آسکر ایوارڈ اور ہمارے کالم نگار!

منگل مارچ    |    محمد عرفان ندیم

آپ یہ مثالیں دیکھیں : ”کسی انسان کو تکلیف پہنچانا غلط ہے لہذا بچوں کو سبق یاد نہ کرنے پر تکلیف دینا بھی غلط ہے ، ” کسی انسان کی جان لینا گناہ ہے لہذا سزائے موت بھی گناہ ہے ، ” انسانی اعضاکو کاٹنا جرم ہے سرجن انسانی اعضا کاٹتا ہے لہذا وہ بھی مجرم ہے “
جب سے شرمین نے آسکر ایوارڈ حاصل کیا ہے ہمارے دانشور اور کالم نگار اس طرح کی منطق اور دلیلوں سے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں ، یہ لوگ اپنے کھٹے دہی کو تو میٹھا کر کے بیچ رہے ہیں لیکن مخالف نکتہ نظر کیا ہے نہ اس کا کوئی حامی سامنے آتا ہے کہ وہ اپنا موقف پیش کرے اور نہ یہ دانشور اس کی صحیح تعبیر پیش کر رہے ہیں ۔
بات با الکل صاف اور سیدھی ہے ، شرمین نے آسکر ایوارڈ حاصل کیا یہ اس کی ذاتی کامیابی ہے اس میں پاکستان کا نام کیسے روشن ہو گیا یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے ، ہاں اتنا ضرور ہوا کہ عالمی سطح پر پاکستان کا جو امیج بنا ہے وہ کوئی اچھا امیج نہیں ۔

(خبر جاری ہے)

شرمین نے جو فلم بنائی ہے اور اس سے جو موقف سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستا ن میں آئے روز غیرت کے نام پر قتل ہوتے رہتے ہیں اور بچیوں کو گولیاں مار کر دریا وٴں میں پھینک دیا جاتا ہے ، یہ حقیقت اور دلیل سراسر غلط ہے اور اسے unrepresentative sampleکہتے ہیں ، اس دلیل میں یہ مغالطہ پایا جاتا ہے آپ پورے ملک سے اپنی مرضی کا مواد منتخب کریں اور اسے نمائندہ بنا کر پیش کر دیں ،یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ شہر کے چند کاروباری افراد کا ڈیٹا جمع کر یں اور نتیجہ پیش کر دیں کہ اس شہر میں لوگوں کی آمدنی بہت ذیادہ ہے ۔

شرمین نے یہی کیا ہے ، اٹھارہ کروڑ عوام میں سے ایک ہزار خواتین کا ڈیٹا اکھٹا کیا اور اسے پورے ملک کے نمائندے کے طور پر پیش کر دیا کہ پاکستان میں تو یہی ہو رہا ہے ، اب آپ لاکھ صفائیاں پیش کریں دنیا آپ کو وہی سمجھے گی جو شرمین کا کیمرہ دکھا چکا ہے ، اس سب کے باوجود مجھے حیرت ہے کہ ہمارے دانشور اور کالم نگار کس بات کی خوشی منا رہے ہیں۔
شرمین نے جو کیا اس پر اتنا دکھ نہیں کہ بقول ڈاکٹر ماریہ سلطان امریکہ پچھلے دس سالوں میں تیرہ بلین ڈالر کی رقم ایسے لوگوں میں تقسیم کر چکا ہے ، افسوس ان دانشوروں پر ہے جو شرمین کے اس موقف کی تائید اور غلط دلیلیں پیش کر کے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں ۔
جاوید چوہدری صاحب نے دلیل پیش کی ہے کہ ہمیں دودھ میں ڈٹر جنٹ پاوٴڈر سے لے کر جعلی ادویات تک اور گردہ فروشی سے لے کر نومولود بچوں کے اغوا تک ہر قسم کی ننگی بے غیرتی پر غیرت نہیں آئے گی لیکن ہم صبا جیسے بچیوں کی معمولی غیرت پر غیرت مند درندے بن جائیں گے ۔ایسی دلیل کو straw man fallacy کہتے ہیں ، اس دلیل میں حریف اپنے مخالف کے نکتہ نظر کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے ، چوہدری صاحب نے مخالف نکتہ نظر کو کس طرح اپنا مطلب پہنا کر پیش کیا ہے حالانکہ کوئی بھی ان برائیوں کا قائل نہیں۔
اصل مقدمہ تو یہ ہے کہ فلم کو عالمی سطح پر پیش کرنے سے پاکستان کا جوامیج بنا ہے وہ ٹھیک نہیں،اس پر اعتراض ہے۔ دوسری دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ کیا پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل نہیں ہوتے ، کیا پاکستان میں عورتوں کے منہ پر تیزاب نہیں پھینکا جاتا ، کیا ملک میں خواتین کے ساتھ اجتماعی ذیادتی نہیں ہوتی اور کیا پاکستان میں عورتوں کا برہنہ کر کے گلیوں میں نہیں گھمایا جاتا ۔ ایسی دلیل کو کہتے ہیں appeal to emotion یعنی آپ مخاطب کو علمی وعقلی دلیل پیش کرنے کی بجائے اس کے جذبات سے اپیل کریں ، یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک بچہ کہتا ہے کہ ابو میرے تمام دوست بریک ٹائم میں روزانہ چاکلیٹ کھاتے ہیں اور میں ان کا منہ دیکھتا رہتا ہوں لہذا مجھے بھی آپ چاکلیٹ دینے آیا کریں ، چوہدری صاحب نے مذکورہ دلیل میں جذبات سے اپیل کیا ہے حالانکہ اس دلیل کا مقدمے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔
ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ اگر ہم چند لمحو ں کے لیے شرمین کے آسکر کو سازش مان لیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈاکٹر نرگس مال والا اور ڈاکٹر عمران خان بھی سازش تھے جنہوں نے آئن سٹائن کے نظریہ اضافت کی تصدیق کی ، ملالہ کو نوبل انعام ملا کیا یہ بھی سازش تھی ، ارفع کریم نو سال کی عمر میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بن گئی یہ بھی سازش تھی ، علی معین نوازش نے بائیس اے گریڈ صاحل کیئے یہ بھی سازش تھی ، ابراہیم شاہد نے تئیس اے گریڈ حاصل کیئے ، ذوہیب اسد نے اٹھائیس اے گریڈ حاصل کیئے ، ہارون طارق نے 47اے گریڈ حاصل کیئے اور حارث منظور نے نو سال کی عمر میں او لیول کا امتحان پاس کر لیا کیا یہ سب سازشیں تھیں ،ایسی دلیل کو red herring کہتے ہیں ، اس میں ہوتا یہ ہے کہ مخالف آپ کو اصل مقدمے کی بجائے غیر ضروری بحثوں میں الجھا دیتا ہے اور اصل مقدمہ پس منظر میں چلا جاتا ہے ، یہ ایسے ہی ہے جیسے استاد کہے کہ کل میں نے آپ سے یہ سبق سننا ہے اور آگے سے اسٹوڈنٹ کہنا شروع کر دیں سر یہ سبق کیا ہوتا ہے اور سنا کیسے جاتا ہے ۔
مذکورہ دلیل میں چوہدری صاحب نے اصل مقدمے کی بجائے بات کو غیر ضروری مباحث میں الجھا دیا ہے حالانکہ کسی کو اس بات سے انکار نہیں کہ اے گریڈ حاصل کرنے والوں اورڈاکٹر نرگس، ارفع کریم اور حارث منظور نے پاکستان کا نام روشن کیا ہے ۔ آگے چوہدری صاحب لکھتے ہیں کہ ہم کمال لوگ ہیں ہم گنڈاساجٹ جیسے جھوٹ پر تالیاں بجاتے ہیں اور غیرت کے نام پر قتل ہونے والی صباوٴں کے ننگے سچ کو سازش قرار دیتے ہیں ۔
ایسی دلیل کو self defeating claims کہتے ہیں ،اس میں ایسا مقدمہ قائم کیا جاتا ہے جو خود ہی اپنی تردید کر رہا ہوتا ہے ،جیسے چوہدری صاحب نے یہ مقدمہ قائم کیا ہے کہ ہم صباوٴں کے قتل کو سازش قرار دیتے ہیں ، کوئی بھی اس مقدمے کا مدعی نہیں اصل مقدمہ تو یہ ہے کہ اپنے گھر کی برائیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنا اور اپنے پیٹ سے کپڑا ٹھانا یہ غلط ہے اور اس پر اعتراض ہے ۔عامر خاکوانی صاحب نے لکھا ہے کہ اس موضوع پر بننے والی فلم سے پاکستان کی بدنامی کیسے ہوگئی ، کیا دنیا کو معلوم نہیں کہ یہاں کیا کیا نہیں ہو رہا ، کیا انہیں معلوم نہیں کہ ہمارا سماج آج بھی صدیوں قدیم ظالمانہ رسم و رواج کا اسیر ہے ہم کب تک اپنے اس کمروہ چہرے کو چھپائیں گے ۔
خاکوانی صاحب نے بھی اپنی دلیل کی بنیاد غلط مقدمات پر رکھی ہے اور ایسی دلیل کو unrepresentative sample کہتے ہیں، انہوں نے اٹھارہ کروڑ عوام میں سے چند سیمپل لے کر اس کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کر لیا ، اس میں دوسرا نقص یہ ہے کیا اپنے ملک کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمیں دنیا کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا پڑے گا ، تیسرا نقص یہ ہے کہ ہم نے یہ کس طرح فرض کر لیاکہ اس طرح کی ڈاکومنٹریز بنا کر ہم اس برائی کو ختم کر لیں گے۔
یاسر پیزاداہ صاحب لکھتے ہیں کہ شرمین کو آسکر نہیں ملنا چاہیئے، ملالہ کو نوبل انعام نہیں ملنا چاہیے، خواتین کے خلاف تشدد کا بل منظور نہیں ہو نا چاہیئے، غیرت کے نام پر قتل ہونے پر بننے والی فلم کی حمایت نہیں ہونی چاہیئے یہ ہے اس سوچ کا خلاصہ جو معاشرے کے ایک مخصوص طبقے میں سرایت کر چکی ہے ۔ اسی دلیل کو fallacy of irrelevance کہتے ہیں کہ آپ مقدمے کے ایسے قضیے اور دلائل پیش کریں جو نتیجے سے غیر متعلق ہوں اور انہیں زبردستی اس نتیجے کے ساتھ جوڑا جائے تاکہ مخالف کو خاموش کروایا جاسکے۔
یاسر پیرزادہ صاحب نے جو مقدمہ قائم کیا ہے وہ نتیجے سے ہی غیر متعلق ہے، مقدمہ تو یہ ہے کہ فلم کو عالمی سطح پر پیش کرنے سے پاکستان کا جوامیج بنا ہے وہ ٹھیک نہیں ،ہمیں اپنی برائیوں کواپنے گھر میں رہ کر ٹھیک کرنا چاہیئے، غیرت کے نام پر فلم بنانے پر کسی کو اعتراض نہیں ۔ یہ دلیل ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ تمہیں بھوک لگی ہے ، باہر سردی ہے لہذا کرکٹ کھیلنے چلتے ہیں ۔ یہ ہے اس ساری سوچ اور منطق کا خلاصہ جو ہمارے دانشور اور کالم نگار پچھلے ایک ہفتے سے پیش کر رہے ہیں اور سیدھی سادھی بات کو غیر ضروری بحثوں میں الجھا دیا گیا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com