ہماری غلطی

بدھ مارچ    |    محمد عرفان ندیم

یہ شاید نیو یارک شہر تھا ، ایک با پردہ لڑکی بس کے انتظار میں کھڑی تھی ،تھوڑی دیر بعد بس آ گئی ، لڑکی بس میں سوار ہوئی کوئی سیٹ خالی نہیں تھی ،وہ ڈرائیور کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی، امریکہ میں خواتین بھی بس ڈرائیو کرتی ہیں اس بس کی ڈرائیور بھی ایک خاتون تھی ، خاتون نے ایک لڑکی کو یوں نقاب اوڑھے دیکھا تو بہت حیران ہوئی ، وہ سارا راستہ بار بار اس کی طرف دیکھتی رہی ،بس مختلف اسٹیشنوں پر رکتی آگے بڑھتی رہی ، اس لڑکی کا اسٹیشن سب سے آخر میں تھا ،اسٹیشن آیا ، لڑکی نے اپنا سامان اٹھایا اور چل پڑی ، خاتون نے اسے آواز دے کر بلا یا اور ہیلو ہائے کے بعد پوچھا ” آپ نے خود کو ایسے کیوں ڈھانپ رکھا ہے “ لڑکی نے جواب دیا ” میں مسلمان ہوں اور ہمارے مذہب میں اس بات کی تعلیم دی گئی ہے “ ۔

(خبر جاری ہے)

”لیکن اس کی وجہ کیا ہے “ خاتون نے تجسس سے پوچھا ۔ لڑکی بولی ” اسلام میں مرد اور عورت کو ایک دوسرے کی عزت و احترام اور شرو حیا کا پابند کیا گیا ہے ، مرد کو حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھے اور عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ خود کو چھپا کر رکھے تا کہ کوئی اجنبی مرد ان پر غلط نگاہ نہ ڈال سکے “ خاتون نے لڑکی کو حسرت بھری نظروں سے دیکھا ،تھوڑی دیر کے لیے سر جھکایا اور درد بھرے لہجے میں بولی” بیٹی !تمہارا اسلام ٹھیک کہتا ہے ، یہ نقاب اوڑھ کر تم نے بہت اچھا کیا ، جب تک تم امریکہ میں ہو اس کی ضرور پابندی کرنا ، تم ان مردوں کو نہیں جانتی“ ۔
وہ لڑکی پی ایچ ڈی کی اسٹوڈنٹ اور ایک پاکستانی ڈاکٹر کی بیٹی تھی ،وہ اپنی ریسرچ کے سلسلے میں کچھ عرصے کے لیے امریکہ گئی تھی وہاں اس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ، لڑکی نے یہ واقعہ اپنے والد سے شیئر کیا اور ڈاکٹر صاحب سے یہ واقعہ مجھ تک پہنچ گیا۔
اس موضوع پر مزید بات کر نے سے پہلے میںآ پ کو علامہ اقبال کی طرف لے کر جانا چاہتا ہوں ، علامہ اقبال ہمارے قومی شاعر تھے اور ان کی شاعری ہمارے قومی گیت ۔
علامہ اقبال کی وفات کا سن 1938ہے اس لحاظ سے علامہ کو ہم سے بچھڑے 82برس ہو چکے ہیں ۔ اب آپ دیکھیں اقبال نے آج سے 82سال پہلے اپنی شاعری میں مغربی تہذیب کے زوال کی بات کی تھی لیکن آپ کے ذہن میں یقینا یہ سوال سر اٹھائے گا کہ اقبال کی شاعری اور ان کے تجزیئے غلط ثابت ہوئے کیونکہ مغربی تہذیب آج بھی جوں کی توں موجود ہے اور اپنی کامیابی کے گل کھلا رہی ہے ۔ لیکن رکیے بات وہ نہیں جو ہم سوچتے ہیں ، اقبال کی شاعری اور مغربی تہذیب کے بارے میں ان کا تجزیہ سو فیصد درست تھا ، آپ مغربی تہذیب اور ان معاشروں کا تجزیہ کریں آپ کو ساری حقیقتیں سمجھ میں آ جائیں گی ۔
وہ لوگ دنیا کی تمام سہولتوں کے باوجود اندر سے کھوکھلے ہیں ،بے چین ہیں اور انہیں روحانیت کی تلاش ہے ،وہ روحانی ترقی اور تسکین کے متلاشی ہیں ، زندگی کو ہر لحاظ سے پرآسائش بنانے کے باوجود ان کا دل بے چین ہے ، وہ یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ پر سکون زندگی کے لیے پیسا اور سہولیات کافی نہیں قلبی اطمینان ضروی ہے ، یہودی اور عیسائی مذہب کی اصل تعلیمات ان تک پہنچی نہیں اور مذہب اسلام کی اس وقت جومروجہ تصویر پیش کی جا رہی ہے اس سے یہ لوگ بیزار ہیں اس لیے مذہب کے بارے میں یہ لوگ کشمکش کا شکار ہیں،سکون ،اطمینان اور روحانیت بھی چاہتے ہیں لیکن مذہب کو بھی اپنانا نہیں چاہتے۔
اس سارے معاملے میں ہماری غلطی اور کوتاہی یہ ہے کہ ہم مذہب کا صحیح تصور وہاں پہنچا نہیں سکے یا کھلے لفظوں میں ہم نے کوشش ہی نہیں کی۔اب ان لوگوں نے اپنے ملکوں کے آئین اور قانون کو مذہب کا درجہ دے دیا ہے اور جاب کو وہ عبادت سمجھتے ہیں اور یہی ان کی مادی ترقی کی بنیادی وجہ ہے۔روحانی تسکین نہ ہونے کی وجہ سے ایسے ممالک میں خود کشی کی شرح سب سے ذیادہ ہے اور خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ تہذیب کی بنیادی اکائی خاندان ہے خاندان سے معاشرے اور معاشروں سے قومیں اور تہذیبیں پروان چڑھتی ہیں لیکن مغرب میں خاندان کا کوئی تصور نہیں ان کے نزدیک محض جنسی تسکین اہم ہے ۔
خاندان اور فیملی کا لفظ ان معاشروں میں ختم ہوتا جا رہا ہے ، وہ سب کچھ پالینے کے باوجود اندر سے خالی ہیں ، ان ممالک میں اسلام کی مقبولیت کا جو رجحان پروان چڑھ رہا ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس مذہب کی چھتری تلے انہیں ذہنی سکون ملتا ہے خاص کر خواتین خود کو پرامن اور محفوظ تصور کرتی ہیں ۔ جملہ معترضہ ہی سہی لیکن دکھ ہوتا ہے کہ ہم عالمی سطح پر اسلام کی صحیح ترجمانی نہیں کر پائے ورنہ جس قدر وہ لوگ پریشان ہیں اور ایک پر سکون زندگی کی تلاش میں ہیں وہ صرف انہیں مذہب اسلام ہی پیش کر سکتا ہے ۔

مغربی تہذیب کواپنی بقا کے لیے اس وقت تین بڑے چیلنجز درپیش ہیں ،ایک یہ تہذیب عقلیت پرستی کی انتہا پر کھڑی ہے اور اس انتہا کی دوسری جانب زوال کی گہری کھائیاں اور طویل غار ہیں ،مغربی تہذیب میں انیسویں اور بیسویں صدی عقلیت پرستی کی صدیاں کہلاتی ہیں اور یہ دنیا کی واحد تہذیب ہے جس نے عقلیت پرستی کے محلات میں اتنا لمبا عرصہ قیام کیا ہے ورنہ عقلیت پرستی کسی قوم اور تہذیب کے زوال کاآخری اسٹیج ہوتا ہے ۔
مغرب کا دوسرا بڑا چیلنج خاندانی نظام ہے ، وہاں خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ، خاندان نہ ہونے کی وجہ سے گھر بنانے اور بسانے کا رواج نہ ہونے کے برابر ہے ، اب اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہاں کے مقامی لوگوں کی تعداد تیز ی سے کم ہو رہی ہے اور تارکین وطن کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ،ایسی تحقیقات سامنے آگئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ اگلے دس ، بیس یا تیس سالوں میں ان ممالک میں مسلمانوں کی تعداد بڑھ جائے گی،لندن میں تو بعض علاقے ایسے ہیں کہ آپ کو محسوس نہیں ہوتا آپ کسی اسلامی ملک میں کھڑے ہیں یا لندن میں ۔
اب ان کی آنکھیں کھلیں ہیں اور وہاں کی حکومتوں نے خاندان بسانے اور شرح افزائش میں اضافے کے لیے مختلف پالیسیاں اور اور ترغیبات دینی شروع کر دی ہیں ۔ مغرب کا تیسرا بڑا چیلنج روحانیت کا فقدان ہے ، وہ لوگ روحانی طور پر بہت پریشان ہیں وہ روحانیت کے لیے کبھی چرچ جاتے ہیں کبھی مندر لیکن اس کے باوجود انہیں سکون نہیں ملتا ، جس دن انہیں پتا چل گیا کہ اصل روحانیت اور دل کا سکون اسلام کے پاس ہے اس دن یہ سب لوگ مسلمان ہو جائیں گے اور کم از کم ہم سے اچھے اور بہتر مسلمان ثابت ہوں گے ۔

مغربی تہذیب کے بارے میں اقبال کی شاعری اور ان کا تجزیہ ہرگز غلط نہیں تھا بات صر ف یہ ہے کہ ہم نتائج کے حصول میں جلدی کرتے ہیں ، انسان فطری طور پر جلد باز ہے ،ہم چاہتے ہیں کہ ہم مغربی تہذیب کو اپنی آنکھوں سے تباہ ہوتا دیکھیں جبکہ تہذیبوں اور قوموں کا عروج وزوال ایک ارتقائی عمل ہوتا ہے اور بعض اوقات اس میں صدیاں لگ جایا کرتی ہیں ۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کو سمجھنے میں ہم غلطی کرتے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com