یوم باب ا لاسلام2016ء

جمعہ جون    |    میر افسر امان

۱۰ /رمضان کو مسلمانان ہند یوم باب الاسلام مناتے رہے ہیں۔ اُس دن سندھ کے ذریعے ہند میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی گئی تھی جو بعد میں مسلمان حکومتوں کی شکل میں مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی حکومت تک ایک ہزار تک جاری رہی۔اگر ہند پر بیرونی حملہ آواروں کا تاریخی طور پرتجزیہ کیا جائے تو کچھ اسطرح ہے کہ ہند پر حملہ آواروں نے دو راستے اختیار کیے۔ ایک زمینی راستہ جو درہ خیبر کا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع ہے۔
دوسرا راستہ جو بیرونی حملہ آواروں نے استعمال کیا وہ سمندری ہے۔ مسلم ہند پر قبضہ کرنے کے لیے سب سے پہلے عیسائی پرتگالی کپتان واسکوڈیگاما۱۴۹۸ء میں تین بادبانی جہازوں کے دستے کے ساتھ جنوبی ہند کی کا لی کٹ بندرگاہ پہنچا تھا اور سازش کر کے کچھ مدت بعد گوا کی بندر گاہ کو مستحکم جنگی مرکز بنایا۔

(خبر جاری ہے)

کیونکہ اس وقت ہند پر مسلمان حکمران تھے اس لیے1501 ء اس کو ان کے بادشاہ ، شاہ پرتگال کا فرمان تھا کہ موروں( مسلمانوں)کو قتل کیا جائے اور ہندوؤں کو اپنے مطلب کی تعلیم دے کر دفتری کام لیا جائے۔

انگریز اور دوسری یورپی قوموں کو ہند وستان میں قدم جمانے کے لیے70/ سال تک آپس میں کش مکش کرنی پڑی تھی ۔انگریز سوداگروں کی شکل میں ہندوستان میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے پہلی تجارتی کوٹھی1612 ء میں سورت میں قائم کی تھی۔پھر ریشادوانیوں سے فرنگی سوداگر ہندوستان پر قبضہ جماتے گئے۔ انگریزوں نے ہندوستان پر صرف ڈیڑھ سو سال حکومت کی تھی۔اس دوران انہوں نے مسلمانوں کو کمزور اور ہنددؤں کوطاقت ور بنایا اس کی وجہ مسلمانوں سے خوف تھاکیوں کہ وہ ایک ہزار سال سے حکمرانوں کی اولاد تھے۔
انگریز ا ن سے خطرہ محسوس کرتے تھے۔ انگریزوں نے مسلمانوں کے اندر اپنے مطلب کے لوگ تلاش کر کے ان کو اپنی تہذیب تمدن کا خو گر بنایا۔ پروپگنڈے کے زور پر اپنی برتری کو مسلمانوں میں عام کیا اس کے باوجود ہند پر صرف ڈیڑھ سو سال ہی حکومت کر سکے۔ مسلمانوں نے انہیں ہند سے نکالنے کی ہندوؤں سے زیادہ کوششیں کی۔ مسلمان کمانڈر محمد بن قاسم بھی ہند پر بحری راستے یعنی مکران/دیبل کی بندر گاہ کے راستے سے حملہ آور ہوا تھا۔
اس سے قبل آریا وسط ایشیا سے درہ خیبر کے راستے ہندوستان میں داخل ہوئے تھے۔انہوں نے ہند کی قدیم آبادی دراوڑوں کو غلام بنا کر ایک عجیب غریب چھوت چھات کے فلسفے کی بنیاد رکھی اور مقامی آبادی کو غلام بنا لیا۔حملہ آور کچھ تو برہمن بن گئے جوبھگوان کے سر سے پیدا ہوئے۔ ان ہی میں سے کچھ کھتری بن گئے جو بھگوان کے سینے سے پیدا ہوئے۔ویش بھگوان کے دھڑ سے پیدا ہوئے اور مقامی آبادی کو شودر بنا دیا جوبھگوان کے پیروں سے پیدا ہوئے۔
یعنی ان کو اپنی خدمت پر لگا دیا۔ ان کے محلے علیحدہ ہوتے تھے یہ لوگ سڑکوں اور لیٹرین میں صفائی کا کام کرتے تھے۔ بجائے ان کے حقوق ادا کرنے کے ان کو غلام بنا لیا۔ مسلمان دیبل کی بندر گاہ کے راستے پہلے سندھ میں داخل ہوئے پھر پورے ہند پرایک ہزار سال تک حکومت کی ۔اس لیے مسلمانان ہند سندھ کو باب الاسلام کے نام سے جانتے ہیں۔ محمد بن قاسم ثقفی دس رمضان کو سندھ میں داخل ہوا تھا۔اس لیے دس رمضان کو با ب ا لاسلام کے نام سے مناتے ہے۔
آریاؤں کی طرح مسلمانوں نے ہندکی پرانی آبادی کو تنگ نہیں کیا بلکہ اسلامی زرین اصولوں کے تحت فراغ دلی سے اپنا بنایا۔ محبت کے اس رویہ سے ہند کے کروڑوں لوگ حلقہ بخوش اسلام ہوئے۔ تاریخ میں یہ واقعہ آتا ہے کہ کچھ بحری مسافروں کو دیبل کے قریب بحری قزاقوں نے لوٹا جن کے اندر لنکاسے کچھ مسلمان تاجروں کی بیوہ عورتیں اور ان کے بچے اورشاہ لنکا کے تحائف تھے۔ان کی رہائی کے لیے راجہ داہر سے رابطہ کیا گیا مگر اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
اس پر حجاج بن یوسف نے 92 ھ میں 17/ سال کی عمر میں سندھ کی فتح کے لیے محمد بن قاسم کو نامزد کیا تھا ۔ محمد بن قاسم نے پہلے مکران پر حملہ کیا اور اس کو فتح کیا اس کے بعد دیبل کی بندرگاہ کو فتح کیا اس کے بعد آگے بڑھتے ہوئے دریائے سندھ کے دائیں کنارے نیرون کوٹ اور سیون فتح کیے اس کے بعد دریائے سندھ کو عبور کر کے 10/رمضان ا لمبارک مطابق 93 ھ جون 712ء راوڑ(روہڑ ی) قلعے کے نزدیک سندھ کے راجہ داہر کے لشکر کو شکست فاش دی اس لڑائی میں راجہ داہر مارا گیا اوراس کے بعد محمد بن قاسم نے دریائے سندھ کے بائیں کنارے کی جانب قلعہ بہروز ، برہمن آباد اور آخر میں پایہ تخت ارور کوفتح کر لیا اس کے بعد اوچ اور ملتان کو فتح کیا۔
محمد بن قاسم نے سندھ میں امن وامان قائم کیا عدل اور انصاف جو ایک کامیاب ریاست کی نشانی ہوتی ہے ۔سندھ کے بے ضرر عوام کے خلاف کوئی جوابی کاروائی نہیں کی دست کاروں، تاجروں، غریب کسانوں اور دوسرے پیشہ ور لوگوں کو امان دی اور کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا بلکہ ان سے نرمی برتی۔چنا قبائل کے لوگ اسلام کی فوجوں کی خبر سن کر تحفوں کے ساتھ محمد بن قاسم کے پاس حاضر ہوئے اطاعت و مال گزاری قبو ل کر کے واپس ہوئے۔
لوہانہ،سہتہ،جنڈ،ماچھی،ھالیر اور کوریجا قبائل کے لوگ سرپا برہنہ ہو کر امان کے لیے آئے جنہیں امان دی گئی اس طرح سمہ قوم کے لوگ
ناچتے گاتے اورڈھول بجاتے امان کے لیے آئے ان کو امان دی گئی ساتھ ساتھ ان کو 20/ دینار انعام دیے بلکہ قطعات اراضی بھی عطا کی۔حجاج بن یوسف نے دیبل کی فتح کے موقعہ پر ہدایات جاری کیں جو کچھ حاصل ہوا ہے اس کو عوام پر خرچ کر دیں۔ اس سے عوام کی دلجوئی ہو گی اگر کسان صنعت کار ،دستکار اورتاجر آسودہ ہوں گے تو ملک سرسبز رے گا۔
محمد بن قاسم کی نرم مزاجی کے متعلق ڈاکڑ ممتاز حسین پٹھان فرماتے ہیں ”رواداری کسی بھی فاتح کے لیے رہنما اصول کی حثیت رکھتی ہے اس کے باوجود کہ وہ مخالف کو دبانے کی صلا حیت رکھتا ہو۔ محمد بن قاسم نے سندھ کے باشندوں کے لیے مہربانی اور رواداری کا طریقہ اختیار کیا ۔“جو جارحیت کی بجائے مصالحت کے لیے آمادہ ہوا اس کی پیشکش قبول کی ۔بدھیہ کا راجہ کاکابن کوتل اپنے سرداروں کے ہمراہ وفاداری اور اطاعت کے وعدے کے ساتھ آیا اس خلعت و کرسی سے نوازا۔
جامہ ہندی ریشم اور حریر عطا کی ۔انہیں سابقہ عہدوں پر برقرار رکھا۔ سورتھ کا حاکم راجہ موکہن وسایو جو قلعہ بیٹ پر متعین تھا اس کوبھی امان دی اور سابقہ عہدے پر برقرار رکھا۔راجہ کے وزیر سیاکر کو بھی اپنا مشیر خاص بنایا۔اس کے مشورے سے مالیہ زمین کو قدیم دستور کے مطابق رکھا ۔راجہ داہر کے چچا زاد بھائی راجہ ککسو کو سابقہ قلعہ بھالیہ کا حاکم قائم رکھا اسے اپنا مشیر بنایا اسے مبارک مشیر کا لقب عطا کیا خزانہ بھی اس کی مہر کے حوالے کیا وہ ہر لڑائی میں محمد بن قاسم کے ساتھ رہا۔
محمد بن قاسم اپنے عدل وانصاف رواداری کی وجہ سے سندھ میں احترام اور مقبولیت پا چکا تھا۔ان ہی پالیسیوں کی وجہ سے مسلمان ہندپر ایک ہزار سال حکمران رہے۔ آزادی کے بعد ہند پاکستان اور بھارت کی شکل میں تقسیم ہوا۔ آج مودی سرکار نے بھارت کے مسلمانوں کو تعصب کی وجہ سے تنگ کر رہی۔ لگتا ہے کہ بھارت میں مسلمان ایک اور پاکستان بنانے کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ہم بھارت کے مودی حکمران سے کہتے ہیں مسلمانوں نے تو تمھارے اوپر ایک ہزار سال حکومت کی تم سو سال تو پورے کرو۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com