جوائنٹ فیملی سسٹم !

پیر اکتوبر    |    محمد عرفان ندیم

چند دن پہلے ایک معروف ویب سائٹ پر ایک تحریر شائع ہوئی ہے ، لکھنے والی ایک خاتون ہیں جس میں محترمہ نے بڑی جسارت کرتے ہوئے ہمارے مروجہ خاندانی نظام کو ہندوانہ نظام سے تعبیر کیا ہے۔میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اتنا بڑا موقف پیش کرتے ہوئے انہوں نے کو ئی ٹھوس حوالہ کیوں پیش نہیں کیا ، حوالے سے مراد ضروری نہیں تھا کہ اصول اربعہ سے ہی کوئی دلیل پیش کی جاتی بلکہ تاریخی حوالہ بھی پیش کر دیتی توشاید ان کی تحریر کا کوئی مطلب سمجھ میں آ جاتا ،فیا للعجب۔
محترمہ اپنا مقدمہ قائم کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہمارے مروجہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں بڑے بھائی کو سب کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے اور ایسا ہندومت میں ہوتا ہے لہذا ہمارا خاندانی سسٹم بھی ہندوانہ ہے اور ہمار ے ستر فیصد گھرانے اس سسٹم کی آگ میں جل رہے ہیں ، محترمہ کو اپنی اس ریسرچ کا ماخذ اور حوالہ دینا چاہیے تھا ؟ محترمہ نے ستر فیصد گھرانوں کو دلیل بنا کے پیش کیا ہے اور یہ دلیل سراسر غلط ہے،ایسی دلیل کو unrepresentative sampleکہتے ہیں ،یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ شہر کے چند کاروباری افراد کا ڈیٹا جمع کر یں اور نتیجہ پیش کر دیں کہ اس شہر میں لوگوں کی آمدنی بہت ذیادہ ہے ۔

(خبر جاری ہے)

موصوفہ نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا مروجہ خاندانی سسٹم اس لیے ٹھیک نہیں اور ہندوانہ ہے کہ اس میں وراثت ٹھیک طرح تقسیم نہیں ہوتی اور اس میں عدل وانصاف کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا ، یہ دو الگ الگ باتیں ہیں جنہیں آپس میں گڈ مڈ کر دیا گیا ہے ، بات جوائنٹ فیملی کی ہو رہی تھی اور اصل مقدمہ یہ تھا کہ جوائنٹ فیملی سسٹم ٹھیک ہے یا نہیں ، ہندوانہ ہے یا اسلامی لیکن محترمہ نے اصل مقدمے کو تقسیم وراثت اور عدل وانصاف کی بحث میں الجھا دیا ہے ایسی دلیل کو red herring کہتے ہیں ، اس میں مخالف آپ کو اصل مقدمے کی بجائے غیر ضروری بحثوں میں الجھا دیتا ہے اور اصل مقدمہ پس منظر میں چلا جاتا ہے ، یہ ایسے ہی ہے جیسے استاد کہے کہ کل میں نے آپ سے یہ سبق سننا ہے اور آگے سے اسٹوڈنٹ کہنا شروع کر دیں سر یہ سبق کیا ہوتا ہے اور سنا کیسے جاتا ہے ۔
مذکورہ دلیل میں محترمہ نے اصل مقدمے کی بجائے بات کو غیر ضروری مباحث میں الجھا دیا ہے حالانکہ کسی کو اس بات سے انکار نہیں کہ تقسیم وراثت میں عدل وانصاف سے کام لینا چاہئے ۔
محترمہ نے اس سے بھی بڑی جسارت یہ کی کہ اپنا موقف ثابت کرنے کے لیے غلط مقدمہ قائم کیا اور پھر خود ہی اس سے نتیجہ اخذ کر لیا ۔ کہتی ہیں جوائنٹ فیملی سسٹم میں بڑے بھائی کو سب کی خاطر قربانی دینی پڑتی ہے ،بیوی کے نفقے اور اولاد کے پیسے فیملی پر خرچ کرنے پڑتے ہیں اور پھر اس مقدمے سے خود ہی نتیجہ اخذ کرتی ہیں کہ اسی وجہ سے جوائنٹ فیملی سسٹم ہندوانہ ہے، ایسی دلیل کو fallacy of irrelevance کہتے ہیں کہ آپ مقدمے کے ایسے قضیے اور دلائل پیش کریں جو نتیجے سے غیر متعلق ہوں اور انہیں زبردستی اس نتیجے کے ساتھ جوڑا جائے تاکہ مخالف کو خاموش کروایا جاسکے۔
یہ دلیل ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ تمہیں بھوک لگی ہے ، باہر سردی ہے لہذا کرکٹ کھیلنے چلتے ہیں ۔ یہ ہے اس ساری سوچ اوذہنیت کا خلاصہ جو محترمہ نے اپنی مختصر سی تحریر میں پیش کی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ مروجہ خاندانی نظام اسلام کے اصول معاشرت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ پڑھے لکھے ، مہذب اور سلجھے ہوئے خاندانوں میں ایسا ہر گز نہیں ہوتا جو محترمہ نے منظر کشی کی ہے ، بڑا بھائی عموما والد کے ساتھ مل کر گھر اور کارو بار کو سنبھالتا ہے پھر جیسے جیسے چھوٹے بھائی جوان ہوتے جاتے ہیں وہ والد اور بھائی کا ہاتھ بٹانے لگتے ہیں ، یہ ہے اصل تصویر جو اس وقت ہمارے معاشرے میں ر ائج ہے ۔
رہی یہ بات کہ بڑے بھائی اور بھابی کو سب سے ذیادہ محنت کرنی پڑتی ہے تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اگر چھوٹے بھائیوں میں سے کوئی بڑا ہوتا تو اسے بھی یہ سب کرنا پڑتا ، اب یہ اللہ کی مرضی کہ اس نے بڑے بھائی کو پہلے دنیا میں بھیج دیا اور چھوٹے کو بعد میں ۔ دوسری بات یہ کے اگر بڑے بھائی کو دوسروں سے ذیادہ محنت کرنی پڑتی ہے تو اس کے عوض وہ بہت سارے فوائد بھی سمیٹ رہا ہوتا ہے ، مثلا بڑے بھائی کی اولاد جوائنٹ فیملی میں ہی پل کر جوان ہو جاتی ہے اور اسے الگ سے بچوں کے اخراجا ت برداشت نہیں کرنے پڑتے ۔
عموما بڑا بھائی کمانے کے لیے گھر سے دور جاتا ہے تو ایسی صورت میں اس کی بیوی اور بچے جوائنٹ فیملی میں مطمئن اور محفوظ رہتے ہیں ، ذرا تصور کریں اگر بڑا بھائی ملک سے باہر ہو اور بیوی کو اکیلے گھر میں رہنا پڑے تو اس کے کیا کیا نقصانات ہو سکتے ہیں ؟ مزید برآں بڑے بھائی کو جو عزت و احترام ملتا ہے وہ چھوٹوں کے حصے میں کم ہی آتا ہے ،بڑے بھائی کی اولاد کو جو پیار محبت ملتا ہے وہ چھوٹوں کی اولاد کو نہیں ملتا۔
یہ وہ فوائد و ثمرات ہیں جن کی طرف کوئی دھیان نہیں دیتا۔ رہا یہ سوال کہ صحابہ کرام کے دور میں جوائنٹ فیملی کی کوئی مثال نہیں ملتی تو یہ ایک بچگانہ سوال ہے کیونکہ ہر پیش آمدہ حکم اور ہر نئی روایت کی دلیل خلفائے راشدین کے طرز عمل اور ان کے معاشرے سے ڈھونڈنا کوئی عقل مندی نہیں کیونکہ سنت الہیہ یہ ہے کہ وہ احکام کے نزول میں ایک مجموعی ضابطہ حیات بیان کرکے جزئیات اور فروعیات کو انسانی عقلوں پر قیاس کر کے ان سے پہلو تہی کر لیتی ہے ۔
یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اسلام غیر مسلموں اور دشمنوں کے ساتھ تو حسن سلوک کا حکم دے لیکن ایک گھر کے اندر رہنے والے دو سگے بھائیوں کو اس حکم کا مخاطب نہ ٹھہرائے ، اسلام چالیس گھروں تک ہمسائیگی کے آداب تو سکھائے لیکن دو بھائیوں کو جوائنٹ فیملی میں رہنا نہ سکھائے ۔ اور پھر معاشرتی اقدارو روایات بھی کوئی چیز ہوتی ہیں، ہمارے مشرقی معاشروں میں جوائنٹ فیملی سسٹم کو آج بھی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ جوعورت شادی کے فورا بعد بھائیوں کو آپس میں لڑوا دے اور گھر سے الگ ہو جائے وہ آج بھی معاشرے میں مطعون ٹھہرتی ہے ۔
اس سسٹم میں موجود غلطیوں کی نشاندہی اور ان کی اصلاح کی بات تو کی جا سکتی تھی لیکن سرے سے اس نظام کو غیر اسلامی قرار دے دینا بہت بڑی جسارت تھی۔آخر میں سوشل میڈیا کے کردار کے حوالے سے بھی بات ہو جانی چاہیے، کیا یہ حقیقت نہیں کہ سوشل میڈیا جن جرائم اور زیادتیوں کے خلاف میدان میں آیا تھا آج وہ خود ان جرائم میں ملوث ہو چکا ہے ۔ آپ مذکورہ تحریر کو دیکھ لیں ، محض سنسنی خیز عنوان کی وجہ سے اسے اتنی ریٹنگ ملی ،یہ کوئی مکمل تحریر نہیں بلکہ محض چند بکھری ہوئی باتیں تھی ،تحریر کی ابتدائی سطریں شعر کے انداز میں لکھی گئی تھیں جسے بعد میں نثر کے پیرائے میں ڈھال دیا گیا تھا ۔
اتنے اہم اور نازک موضوع کو بلا کسی ٹھوس دلائل و شواہد کے پیش کر دینا اور صدیوں سے رائج ایک نظام کو بیک جنبش غیر اسلامی قرا ر دے دینا یہ سب سوشل میڈیا کی ” برکات “ ہی تو ہیں ۔ لکھنے کے شوقین نئے لکھاری ہر اچھے برے موضوع پر طبع آزمائی کر رہے ہیں قطع نظر اس کے کہ ان کی ان سرگرمیوں سے اسلام،ملک اور معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ، کچے ذہن ، محدود مطالعے اور مشہور ہونے کے شوق نے نئے لکھا ریوں کوحقیقت سے بہت دور کر دیا ہے ۔سوشل میڈیا کے تناظر میں اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور وفکر کی ضرورت ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com