پلس مائنس فارمولا

جمعرات جون    |    محمد عاصم نصیر

کون آ رہا ہے اور کب کیا ہونے جارہا ہے ۔عید کے بعد کیا کوئی بھونچال بھی آ رہا ہے؟ آج کل پاکستان کا مقبول ترین موضوع کچھ ایسے ہی سوالات پر مبنی ہے۔کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ بات مائنس فارمولا سے آگے چلی گئی ہے کچھ کا کہناہے کہ اپوزیشن میں پلس فارمولا مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ درحقیقت پلس اور مائنس فارمولے پر گفتگو کرنے سے قبل ہمیں ملکی معروضی حالات پر بھی نگاہ دوڑانا ہو گی۔ بے شک اس مملکت خداداد پر اللہ کا خصوصی کرم ہے کہ اس کے معاملات وہ چلا رہا ہے،،،،،،، چلیں آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔
گذشتہ دنوں جس طرح سندھ میں غیر معمولی واقعات ہوئے اور چیف جسٹس سندھ کے بیٹے کے اغوا کے بعد فن قوالی کے عہد ساز خاندان کے چشم و چراغ امجد صابری کو شہید کیا گیا اس نے جہاں کئی سوالات کو جنم دیا وہیں حکومت سندھ کی کارکردگی کا پول بھی کھول دیا۔

(خبر جاری ہے)

خیال تو یہی کیا جاتا تھا کہ جو فن قوالی صابری برادران مرحومین کو حاصل تھا امجد اس مقام سے ابھی دور تھا مگر اسکی وفات کے بعد جس طرح شہر قائد نے بڑے باپ کے بیٹے کو الودع کیا اس سے گمان ہوتا ہے کہ وہ خاموشی سے ہی اپنے خاندان کا نام بہت بلند کر گیا۔

بارگاہ ایزدی سے دعا ہے کہ اللہ امجد کے درجات بلند کرے اور امن کے دشمن سفاک قاتلوں کو جلد بے نقاب کرے۔مگر صاحب بات اب دعاؤں سے بھی آگے پہنچ گئی ہے۔ اب شہر کراچی کو بچانے کیلئے عام آدمی کو آگے آنا ہو گا۔قومیں ہمیشہ قربانیاں دے کر ہی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ مگر اب حکمرانوں کو کون بتائے کہ قوم تو قربانیاں دے دے کر تھک چکی۔ ایک جانب لیاقت علی خان سے بے نظیر بھٹو اور کرنل شجاع خانزادہ شہید سے امجد صابری تک قوم قربانیاں ہی تو دے رہی ہے۔
دوسری جانب مہران ائیربیس سے اے پی ایس پشاور تک ہماری فورسز نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے ملک کو مضبوط کرنے کی لازوال کوشش کی مگر اب وقت آگیا ہے کہ قومی دھارے میں رہتے ہوئے سیاسی رہنما بھی اپنا کردار ادا کریں۔حکمران تو ملک کو مسائل سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر انکا ماضی انکے مستقبل پر سوال اٹھا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مائنس ون فارمولا زبان زد عام ہے۔ جس طرح قوم کے سپہ سالار نے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کامیاب جنگ لڑی اور جمہوریت کی مضبوطی کیلئے شاندار کردار ادا کیا اس پر انہیں سلام کرنے کو جی چاہتا ہے۔
مگر حاکم وقت کو کون بتائے کہ موقع ہر مرتبہ نہیں ملتا۔ملک ایک ماہ سے زائد اپنے محبوب قائد کے بغیر اگر چل سکتا ہے تو کوئی بعید نہیں کہ آنے والے دنوں میں اسی کو بنیاد بنا کر معاملہ نیا رخ اختیار کر لے۔کراچی کے دورے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ اس وقت معاملات چلا کون رہا ہے ؟ عجب بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کے وزیر اعظم مودی بھی اب چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں کئی طاقتیں کام کر رہی ہیں وہ مذاکرات ان طاقتوں سے کریں یا منتخب حکومت سے۔
مشیروں نے 1999 میں جو جمہوری حکومت کے ساتھ کروایا گمان ایسا ہوتا ہے کہ اب بھی مزاحمت کی پالیسی کو برقرار رکھنے اور سب اچھا کی رپورٹ سے اسی تسلسل کو جاری رکھا جائے گا۔
مگر یاد رہے کہ اب پاکستان ہر گزکسی ایڈونچر کا متحمل نہیں ہو سکتا اسکے لیے معاملات کو افہام و تفہیم سے چلانا ضروری ہو گا۔مائنس فارمولا ویسے بھی ان جماعتوں یا حکومتوں میں فروغ پاتا ہے جہاں لچک ہو اور جو ماضی گواہ ہے کہ جو سیاسی رہنما اسٹیبلشمنٹ کی گود میں پروان چڑھ کر آئیں وہ نظریاتی سے زیادہ مفاداتی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔
اور یہی بدقسمتی ہے کہ جن کو اشارہ کروایا جا رہا ہے وہ بھی ایمپائر کے بغیر قدم نہیں اٹھاتے۔عید کے بعد سیاسی حدت اپنے عروج پر پہنچنے کا قوی امکان ہے اور مقتدر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بار شہر اقتدارکے بجائے زندہ دلوں کے شہر میں رن پڑے گا۔ ایک جانب اپوزیشن تیاری پکڑ رہی ہے تو دوسری جانب معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کر نے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کر کے ناجانے یہ عوام کو کس مشکل سے دوچار کرنے جا رہے ہیں۔
جیسا کہ میں اپنے گذشتہ کالموں میں بھی حکومتی اراکین کے اندر قیادت کے خلاف پائے جانے والے غصے کی نشاندہی کر چکا ہوں آنے والے دنوں کے حوالے سے بھی یہی کہوں گا کہ مسلم لیگ نون کے اندر بات حل ہوتی کم ہی نظر آ رہی ہے۔ چند قریبی رفقاء کے علاوہ معاملات اس قدر تلخ ہیں کہ کسی وقت بھی حکمران جماعت کو ہم خیال گروپ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ باخبر حلقوں کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ نون کی قیادت لڑے گی چاہے وہ مکمل ٹوٹ جائے مگر ہر محاذ پر مقابلے کیلئے وہ اپنا زور بازور ضرور آزمائے گی چاہے اس کیلئے اسے کسی حد تک کیوں نا جانا پڑے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن حکومت کو مائنس فارمولا پر آمادہ کرتی ہے یا پھر حکومت ،اپوزیشن کی کسی جماعت کو اپنا ہم خیال بنا کر احتجاج کرنے والوں کو پلس فارمولا کی مات مارے گی۔ مگر اس کیلیے شرط عید تک انتظار ہے۔امجد اسلام امجد نے بھی اس موقع پر کیا خوب کہا تھا کہ
دیکھئے خون کی برسات کہاں ہوتی ہے
شہر پر چھائی ہوئی سْرخ گھٹا ہے کب سے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عاصم نصیر کے مزید کالم