندر میں ڈوب جائیں گے۔
لاہور کا جغرافیہ تو ہم بدل ہی رہے ہیں مگر اس سے زیادہ تیزی سے ہم وہ عادتیں رسمیں اور رواج بدل رہے ہیں جو صدیوں سے ہمارا ورثہ تھیں۔میں جب کبھی لاہور کے مال روڈ سے گزرتا ہوں ہوں تو مجھے اس بابے کی بات یاد آتی ہے کہ جب نواب آف کالاباغ گورنر تھے اور لاہور گورنر ہاوٴس سے نکلتے تھے، تو پورے مال روڈ پر گھاس پھوس بچھا دی جاتی تھی تاکہ تانگے کے کھروں پر بوجھ نا پڑے۔اس بابے کے ہونٹوں پر چھلکتے انبساط میں مجھے ٹانگے کے قدموں کی دبی دبی ٹک ‘ٹک اس وقت بھی سنائی دیتی تھی۔
وہ منظر ایک امانت تھی جو اس نے مجھے سونپی اور چلا گیا۔گرمیوں کی راتوں کو ہم اپنے گھر کی چھت کی منڈیروں پر بیٹھ کر جرنیلی سٹرک(ملتان روڈ)سے گزرنے والے گڈوں(بیل گاڑیوں)کے قافلے ‘بیلوں کے گلوں میں لٹکی گھنٹیوں کی آوازیں ‘بیلوں کے سموں سے پیدا ہونی والی آواز‘گڈوں پر ڈگمگاتی لالٹینیں اور گاڈی بانوں کے ڈھولے اب کبھی واپس نہیں آئیں گے‘کچھ دن گزرے پرانی یادوں کی کچھ گھڑیاں کھولے اوراق الٹ پلٹ رہا تھا کہ کاغذکا اک پرزہ نیچے گرگیا”ٹرگئے لوک سیانے بیبا-پیپلاں ہیٹھاں حقے رہ گئے“کافی دیر تک اسے ہاتھ میں پکڑے بیٹھا رہاکہ اب تو نہ حقے رہے اور نہ ہی کوئی پیپل رہنے دیا گیا-لاہور کے نوحہ گر ایک ایک کرکے گزرتے چلے گئے مگر کسی نے ان کے نوحوں پر دھیان نہیں دیا -اس سحرانگیزشہرکی بربادی کا آغازاسی کی دہائی میں شروع ہوا تو پھر اس نے رکنے کا نام نہیں لیا‘نہ کیکررہے نہ ٹاہلیاں‘میرے دیہاتوں کو زبردستی شہربنادیا گیا‘سونا اگلنے والی زمینوں پر کالونیاں بنتی چلی گئیں ‘آج لاہور اپنی لاش پر ماتم کررہا ہے اور ہم اس لاش پر میٹرو اور اورنج ٹرین چلانے پر بضدہیں ‘چند دن پہلے دوایسی رپورٹس نظرسے گزریں کہ دل دہل کررہ گیا‘پہلی رپورٹ کے مطابق 1947سے آج تک ہم نے دوکھرب سے زیادہ درختوں کا قتل عام کیا‘جنگلات جوکہ کسی بھی ملک کے کل رقبے کا25فیصد ہونا اس کے ماحولیاتی تحفظ کے لیے ضروری ہے ‘پاکستان میں اس کی شرح دوفیصد سے بھی کم ہے‘دوسری رپورٹ لاہور سے متعلق تھی کہ ماہرین کے مطابق لاہور کا زیرزمین پانی ہر سال ایک میٹرکے حساب سے نیچے جارہا ہے جوکہ خطرناک ترین رفتار ہے ‘اگر صورتحال اسی طرح رہتی ہے تو ”تاجر“طبقہ تو اربوں ‘کھربوں کما کر لندن اور پیرس کے محلوں میں جابسے گا عام لوگ کہاں جائیں گے؟پانی نہ رہا تو آج کی کروڑوں کی کوٹھیاں کوئی لاکھوں میں بھی نہیں خریدے گا- گورنمنٹ کالج لاہور کے ادبی مجلے راوی میں ایک نظم تھی۔
الفاظ تو صحیح یاد نہیں مگر بیان کچھ اس طرح کا تھا کہ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر اس شہر میں پارک اور پھول اور تتلیاں نہ ہوں، اور صرف اونچی عمارتیں اور پتھر دل سڑکیں رہ جائیں، تو میں تو شاید مر جاوٴں۔ پھر کون حساب کرتا پھرے گا کہ کتنے لوگوں نے بھوک سے خود کشی کر لی ہے، اور کس ٹہنی پر کس گھونسلے میں آج چڑیا خالی ہاتھ واپس آئی ہے؟یہ جو حساس دل لوگ ہوتے ہیں، جیسے عبداللہ حسین تھے، جیسے احمد فراز تھے، جیسے فیض احمد فیض تھے،منیرنیازی اور نجانے کتنے لاہور کے عشق میں مبتلا رہے یہ لوگ بدلتی رتوں کا حساب رکھتے تھے۔
درختوں پر لگے چڑیا کے گھونسلوں کی آبادی کا شمار کرتے اور ان عادتوں کو اوراق کے ایسے صندوقچوں میں محفوظ رکھتے ہیں، جن کا بچ رہنا قوموں کی زندگی میں بہت ضروری ہے مگر ہم نے ایک ایک کرکے انہیں کھودیا۔ہم میں سے کتنے ہیں جو ماضی کی ان امانتوں کا قرض اتار رہے ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ میٹرو، اورنج لائن اور گرین لائن کی شکل میں ہم کنکریٹ کے پہاڑ چنتے جا رہے ہیں، اور وہ لوگ جو پھولوں اور موسموں کا حساب رکھتے تھے ایک ایک کر کے یہ بستی چھوڑتے چلے جارہے ہیں؟خلا کی وسعتوں اور وقت کی لامتناہی پنہائیوں میں میرے ساتھ ایک مختصر لمحے کے شریکو، زندگی کی مصروفیات میں کھو جانا غلط نہیں مگر کبھی کبھی رک کر اس کی حقیقت پر بھی سوچنا چاہیے۔
ہم سب ایک چلتی ٹرین کے مسافر ہیں۔ منزل کی فکر بہت ضروری ہے مگر کبھی کبھی کسی اسٹیشن پر اتر کر اس بابے کی بات بھی سن لینی چاہیے جو شاید اسی انتظار میں ہو کہ کب ٹرین رکے اور وہ اپنے حصے کی امانت آپ کو سونپ کر چلا جائے۔اگر ہو سکے تو اس منظر کو سنبھال لینا تاکہ تمہاری آنے والی نسلوں کے تخیل میں اس دنیا کا ایک گوشہ آباد ہو سکے، جس میں آج میں اور آپ رہتے ہیں۔لاہور کا نوحہ کنہیال لال نے لکھا پھر اے حمید نے اسے ایک نئی جلابخشی مگر کیا کروں کہ میرے شہرکے نوحہ گر بھی نہ رہے---جاری ہے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

لاہور


متعلقہ کالم