علم کا خزانہ !

منگل اپریل    |    محمد عرفان ندیم

آپ نے علامہ اقبال کی نظم خطاب بہ جوانان اسلام ضرور پڑھی ہو گی ،اس نظم کے آخری دو اشعار میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کو جھنجوڑنے کے لیے بڑا دردناک منظر پیش کیا ہے ، وہ مسلمانوں کے شاندار ماضی کا تذکرہ کرنے کے بعد مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر اپنے دکھ اور کرب کا اظہارا ن الفاظ میں کرتے ہیں کہ وہ علم کے موتے اور ہمارے آباء اجداد کا علمی خزانہ جب میں انہیں یورپ کی لائیبریریوں میں دیکھتا ہوں تو میرا دل ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے ۔
ان اشعار کا پس منظر یہ تھا کہ جب علامہ اقبال لندن گئے اور ہاں کی لائیبریریوں میں انہوں نے مسلمانوں کے ہاتھوں سے لکھے ہوئے مختلف علوم و فنون پر مشتمل لاکھوں مخطوطے دیکھے تو ان کا درد الفاظ کا روپ دھا ر کر خطاب بہ جوانان اسلام کی نظم میں ڈھل گیا تھا۔

(خبر جاری ہے)

پچھلے کالم میں ،میں نے مخطوطات کا پس منظر اور یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ مسلمانوں کا یہ علمی خزانہ اور لاکھوں مخطوطات یورپ کی لائیبریریوں میں کیسے پہنچے ،اب ذرا یہ تفصیل دیکھ لیں کہ یورپ کی کس لائیبریری میں کتنے مخطوطے پڑے ہوئے ہیں ۔

جرمنی کی برلن پبلک لائیبریری کو یورپ میں عربی مخطوطات کی سب سے بڑی لائیبریری شمار کیا جاتا ہے ،اس کے بعد برلن اسٹیٹ لائیبریری،ہیمبرگ یونیورسٹی لائیبریری اور میونخ لائیبریری عربی مخطوطات کے مراکز ہیں ۔ فرانس کی پبلک لائیبریری ،اٹلی کی ویٹی کن لائیبریری ،نیشنل سنٹرل لائیبریری فلورنس، اسپین کی اسکوریال لائیبریری میڈرڈ ، نیشنل لائیبریر ی آف اسپین اور پبلک لائیبریری میڈرڈ عربی مخطوطات کے اہم مراکز ہیں ۔
برطانیہ کی برٹش لائیبریری ، انڈیا آفس لائیبریری ، رائل ایشیا ٹک سوسائٹی لائیبریری ،آکسفورڈ یونیورسٹی لائیبریری ، کیمبرج یونیورسٹی لائیبریری ، گلاسگو یونیورسٹی لائیبریری ، ایڈن برگ لائیبریری اسکاٹ لینڈ ،ہالینڈ لائیڈن یونیورسٹی لائیبریری ، سویڈن کی سٹاک ہوم یونیورسٹی لائیبریری ، رائل لائیبریری اسٹاک ہوم ، آسٹریا کی پبلک لائیبریری ، اورینٹیل لائیبریری ویانا ، ڈنمار ک کی رائل لائیبریری کوپن ہیگن ، روس کی نیشنل لائیبریری اورکازان اسٹیٹ یونیورسٹی لائیبریری میں لاکھوں مخطوطات پڑے ہیں ۔
امریکہ میں کانگریس لائیبریری واشنگٹن ڈی سی ، نیو یارک پبلک لائیبریری ، مشی گن یونیورسٹی لائیبریری ، پنسلوانیہ یونیورسٹی لائیبریری ، شگاگو یونیورسٹی لائیبریری اور پرنسٹن یونیورسٹی لائیبریری عربی مخطوطات کی آماجگاہیں ہیں ۔ یہ مغربی ممالک کی وہ اہم اور معروف لائیبریریاں ہیں جہاں مختلف علوم وفنون پر مشتمل ہزاروں لاکھوں مخطوطات تحقیق و تدوین کے منتظر ہیں ۔یہ مخطوطات علوم قرآن، حدیث ، فقہ ، فلسفہ ، ادب، لغت، فلکیات ، طب، کیمیااور ریاضی جیسے علوم پر مشتمل ہیں اور ان میں ایسی نایاب کتب بھی شامل ہیں جو سولہویں اور سترھویں صدی تک مغرب کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہی ہیں ۔

اس کے علاوہ عرب ممالک میں مخطوطات کی صورتحال یہ ہے کہ مصر کا دارلکتب المصریہ قاہرہ اور مکتبة الازہر یہ دونوں ادارے قیمتی اور نایاب کتب اور مخطوطات کے اہم مراکز ہیں ، سعودی عرب کا مکتبة المسجد النبوی ، جامعہ ام لقریٰ ، مرکز الملک الفیصل ، دارلکتب الوطنیہ ریاض ، شام کا معہد المخطوطات العربیہ ، درالکتب الوطنیہ حلب، عراق کا امکتبة الاقاف العامہ بغداد ، فلسطین کا مکتبة المسجد الاقصیٰ اس مکتبے میں ہزاروں مخطوطات انتہائی بوسیدہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں ۔
تیونس کا مکتبة الجامع الکبیر ، اردن کا مکتبة الجامعة الاردنیہ ، کویت کا المکتبة الاہلیة العامہ ، لیبیا کا مکتبة الوطنیہ طرابلس ، لبنان کا المکتبة الوطنیہ بیروت ، مراکش کا خزانة الجامع الکبیر ، ایران کا خزانہ ء مخطوطات اصفہان ، المکتبة المرکزیہ للمخطوطات الاسلامیہ تبریز ، سنٹرل لائیبریری تہران ، ترکی کی استنبول یونیورسٹی لائیبریری ،توپ کاپی میوزیم استنبول ، عثمانیہ لائیبریری استنبول ، فاتح مسجد لائیبریری ، سلیمانیہ لائیبریری اور فہارس مخطوطات ترکی مخطوطات کے اہم مراکز ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ سب سے ذیادہ مخطوطات ترکی میں موجود ہیں ۔ ازبکستا ن کی لائیبریری آف مسلم بورڈ ،ازبکستان سائنس لائیبریری اور سمر قند لائیبریری شامل ہیں ۔ عرب اور مغرب کی یہ لائیبریریاں عربی مخطوطات کے اہم مراکز ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کے علاوہ مخطوطات اور کہیں موجود نہیں بلکہ یہ مخطوطات کے صرف چند اہم اور مشہور مراکز اور لائیبریریاں ہیں اس کے علاوہ بھی دنیا بھر میں بہت سی لائیبریریوں اور افراد نے اپنی ذاتی لائیبریریوں میں یہ مخطوطات جمع کیئے ہوئے ہیں ۔

عرب وعجم کی لائیبریریوں میں پڑے ہوئے یہ لاکھوں مخطوطات تحقیق و تدوین اور ایڈیٹنگ کے منتظر ہیں ،ا کیسویں صدی میں ان مخطوطات تک رسائی اور ان کی ایڈیٹنگ کوئی مسئلہ نہیں رہا ، ان لائیبریریوں اور ان کے ذمہ داران نے ان مخطوطات کو مائیکرو فلمز کی صورت میں محفوظ کر کے آن لائن کر دیا ہے ، اب آپ کو ہزاروں میل کا سفر طے کرنے اور اور لائیبریریوں کی خاک چھاننے کی ضرورت نہیں آپ آن لائن یہ مائیکرو فلمز حاصل کر کے ان مخطوطات پر کام شروع کر سکتے ہیں ۔
عرب ممالک کے بعض ادروں نے اس حوالے سے کافی کام کیا ہے ، ان میں قاہرہ کے تحقیقی مرکز معہد المخطوطات العربیہ ، ریاض کے مرکز الملک فیصل ، مکہ مکرمہ کی جامعہ ام القریٰ ، مدینہ منورہ کی الجامعة الاسلامیہ اور مصر کی جامعة الازہر نے دنیا کی مختلف لائیبریریوں اور اداروں سے یہ مائیکرو فلمز حاصل کرکے ا نہیں اپنے پاس محفوظ کر لیا ہے اور یہاں سے ہر محقق اپنی پسند اور مرضی کا مخطوطہ حاصل کر کے اس پر کام شروع کر سکتا ہے ۔
عرب لیگ کے ماتحت قائم ہونے والے ادارے معہد احیا المخطوطات کا کام بھی قابل قدر ہے ، یہ ادارہ عرب لیگ نے پچاس کی دہائی میں قائم کیا تھا جس کا مقصد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ،مغرب اور یورپ کی یونیورسٹیوں میں موجود مخطوطات کو اکٹھا کرنا اور ان کی تدوین و ایڈیٹنگ تھا ۔ اس ادارے کی زیر نگرانی مخطوطات کے ماہرین کو مختلف ممالک اور یونیورسٹیوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں سے یہ ماہرین ان مخطوطات کی کاپیاں اور مائیکرو فلمز حاصل کر کے محفوظ کر لیتے ہیں ۔
یہ ادارہ مخطوطات کی فہرست بھی چھاپ دیتا ہے اور اگر کوئی ریسرچر اور محقق کسی مخطوطے پر کام کرنا چاہے تو اس فہرست سے مخطوطے کا نام نمبر اورضروری اخراجات ارسال کر کے مطلوبہ مخطوطہ حاصل کر سکتا ہے ۔ یہ ادارہ اپنی سہ ماہی رپورٹ بھی شائع کرتا ہے جس میں ادارے کی سرگرمیوں کے علاوہ مخطوطات کے بارے میں کافی تفصیل موجود ہوتی ہے ۔ محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی ریاض کا کام بھی اہم ہے اس ادارے نے بھی مختلف ممالک اور لائیبریریوں سے مخطوطات کا کافی بڑاذخیرہ اکٹھا کر لیا ہے ۔
شاہ عبد العزیز یونیورسٹی کے ماتحت مرکز البحث العلمی و احیا التراث الاسلامی نامی ایک ادارہ کام کر رہا ہے جس نے ہزاروں مخطوطات کی کاپیاں اور مائیکرو فلمز اپنے پاس محفوظ کر لی ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی عرب ممالک کی بہت سی یونیورسٹیوں اور جامعات نے مخطوطات کو اکٹھا کرنے اور ان کی تحقیق و تدوین کے الگ سے ادارے قائم کیئے ہوئے ہیں ۔ اس علمی خزانے کے حوالے سے ہمارے رویے کا ایک دردناک پہلو اور بھی ہے جس کا تذکرہ پھر کبھی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com